ڈاکٹر مہدی حسن: ایک متمدن شخص کی یادیں

ڈاکٹر مہدی حسن کا شمار پنجاب یونیورسٹی کے ان چند اساتذہ میں ہوتا تھا جو اپنی بات کھلے اور واشگاف انداز میں کرنے کے عادی تھے۔ ان کا تعلق بائیں بازو کے ساتھ تھا۔ ترقی پسند ہونے کے دعوے دار تو بہت سے تھے لیکن صرف مہدی صاحب تھے جو ہر قسم کی مصلحت شناسی سے بالاتر تھے۔ انھوں نے اس کی قیمت بھی ادا کی لیکن اپنے اصولوں سے کبھی انحراف نہیں کیا۔ یہ بڑی بد قسمتی کی بات

Read more

خالد احمد: میرے استاد

سنہ 1967 ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں فرسٹ ایر میں داخل ہوا تو انگریزی اور اردو لازمی مضامین تھے۔ اختیاری مضامین میں سوکس، فلسفہ اور عربی تھے۔ اردو کے اولین استاد ڈاکٹر اسد اریب تھے۔ فلسفہ پروفیسر شاہد حسین، عربی پروفیسر علقمہ اور سوکس پروفیسر سردار محمد پڑھاتے تھے۔ انگریزی کی کلاس میں گئے تو کوئی دس منٹ لیٹ ایک نوجوان استاد کلاس روم میں داخل ہوئے۔ لمبا قد، چوڑا ہاڑ، بال بکھرے ہوئے، شیو کچھ بڑھی ہوئی، جین

Read more

اردو تاریخ نگاری میں جذبات کی آمیزش

ایک دن شعبہ فلسفہ میں اسلامیات میں پی ایچ ڈی کے ایک طالب علم تشریف لائے۔ وہ مجھ سے مدد کے خواہاں تھے۔ انھوں نے اپنا تحریر کردہ خاکہ دکھایا جس کا سرآغاز کچھ یوں تھا: مغرب کی حیا باختہ، اخلاق سوز تہذیب۔ ان سے عرض کیا یہ پی ایچ ڈی کے مقالے کی زبان نہیں ہے۔ یہ تو طعن و تضحیک ہے۔  تحقیقی مقالے کی زبان کا انداز معروضی اور علمی ہوتا ہے  نیز اسے جذبات سے پاک ہونا

Read more

پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت اور شعبہ فلسفہ

یکم جنوری 1979 ء کو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں تدریس کا آغاز کیا۔ دو تین برس تو خیریت سے گزر گئے۔ لیکن اس کے بعد جمعیت کے ساتھ معاملات کچھ الجھنا شروع ہو گئے۔ 1983 کا سال تھا جب ان کے ساتھ تنازعہ شروع ہوا۔ ہر تدریسی شعبے میں نئے آنے والے طلبہ و طالبات کا خیر مقدم کرنے اور جانے والوں کے اعزاز میں پارٹیاں منعقد کرنے کا رواج ہے۔ اسی زمانے میں پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت

Read more

لفظ ‘نیشن’ کی تاریخ

انگریزی زبان میں لفظ ‘نیشن’ کی تاریخ پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ اس کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا تھا ابتدا میں اس لفظ کے کیا معانی تھی اور پھر صدیاں گزرنے کے بعد یہ لفظ کس طرح نئے نئے معانی اختیار کرتا چلا گیا۔ اور جدید معنوں میں نیشن کا تصور کب وجود میں آیا؟ (اس تحریر میں اس لفظ کی تاریخ بیان کرنے کی سعی کی گئی ہے جو میری کسی ذاتی تحقیق کا نتیجہ نہیں بلکہ

Read more

مولانا مودودی مرحوم کی عصر کی محفل: چند یادیں

سنہ 1967 ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوا اور اقبال ہوسٹل میں دو سال قیام کیا۔ میرا ایک روم میٹ تنویر احمد تھا جو بعد ازاں بہت گہرا دوست بن گیا۔ تنویر کا سارا خاندان جماعت اسلامی سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد جماعت کے رکن تھے۔ ایک خالو چودھری رحمت الہٰی جماعت اسلامی کے جنرل سکریٹری تھے۔ ایک اور خالو سید مراد علی شاہ رکن جماعت ہی نہیں مولانا مودودی کے بہت بے تکلف دوست بھی

Read more

کتب خانہ اسکندریہ کو جلانے کا قصہ: حقیقت کیا، افسانہ کیا؟

بعض تاریخی حوادث ایسے ہوتے ہیں جن پر بحث و تمحیص کا باب کبھی بند نہیں ہوتا۔ ایسا ہی ایک حادثہ کتب خانہ اسکندریہ کی بربادی ہے۔ یہ کتب خانہ کب قائم ہوا، کتنا عرصہ قائم رہا اور کب بربادی سے دو چار ہوا؟ کیا اسے خلیفۃ المسلمین حضرت عمرؓ فاروق کے حکم پر نذر آتش کیا گیا تھا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر کئی سو سال سے بحث مباحثہ کا بازار گرم ہے۔ اس لائبریری کی بربادی کے

Read more

مولانا آزاد اور کانگرس کی صدارت کا معاملہ

میرے دوست حافظ صفوان محمد نے 7 ستمبر 2023 کو اپنی وال پر ایک پوسٹ لگائی تھی جس میں گاندھی جی کے مولانا ابو الکلام آزاد کے نام ایک خط کے کچھ جملے درج کیے گئے تھے۔ پوسٹ کے آخر میں حافظ صاحب نے لکھا تھا کہ اس اہم معاملے پر مولانا آزاد کا موقف جاننے کے لیے ان کی کتاب ”آزادی ہند کی کہانی“ مترجمہ غلام رسول مہر کے صفحہ 241 کا مطالعہ کافی دلچسپ ثابت ہو گا۔ محترم

Read more

وہ انسان ہی تھے

گزشتہ صدی میں 80 کی دہائی کے اوائل کی بات ہے۔ جنرل ضیا الحق کا نفاذ شریعت کا پروگرام پوری شد و مد سے جاری تھا۔ ہزار سال پرانے فقہی قوانین کا جب دور جدید میں اطلاق شروع ہوا تو بہت سے مسائل نے سر اٹھا لیا۔ دیگر قانونی معاملات کے علاوہ ایک اہم مسئلہ اسلام کے سیاسی نظام کا تھا۔ یہ سوال بار بار پوچھا جاتا تھا کیا جمہوریت اسلام کے مطابق ہے؟ سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج

Read more

نصراللہ خان (صحافی) کی خود نوشت: اک شخص مجھی سا تھا

نصر اللہ خان اردو صحافت کا بہت درخشندہ ستارا تھے۔ مولانا ظفر علی خان کے زمیندار اخبار سے صحافت کا آغاز کیا اور پاکستان بننے کے بعد طویل عرصہ تک کراچی سے شائع ہونے والے اخبار حریت میں کالم نگاری کرتے رہے۔ درمیان میں کچھ برس ریڈیو پاکستان سے بھی وابستہ رہے اور تدریس کے فرائض بھی سرانجام دیے۔ زندگی بھر سرکار دربار سے دور ہی رہے۔ ان کی نثر نگاری کی اتنی شہرت تھی کہ انھیں نثر اللہ خان

Read more

کیا سلاطین عثمانیہ نے پرنٹنگ پریس پر پابندی لگائی؟

فیض صاحب کا ایک مصرع ہے: یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سر رہ سیاہی لکھی گئی سیاہی ملنے کا یہ کام غیروں یا مخالفوں کی طرف سے ہونا تو بنتا ہے لیکن خواہ مخواہ کہیں بھی پڑی سیاہی کو اٹھا کر اپنے منہ اور دامن پر مل لینا کوئی اچھی بات نہیں۔ آج کل نوحہ گران ملت کی طرف سے بالتکرار ایک بات کہی جا رہی ہے کہ ترک سلاطین نے اپنی تنگ نظری اور مذہبی تعصب کی

Read more

منطق کا ایک ابتدائی سبق

میرے میٹرک کے اردو کے نصاب میں مولانا الطاف حسین حالی کی کتاب ”یادگار غالب“ کا ایک اقتباس شامل تھا جس میں غالب کے کچھ اشعار کی شرح بیان کی گئی تھی۔ ایک شعر کے متعلق کہا گیا تھا کہ اس کے پہلے مصرع میں دعویٰ ہے اور دوسرے میں دلیل بیان کی گئی ہے۔ ان دونوں الفاظ کا مطلب معلوم نہیں تھا اور شاید ہمارے استاد محترم کو بھی پتہ نہیں تھا۔ اس قسم کے جملے اکثر پڑھنے سننے

Read more

پروفیسر بی اے چشتی کی یاد میں

گورنمنٹ کالج لاہور میں ایک طویل عرصہ، تقریباً سات سال، بسر کیا۔ جن اساتذہ سے کلاس میں تو پڑھنے کا موقع نہ ملا لیکن ان کی بہت شفقت مجھے میسر رہی ان میں انگریزی کے پروفیسر بے اے چشتی، اردو کے پروفیسر اصغر سلیم میر، پروفیسر صابر لودھی، سیاسیات کے پروفیسر احمد حسن، تاریخ کے پروفیسر محمود خان بھٹی شامل ہیں۔ چشتی صاحب ان لوگوں میں تھے جو بس استاد بننے کے لیے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ طویل قامت، چھریرا

