انسانوں پر طویل عرصہ ایسا گزرا ہے جب بقول اقبال، خوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظر۔ تجریدی فکر تک ابھی رسائی نہیں ہوئی تھی یا عام نہیں تھی۔ چنانچہ اس وقت سبق آموز واقعات کو بہت مقبولیت حاصل ہوتی تھی۔ ایسپ کی حکایات سے لے کر حکایات سعدی تک ایک طویل سلسلہ ہے جہاں پہلے ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے اور پھر اس سے اخلاقی نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا تو اردو کی کتاب میں ایفائے عہد کے سلسلے میں نبی کریم ﷺ سے منسوب ایک واقعہ شامل نصاب تھا۔ واقعہ مشہور ہے اس لیے اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ برسوں بعد ذہن میں اس شبہ نے سر اٹھایا کہ یہ واقعہ درست نہیں ہو سکتا۔ کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ آپ تین دن ایک مقام پر کھڑے رہیں، نہ آپ کے گھر والوں کو کوئی تشویش ہوئی ہو کہ آپ کہاں ہیں، نہ مسجد نبوی میں نمازوں کے اوقات میں آپ کو غیر حاضر پا کر صحابہ کو کسی قسم کی پریشانی لاحق ہو، نہ کوئی آپ کی تلاش میں روانہ ہوا ہو؟
Read more