لالہ کا پھول۔۔۔ جو مرجھا گیا


لالی سے چونکہ میرا رابطہ 1976 کے اواخیر یا 1977 کی ابتدا میں ہوا تھا۔ لہذا میری یادیں خاص کر ان دو ترقی پسند رسائل کے حوالے سے ہیں جو انقلابی پیغام کی وجہ سے حکومت کے زیرِعتاب تھے۔ ان میں سے ایک رسالہ خواتین کے حوالے سے ”آدھی دنیا” (ماہنامہ) تھا۔ اور دوسرا پندرہ روزہ ”پرچم” تھا۔ چونکہ میں ان دونوں رسائل سے براہِ راست وابستہ تھی ۔

ماہنامہ ‘‘آدھی دنیا ‘‘جو خواتین محاذِ عمل ایک ترقی پسند گروپ کے زیرِ تحت شائع ہوتا تھا۔ اس کی ایڈیٹر مشہور صحافی اور ادیبہ  مہناز رحمن تھیں۔ جو آج کل عورت فا ؤنڈیشن (کراچی) کی ڈائریکٹر ہیں۔ لالی بھی ان کے ساتھ رسالہ کو ایڈیٹ کر رہی تھیں لیکن کسی وجہ سے مہناز نے ادارت کو چھوڑ دیا۔ اس وقت تک ہم لالی کے قریبی رفیق بن چکے تھے۔ لیکن اس بات کے لئے ہرگز تیار نہ تھے کہ مہناز جیسی قابل اور اردو دان کی جگہ ادارت سنبھالیں۔ ہم اس وقت بی ایس سی (مائیکرو بیالوجی) کی طالبہ تھے۔ لالی کا اصرار تھا کہ ہم یہ ذمہ داری اٹھائیں۔ ادھر لالی کا مسئلہ گلابی اردو کا تھا یعنی انگریزی میں تو مہارت تھی لیکن اردو واجبی۔ غرض مرتا کیا نہ کرتا کے مترادف لالی کی بات ماننی پڑی۔ ہمارے ساتھ نسرین زہرہ رسالہ کی آرٹسٹ تھیں۔ وہ دن بھلا کس طرح بھلائے جا سکتے ہیں کہ جب مضافاتی علاقوں کی پتلی گلیوں سے ہوتے ہوئے غریب محنت کش خواتین کی بہادری اور عزم کی داستانیں سننے اور انٹرویوز لینے ہم اپنی ‘لیڈر‘ لالہ رخ کے ساتھ جاتے۔ سوالات زیادہ تر لالی کرتیں اور ہم جلدی جلدی لکھنے کی کوشش کرتے۔ لالی کا حافظہ کمال کا تھا۔ گھر آ کر وہ بھی تفصیل بتاتیں اور اس طرح ہم اردو میں اس انٹرویو کو رقم کرتے۔

لالی کا انٹرویو لینے کا انداز بہت عمدہ ہوتا تھا۔ اس کے لہجے کی محبت، خلوص، سچائی اور ہلکا پھلکا انداز ان خواتین کو مجبور کر دیتا تھا۔ کہ وہ اپنا دل کھول کے رکھ دیں۔ لالی نے کبھی اپنی قابلیت سے کسی کو مرعوب کرنے کی کوشش نہیں کی۔ لوگ ہراساں ہونے کے بجائے اس کے قریب آتے۔ وہ درحقیقت انقلابی تھی۔ خود میں صحافت کی الف بے سے نا آشنا، نا تجربہ کار ادیبہ تھی۔ کبھی یہ جان ہی نہ سکی تھی کہ دراصل لالی کے تجربہ کی انگلی پکڑ کر ہی میں نے صحافت کی راہ پر ابتدائی قدم اٹھائے ہیں۔ وہ میری استاد تھی کہ جس نے بغیر کسی احسان کے بہت محبت اور خلوص سے مجھے صحافت کا ذائقہ چکھنے کا موقع دیا۔ اس رسالہ میں ڈاکٹر حبیبہ حسن طبی مضامین باقاعدگی سے انگریزی میں لکھتیں جس کو ہم اردو کے قالب میں ڈھالتے۔ ادبی مضامین، شعرو شاعری بھی رسالہ کی زینت بنتے۔ مجھے آج تک شاھدہ حسن کی نظم کی سطریں یاد ہیں جو کسی شمارہ کی پشت پہ چھپی تھیں۔

 ہمارے آنچل کی تقدیس پہ مرنے والو

 آؤ ہمیں پہچانو

اپنے جمہوری طرزِ فکر اور غلط پالیسیوں پہ تنقید کے باعث ظاہر ہے کہ رسالے کو ڈیکلریشن نہیں ملا اور بند کرنا پڑا۔

دوسرا رسالہ’‘پرچم’‘تھا جسے لالی کے ساتھ زاھدحسین، پروفیسر سعید اور دوسری انقلابی اور ادبی شخصیتیں نکالتی تھیں۔ میں اس رسالے کے لئے ٹی وی ریویوز لکھتی تھی۔ یہ رسالہ چونکہ ضیا الحق کے فوجی ڈکٹیٹر شپ پہ کھلی نکتہ چینی کر رہا تھا اور بہت جلد ہی مقبول ہو گیا تھا لہذا اس کا بھی ڈیکلریشن ایک مسئلہ بنا اور جلد ہی اسے بند کرنا پڑا۔ پھر وہ زمانہ آیا کہ نہ صرف رسالہ بند ہوا بلکہ لالی کو بھی ملٹری کورٹ نے قید کی سزا سنائی۔

