اجنبی مردوں کو گلے لگانے کی غیر جنسی سروس؛ کرایہ دس ہزار روپے فی گھنٹہ


یہ خاتون 10 ہزار روپے فی گھنٹہ لے کر لوگوں کے ساتھ ایسا کام کرتی ہے کہ ان کے برسوں کے دکھ دور ہوجاتے ہیں

دکھی دل، تنہائی کے مارے، غم کے ستائے، تنہا بیچارے، ایسے پریشان حال مرد جائیں تو کہاں جائیں؟ اس مشکل سوال کا آسان جواب یہ آسٹریلوی خاتون ہیں جو صرف 10 ہزار روپے کی فیس کے عوض کسی بھی غم کے مارے کو گلے لگا لیتی ہیں۔ تین بچوں کی ماں جیسیکا کونیل نے تنہائی کے شکار اجنبی مردوں کو گلے لگانا اپنا کیریئر بنا لیا ہے اور اب تو انہیں اس کام سے اچھی خاصی آمدنی بھی ہونے لگی ہے۔

آسٹریلوی علاقے گولڈ کوسٹ سے تعلق رکھنے والی 34 سالہ جیسیکا ایک گھنٹے کے سیشن کی فیس 80ڈالر لیتی ہیں ۔ اُن کے کلائنٹس میں 18 سے لے کر 85 سال تک کے مرد شامل ہیں۔ ان میں شادی شدہ اور کنوارے ہر طرح کے مرد شامل ہیں۔ جیسیکا کہتی ہیں کہ ان کے پاس معذور اور نفسیاتی مسائل سے دوچار مرد بھی آتے ہیں اور وہ انہیں بھی اسی طرح محبت اور شفقت سے گلے لگاتی ہیں۔

جیسیکا اپنے منفرد کام کو ’’کڈل تھیراپی‘‘ کہتی ہیں اور وہ اس کے ذریعے تنہا اور دکھی مردوں کو خوشی فراہم کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ کڈل تھیراپی سے انسان کا مدافعتی نظام بہتر ہوجاتا ہے جس کے باعث وہ کئی بیماریوں سے محفوظ ہو جاتا ہے، ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے، بلڈ پریشر میں توازن آجاتا ہے، جسم میں خوشی پیدا کرنے والا ہارمون سیروٹونن پیدا ہوتا ہے، نظام دوران خون بہتر ہوجاتا ہے اور اس کے نتیجے میں نیند بھی اچھی آتی ہے۔

دی ’’کوریئر میل‘‘ سے بات کرتے ہوئے جیسیکا نے بتایا کہ ان کا تھیراپی سیشن مکمل طور پر غیر جنسی ہوتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر بعض اوقات ان کے کسی کلائنٹ کو جنسی تحریک محسوس ہونے لگے تو وہ اسے خود سے علیحدہ کردیتی ہیں اور اس کی رہنمائی کرتی ہیں کہ کس طرح وہ جنسی لہر کو دبانے کی بجائے قدرتی طور پر اپنے جسم سے خارج کرسکتا ہے، جس کے بعد دوبارہ سے سیشن کا آغاز ہوجاتا ہے۔انہوں نے ’’دی کنکشن کیور‘‘ کے نام سے رواں سال مارچ میں اپنے کلینک کا آغاز کیا اور اب ان کے باقاعدہ کلائنٹس کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ چکی ہے۔

Facebook Comments HS