عزت نفس کا احساس

میرے آبا و اجداد کا تعلق مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر کی تحصیل نکودر کے چھوٹے سے گاؤں مظفر پور سے تھا۔ اس گاوں کا ایک فرد بیسویں صدی کے آغاز میں بارہ برس کی عمر میں گھر سے نکلا اور امریکہ چلا گیا۔ کمال اس نے یہ کیا کہ وہاں جا کر پڑھائی کی…

Read more

بیت گیا یہ سال بھی

اس وقت عمر عزیز 68 سال، سات مہینے اور سات دن بنتی ہے۔ ان گزرے مہ و سال پر نظر ڈالتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ ان برسوں میں صدیوں کا فاصلہ طے کیا ہے۔ پتہ نہیں اس کو خوش نصیبی کہا جائے گا یا نہیں کہ اس عمر میں ہجری صدی کو تبدیل…

Read more

اقلیتوں کے مساوی حقوق کا مسئلہ

تیس برس سے زیادہ پرانی بات ہے وی سی آر پر مشہورزمانہ سیریز سٹارٹریک کی ایک قسط دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس قسط میں ایک شخص سپیس شپ میں آ جاتا ہے جس کی سر سے پاوں تک ایک سائیڈ سفید اور دوسری سیاہ ہوتی ہے۔ وہ پناہ کا طالب ہوتا ہے۔ کچھ دیر کے…

Read more

کارل پوپر کا خطبہ: رواداری اور فکری ذمہ داری

کارل پوپر   *** اردو ترجمہ: ڈاکٹر ساجد علی سقراط کا یہ بصیرت افروز قول سقراط کے اپنے زمانے کی بہ نسبت موجودہ زمانے کے زیادہ مناسب حال ہے کہ ” میں جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا اور اتنی سی بات کا عرفان بھی بہت مشکل سے ہوا ہے۔ “ ہمارے پاس بہت عمدہ جواز…

Read more

آج رات کے بے نوا مسافر ناصر کاظمی کا یوم پیدائش ہے

ناصر کاظمی کی شاعری کے دو بنیادی موتیف اداسی اور تنہائی ہیں۔ ناصر کے دوستوں اور نقادوں نے اداسی کا سبب ہجرت کو قرار دیا ہے۔ یہ بات اس قدر زور شور سے پھیلائی گئی ہے کہ آج ناصر ہجرت کا شاعر بن کر رہ گیا ہے۔ میرا ناصر کاظمی سے تعارف صرف ان کی…

Read more

میں نے سنہ 71ء کے لہو لہو دسمبر میں کیا دیکھا؟

اڑتالیس برس بیت چکے ہیں مگر جب بھی دسمبر کا مہینہ آتا ہے تو دل میں کرب و الم کی ٹیس اٹھنے لگتی ہے مگر زیادہ رنج اپنی حماقتوں کو یاد کرکے ہوتا ہے کہ انسان اگر ایک بیانیے، بالخصوص سرکاری بیانیے، کا اسیر ہو جائے تو کس طرح سامنے کی حقیقتوں کو جاننے اور…

Read more

نکودر کے تحصیل دار کا جلسہ اور کسان کی تقریر

میرے دادا جان ( 1892۔ 1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کا چپہ چپہ دیکھ رکھا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام…

Read more

ٹیکسٹ بک کا استبداد

کوئی ایک عشرہ قبل لاہور میں ایک پرائیو یٹ یونیورسٹی نے مجھے کمپیوٹر سائنس کے طلبہ کو فلسفے کا ایک ابتدائی کورس پڑھانے کی دعوت دی۔ کورس آؤٹ لائن پر گفتگو کرنے کے لیے جب میں ڈین صاحب کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ میں کون سی ٹیکسٹ بک استعمال…

Read more

ظفر اقبال: لا تنقید سے آب رواں تک

محترم عطاءالحق قاسمی صاحب نے اپنے ایک کالم میں ”خود تشخیصی اسکیم“ کی لاجواب ترکیب استعمال کی ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض مخلوقات اپنے مقام اور مرتبے کا تعین کر لیتی ہیں۔ ظفر اقبال صاحب کی ”لا تنقید“ پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ انہوں نے اس اسکیم کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے…

Read more

وردی پوش ذہن کا مخمصہ اور جمہوریت

اکتوبر 2002 کی بات ہے کہ شعبہ فلسفہ، پنجاب یونیورسٹی، کے صدر شعبہ ڈاکٹر نعیم احمد صاحب کو کمانڈ اینڈ سٹاف کالج، کوئٹہ سے پندرہ روز کے لیے دو کورس پڑھانے کاایک دعوت نامہ موصول ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی مصروفیات کی بنا پر معذرت کی اور اپنی جگہ میرا نام بھیج دیا۔ وہاں سے…

Read more