تدریسی زندگی کے چالیس برس مکمل ہونے پر

قبلہ مشتاق احمد یوسفی صاحب نے کہا تھا کہ آدمی اگر ایک دفعہ پروفیسر ہو جائے تو عمر بھر پروفیسر ہی کہلاتا ہے خواہ بعد میں سمجھ داری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے۔ اس قول سدید کے بعد پروفیسری کے چالیس برس مکمل ہونے پر کسی قسم کا فخر کرنا تو بنتا نہیں۔…

Read more

پیروں تلے جلتی دھرتی

سنہ 1980 کی بات ہے، پنجاب یونیورسٹی میں تدریس کا آغاز کیے ابھی سال ڈیڑھ سال ہی ہوا تھا کہ ایک دن شعبہ فلسفہ کے سابق سربراہ کا، پروفیسر خواجہ غلام صادق، مجھے فون آیا۔ خواجہ صاحب اس وقت لاہور انٹرمیڈیٹ بورڈ کے چیرمین اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے ریجنل ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے…

Read more

میں نے انجینئرنگ کیسے سیکھی؟

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک…

Read more

وہ انسان ہی تھے

گزشتہ صدی میں 80 کی دہائی کے اوائل کی بات ہے۔ جنرل ضیا الحق کا نفاذ شریعت کا پروگرام پوری شد و مد سے جاری تھا۔ ہزار سال پرانے فقہی قوانین کا جب دور جدید میں اطلاق شروع ہوا تو بہت سے مسائل نے سر اٹھا لیا۔ دیگر قانونی معاملات کے علاوہ ایک اہم مسئلہ اسلام کے سیاسی نظام کا تھا۔ یہ سوال بار بار پوچھا جاتا تھا کیا جمہوریت اسلام کے مطابق ہے؟

Read more

فلسفہ غیر ضروری ہے

1975  کی بات ہے۔ الفلاح میں پاکستان نیشنل سنٹر میں چائلڈ سائکالوجی پر ایک سیمینار تھا جس کی صدارت اس وقت کے وفاقی سیکریٹری تعلیم ڈاکٹر محمد اجمل صاحب فرما رہے تھے۔ ہم کچھ دوست بھی ڈاکٹر صاحب کی وجہ سے وہاں جا حاضر ہوئے۔ اپنے خطبہ صدارت میں ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ وہ…

Read more

بڑودہ میں ملازمت اور مولانا شوکت علی کی آمد

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کا چپہ چپہ دیکھ رکھا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔…

Read more

گاؤں اور بچپن کی کچھ یادیں

   پنجاب میں جدید طرز کے گاؤں ہیں جنھیں چک کہا جاتا ہے اور اس کی جمع چکوک بنائی جاتی ہے۔ یہ گاؤں ایک باقاعدہ نقشے کے تحت بنے ہوئے ہیں، کھلی اور کشادہ گلیوں اور راستوں کے ساتھ۔ انگریزوں کے زمانے میں جب دریاؤں سے نہریں نکال کر بار کے علاقوں کی زمینوں کو…

Read more

آج ناصر کاظمی کا یوم پیدائش ہے

(ناصر کاظمی کے یوم پیدائش پر مشفقی ڈاکٹر ساجد علی کی خصوصی تحریر) میں نے جس گھرانے میں شعور کی آنکھ کھولی وہاں اقبال، اکبر الہ آبادی اور حالی کے اشعار سننے کو ملے۔  جب نویں جماعت میں پہنچا تو اردو کے نصاب میں میر تقی میر، میر درد اور مرزا غالب کی تین تین…

Read more

تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ: اقبال کا ایک تاریخ ساز فکری کارنامہ (اقبال میموریل لیکچر)

  پرائمری سکول کے زمانے سے اقبال کی شاعری کا مطالعہ شروع کیا تھا اور بحیثیت شاعر وہ مجھے آج بھی پسند ہے۔ اس کے باوجود کبھی کبھی میرے دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے کہ کاش اقبال شاعر نہ ہوتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہماری شاعرانہ روایت بہت رفیع الشان ہے،…

Read more