رضا شاہ پہلوی  ایران کا بادشاہ کیسے بنا؟


شاہ قاچار فرانس کے دورے پر

جب وزیر جنگ کا کانٹا راستے سے ہٹ گیا، تو رضا خان وزیر جنگ بن گیا اور تمام ایرانی فوج کا حاکم اعلیٰ ہو گیا۔ اب رضا خان نے فوج کی تربیت اور انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا اور روس سے صلح کر لی بلکہ روس کو اپنا پشت پناہ بنا کر انگریزوں سے ملک ایران خالی کرنے کا مطالبہ کرنے لگا۔ انگریزی گورنمنٹ کو ملک ایران بزور یا لڑائی سے لینا پسند نہیں تھا اور نہ ہی اپنے رقیب روس کو کسی طرح کی بدگمانی کا موقع دینا چاہتی تھی۔ وہ تو حسب دستور ایک چال تھی اور جب یہ پولیٹکل چال بازی کارگر ہوتی نظر نہ آئی تو دنیا کے امن اور دیانت داری کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران سے اپنا تسلط ختم کرکے فوج ہٹانی شروع کر دی۔ اس وقت جنوبی ایران کا کچھ حصہ اور بوشہر وغیرہ کا علاقہ سلطنت انگلشیہ کے زیر سایہ تھا جو بعد میں سب کا سب ایران حکومت کے لیے خالی کرنا پڑا۔ کچھ جھڑپیں ایرانی اور انگریزی فوجوں کے درمیان بھی ہوئی تھیں۔

احمد شاہ حسب عادت دوبارہ یورپ کو چلا گیا۔ ادھر ملک میں رضا خان کا طوطی بولنے لگا۔ اب کھلم کھلا باد شاہ کے خلاف پروپیگنڈہ ہونے لگا۔ جب انگریزی حکومت کے نمائندے مجلس ایران کو مجبور کرتے کہ شاہ کو آنے کی دعوت دو تو سرکاری طور پر دعوت دی جاتی یعنی ملک واپس آنے کی التجا کی جاتی لیکن رضا خان پرائیویٹ طور پر خط لکھ دیتا یا لکھوا دیتا کہ بادشاہ سلامت ملک میں مت آنا۔ اگر آ گئے تو تمھاری جان کی خیر نہیں۔ اس طرح احمد شاہ بے چارہ یورپ میں ہی عیش و عشرت کرتا اور اپنے روزگار کا میلہ وغیرہ کرتا راہی ملک عدم ہوا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

شاہ قاچار برطانیہ کے دورے پر

رضا خان وزیر جنگ تو اب بن ہی گیا تھا اور دیگر اشخاص جو اس کے سد راہ ہو سکتے تھے، صاف ہو چکے تھے۔ 1925ء کے اخیر میں رضا خان کی تاج پوشی ہوئی اور اسی وقت اپنے بڑے لڑکے کو  ولی عہد بھی بنا لیا۔ تاج پوشی کے وقت تھوڑی بہت گڑبڑ ہوئی لیکن وہ کوئی وقعت دینے کے قابل نہیں کیونکہ تاجپوشی سے پیشتر رضا خان جمہوریت کا راگ الاپتا رہا تھا اور عموماً یہ الفاظ کہا کرتا تھا: خاطر شما خاطر ملک، تاج پوشی کے بعد رضا خان سے رضا شاہ پہلوی بن گیا۔ اس وقت بعض ایرانی کہتے سنے گئے کہ رضا خان گندم نما جو فروش پہلوی نکلا لیکن اس کی پارٹی زبردست تیار کی ہوئی تھی جو یہی شور و غل مچا رہی تھی کہ ہم کو سوائے رضا شاہ کے کوئی دوسرا نہیں چاہیے کیونکہ یہی ملک کا نجات دہندہ ہے۔ (دریں چہ شک)

شاہ قاچار کی حرم سرا کا ایک حصہ

اب یہاں تھوڑا سا قصہ رضا شاہ کے استقلال اور عقل مندی کا بھی درج کرتا ہوں۔ 1927ء کے وسط میں ہماری سروے پارٹی ایران سے عراق سروے کے لیے گئی۔ بصرہ بغداد سے ہوتے ہوئے خانقین قصبہ جانا تھا جو بغداد سے تقریباً تیس میل جانب ایران ہے۔ چند روز ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ وہاں پر اتفاقیہ ایک امریکن سے ملاقات اور بات چیت کا موقع ملا جو ایران سے بطور ایڈوائزر کے رضا شاہ سے مل کر آیا تھا۔ وہ ریلوے بنانے کے لیے صلاح مشورہ کے لیے امریکہ سے بلایا گیا تھا اور اب وہ امریکہ واپس جا رہا تھا۔ اس امریکن ایڈوائزر سے جو سنا گیا وہ یہ ہے: رضا شاہ چاہتا ہے کہ دوسرے ممالک سے بغیر قرض لیے یا کسی دوسری حکومت کے زیر احسان ہوئے بغیر ریلوے بنائی جائے جو کہ مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ رضا شاہ کا ارادہ ہے کہ ایک بنک کھولا جائے جس کے لیے سرمایہ سابقہ شاہی خاندان کی جائداد اور جواہرات فروخت کر کے جمع کیا جائے۔ بنک کے باقی ماندہ حصے ملک میں فروخت کیے جائیں۔ جب بنک حسب خواہش قائم ہو جائے تو اس بنک کے منافع سے ریلوے لائن بنائی جائے۔ امریکن ایڈوائزر کے بقول کیا بے ہودہ اور جاہلانہ خیال ہے۔ اس کے بعد وقت گزرتا گیا لیکن رضا شاہ اپنے ارادہ اور خیالات پر قائم رہا۔ بعد ازاں کچھ عرصہ بعد، 1930 میں، سننے میں آیا کہ ایران میں ریلوے بننا شروع ہو گئی ہے جس کا نیا ٹھیکہ ایک امریکن کمپنی کو دیا گیا ہے۔ کچھ عرصہ بعد سنا کہ وہ کمپنی نکال دی ہے۔ اب کوئی دوسری سویڈن کی کمپنی منگائی ہے۔ پس اس طرح شاہ نے شاہ پور ریلوے اہواز تک قریباً ایک ہزار میل لمبی بنا لی اور کسی کمپنی کے قدم بھی اپنے ملک میں نہ جمنے دیے اور اپنے نوجوان لڑکے سروے کے کام کے بھی ماہر کروا لیے۔ فقط یہ ایک مثال ہے رضا شاہ کے استقلال اور اور پختہ ارادے کی۔

رضا شاہ پہلوی 1941ء میں

پس میرے پیارے ناظرین۔ اب آپ اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے کہ دنیا میں کیسے کیسے ہوشیار اور عقل مند انسان ہوتے چلے آئے ہیں۔ اگر سمجھا جائے تو یہ سب خداد داد چیزیں ہیں۔ انسان کے لیے جدوجہد کرنا، اس دنیا میں رہ کر ترقی کرنے کے لیے حوصلہ و استقلال نیزعقل و فراست کا رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2