دہشت گردی اور سیاسی دیوالیہ پن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ذکر ہے اس زمانہ کا جب میں نے میٹرک پاس کر لیا تھا اور کالج ابھی شروع نہ ہوا تھا جب کہ ریاستی دعووں کے مطابق ایم کیو ایم کا قریب صفایا ہو چکا تھا۔ میں اس شام ہوٹل پر ادھار کی چائے کے ساتھ دوستوں سے اس موضوع پر بحث کر رہا تھا کہ ایم کیو ایم کے زوال سے پیدا ہونے والی خلا کہیں مذہب کے ٹھیکیدار نہ ہڑپ کر جائیں۔ ایسے میں اچانک کہیں سے آواز آئی کہ امریکہ پر مجاہدوں نے حملہ کر دیا ہے۔

ہماری نسل اس زمانہ میں سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ امریکہ جیسی سپر پاور پر بھی کوئی حملہ کر سکتا ہے۔ جلدی جلدی گھر پہنچا اور ٹی وی پر دو جہازوں کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکراتا دیکھ کر حیرت میں ڈوب گیا۔ مجھے یاد ہے کہ سونے کے علاوہ میں دو دن تک مسلسل یا تو اخبار پڑھتا رہا یا ایس ٹی این پر سی این این اور پی ٹی وی پر خبریں دیکھتا رہا۔ جس تیزی سے واقعات رونما ہو رہے تھے اور جس عجلت کے ساتھ بش پیش قدمی کر رہا تھا لگ رہا تھا ایک آدھ سال میں ہی دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا۔

جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو زیادہ تر لبرل خوشی سے جھوم اٹھے کہ اب مذہبی سیاست کا اختتام قریب ہے۔ جس انداز میں دنیا کا بیانیہ ترتیب دیا جا رہا تھا میں بھی اس میں بہہ رہا تھا اور یہ دیکھنے سے قاصر تھا کہ اسامہ بن لادن کے نام پر افغانستان کو کس خون اور آگ کی ہولی کی نذر کیا جا رہا ہے۔ اگلے چند سال دیگر کئی لبرلز کی طرح میں نے بھی مشرف کے روشن خیال معتدل اسلام اور امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بیانیہ میں پھنسے گزارے مگر کالج ختم ہو گیا، یونیوسٹی بھی ختم ہو گئی۔ نہ جنگ ختم ہوئی، نہ فوجی آپریشن ختم ہوئے اور نہ ہی دھماکے۔

یہ سمجھنے میں بڑا عرصہ لگا گیا کہ امریکہ جیسی نیو لبرل ریاستیں کس انداز میں کام کرتی ہیں۔ نیولبرل ریاستیں سیاسی و سماجی جھٹکوں اور بحرانوں کی تاک میں رہتی ہیں اور نہ ملے تو خود پیدا کر لیتی ہیں۔ جس آسانی سے امریکہ نے افغانستان اور پھر عراق پر چڑھائی کی وہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہونے والے حملے کے بغیر ممکن نہ تھی اور آج پورے مشرق وسطیٰ پر من مانی کرنے کا جواز اس کے پاس ہے۔ اسی طرح امریکہ ہی نہیں دنیا بھر کی حکومتیں دہشت گردی کے نام پر باآسانی منافع خوری پر مبنی عوام دشمن پالسیاں متعارف کراتی چلی گئیں۔ زیادہ دور نہ جائیں پاکستان کو ہی لے لیں تو مشرف اور اس کے ادارے نے نہ صرف اس کے ذریعہ بے تحاشہ ڈالر کمائے بلکہ اپنی غیر آئنی حکومت کو بھی دوام بخشا۔