Read more

ڈاکٹر جاوید اقبال: چند یادیں

پرائمری سکول کے زمانے سے علامہ اقبال کا کلام پڑھنا شروع کیا تھا۔ علامہ کی وجہ سے فرزند اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال کا نام بھی سننے کو ملتا تھا۔ میں اس وقت آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا جب ملک میں صدارتی انتخاب کی مہم چل رہی تھی جس میں ایوب خان کے مقابلے میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اپوزیشن کی امیدوار تھیں۔ میرا گھرانا مادر ملت کا حامی تھا۔ ان دنوں یہ جان کر بہت خوشی ہوئی تھی

Read more

کارل پوپر: غریب الدیار فلسفی

سال تھا 1936ء کا ۔ اپریل کے مہینے کی 6 تاریخ اور لندن میں شام 8 بجے کا وقت تھا۔ اس روز مشہور زمانہ ارسطاطالیسی سوسائٹی کی میٹنگ میں برٹرینڈ رسل نے اپنا مضمون پڑھا۔ اس مضمون میں رسل نے ڈیوڈ ہیوم کے اعتراضات کے جواب میں کانٹ کے انداز میں استقرا کا دفاع کرنے کی کوشش کی تھی۔ میٹنگ میں وی آنا سے آیا ہوا ایک نوجوان سکول ٹیچر بھی موجود تھا۔ اس کو وہاں ایک نوجوان برطانوی فلسفی

Read more

کارل پوپر کا عدم جبریت کا نظریہ

مذہبی، فلسفیانہ اور سائنسی فکر کا غالب حصہ اس کائنات میں جبر کی کارفرمائی کو تسلیم کرتا ہے۔ کارل پوپر نے اس مسئلہ پر بھی اپنی منفرد رائے کو بڑے قوی دلائل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس نے جبریت کی تین اقسام گنوائی ہیں۔ ( 1 ) الٰہیاتی جبریت ( 2 ) ما بعد الطبیعیاتی جبریت ( 3 ) سائنسی جبریت۔ الٰہیاتی جبریت سے مراد یہ ہے کہ اس کائنات میں پیش آنے والے تمام واقعات وقوع پذیر ہونے

Read more

کیا غزالی سائنس کے خلاف تھا؟

ایک تواتر اور تسلسل سے دانشوران ملت نوحہ گری اور ماتم زنی میں مصروف رہتے ہیں کہ مسلم دنیا میں سائنس کے زوال کی تمام تر ذمہ داری امام غزالی ( 1058۔ 1111 ) پر عاید ہوتی ہے کیونکہ غزالی نے تہافتہ الفلاسفہ نامی بدنام زمانہ کتاب لکھی جس میں نہ صرف یونانی فلسفے کا رد لکھا بلکہ علت و معلول کے قانون کا بھی انکار کیا۔ چنانچہ غزالی کے تابڑتوڑ حملوں سے مسلم سماج میں عقلیت پسندی کی روایت

Read more

پروفیسر وارث میر مرحوم: چند یادیں

وارث میر صاحب کا نام میں نے پہلی بار سنہ 1971 میں سنا تھا۔ اس وقت مشرقی پاکستان میں آرمی ایکشن جاری تھا۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کا ایک وفد جاوید ہاشمی کی قیادت میں مشرقی پاکستان کے دورے پر گیا تھا۔ اس وفد کے ساتھ پروفیسر وارث میر صاحب ٹیچر انچارج کے طور پر گئے تھے۔ وہاں سے واپسی پر میر صاحب نے نوائے وقت میں کالموں کا ایک سلسلہ لکھا تھا۔ اتنے برس گزر

Read more

بارہویں صدی کے بعد مسلم سائنس کا زوال: حقیقت یا افسانہ

ن م راشد صاحب نے شاید اس قسم کی بات کی تھی کہ ایک زمانہ تھا جب انسان کتابوں کی کمی کی وجہ سے جاہل رہ جاتا تھا، اب کتابوں کی زیادتی کی وجہ سے۔ علمی دنیا میں معلومات کی کمی کی بنا پر بعض اوقات کچھ آرا قائم کر لی جاتی تھیں اور بدقسمتی یہ ہوتی کہ وہ بہت مٓشہور بھی ہو جاتی تھیں۔ جب ایک غلط بات مشہور ہو جائے تو اس کی تردید بہت مشکل ہو جاتی

Read more

آغاز سفر کی کچھ یادیں۔ اکہترویں سالگرہ کے موقع پر

انسانی زندگی میں اگرچہ اختیار و انتخاب کا دائرہ بہت وسیع ہے لیکن پھر بھی بہت کچھ اتفاقات و حوادث پر مبنی ہوتا ہے۔ مقام پیدائش اور خاندان کے انتخاب پر انسان کا کوئی اختیار نہیں۔ جس خاندان اور ماحول میں بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے اثرات اس کی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں، بالخصوص ہماری زبان اور مذہب موروثی اثرات کا ہی نتیجہ ہوتے ہیں۔ میں اس لحاظ سے بہت خوش قسمت رہا ہوں کہ مجھے اپنی زندگی

Read more

پچاس برس پہلے کا گورنمنٹ کالج لاہور

اس بات کو پوری نصف صدی گزر چکی ہے جب میں میٹرک کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں سال اول میں داخل ہوا تھا۔ زندگی میں کوئی ایک فیصلہ کن مرحلہ ایسا آتا ہے جو انسان کی آئندہ زندگی کا رخ متعین کر دیتا ہے۔ میرے لیے وہ لمحہ گورنمنٹ کالج میں داخلے کا فیصلہ تھا۔ میٹرک کا رزلٹ آنے کے بعد لاہور آ کر گورنمنٹ کالج میں داخلہ فارم جمع کروایا۔ گورنمنٹ کالج میں میرٹ کی بلندی سے

Read more

دود چراغ محفل: نصف صدی کے قصے

سن 1971 میں جاوید احمد (غامدی) صاحب نے اتوار کے روز صبح کے وقت گلبرگ کی ایک مسجد میں درس قرآن دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ مسجد گلبرگ کی مین مارکیٹ کے پاس بی بلاک میں جناب غلام احمد پرویز صاحب کی رہائش گاہ سے تھوڑے فاصلے پر واقع تھی۔ مسجد کے امام مولوی شاہ محمد انیس صاحب تھے۔ وہ جماعت اسلامی کے اچھرہ میں قائم کیے گئے سکول نیا مدرسہ میں عربی کے استاد بھی تھے۔ دیسی لہجے

Read more

پروفیسر عبد الحمید کمالی مرحوم: کچھ یادیں، کچھ باتیں

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں تدریس کرتے ہوئے پانچ چھ برس گزر چکے تھے۔ ایک روز اپنی عادت کے مطابق شعبہ کی لائبریری میں کتابیں الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا کہ مجلہ اقبال ریویو کا ایک شمارہ سامنے آ گیا۔ اس میں ایک مضمون کا عنوان مجھے کچھ عجیب سا لگا: ’مقولۂ صفات اور حقیقت اسماء‘ ۔ مصنف عبد الحمید کمالی تھے۔ کمالی صاحب کا نام میں اپنے سینیئرز سے سن چکا تھا مگر کوئی ذاتی تعارف نہیں

Read more

مولانا عبد السلام نیازی کے خلیفہ مجاز سے چند ملاقاتیں

مزاج کے اعتبار سے میں شرمیلا، کم آمیز اور کم گو شخص ہوں۔ اجنبی لوگوں سے ملنے میں مجھے بہت جھجھک کا سامنا رہا ہے۔ کئی سال ہوسٹل میں رہنے کے بعد اس عادت پر کسی حد تک قابو پا چکا تھا۔ اس افتاد طبع کے باوجود مجھے ہر طرح کے لوگوں سے ملنے کے مواقع میسر آئے۔ اس میں زیادہ ہاتھ میرے دو دوستوں جاوید احمد غامدی اور باصر سلطان کاظمی کا رہا ہے۔ باصر کی معیت میں مجھے

Read more

چالیس برس پرانی ایک محفل کی کچھ یادیں

یار عزیز باصر سلطان کاظمی کا ناصر کاظمی کے منظوم ڈرامہ ”سر کی چھایا“ پر لکھا تعارف کچھ تصاویر کے ساتھ ہم سب پر ( 2 مارچ 2022 ) شائع ہوا ہے۔ اپنی تصویر دیکھ کر مجھے بھی اس محفل کی کچھ باتیں یاد آ گئی ہیں۔ سر کی چھایا دسمبر 1981 میں پہلی بار کتابی صورت میں شائع ہوئی تھی۔ شاید جنوری 1982 کے آخری ہفتے میں ناصر کاظمی کے گھر پر ایک غیر رسمی سی تقریب اجرا منعقد

