مدراس میں ملازمت، ادنیٰ اہل کاروں کی خباثت اور انگریز افسروں کی دیانت

میرے دادا جان ( 1892۔ 1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا…

Read more

مولوی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں

میرا زندگی کا تجربہ یہی ہے کہ مولوی یا افسر سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آپ ان سے ڈرنے سے انکار کر دیں تو یہ آپ کے ساتھ عزت و احترام پر مبنی رویہ اپنانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ آج ہم سب میں حاشر ابن ارشاد کا کالم پڑھ کر مجھے بھی…

Read more

نفرت کے کاروبار کو روکنا ہو گا

اگرچہ میرا بچپن تقسیم ہند کے موقع پر ہونے والے فسادات اور قتل و غارت کی داستانیں سننے میں بسر ہوا لیکن پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ اپنے جسم و جاں پر اذیتیں جھیلنے والوں کے دل نفرت سے پاک تھے۔ لوگ ان فسادات کو معمول کی زندگی سے ایک…

Read more

تعلیمی ادارے یا سیاسی جماعتوں کی نرسریاں

دور جدید کے تعلیمی اداروں میں تین سرگرمیاں ہوتی ہیں جو بالکل ناگزیر ہیں اور ایک ادارے کو پہچان عطا کرتی ہیں: نصابی، ہم نصابی، اور غیر نصابی۔ آخری دو میں سے کوئی ایک بھی کم ہو گی تو وہ تعلیمی ادارہ کہلانے کا مستحق نہیں۔ صرف کلاس روم میں لیکچر بازی اور چند سوالات…

Read more

سلیم احمد کی کتاب ’اقبال ایک شاعر‘ : ایک تنقیدی مطالعہ

سنہ 1981 ء کی بات ہے۔ ہم تین دوستوں (جاوید احمد غامدی، ابوشعیب صفدر علی مرحوم اور خاکسار) نے اپنے محترم بزرگ دوست اور مربی ڈاکٹر فرخ ملک مرحوم کی مالی اعانت سے ایک دو ماہی جریدے الاعلام کا آغاز کیا۔ اس کے دوسرے شمارے (جنوری 1982 ) میں راقم نے ممتاز نقاد اور شاعر…

Read more

جنت میں ٹی ہاؤس کی میز

(آج ناصر کاظمی کی برسی ہے - March 2, 1972) باغ بہشت کے ایک گوشے میں گھنے درختوں کے نیچے، پھولوں کے تختوں کے درمیان، جوئبار کے کنارے ایک میز لگی ہے جس کے گرد کرسیوں پر ناصر کاظمی، شیخ صلاح الدین، اور حنیف رامے براجمان ہیں۔ ایک کرسی خالی ہے۔ ناصر کاظمی پر کسی…

Read more

بنگلہ دیش نامنظور: حوالات میں گزرے دنوں کی یاد

سن 1973 فروری کا مہینہ تھا۔ لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد ہو رہی تھی۔ سارا شہر اھلاً و سھلاً مرحبا کے بینروں سے سجا ہوا تھا۔ 21 فروری کو میں نے یارعزیز جاوید احمد (غامدی) صاحب کے ہمراہ باصر کاظمی کے گھر پر ٹی وی پر سربراہان کے ایرپورٹ پر استقبال کے مناظر دیکھے۔…

Read more

تدریسی زندگی کے چالیس برس مکمل ہونے پر

قبلہ مشتاق احمد یوسفی صاحب نے کہا تھا کہ آدمی اگر ایک دفعہ پروفیسر ہو جائے تو عمر بھر پروفیسر ہی کہلاتا ہے خواہ بعد میں سمجھ داری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے۔ اس قول سدید کے بعد پروفیسری کے چالیس برس مکمل ہونے پر کسی قسم کا فخر کرنا تو بنتا نہیں۔…

Read more

پیروں تلے جلتی دھرتی

سنہ 1980 کی بات ہے، پنجاب یونیورسٹی میں تدریس کا آغاز کیے ابھی سال ڈیڑھ سال ہی ہوا تھا کہ ایک دن شعبہ فلسفہ کے سابق سربراہ کا، پروفیسر خواجہ غلام صادق، مجھے فون آیا۔ خواجہ صاحب اس وقت لاہور انٹرمیڈیٹ بورڈ کے چیرمین اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے ریجنل ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے…

Read more

میں نے انجینئرنگ کیسے سیکھی؟

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک…

Read more