اس کے ساتھ ساتھ عوام پر جبر کرنے کے لئے کتنے ہی کالے قوانین کو جواز فراہم کیا گیا اور ماورائے عدالت ظلم و ستم کی داستانوں کو دوام بخشا گیا۔ 90 دن کے سیاہ قانون سے لے کر جبری گمشدگیوں تک ہر ظلم کی بنیاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر رکھی گئی۔ امریکہ ہو یا پاکستان، ہر سرمایہ دارانہ ریاست نے نہ صرف اس جنگ سے استفادہ حاصل کیا بلکہ آج بھی ان کی خواہش اور کاوش یہی ہے کہ یہ جنگ جاری و ساری رہے اور عوام اپنے حقوق سے ماورا یا تو جہاد کے نام پر دہشگردی کے پیچھے کھڑی رہے یا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کھوئی رہے۔

آرمی پبلک اسکول پر حملہ کے بعد جس خوبصورتی سے لال مسجد کے باہر سول سوسائٹی کا ڈرامہ لگایا گیا اس کو تو ماننا پڑے گا اور پھر اس کی آڑ میں جس انداز کے قوانین بنائے گئے اور جبر مسلسل عوام اور خاص کر سیاسی کارکنان پر نازل کیا گیا وہ تو آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ مگر اس میں قصور صرف مذہبی جنونیوں کا نہیں۔ نیولبرلزم کے اس کھیل میں کسی نہ کسی طرح سول سوسائٹی اور این جی اوز کے چوہدری شامل رہے۔ ان میں سے کچھ تو پاکستان سے باہر بیٹھ کر ڈونر ایجنسیاں، این جو اوز اور تھنک ٹینک چلاتے ہیں اور دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے نام پر مال بھی بنا رہے ہیں اور نام بھی۔

مذہب کے ٹھیکیداروں کا تو سمجھ میں آتا ہے مگر یہ سول سوسائٹی اور این جی او کے ٹھیکیدار بھی مذہب کو کسی نہ کسی طرح ہر جرم میں شامل کر لیتے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کے صاحب کیا ہوا مولوی عبدلعزیز کا؟ مولوی عبدلعزیز تو دوبارہ ریاست کا لاڈلہ بن گیا مگر اس کے خلاف چلنے والی تحریک ایک این جی او میں تبدیل ہو گئی۔

امریکہ ہو یا پاکستان ہر ریاست جنگ کے دونوں طرف کھیل رہی ہے۔ ایک طرف مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کو بھی زندہ رکھا ہوا ہے اور دوسری جانب دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔ ایک طرف کے نوجوانوں کو مذہب کے بیوپاریوں کے حوالے کر دیا ہے اور دوسری جانب کے نوجوانوں کا غم و غصہ پورا کرنے کے لئے این جی او اور سول سوسائٹی کا دھندا چالو رکھا ہوا ہے۔ پھر نوجوانوں کے بڑے جتھے کو کرپشن کے بیانیہ میں الجھا رکھا ہے جیسے کرپشن اس نظام کا اپنا حصہ نہیں اور اگر یہ نہ ہوتی تو سرمایہ دارانہ نظام میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہوتیں۔

ان حقیقی یا مصنوعی بحرانوں اور ایسے کئی اور بحرانوں کو استعمال کرتے ہوئے نیو لبرلزم تیزی سے معاشرے کے ہر حصہ کو متاثر کر رہا ہے۔ صحت ہو یا تعلیم ہر بنیادی ضرورت کو کاروباری طبقہ کے حوالے کر دیا گیا ہے اور ریاست ان سرمایہ داروں کو تحفظ اور استحصال کرنے کے لئے ان کے من مانے حالات فراہم کرنے کا ادارہ بن کر رہ گئی ہے۔ پاکستان ہی نہیں دیگر ممالک کے تعلیمی اداروں کو سرمایہ داروں کے ٹریننگ سینٹرز میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور نوجوانوں میں تنقیدی فکر اور سماجی شعور ناپید ہوتا جا رہا ہے جب کہ انفرادیت اور مقابلہ بازی فروغ پا رہی ہے۔ بنگلہ دیش چھہاترا لیگ جس نے عوامی لیگ جیسی قد آور سیاسی تنظیم اور کئی دانشوروں کو جنم دیا تھا آج حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ کے غنڈوں کا کام سر انجام دے رہی ہے۔