یہ 1978 میں ہونے والی صحافیوں کی تحریک تھی۔ جو مساوات اخبار کی بندش کے خلاف تھی۔ لالی پاکستان فیڈریشن آف پونین جرنلسٹس (PFUJ) اور کراچی یونین آف جرنلسٹس کی فعال رکن تھیں۔ جب لالی کو قید کی سزا سنائی گئی وہ ایک سالہ بچی کی ماں تھی۔ گو سخت دباؤ کے نتیجے میں اس سزا کو نظر بندی میں بدل دیا گیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب میں نسرین زھرہ کے ساتھ اس کے چھوٹے سے گھر میں ملنے جاتی تھی، جس کے باھر پولیس کا آدمی مستقل پہرا دے رہا ہوتا تھا۔ لالی کے چہرے پر اس وقت بھی مسکراہٹ کھیل رہی ہوتی تھی جب وہ ان بندشوں اور معاشی تنگ دستیوں سے گذر رہی تھی۔ اس کی طبیعت کی ظرافت، چلبلا پن اور مثبت اندازِ فکر کمال کا تھا۔

پھر جب اس کی نظر بندی کی معیاد ختم ہوئی اور باقاعدہ ملازمت کے سلسلے کا دوبارہ آغاز کیا تو میرے والدین نے لالی کی سوا سالہ بیٹی ماریا کی خبر گیری کرنی شروع کی۔ ماریا ہمارے گھر میں ایک کھلونے کی طرح تھی۔ امی ابا اس کو نواسی کا درجہ دیتے اور ہم تین بہنیں اس کا خالاؤں کی طرح خیال رکھتیں۔ بطور ماں لالی بے مثال تھیں۔ صبح صبح چھوٹی چھوٹی کٹوریوں میں بچی کے لیے پورے دن کا کھانا بڑے اہتمام اور سلیقہ سے بنا کے لاتی۔  تاہم شروع میں جب لالی اسے ہمارے حوالے کرتی تو ماریا کی چیخیں فلک شگاف ہوتی تھیں۔ ایک دن لالی نے بتایا کہ آوازیں دیر تک اس کے کانوں میں گونجتی ہیں اور اسے اتنی تکلیف ہوتی ہے کہ وہ مڑے بغیر تیزی سے اس قدم اٹھاتے ہوئے رکشہ یا بس اسٹاپ کی جانب چلنے لگتی ہے۔

 اس وقت لالی پہ معاشی دباؤ زیادہ تھا۔ گو بعد کے برسوں میں صورتحال بہتر ہونے لگی۔ زاہد صحافت کی سیڑھیوں پہ اوپر اور کچھ زیادہ ہی اونچائی پہ پہنچ گئے تھے جبکہ لالہ رخ نے صحافت کو بتدریج تیاگ دینا شروع کر دیا تھا۔ اور وہ صحافت کے زینہ سے اتر رہی تھیں، بالکل مخالف سمت میں۔ خاندان میں ننھے بچے عدنان کا اضافہ بھی ہو گیا تھا۔ اب لالی جس ادارے کے لئے کام کر رہی تھی وہ ڈائنٹکس سینٹر تھا۔ جس نے اس کی ذھانت اور قدرتی صلاحیتوں کو پہچان لیا تھا۔ وہ مزاجاً بہترین سامع اور مسیحا تھی۔ لہذا ادارہ کے لیے بطور ایڈیٹر ان خوبیوں کو استعمال کیا گیا۔ پہلے انگلینڈ بھیجا گیا اور پھر نوے کی دھائی کے اواخر 1999 میں لالی بچوں کے ساتھ لالی لاوس اینجلس میں بس گئی۔ وہ جو بہترین مضامین، اعلی درجے کے انٹرویوز لکھتی تھی۔ کس طرح صحافت سے کنارہ کش ہو گئی یہ ایک راز ہی رہا۔ تاہم لالی نے زندگی بھر کسی دوست کو نہیں بھلایا۔ ہر ایک کو کارڈ، خط اور فون کرتی رہی۔ وہ ہم سب کی پل پسندیدہ دوست تھی۔ لہذا جب اس کی طبیعت خرابی کی خبر ملی تو ہم سب پر ہی بیک وقت گویا قیامت ٹوٹ پڑی۔ اس کی موت سے کچھ ہفتہ قبل ہی میری لالی سے بات ہوئی تھی۔ اس کی آواز سن کر مجھے بہت تکلیف ہوئی اور اندازہ ہوا کہ لالہ کا پھول مرجھانے کو ہے۔

بالآخر 2013 کو لاس اینجلس کے ہسپتال میں وہ ہم سب چاہنے والوں کو حیران، پریشان اور پوری زندگی کے لیئے اداس اور خالی کر گئی۔ یوں لگا کہ جیسے یکلخت ہی فضا سے رنگ، ترنگ اور خوشبو چھین لی گئی ہو۔ اب کوئی بتلائے بھلا ایسی بے کیف، بے رنگ کائنات میں جینے کا کیا مزا؟

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2