Read more

آج بیت المقدس کی فتح کا دن ہے

آج رجب کی 27 تاریخ ہے۔ 835 سال (شمسی) قبل آج کے دن سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو صلیبی حملہ آوروں کے قبضے سے واگزار کرایا تھا۔ بلاشبہ یہ سلطان کی بہت بڑی فتح تھی جس کی بنا پر اس کا تذکرہ تاریخ کے صفحات میں بہت جلی حروف میں کیا جاتا ہے۔ یہ کروسیڈز کا، ہمارے ہاں جنھیں صلیبی جنگیں کہا جاتا ہے، زمانہ تھا۔ ان کے اسباب پر بہت زیادہ بحث مباحثہ موجود ہے۔ دور

Read more

پیٹر میڈاور: بنی نوع انسان کا ایک محسن

سر پیٹر برائن میڈاوار کا شمار انسانیت کے ان محسنین میں ہوتا ہے جن کی تحقیق بنی نوع انسان کے لیے بہت زیادہ فیض رسانی کا سبب بنتی ہے۔ وہ نوبل انعام یافتہ سائنس دان تھا۔ اسے میڈیسن اور فزیالوجی کے شعبے میں سن 1960 میں نوبل انعام ملا تھا۔ اس کی تحقیق   Acquired immunological tolerance کے موضوع پر تھی جس کے نتیجے میں اعضا کی پیوند کاری ممکن ہو سکی تھی۔  نسل پرستانہ ماحول میں مخلوط نسل سے ہونے

Read more

ڈاکٹر مہدی حسن: ایک متمدن شخص کی یادیں

ڈاکٹر مہدی حسن کا شمار پنجاب یونیورسٹی کے ان چند اساتذہ میں ہوتا تھا جو اپنی بات کھلے اور واشگاف انداز میں کرنے کے عادی تھے۔ ان کا تعلق بائیں بازو کےساتھ تھا۔ ترقی پسند ہونے کے دعوے دار تو بہت سے تھے لیکن صرف مہدی صاحب تھے جو ہر قسم کی مصلحت شناسی سے بالاتر تھے۔ انھوں نے اس کی قیمت بھی ادا کی لیکن اپنے اصولوں سے کبھی انحراف نہیں کیا۔ یہ بڑی بد قسمتی کی بات ہے

Read more

محبوب خزاں : کچھ یادیں

آج اردو کے منفرد غزل گو جناب محبوب خزاں کی برسی ہے۔ وہ 3 دسمبر 2013 ء کو دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ باصر سلطان کاظمی سے دوستی کے فیضان سے مجھے ناصر کاظمی کے جن احباب سے ملاقات کے مواقع میسر آئے ان میں محبوب خزاں کا نام بھی شامل ہے۔ وہ شعر کہنے میں جتنے کنجوس تھے گفتگو کرنے میں اتنے ہی فیاض تھے۔ وہ پیمانہ و صہبا کے بغیر ہی مسلسل گل افشانی کرتے رہتے تھے۔ ان

Read more

احمدیت کے بارے میں برداشت کی روایت کیوں ختم ہوئی؟

ڈاکٹر صوفی محمد ضیا الحق صاحب گورنمنٹ کالج لاہور میں عربی کے صدر شعبہ تھے۔ وہ عربی زبان، بالخصوص عباسی عہد کی عربی کے بہت جید عالم تھے۔ اتنے بڑے عالم ہونے کے باوجود صوفی صاحب لکھتے نہیں تھے۔ جب کبھی طالب علم ان سے استفسار کرتے کہ آپ لکھتے کیوں نہیں ہیں تو صوفی صاحب بڑے مزے کا جواب دیا کرتے تھے۔ فرماتے قرآن حکیم میں اللہ نے کہا ہے اقرا۔ اللہ نے پڑھنے کا حکم دیا ہے، لکھنے

Read more

عقیدے کی جانچ پڑتال کا موثر طریقہ

اہل اقتدار اور اہل مذہب کو ایک مسئلہ ہمیشہ بہت پریشان کرتا رہا ہے؛ اہل اقتدار کو فکر ہوتی ہے کہ ان کے دربار میں کوئی ایسا شخص نہ گھس آئے جس کی وفاداری مشکوک ہو۔ اہل مذہب کو تشویش ہوتی ہے کہ ان کی صفوں میں کوئی بدعقیدہ فرد جگہ نہ بنا لے۔ دونوں نے وفاداری اور صحت عقائد کی جانچ پرکھ کے لیے کچھ پیمانے وضع کر رکھے تھے جو اکثر و بیشتر کافی ظالمانہ تھے۔ معلومہ تاریخ

Read more

اجمل نیازی: چند یادیں

اب عمر کا وہ مرحلہ آن پہنچا ہے جب اکثر و بیشتر کسی ہم عصر عزیز، دوست اور شناسا کی وفات کی خبر سننے کو ملتی ہے۔ آج صبح فیس بک کھولی تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر اجمل نیازی بھی اس فانی زندگی کے جھمیلوں سے نجات پا کر ابدی زندگی کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اس غم انگیز خبر کو پڑھ کر گزشتہ نصف صدی سے زیادہ کے واقعات کی فلم پردہ

Read more

علم کی ترقی میں رکاوٹ: مذہب نہیں، سیاسی استبداد

پنجابی زبان کا ایک محاورہ ہے: جیہدی کوٹھی دانے، اوہدے کملے وی سیانے۔ اس طرح کا اردو زبان کا ایک مصرع بھی ہے حسن اور نزاکت کے حوالے سے لیکن اسے لکھنے پر میرا ذوق آمادہ نہیں ہوتا۔ حقیقت البتہ یہی ہے کہ مال، دولت، طاقت، اختیار اور حسن کا نشہ کچھ ایسا ہوتا ہے جو سر کو چڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ اس حال میں اپنے سوا کچھ اور نظر نہیں آتا۔ انیسویں صدی کے مغربی یورپ کا کچھ ایسا

Read more

ثانوی زبان میں استعداد کے مسائل

سکول کے زمانے میں مسعود مفتی کے مزاحیہ مضامین کا مجموعہ "سر راہے” پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کا ایک فقرہ اس وقت یاد آ رہا ہے جو زبان کے متعلق ہے۔ "جن کی انگریزی پاکستان میں اس لیے مثالی سمجھی جاتی تھی کہ انگریز کیسے بولتے ہیں، انگلستان جا کر اس لیے مثالی بن گئی کہ انگریز کیسے نہیں بولتے۔” ہمارے ہاں اس بات پر بہت واویلا ہوتا ہے کہ ہم اتنے برس تک انگریزی یا عربی پڑھاتے ہیں

Read more

مخلوط تعلیم کے دور طالب علمی کی کچھ یادیں

زمانہ تعلیم میں چند برس کو ایجوکیشن میں پڑھ کر اور بعد ازاں طویل عرصہ کو ایجوکیشن والے تعلیمی ادارے میں تدریس سے یہ سیکھا کہ عورتوں سے برابری کی سطح پر عزت و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے دوستی کا تعلق رکھنا ہرگز کوئی مشکل کام نہیں۔ ہم چار بھائی ہیں، بہن کوئی نہیں۔ گاوں کے ماحول میں بچپن گزرا۔ طبیعت میں کچھ شرمیلا پن تھا۔ اس لیے لڑکیوں سے بات چیت کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ گورنمنٹ کالج

Read more

جنگ ستمبر کی یاد میں

میں سنہ 1965 میں نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ سکول میں گرمیوں کی چھٹیاں تھیں اور وہ گاؤں میں ہی گزر رہی تھیں۔ اگست کا مہینہ شروع ہوا تو پتہ چلا کہ کشمیر میں جنگ آزادی شروع ہو گئی ہے۔مجاہدین کے ترجمان ایک ریڈیو سٹیشن صدائے کشمیر کی رات کے وقت نشریات کا بھی آغاز ہو گیا تھا۔ یہ خبریں سن کر ہمارا خون جوش مارنے لگا اور جذبہ حب الوطنی نئی بلندیوں کو چھونے لگا۔ اگرچہ ایوب خان

Read more

کیا واقعات سے اصول اخذ کرنا درست ہے؟

انسانوں پر طویل عرصہ ایسا گزرا ہے جب بقول اقبال، خوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظر۔ تجریدی فکر تک ابھی رسائی نہیں ہوئی تھی یا عام نہیں تھی۔ چنانچہ اس وقت سبق آموز واقعات کو بہت مقبولیت حاصل ہوتی تھی۔ ایسپ کی حکایات سے لے کر حکایات سعدی تک ایک طویل سلسلہ ہے جہاں پہلے ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے اور پھر اس سے اخلاقی نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا تو اردو کی کتاب میں ایفائے عہد کے سلسلے میں نبی کریم ﷺ سے منسوب ایک واقعہ شامل نصاب تھا۔ واقعہ مشہور ہے اس لیے اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ برسوں بعد ذہن میں اس شبہ نے سر اٹھایا کہ یہ واقعہ درست نہیں ہو سکتا۔ کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ آپ تین دن ایک مقام پر کھڑے رہیں، نہ آپ کے گھر والوں کو کوئی تشویش ہوئی ہو کہ آپ کہاں ہیں، نہ مسجد نبوی میں نمازوں کے اوقات میں آپ کو غیر حاضر پا کر صحابہ کو کسی قسم کی پریشانی لاحق ہو، نہ کوئی آپ کی تلاش میں روانہ ہوا ہو؟