سیاست بھی یوں تو بہت پہلے سے بیوپار بن گئی تھی مگر اب تو حد یہ ہے کہ ایک ہی ایجنسی مخالف تنظیموں کی کیمپین ڈیزائن کر کے پیسہ اینٹھ رہی ہے اور ایک ہی گلوکار کئی تنظیموں کے ترانے گاتا دکھائی دیتا ہے۔ نظریات کی جگہ چھوٹے مسائل کی سیاست کو پروان چڑھایا جا رہا ہے اور طلبہ یونین، مزدور یونین اور دیگر جمہوری ادارے جن سے ایک عام آدمی کا سیاست اور فیصلہ سازی کا رشتہ قائم ہوتا تھا اسے فارغ کرے کے اس کے لئے این جی او اور سول سوسائٹی کے پلیٹ فارم بنا دئے گئے ہیں جو خود ایک کارپوریشن کی طرح چل رہے ہیں۔ ڈیولپمنٹ اور سوشل ورک میں ڈگریاں جاری ہو رہی ہیں اور لوگ باقائدہ اس کو ایک کرئیر کی طرح اپنا رہے ہیں۔

دوسری جانب جب بھی سیاسی پارٹیاں اور ریاستی ادارے بے نقاب ہونے لگتے ہیں اور لوگوں کا ریاستی نظام پر سے اعتماد اٹھنے لگتا ہے اس بیانیہ کے ساتھ نئے کھلاڑی اتار دئے جاتے ہیں کہ نظام کے اندر رہتے ہوئے تبدیلی ممکن ہے۔ جیسے تبدیلی کسی شخصیت سے جڑی ہوئی ہے کہ اچانک عمران خان وارد ہوا تو علیم خان، جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی اور صدیوں سے راج کرنے والے لوٹوں کی ٹیم کے باوجود پاکستان یکا یک پیرس بن جائے گا۔ یہ تو خیر کوئی پوچھنا گوارا ہی نہیں کرتا کہ کیسے؟ کیوں کیسے کب کہاں یہ تو ہمارا تعلیمی نظام پوچھنا سکھاتا ہی نہیں۔ جو وہ ہمیں سکھاتا ہے وہ یہ کہ اس آزاد دنیا میں ایک شخص سب کچھ کر سکتا ہے۔

دوسری جانب اگر لوگ ایسے کسی مسیحا سے بھی متاثر نہ ہوں تو کہا جاتا ہے کہ ان میں سے جو کم برا ہو اس کو ووٹ دے دو کیونکہ ووٹ میں بڑی طاقت ہے۔ ایک عام آدمی کی جمہوریت بس یہی رہ گئی ہے کہ ہر پانچ سال بعد جا کر ووٹ دے اور امید کرے کہ شاید آمدنی خرچوں سے نمٹنے کے قابل ہو جائے۔ ساتھ ہی ساتھ اقبال کا ‘جو مٹی نم ہو تو بڑی زرخیز ہے ساقی’ دہرا دیا جاتا ہے۔ جب تک لوگ اشرافیہ کے اس نام نہاد جمہوری نظام سے امید وابستہ رکھے رہیں گے اور انفرادیت سول سوسائٹی ایکٹوزم اور این جی اوز اور بحرانوں کی سیاست کے چنگل میں پھنسے رہیں گے نظام کی تبدیلی تو کجا عوامی سیاست کا جنم لینا بھی مشکل رہے گا۔

الیکشن کے بعد آنے والا نیا مسیحا چاہے واقعی تبدیلی کا خواہاں ہو، تبدیلی صرف سماج سے آتی ہے افراد سے نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
خرم علی کی دیگر تحریریں
خرم علی کی دیگر تحریریں