صرف 13 گھنٹوں پہ مشتمل شادی


شادی کی تیاریاں کرتا دولہا شادی کی رات وفات پاگیا کیونکہ۔۔۔ وجہ جان کر آپ کی بھی آنکھیں نم ہوجائیں

انسان کیا کیا خواب دیکھتا ہے لیکن قدرت نے اس کے مقدر میں کیا لکھ رکھا ہوتا ہے شاید یہ اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ شاید اسے ہی ستم ظریفی کہتے ہیں، جس کی ایک دردناک مثال یہ برطانوی خاتون ہیں جو شادی کی تیاریاں کرتی رہیں لیکن زندگی کا نیا سفر عین آخری لمحات میں غم و الم کے لامتناہی سفر میں بدل گیا۔

برطانوی شہر برسٹل سے تعلق رکھنے والی مشیل واٹسن نے اپنی زندگی کے اس المناک واقعے کے متعلق پہلی بار بات کی ہے اور اپنی غمناک داستان کے غمناک ترین آخری باب سے پردہ اٹھایا ہے۔ یہ محض 10 دن قبل کی بات ہے کہ مشیل اپنے منگیتر سکاٹ پلوملی کے ساتھ ایک نئی زندگی شروع کرنے کی تیاری کر رہی تھیں۔ دو سال پہلے ان کی منگنی ہوئی تھی اور اس تمام عرصے کے دوران وہ اپنی شادی کیلئے رقم جمع کررہے تھے۔ نو اگست کے روز مشیل دفتر سے واپس آئیں تو سکاٹ کو فرش پر گرے ہوئے پایا۔ انہوں نے فوری طور پر ایمبولینس منگوائی اور سکاٹ کو قریبی ساﺅتھ میڈ ہسپتال لیجایا گیا۔

مشیل کہتی ہیں کہ سکاٹ گزشتہ ایک ماہ سے پیٹ کے معمولی درد اور ہاضمے کے مسائل کی شکایت کررہا تھا لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ درحقیقت وہ کینسر میں مبتلاءہو چکا تھا جو اب آخری مرحلے میں پہنچ چکا تھا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اب اس کے پاس زندہ رہنے کے لئے سال یا مہینے نہیں بلکہ چند دن ہی بچے تھے۔

سکاٹ کی آخری خواہش تھی کہ وہ مشیل کو اپنی دلہن دیکھنا چاہتا تھا، جسے پورا کرنے کے لئے فوری طور پر اہتمام شروع کر دیا گیا۔ ان کے سب دوست اور عزیز ہسپتال میں جمع ہوئے جہاں دونوں کی شادی کی تقریب منعقد ہوئی اور ڈھیر ساری تصویریں بنائی گئیں، مگر اُس دن شام ڈھلی تو ساتھ ہی سکاٹ کی زندگی کا سورج بھی غروب ہونے لگا۔

مشیل کہتی ہیں کہ ”رات کے تقریباً ڈیڑھ بج رہے تھے جب میں سکاٹ کا ہاتھ تھامے اس کے پاس بیٹھی تھی۔ میں دیکھ سکتی تھی کہ اس کی حالت پچھلے چند گھنٹوں کے درمیان تیزی سے خراب ہورہی تھی۔ دو بجے کے قریب اس نے تین لمبی سانسیں لیں اور پھر اس کی روح جسم سے پرواز کرگئی۔ ہماری شادی محض 13 گھنٹے پر مشتمل رہی اور پھر وہ مجھے سسکیاں بھرتا چھوڑ کر دیا سے رخصت ہو گیا۔ سکاٹ مجھے اپنی دلہن دیکھنا چاہتا تھا لیکن اب میں سوچتی ہوں کہ شاید اس خواہش کا کچھ اور بھی مطلب تھا۔ سکاٹ دنیا میں میرا واحد سہارا تھا۔ اُس نے آخری وقت پر مجھ سے شادی کر لی اور اب اُس کے جانے کے بعد میرے پاس ایک بہت پیار کرنے والا اور خیال رکھنے والا سسرال ہے۔ مشیل کی بہن، بھائی، والدہ اور کزن سب میری فیملی بن چکے ہیں اور مجھے سہارا دینے کے لئے میرے ساتھ موجود ہیں۔ یہ فیملی وہ خوبصورت تحفہ ہے جو سکاٹ دنیا سے جاتے ہوئے مجھے دے گیا ہے۔“

Facebook Comments HS