Read more

دو قومی نظریہ کی تشکیل میں جغرافیے کا کردار

گزشتہ صدی کی ساٹھ کی دہائی میں بے مثال شگفتہ نگار شفیق الرحمان نے ڈینیوب دریا پر ایک تحریر لکھی تھی اور اس میں اپنے مخصوص انداز میں بلقان کا، جسے یورپ کا بارود خانہ کہا جاتا تھا، نقشہ کچھ یوں کھینچا تھا: ”بلقان کے وسیع علاقے میں طرح طرح کے لوگ رہتے ہیں جن کے لباس مختلف ہیں۔ زبان، بود و باش، مذہبی عقیدے سب مختلف ہیں۔ اگر یہ اپنے اپنے ملکوں میں رہتے تو کوئی بات بھی تھی

Read more

خدا کا پیشگی علم اور انسانی اختیار کا مسئلہ

 (سن 1987 میں 23 تا 25 جون پاکستان فلسفہ کانگرس کا ستائیسواں سالانہ اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا تھا۔ اس وقت کانگرس کے صدر ڈاکٹر سی اے قادر مرحوم تھے۔ یہ ان کی زندگی کا آخری سیشن تھا۔ کانفرنس کا افتتاح اس وقت بلوچستان کے گورنر جنرل موسیٰ خان نے کیا تھا۔ اس کے دوسرے دن میں نے یہ مضمون پڑھا تھا جو گزشتہ دنوں پرانے کاغذات کھنگالتے ہوئے سامنے آ گیا، حالانکہ مجھے یقین تھا کہ یہ گم ہو

Read more

کارل پوپر کی سالگرہ: سائنس اور غیر سائنس میں امتیاز کا مسئلہ

(آج کارل پوپر کی ایک سو انیسویں سالگرہ ہے۔ اس موقع پر اس کے فلسفہ سائنس کا مختصر سا تعارف پیش کر رہا ہوں۔) بیسویں صدی کے فلسفہ سائنس میں یہ مسئلہ بہت نزاع کا باعث رہا ہے کہ سائنس اور دیگر علوم بالخصوص ما بعد الطبیعیات میں کیا فرق و امتیاز ہے۔ منطقی اثباتیت کے فلسفیانہ دبستان نے ما بعد الطبیعیات کو رد کرنے کی خاطر ایک ایسی زبان کی تشکیل کا بیڑہ اٹھایا جس کی مدد سے سائنس

Read more

استنبول: ایک بار دیکھا ہے، دوبارہ دیکھنے کی ہوس ہے

استنبول کی سیر کے لیے میں نے اپنی طرف سے ڈھائی دن کافی خیال کیے تھے لیکن اب ہوٹل کے کمرے میں آرام کرتے اور گزشتہ رات کی تکان دور کرتے ہوئے مجھے افسوس ہو رہا تھا کہ 20 جولائی کے دن کا بہت سا حصہ ضائع ہو چکا تھا۔ کچھ گھنٹے کی استراحت کے بعد ٹانگوں کی سوجن کافی کم ہو گئی تو میں غسل کرکے تازہ دم ہوا، کپڑے تبدیل کیے اور شہر کی سیر کے لیے نکل

Read more

ازمیر سے استنبول: غنودگی اور من ترکی نمی دانم کے درمیان ایڈونچر

19 جولائی ( 2010) کو دوپہر کے وقت ازمیر سے استنبول کو بذریعہ بس روانگی کا سفر شروع کیا۔ یہ آٹھ نو گھنٹے کا سفر ہے۔ سفر شروع کرنے سے پہلے میں اپنا لنچ کر چکا تھا۔ سفر میں مجھے نیند تو نہیں آتی، بس کچھ دیر کے لیے غنودگی طاری ہوا کرتی تھی لیکن اس دن نجانے کیا ہوا کہ میں مسلسل اونگھتا رہا اور میرا یہ سفر اچھا خاصا ایڈوینچر بن گیا۔ رات نو بجے بس ایک مقام

Read more

جانا ہمارا پی ٹی وی کے یوتھ پروگرام ”فروزاں“ میں

عزیز دوست باصر کاظمی نے پی ٹی وی کے بارے میں کچھ یادیں شیئر کی ہیں تو مجھے بھی 41 برس پرانا ایک ٹی وی پروگرام یاد آ گیا ہے۔ سن 1980 کی بات ہے جب لاہور سنٹر سے ایک یوتھ پروگرام فروزاں کے نام سے نشر ہوا کرتا تھا جس کی میزبان غزالہ قریشی تھیں۔ ابتدا میں یہ پروگرام کراچی سنٹر سے شروع ہوا تھا جس کی میزبانی کے فرائض مہتاب چنہ (راشدی) کے ذمہ تھے۔ فروری کا شاید

Read more

میرے دادا جان: بابو غلام محمد مظفر پوری

یہ کتاب کسی باقاعدہ مصنف کی تحریر نہیں ہے، ایک عام انسان کی روداد حیات ہے جس کی رسمی تعلیم بس واجبی سی تھی لیکن اس نے زندگی کا وسیع مشاہدہ کیا تھا۔ علم بھی اپنی کاوش سے حاصل کیا تھا۔ مشرقی پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے رہنے والے اس شخص کو حالات نے ہندوستان کے دوردراز علاقوں اور غیر ممالک میں جانے کے مواقع فراہم کیے۔ ان اسفار سے حاصل ہونے والے تجربات کو اس نے کسی

Read more

میری سترویں سالگرہ: ہم نوائی کے بغیر ہم سفری

آج میری عمر کی سات دہائیاں مکمل ہو گئی ہیں۔ زندگی میں پہلی مرتبہ بیم و رجا کے عالم میں مجھے اپنے جنم دن کا انتظار تھا۔ ایک طرف سات دہائیاں مکمل ہونے کی خوشی تھی لیکن کرونا کی وجہ سے موت کی وادی کی طرف ایک انبوہ کثیر رواں دواں تھا۔ ہر دم یہ کھٹکا لگا رہتا تھا کہ نجانے کس وقت بلاوا آ جائے۔  فروری کے مہینے میں طبیعت کچھ خراب ہوئی۔ 22 فروری کو ڈاکٹر صاحب نے

Read more

مولوی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں

میرا زندگی کا تجربہ یہی ہے کہ مولوی یا افسر سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آپ ان سے ڈرنے سے انکار کر دیں تو یہ آپ کے ساتھ عزت و احترام پر مبنی رویہ اپنانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ آج مجھے اس ضمن میں کچھ واقعات یاد آ رہے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کی جامع مسجد میں ایک خطیب صاحب ہوا کرتے تھے۔ بڑا ان کا رعب اور دبدبہ ہوتا تھا۔ جمعیت کے کندھوں پر سوار ہو کر

Read more

جمہوریت اور فکر و عمل کی آزادی

سوال اگرچہ نیا نہیں مگر آج کل ایک بار پھر شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ جس تیزی کے ساتھ معاشرہ مذہبی ہوتا جا رہا ہے اسی تیزی کے ساتھ اخلاق گرتے چلے جا رہے ہیں۔ اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب دراصل ہمارا تصور انسان ہے۔ اخلاقی ا صول ان انسانوں کے لیے ہوتے ہیں جو آزاد اور خود مختار ہوں، عزت نفس کے احساس سے مالامال ہوں۔ اعلیٰ اخلاق صرف ان انسانوں میںپائے جاتے ہیں

Read more

علامہ اقبال اور تصور پاکستان (چند عمومی مغالطے)

عظیم فلسفی کارل پوپر نے سائنس کے مورخین کے بارے میں گلہ کیا تھا کہ وہ بالعموم بہت خراب قاری ہوتے ہیں۔ مجھے اس بات سے صرف اتنا اختلاف ہے کہ بری خواندگی کو سائنس کے مورخین تک محدود کر دینا شاید درست نہ ہو کیونکہ یہ بیماری کافی ہمہ گیر ہے۔ تاریخی متون کو درست پڑھنا شاید اس لیے ممکن نہیں رہتا کہ ہم نے پہلے سے بہت سے تصورات وضع کر رکھے ہوتے ہیں اور جب ان کی

Read more

شیخ صلاح الدین …. اپنے عہد کا علمی استعارہ

شاید دسمبر کا مہینہ اور 1973 کا سال تھا۔ اتوار کے دن میں اپنے دوست باصر کاظمی کے گھر پہنچا تو ڈرائنگ روم میں ایک بھاری بھرکم شخص ، سوٹ ٹائی میں ملبوس، کوٹ کے نیچے کارڈیگن پہنے، چہرے پر عینک لگائے، آرام کرسی میں تشریف فرما تھے۔ باصر نے بتایا کہ اس کے ابا کے دوست شیخ صلاح الدین صاحب ہیں۔ میں بھی سلام کرکے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ کئی اور دوست بھی موجود تھے۔ مجھے خود سے

