یہ سب سوچتے ہوئے مجھے ایسا لگا جیسے ‘چھوٹا راجن’ کی روح میرے اندر حلول کر گئی ہو اور میں ان جانے رستے پر موٹر سائکل تیزی سے دوڑا رہا ہوں۔
گاوں دیہات کے اوبڑ کھابڑ راستوں کو عبور کرتے ہوئے، ہماری بائک تیزی سے فراٹے بھر رہی تھی، کئی مرتبہ میں نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں۔ ہم دونوں بھائی بارش میں شرابور ہو چکے تھے۔ لباس بھیگ کے بدن سے چپکا ہوا تھا؛ جس کی وجہ سے ٹھنڈ بھی بہت لگ رہی تھی، لیکن جب اوکھلی میں سر دیا، تو موصلوں سے کیا ڈرنا کے مصداق۔ بائک چلتی رہی، راکھی بندھن ہونے کی وجہ سے سڑکیں بالکل خالی تھیں۔ ٹریفک برائے نام تھی۔ پولیس والے بھی دکھائی نہیں دیے، یعنی یہ بارش اس لحاظ سے ’’ابر رحمت‘ ہوئی کہ چیکنگ سے بچ گئے۔ خدا خدا کر کے جب اسٹیشن پہنچا، تو تین بج چکے تھے ،بائک کھڑی کی، تو اعلان ہوتا سنائی دے رہا تھا:
"رانچی سے دلی جانے والے یاتری گنڑ کرپیا دھیان دیں، سورن جینتی سوپر فاسٹ رانچی سے آنند وہار دلی جانے والی ٹرین روانہ ہونے والی ہے”۔
میں نے سامان اٹھاکر تیزی سے پلیٹ فارم کی اور دوڑ لگا دی۔ جیسا کہ ٹرین بس چھوٹنے ہی کو تھی۔ ہانپتے کانپتے بوگی میں سوار ہوا تو ٹرین چل پڑی، اپنے اس مہم کے سر ہونے پر مجھے جو خوشی ملی، شاید ہی پہلے کبھی ملی ہوگی، ڈیڑھ گھنٹے کا طویل سفر صرف پینتالیس منٹ میں کیسے سر ہو گیا، مجھے خود بھی یقین نہیں آ رہا تھا، لیکن خوشی اس بات کی تھی کہ ٹرین پکڑ لی تھی۔
اس سارے ایڈونچر سے یہ سبق لیا، کہ خوابوں کے حقیقت میں بدل جانے کا امکان ہی در اصل زندگی کو دل چسپ اور رنگین بناتا ہے، حسن عطا کرتا ہے۔ اس لیے کبھی کبھی ’رِسک‘ لے لینا چاہیے۔ کتابیں بھی پڑھنی چاہیے اور فلم بھی دیکھنی چاہیے؛ پتا نہیں کون سی بات آپ کے ذہن میں گھر کر جائے اور آپ اس سے اپنی منزل کو پانے میں کام یاب ہو جائیں۔
اب ایک دوسری الجھن ہے۔ رائٹر سکیتو مہتا کی کتاب میں دادو ابراہیم اور چھوٹا راجن کی شناخت واضح ہے، لیکن میں یہ نہیں سمجھ پا رہا، کہ اپنے اس قصے میں، جو اوپر آپ سے بیان کیا، اس میں، میں کون ہوں؟ یہ تو طے ہوا یہاں میں چھوٹا راجن نہیں ہو سکتا، داود ابراہیم بھی نہیں، تو کہیں میں سکیتو مہتا تو نہیں؟ کیا سکیتو مہتا نے دادو ابراہیم کے فرار اور چھوٹا راجن کی تیز رفتاری سے بائک چلا کے ہوائی اڈے تک جانے کی کیفیت کو ایسے ہی محسوس کیا ہو گا، جیسا کہ میں نے اس سفر میں کیا؟
Facebook Comments HS
Pages: 1 2