Read more

کتاب خواں کہاں کھو گیا

بیان کیا جاتا ہے کہ پطرس بخاری نے ایک بار آل انڈیا ریڈیو پر ایک تقریر ریکارڈ کروائی۔ ریکارڈنگ کے بعد پتا چلا کہ ایک لفظ کا تلفظ غلط ادا ہو گیا ہے۔ پطرس نے دوبارہ ریکارڈنگ کرنے کو کہا۔ عملہ متذبذب تھا۔ کسی نے کہا سر جانے دیجیے، ہزار میں کوئی ایک ہو گا جو اس غلطی کو نوٹ کرے گا۔ پطرس نے جواب دیا مجھے اسی ایک خبیث کا ڈر ہے۔ پطرس بخاری کی تلفظ کے بارے میں

Read more

یونیورسٹیوں میں تحقیقی موضوعات کیسے منظور کئے جاتے ہیں؟

ہمارے ہاں یونیورسٹیوں میں تحقیق کی صورت حال پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر کچھ ذاتی تجربات بیان کرنا چاہتا ہوں جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تحقیق کے منصوبوں کی منظوری کس طرح دی جاتی ہے۔ فروری 1979 میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں تدریس کا آغاز کیا۔ میں چونکہ یونیورسٹی میں پڑھا نہیں تھا اس لیے پنجاب یونیورسٹی کے ماحول سے کوئی شناسائی نہیں تھی۔ تقریباً دو برس

Read more

آج استاد محترم مرزا محمد منور صاحب کی برسی ہے

گورنمنٹ کالج لاہور میں میرا داخلہ تو 1967 میں ہوا تھا لیکن کالج سے تعارف چار برس پہلے ہو چکا تھا۔ مجھ سے بڑے بھائی جان نے 1963 میں یہاں ایف ایس سی میں داخلہ لیا تھا۔ اس وجہ سے گھر میں مجلہ راوی کے دو برسوں کے شمارے موجود تھے جن کو میں سکول کے زمانے میں پڑھ چکا تھا۔ ایک رسالہ علاؤ الدین کلیم نمبر تھا۔ اس میں چھپنے والے دو مضامین مجھے بہت زیادہ پسند آئے تھے۔

Read more

جنت میں ٹی ہاؤس کی میز

(آج انتظار حسین کی برسی ہے – 2 فروری 2016) باغ بہشت کے ایک گوشے میں گھنے درختوں کے نیچے، پھولوں کے تختوں کے درمیان، جوئبار کے کنارے ایک میز لگی ہے جس کے گرد کرسیوں پر ناصر کاظمی، شیخ صلاح الدین، اور حنیف رامے براجمان ہیں۔ ایک کرسی خالی ہے۔ ناصر کاظمی پر کسی قدر غنودگی طاری ہے اور حنیف رامے نے فرط عقیدت سے شیخ صاحب کا ہاتھ تھام رکھا ہے۔ شیخ صاحب کہتے ہیں ناصر دیکھو یہاں

Read more

قصہ کچھ امتحانات کا

آج کل امتحانات کا ذکر ہو رہا ہے تو مجھے بھی کچھ امتحانات یاد آ رہے ہیں جو آن لائن نہیں تھے۔ امتحانات کا انعقاد طلبہ اور انتظامیہ کے مابین اکثر و بیشتر نزاع کا سبب بن جاتا ہے۔ ان کا پرامن انعقاد اور بدعنوانی کی روک تھام کرنا کافی صعوبت طلب مشقت بن جاتی ہے۔ جب امتحانات سالانہ ہوا کرتے تھے اس وقت پنجاب یونیورسٹی کے امتحانات میں واک آؤٹ کا بہت رواج تھا۔ لا کالج خیر سے اس

Read more

پروفیسرکرامت حسین جعفری: چند یادیں

سن 1967 میں جب گورنمنٹ کالج لاہور میں ایف اے میں داخلہ لیا تو ایک مضمون فلسفہ تھا۔ ان دنوں فلسفے میں سال اول میں نفسیات اور سال دوم میں منطق پڑھائی جاتی تھی۔ نفسیات کی ایک اور منطق کی دو کتابیں، منطق استخراجیہ اور منطق استقرائیہ شامل نصاب تھیں۔ تینوں کتابوں کے مصنف کرامت حسین جعفری تھے۔ ان کے بارے میں پتہ چلا کہ اس وقت وہ گورنمنٹ کالج لائل پور میں پرنسپل تھے۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور کے

Read more

چودھری محمد علی: چند یادیں

بچپن میں جس نامور شخصیت کا بہت ذکر سننے کو ملا وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم چودھری محمد علی تھے۔ اس کے چند اسباب تھے۔ چودھری صاحب میرے سب سے چھوٹے خالو چودھری علی احمد مرحوم کے فرسٹ کزن تھے۔ لیکن یہ بنیادی سبب نہیں تھا۔ اصل سبب ان کا ارائیں برادری سے تعلق تھا۔ مجھے یاد ہے کہ گاؤں میں جب کبھی خوشی غمی کے موقع پر اکٹھ ہوتا تو چودھری صاحب کا ذکر بھی آ جایا کرتا

Read more

جاوید احمد غامدی: نصف صدی کی رفاقت

پوری نصف صدی قبل کی بات ہے جب 2 نومبر 1970 کو جاوید احمد (غامدی) صاحب نے لنک میکلوڈ روڈ کی ایک عمارت کی دوسری منزل کے ایک کمرے میں دائرۃ الفکر کی باقاعدہ بنیاد رکھی تھی اور میں ان کا اولین ساتھی تھا۔ اس تاریخ کو جاوید صاحب کو اس کا صدر منتخب کیا گیا۔ اس سے پہلے تقریباً دو ہفتوں تک مختلف احباب اس پر صلاح مشورہ کرتے رہے تھے۔ دائرۃ الفکر کی تاسیس کے بعد جاوید صاحب

Read more

دہر میں حضرت علامہ کا چرچا کیا ہے؟

مختلف معاشروں میں افراد و شخصیات کے لیے القابات کا استعمال عام رہا ہے لیکن یہ بالعموم دوسرے لوگ کہتے تھے۔ ہمارے معاشرے میں یہ رواج چل پڑا ہے، جو اتنا نیا بھی نہیں، کہ افراد اپنے نام کے ساتھ خود القابات لکھتے اور بولتے ہیں۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ لوگ خود ہی اپنے آپ کو عظیم ترین شاعر اور ادیب قرار دے رہے ہیں۔ تو شاعرانہ تعلی شاعر حضرات کی تو خیر پرانی عادت ہے لیکن

Read more

پروفیسر بختیار حسین صدیقی: چند یادیں

میں جب 1967 میں گورنمنٹ کالج لاہور میں ایف اے سال اول کے طالب علم کے طور داخل ہوا تو میرا ایک مضمون تھا فلسفہ ۔ شعبہ فلسفہ ان دنوں مین بلڈنگ سے باہر پنجاب یونیورسٹی سے متصل بلاک میں تھا جہاں اب نفسیات کا شعبہ تھا۔ ان دنوں نچلی منزل شعبہ فلسفہ کے پاس اور اوپر والی منزل شعبہ نفسیات کے پاس تھی۔ فلسفہ میں پانچ اساتذہ تھے، جن میں صرف ایک صاحب باریش تھے، شیروانی شلوار پہنتے تھے

Read more

الیکشن ڈیوٹی اور مولانا مودودی مرحوم کا آخری دیدار

فروری سن 1979 میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں ملازمت کا آغاز کیا۔ اسی برس ستمبر میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہو رہے تھے۔ 22 ستمبر کو مجھے رجسٹرار آفس سے فون آیا کہ ان انتخابات میں میری ڈیوٹی لگی ہے اور میں لاہور ٹاون ہال میں جا کر رپورٹ کروں۔ میں نے پوچھا اگر میں نہ جاوں تو۔ جواب ملا اس میں انکار کی گنجائش نہیں اس لیے جانا ہی پڑے گا۔ کچھ دوستوں سے بات کی تو

Read more

بنام سلیم احمد

[محترم سلیم احمد صاحب کے مضمون(ہم سب 1-9-2020) کے جواب میں میری یہ تحریراگست 1983 کو ’الاعلام‘ کے شمارہ نمبر 9 میں شائع ہوئی تھی۔ رسالہ یکم اگست کو شائع ہونا تھا لیکن بوجوہ تاخیر ہوئی اور اگست کے آخری دنوں میں پریس سے چھپ کر آیا۔ ابھی ڈاک میں ترسیل شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ یکم ستمبر 1983 کو جناب سلیم احمد کی ناگہانی وفات کی اندوہ ناک خبر ملی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ یوں ان

Read more

عسکری صاحب کے بارے میں چند باتیں

[ جب ستمبر 1982 ء میں ’الاعلام‘ میں محمد حسن عسکری مرحوم پر میرا مضمون شائع ہوا (ہم سب 25۔ 8۔ 2020 ) تو ممتاز دانشور اور نقاد جناب سلیم احمد نے حریت اخبار میں متعدد کالموں میں اس کا جواب لکھا جو بعد ازاں مئی 1983 میں جناب سہیل عمر کے مرتبہ مجلہ ’روایت‘ ۔ 1 میں یکجا طور پر۔ ”عسکری صاحب کے بارے میں چند باتیں“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ آج یکم ستمبر کو جناب سلیم

Read more

محمد حسن عسکری کا تصور روایت و مابعد الطبیعیات

[نومبر 1981 میں جاوید احمد (غامدی) ، ابو شعیب صفدر علی (مرحوم) اور راقم نے الاعلام کے نام سے ایک سلسلہ منشورات کا آغاز کیا۔ ستمبر 1982 کے پانچویں شمارے میں میرا یہ مضمون شائع ہوا جو اس وقت بوجوہ خاصا ہنگامہ آفریں ثابت ہوا۔ اس مضمون کی تصنیف کے محرکات پر بہت رائے زنی ہوئی تھی لیکن حقیقت بس اتنی تھی کہ رسالے کا پیٹ بھرنا مقصود تھا۔ کچھ دوستوں کی فرمائش پر وجاہت مسعود صاحب کی عنایت سے

Read more

دو قومی نظریہ: چند سوالات

وجاہت مسعود صاحب نے کچھ عرصہ قبل دو قومی نظریہ کے بارے میں چودہ سوالات اٹھائے تھے۔ یہ سوالات چودہ تو نہیں ہیں کیونکہ زیادہ تر سوالات overlap کرتے ہیں ،تاہم ان سے تعرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ سوالات سے پہلے اولین پیراگراف میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ مسلم لیگ نے دو قوموں کا ذکر کیوں کیا تھا؟ سکھ، پارسی اور مسیحی کیوں الگ اقوام نہیں تھیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سکھ، پارسی اور مسیحی

Read more

باصر سلطان کاظمی: سرزمین شعر کا اجنبی مسافر

1971 کا سال تھا جب میں گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے کا طالب علم تھا۔ باصر سے دوستی کا آغاز ہو چکا تھا۔ ایک دن باصر نے پہلی بار مجھے اپنی وہ غزل سنائی جس کا مطلع ہے : دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے غزل مجھے بہت ہی پسند آئی اور اس کا مطلع تو حواس پر اس قدر چھا گیا کہ کئی دنوں تک ہر

Read more

گر ہمیں مکتب و ہمیں ملا

ستمبر 1975 میں مجھے حکومت پنجاب کے محکمہ تعلیم کی جانب سے لاہور سے بہت دور ایک کالج میں بطور لیکچرر تعیناتی کا پروانہ موصول ہوا۔ تگ و دو کرتا رہا کہ لاہور میں تقرری کی صورت نکل آئے لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ چار و ناچار پانچ ماہ سے زیادہ کی تاخیر کے بعد فروری کے اواخر میں جا کر نوکری جائن کی۔ اس وقت وہاں فلسفے کی کلاس موجود نہیں تھی۔ ایک مہینہ تک روزانہ کالج جا کر سٹاف

Read more

دادی جان کی یاد میں

جولائی سن 1976 کی 29 اور 30 کی درمیانی رات تھی۔ اس رات کینیڈا کے شہر مانٹریال میں منعقد ہونے والے اولمپک کھیلوں میں پاکستان اور آسٹریلیا کی ہاکی ٹیموں کے مابین سیمی فائنل کا میچ ہو رہا تھا۔ ہم کچھ دوست کرشن نگر میں باصر کاظمی کے گھر پر ٹی وی پر میچ دیکھنے کے لیے جمع تھے۔ پہلا ہاف مکمل ہو چکا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھول کر دیکھا تو میرا چھوٹا بھائی زاہد تھا

Read more

کیا سیاسی حاکمیت اللہ کی ہے؟

جدید انسان کی تمدنی تاریخ کا صحیح معنوں میں آغاز اس عظیم الشان واقعہ سے ہوتا ہے جسے زرعی انقلاب کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے بعد انسان نے گھر اور بستیاں بنا کر رہنے کا آغاز کیا اور زمین سے پیدا ہونے والے اناج کو اپنی گزر بسر کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ رفتہ رفتہ ایک ایسا ادارہ وجود میں آ گیا جسے حکومت کا نام دیا گیا۔ اس حکومت نے بہت جلد خاندانی بادشاہت کا روپ

Read more

کیا برونو پہلا شہید سائنس تھا؟

"میں سزا سنتے ہوئے اتنا نہیں ڈر رہا جتنا تم مجھے سزا سناتے ہوئے ڈر رہے ہو۔” یہ تھے وہ الفاظ جو برونو کی زبان سے اس وقت ادا ہوئے جب 8 فروری 1600ء کو اسے روم کی مذہبی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ اس کے بعد 17 فروری کو روم کے مرکزی چوک میں اسے مادرزاد حالت میں بلی کے ساتھ باندھ کر زندہ جلا دیا گیا تھا۔ برونو پر فیض صاحب کا یہ مصرع صادق آتا

Read more

عقل عیار نہیں، معیار ہے

ایک بار میری اہلیہ نے شادی سے پہلے کا ایک بہت دلچسپ واقعہ بیان کیا۔ وہ ان دنوں بی اے کا امتحان دینے کے لیے راولپنڈی میں مقیم تھی۔ ایک خاتون گھر میں کام کرنے آتی تھی۔ ایک دن کیا ہوا کہ اس خاتون نے گلی میں کھڑے کھڑے امام مسجد کی بہت بے عزتی کی اور اس کو خوب برا بھلا کہا۔ جب وہ گھر میں داخل ہوئی تو میری اہلیہ نے اسے کہا تمھیں یہ پتہ کیسے چلا

Read more

کیا پرنٹنگ پریس کی راہ میں رکاوٹ قرآن تھا؟

بعض یورپی مصنفین نے یہ دعوی کیا ہے کہ مسلمانوں کا پرنٹنگ پریس سے احتراز کرنا محض تاریخی اتفاق یا حادثہ نہیں تھا بلکہ اس کے مذہبی اسباب تھے۔ مسلمان اپنے مذہبی تصورات کی بنا پر پریس کو نہیں اپنا سکتے تھے کیونکہ ان کا مذہب بنیادی طور پر زبانی روایت پر انحصار کرتا ہے۔ اس خیال کو پروفیسر فرانسس رابنسن نے کافی شد و مد سے بیان کیا ہے۔ موصوف لندن یونیورسٹی میں ہسٹری آف ساوتھ ایشیا کے استاد

Read more

ڈاکٹر محمد اجمل سے وابستہ چند یادیں

سنہ 1967 میں گورنمنٹ کالج لاہور میں سال اول میں داخل ہوا تو ایک مضمون فلسفہ کا لیا۔ شعبہ فلسفہ ان دنوں کالج کی مین بلڈنگ سے باہر پنجاب یونیوسٹی سے متصل بلاک میں ہوتا تھا۔ نیچے کی منزل میں فلسفہ اور اوپر کی منزل میں نفسیات کا شعبہ تھا۔ ڈاکٹر اجمل صاحب ان دنوں نفسیات کے صدر شعبہ تھے۔ میں کالج میں داخل ہونے سے پہلے ڈاکٹر صاحب کے مجلہ راوی میں چھپنے والے ایک دو مضمون پڑھ چکا

Read more

پہلا روزہ جو مکمل نہ ہو سکا

کوئی ساٹھ سال پرانی بات ہے۔ میں شاید تیسری یا چوتھی جماعت میں تھا جب پہلی بار روزہ رکھا۔ مارچ کا مہینہ تھا جو ان دنوں کافی گرم ہو جاتا تھا۔ میرے بعض ہم جماعت روزہ رکھتے تھے، بلکہ بعض تو پورے روزے بھی رکھتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی اور کچھ اکسانے پر میں نے بھی روزہ رکھ لیا۔ اب حادثہ یہ ہوا کہ اسی دن پھوپھی جان رحیم یار خان سے اپنے بچوں سمیت آ گئیں۔ تقریباً عصر

Read more

اقبال: وسیع المشرب یا فرقہ پرست

انگریزی زبان کا ایک لفظ ذہن میں آ رہا ہے: Gerrymander ۔ اس لفظ کی تاریخ کافی دلچسپ ہے۔ سنہ 1812 میں میساچوسٹس کے گورنر ایلڈرج گیری نے ایک انتخابی حلقے کی حدود کو مفید مطلب طریقے سے طے کیا۔ ایک اخبار کے دفتر کی دیوار پر لٹکے نقشہ پر گلبرٹ سٹوئرٹ نامی آرٹسٹ نے لکیریں کھینچ کر کہا یہ salamander دکھائی دیتا ہے۔ اخبار کے ایڈیٹر نے جواب دیا نہیں Gerrymander ۔ اس طرح ایک نیا لفظ وجود میں

Read more

فلسفے کی تعلیم اور الحاد سے خوف زدہ یونیورسٹی

کوئی بیس برس پرانی بات ہے کہ ایک نجی یونیورسٹی میں مجھے ایک کورس پڑھانے کی دعوت دی گئی جس کا عنوان تھا: Thinking and Learning  زیادہ تر طلبہ کا مضمون کمپیوٹر سائنس تھا اور انھوں نے ایف ایس سی کیا ہوا تھا۔ لیکچرز میں بعض مثالیں دیتے ہوئے میں نے ماؤزے تنگ اور سٹالن کا بھی ذکر کیا۔ ایک دو لیکچروں میں تو وہ خاموش رہے لیکن پھر سب نے بیک آواز پوچھا کہ یہ کون لوگ تھے۔ ایک

Read more

 رود بار حیات کے کنارے رنگین چشمہ

اس قیامت کی گرمی تھی کہ سورج سوا نیزے پر معلوم دکھائی دیتا تھا۔ اس کی شعاعیں سطح زمین سے یوں سر پٹک رہی تھیں گویا جیسے زمین کا سینہ چیر کر تہہ تک اتر جانا چاہتی ہوں۔ زمین گرم لوہے کی مانند سرخ تھی، آنکھیں کھول کر چلنا دشوار ہو رہا تھا، اس پر میں نے ایک رنگین چشمہ خریدنے کا سوچا تاکہ اس گرمی سے بچاو کی کچھ صورت ہو سکے۔ چشموں کی دکان میں داخل ہوا تو

Read more

عورت، اسلام اور ملا

 مرد اور عورت کے باہمی تعلق کی صحیح تفہیم، دونوں کے حقوق و فرائض کا درست تعین انسانی تمدن کا اہم ترین مسئلہ رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ان مسائل پر ہونے والی بحث کا بڑا حصہ جذباتیت کا شکار ہے۔ عقلی انداز میں اس پر گفتگو بہت کم ہوئی ہے۔ اس کا ایک بڑا سبب فریقین کے مابین پائی جانے والی بد اعتمادی ہے۔ مرد عورت کوحقیر، کم عقل، مکار، دھوکہ باز اور پاؤں کی جوتی کہتے ہیں

Read more

تعلیمی ادارے یا سیاسی جماعتوں کی نرسریاں

دور جدید کے تعلیمی اداروں میں تین سرگرمیاں ہوتی ہیں جو بالکل ناگزیر ہیں اور ایک ادارے کو پہچان عطا کرتی ہیں: نصابی، ہم نصابی، اور غیر نصابی۔ آخری دو میں سے کوئی ایک بھی کم ہو گی تو وہ تعلیمی ادارہ کہلانے کا مستحق نہیں۔ صرف کلاس روم میں لیکچر بازی اور چند سوالات کے جوابات یاد کرکے امتحان پاس کرنے کا نام تعلیم نہیں۔ تعلیمی اداروں میں ہم نصابی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے یونینز کا نظام

Read more

حکمرانی کا حق کسے حاصل ہے؟

اردو ترجمہ: ڈاکٹر ساجد علی (کارل پوپر کے لیکچر ”ایقان مغرب“ سے ایک اقتباس) افلاطون اشرافیہ کی مطلق العنان حکومت کا نظریہ ساز تھا۔ اس نے سیاسیات کے بنیادی مسئلے کو اس سوال کی صورت میں پیش کیا تھا: حکمرانی کا حق کسے حاصل ہے ؟ ریاست کا حکمران کسے ہونا چاہیے؟ متعدد افراد کو، ہجوم کو، عامتہ الناس کو، چند افراد کو، منتخب لوگوں کو یاخواص کو ؟ ”حکمرانی کا حق کسے حاصل ہے “ اگر ایک بار اس

Read more

ھیراکلائٹس کے شہر سے مریم مقدس کے گھر تک

18 جولائی (2010) کی صبح ناشتے کے بعد میں نے ہوٹل کلرک سے پوچھا کہ میں ایفس جانا چاہتا ہوں۔ اس نے بتایا کہ ساتھ ہی پچھلی طرف جو چوک ہے وہاں سے پاموکالے بس کا ٹکٹ خرید لوں۔ وہاں سے وین مجھے بس ٹرمینل پر لے جائے گی۔ چنانچہ ٹکٹ خرید کر وین میں بیٹھ کر بس ٹرمینل کے لیے روانہ ہوا۔ وہاں سے بس میں بیٹھ کر سفر شروع کیا۔ ایفیسس ازمیر سے 74 کلومیٹر اور موجودہ شہر

Read more

اسلامی ریاست چہ معنی دارد

بیسویں صدی کے ایک برطانوی فلسفی اور سیاسی مفکر ڈبلیو۔ بی۔ گیلی نے ایک بہت عمدہ ترکیب Essentially contested concepts وضع کی تھی۔اس کی مراد یہ تھی کہ سماجی علوم کے بعض تصورات اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ ان کی جامع منطقی تعریف ممکن نہیں ہوتی مثلاً سماجی انصاف، جمہوریت، آرٹ، اخلاقی فریضہ۔ کمیونسٹوں کے بارے میں ہمیں پتہ ہے کہ وہ اپنی ر یاست کے نام میں پیپلز، ڈیموکریٹک ریپبلک کے سبھی الفاظ استعمال کرنے کے بہت شوقین

Read more

مولانا روم کے مزار سے ازمیر تک

انقرہ میں جولائی کی 16 تاریخ کو کانفرنس کے سیشن ختم ہو چکے تھے۔ 17 تاریخ کو شہر کی سیر کرنا تھی لیکن مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میری نظر میں انقرہ کوئی تاریخی شہر نہیں تھا اس لیے جتنا گھوم پھر کر دیکھ لیا وہ کافی تھا۔ موجودہ ترکی، جسے اناطولیہ کہا جاتا ہے، تاریخی، ثقافتی اور مذہبی آثار کے حوالے سے بہت باثروت ہے۔ ان مقامات کی زیارت کے لیے بہت وقت چاہیے۔ میرے پاس جتنے

Read more

انقرہ: ایک مقبرہ، کچھ مسجدیں اور بہت سے مے خانے

بچپن میں جن مسلم ممالک کا سب سے زیادہ ذکر سننے کو ملا وہ ترکی اور ایران تھے۔ سعودی عرب کا ذکر سوائے حج کے اور کسی معاملے میں سننے کو نہیں ملتا تھا۔ گاوں کی فضا میں سعودیوں کو وہابی ہونے کے ناتے زیادہ پسند بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ ترکی اورغازی مصطفیٰ کمال کا ذکر تو خیر تحریکِ خلافت کے حوالے سے بھی بہت ہوتا تھا۔ اس زمانے میں مکتبہ جدید لاہور نے میری لائبریری کے نام سے

Read more

سکولوں میں تاریخ نہ پڑھائی جائے

پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں عامۃ الناس کی سطح پر حقیقی اور خیالی دشمنوں کے خلاف ذہنوں میں نفرت کا جو لاوا پک رہا ہے اس کا بڑا سبب سکولوں میں پڑھایا جانے والا تاریخ کا نصاب ہے۔ پاکستان کے نصاب میں پائے جانے والے نفرت انگیز مواد کی طرف متعدد صاحبان علم وقتاً فوقتاً توجہ دلاتے رہے ہیں۔ میں اس وقت بھارت کے نصابات تاریخ پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ مراد کسی قسم کی عذر خواہی نہیں،

Read more

خبر اور روایت کو کیسے پرکھا جائے؟

جب ہم کوئی خبر سنتے ہیں یا تاریخ کی کسی کتاب میں کوئی واقعہ پڑھتے ہیں تو حیوان عاقل ہونے کے ناتے یہ دو سوال پوچھنا لازم ہو جاتا ہے: 1۔ کیا یہ خبر یا واقعہ سچ ہے؟ 2۔ کیا یہ خبر سچ ہو سکتی ہے؟ ہمیں معلوم ہے کہ تاریخی کتب میں واقعات کو بہت مبالغہ آرائی سے بیان کیا جاتا ہے۔ بعض مقامات پر تو جھوٹ اتنا نمایاں ہوتا ہے کہ سطح آب پر تیرتا نظر آتا ہے۔

Read more

انتقاد فکر کی روایت بمقابلہ مذہبی روایت

بیسویں صدی کے ایک بہت ممتاز فلسفی کارل پوپر نے دو روایات کا تذکرہ کیا ہے۔ ایک انتقاد فکر کی روایت اوردوسری مذہبی روایت۔ مذہبی روایت میں اصل فریضہ ہے: بانی مذہب کی تعلیمات کو من و عن محفوظ رکھنا اور ان کو کسی تغیر و تبدل کے بغیر آئندہ نسلوں کو منتقل کرنا۔اس روایت میں کسی نئی سوچ یا فکر کی گنجائش نہیں ہوتی۔ رفتہ رفتہ کچھ تعبیرات حتمی صورت اختیار کر لیتی ہیں، جن کو بلا دلیل ماننے

Read more

عزت نفس کا احساس

میرے آبا و اجداد کا تعلق مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر کی تحصیل نکودر کے چھوٹے سے گاؤں مظفر پور سے تھا۔ اس گاوں کا ایک فرد بیسویں صدی کے آغاز میں بارہ برس کی عمر میں گھر سے نکلا اور امریکہ چلا گیا۔ کمال اس نے یہ کیا کہ وہاں جا کر پڑھائی کی اور کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرکے کیلی فورنیا کی برکلے یونیورسٹی میں کیمسٹری کا پروفیسر بنا۔ دوسری جنگ عظیم کے زمانے

Read more

بیت گیا یہ سال بھی

اس وقت عمر عزیز 68 سال، سات مہینے اور سات دن بنتی ہے۔ ان گزرے مہ و سال پر نظر ڈالتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ ان برسوں میں صدیوں کا فاصلہ طے کیا ہے۔ پتہ نہیں اس کو خوش نصیبی کہا جائے گا یا نہیں کہ اس عمر میں ہجری صدی کو تبدیل ہوتے دیکھا، پھر بیسویں صدی کو اکیسویں میں بدلتے اور ملینیم کو بدلتے بھی دیکھا ہے۔ گاوں میں کسی کو کرسمس کا تو پتہ نہیں

Read more

اقلیتوں کے مساوی حقوق کا مسئلہ

تیس برس سے زیادہ پرانی بات ہے وی سی آر پر مشہورزمانہ سیریز سٹارٹریک کی ایک قسط دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس قسط میں ایک شخص سپیس شپ میں آ جاتا ہے جس کی سر سے پاوں تک ایک سائیڈ سفید اور دوسری سیاہ ہوتی ہے۔ وہ پناہ کا طالب ہوتا ہے۔ کچھ دیر کے بعد اسی طرح کا سفید و سیاہ ایک اور فرد سپیس شپ میں آتا ہے۔ وہ اس پہلے شخص کو اپنے حوالے کرنے کا مطالبہ

Read more

کارل پوپر کا خطبہ: رواداری اور فکری ذمہ داری

کارل پوپر   *** اردو ترجمہ: ڈاکٹر ساجد علی سقراط کا یہ بصیرت افروز قول سقراط کے اپنے زمانے کی بہ نسبت موجودہ زمانے کے زیادہ مناسب حال ہے کہ ” میں جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا اور اتنی سی بات کا عرفان بھی بہت مشکل سے ہوا ہے۔ “ ہمارے پاس بہت عمدہ جواز موجود ہے کہ ہم اس بصیرت افروز قول سے رواداری کے دفاع میں وہ اخلاقی نتائج اخذ کریں جو اراسمس، مونتیں، والٹیئر اور بعد ازاں

Read more

آج رات کے بے نوا مسافر ناصر کاظمی کا یوم پیدائش ہے

ناصر کاظمی کی شاعری کے دو بنیادی موتیف اداسی اور تنہائی ہیں۔ ناصر کے دوستوں اور نقادوں نے اداسی کا سبب ہجرت کو قرار دیا ہے۔ یہ بات اس قدر زور شور سے پھیلائی گئی ہے کہ آج ناصر ہجرت کا شاعر بن کر رہ گیا ہے۔ میرا ناصر کاظمی سے تعارف صرف ان کی شاعری کی وساطت سے ہوا ہے ا س لئے مجھے ناصر کی شاعری میں ہجرت کی واردات برگ نے کی ڈھائی غزلوں کے سوا کہیں

Read more

میں نے سنہ 71ء کے لہو لہو دسمبر میں کیا دیکھا؟

اڑتالیس برس بیت چکے ہیں مگر جب بھی دسمبر کا مہینہ آتا ہے تو دل میں کرب و الم کی ٹیس اٹھنے لگتی ہے مگر زیادہ رنج اپنی حماقتوں کو یاد کرکے ہوتا ہے کہ انسان اگر ایک بیانیے، بالخصوص سرکاری بیانیے، کا اسیر ہو جائے تو کس طرح سامنے کی حقیقتوں کو جاننے اور پہچاننے سے قاصر ہو جاتا ہے۔سکول کے زمانے میں نسیم حجازی کے ناول پڑھتے ہوئے بغداد اور اندلس کے مسلمانوں کی حماقت پر بہت غصہ

Read more

نکودر کے تحصیل دار کا جلسہ اور کسان کی تقریر

میرے دادا جان ( 1892۔ 1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کا چپہ چپہ دیکھ رکھا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی ( 1938۔ 46 ) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی تھی جس کا نام ”سفری زندگی“

Read more

ٹیکسٹ بک کا استبداد

کوئی ایک عشرہ قبل لاہور میں ایک پرائیو یٹ یونیورسٹی نے مجھے کمپیوٹر سائنس کے طلبہ کو فلسفے کا ایک ابتدائی کورس پڑھانے کی دعوت دی۔ کورس آؤٹ لائن پر گفتگو کرنے کے لیے جب میں ڈین صاحب کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ میں کون سی ٹیکسٹ بک استعمال کروں گا۔ میرا جواب تھا کہ فلسفے میں ٹیکسٹ بک نہیں ہوتی۔ یہ جواب ان کے لیے کسی حد تک صدمہ انگیز تھا۔ کہنے لگے

Read more

ظفر اقبال: لا تنقید سے آب رواں تک

محترم عطاءالحق قاسمی صاحب نے اپنے ایک کالم میں ”خود تشخیصی اسکیم“ کی لاجواب ترکیب استعمال کی ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض مخلوقات اپنے مقام اور مرتبے کا تعین کر لیتی ہیں۔ ظفر اقبال صاحب کی ”لا تنقید“ پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ انہوں نے اس اسکیم کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو عصر حاضر کے خدائے سخن کے مرتبہ پر فائز کر لیا ہے۔ تاجر حضرات اس اسکیم سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی کثیر آمدنی

Read more

وردی پوش ذہن کا مخمصہ اور جمہوریت

اکتوبر 2002 کی بات ہے کہ شعبہ فلسفہ، پنجاب یونیورسٹی، کے صدر شعبہ ڈاکٹر نعیم احمد صاحب کو کمانڈ اینڈ سٹاف کالج، کوئٹہ سے پندرہ روز کے لیے دو کورس پڑھانے کاایک دعوت نامہ موصول ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی مصروفیات کی بنا پر معذرت کی اور اپنی جگہ میرا نام بھیج دیا۔ وہاں سے میرے نام کی منظوری آ گئی۔ میں تین نومبر کو کوئٹہ پہنچا اور اگلے روز تدریس کا آغاز ہوا۔ کورس کے شرکا پاک فوج کے

Read more

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، "انگریزوں” نے پھیلائی ہیں

ایک سینیر صحافی اور کالم نگار نے اپنے کالم میں ایک بڑی تاریخی حقیقت بیان کرنے کے بعد ایک استفسار کیا ہے: "ہندو اور مسلمان ایک ہزار سال سے ایک ساتھ پرامن اور خوشحال طور پر رہتے آئے ہیں۔ یہ ایک ہزار سال کا عرصہ کیا جادوئی عرصہ تھا کہ خون خرابے سے بچا رہا۔” (روزنامہ ایکسپریس۔ پیر 14 اکتوبر، 2019۔) اس اجمالی بیان کو پڑھنے کے بعد بے اختیار دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ اس ہزارسالہ پرامن دور

Read more

سلطان محمود غزنوی اور مسلم مورخین ہند

مسلمانوں کی تاریخ فاتحوں اور لشکر کشاوں کے باب میں ہرگز تہی مایہ نہیں لیکن جس قدر تعریف و توصیف سلطان محمود غزنوی پر نچھاور کی گئی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ اس کا مقام و مرتبہ بیان کرنے میں حد درجہ مبالغہ روا رکھا گیا ہے۔ جوزجانی نے سلطان محمود کی ولادت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے جس رات محمود کی ولادت ہوئی اس رات ویہنڈ ( جو دریائے سندھ کے کنارے پر حدود پشاور میں تھا) کا

Read more

سومناتھ پر رومیلا تھاپر کی کتاب کا جائزہ

ابن انشا کا اورنگ زیب عالمگیر پر یہ جملہ بہت مشہور ہوا ہے کہ یہ وہ بادشاہ تھا جس نے نہ کوئی نماز چھوڑی اور نہ کوئی بھائی چھوڑا۔ لیکن ابن انشا سے کئی سو سال پہلے سلطان محمود غزنوی کے درباری شاعر فرخی نے اسے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا سلطان معظم آپ نے سرزمین ہند پر نہ کسی جنگجو کو چھوڑا ہے اور نہ کسی ہاتھی کو۔ گزشتہ چند برسوں سے مشہور بھارتی تاریخ نویس پروفیسر

Read more

فلسفی، سائنس دان اور خرد افروزی کے پیامبر ماریو بنگے کی صد سالہ سالگرہ

آج ارجنٹائن میں پیدا ہونے والے سائنس دان فلسفی ماریو بنگے کی صد سالہ سالگرہ ہے۔ (اس کے نام کا تلفظ بوں گھے کیا جاتا ہے)۔ کارل پوپر کی کتب کے مطالعے کے دوران میں جن اور صاحبان علم و دانش کے نام سے تعارف ہوا ان میں ایک نام ماریو بنگے کا تھا۔ پوپر کی طرح بنگے بھی فلسفے کی اسٹیبلشمنٹ کے تغافل کا شکار ہوا ہے۔ اگرچہ براعظم جنوبی امریکہ سے تعلق رکھنے والا وہ پہلا فلسفی ہے

Read more