مسلمان: حالات، وجوہات اور سوالات

ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد مسلمانوں کی پسماندگی اور کم مائیگی پر بہت سے دانشوروں اور محققین نے اپنے اپنے انداز میں تجزیہ کیا، مضامین، مقالات اور کتابیں لکھیں اوراس کے اسباب و وجوہات سے بحث کر کے کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی۔ ان میں کسی نے معاشی تنگی کو…

Read more

ضیاء اعظی اور اس کا عکس خیال

اردو زبان کی تاریخ ا گرچہ بہت زیادہ پرانی نہیں ہے، لیکن اس کے باوجوداتنی کم مدت میں اس زبان نے لوگوں کے دلوں میں جو جگہ بنائی ہے، وہ دراصل اس کی چاشنی اور لطافت کے سبب ہے اور اس کی اس خوبی کو بر قرار رکھنے میں بڑی حد تک ان تخلیق کاروں…

Read more

اطلاعاتی انقلاب اور ہندستانی مسلمانوں کا المیہ

ہمارے عہد میں انسان کی تقدیر کو بنانے اور سنوارنے میں اطلاعات یعنی خبروں کا کردار مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ موجودہ دنیا میں یہ طاقت کا ایک خصوصی اور اہم ذریعہ ہیں، یہاں تک کہ اطلاعات نے دنیا کی فوجی اور سیاسی طاقت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی ہوں، امریکا کے ڈونلڈ ٹرمپ یا پھر دائیں بازو یا بائیں بازو کی وہ طاقتیں جو آپ کو یا ہم کو پسندنہیں، یا جن کے کرتوتوں اور کارناموں کو ہم انسانیت کے لئے مضر قرار دیتے ہیں، ان سب کی کام یابی کے پیچھے بھی اس ٹیکنالوجی کا اہم کردار رہا ہے۔

Read more

حساب جاں: ڈاکٹر شکیل احمد کی سوانح حیات

خود نوشت، سوانح حیات، عمر کا حساب ہوتی ہے۔ بہت کم لوگ اس حساب کا لیکھا جوکھا رکھ پاتے ہیں۔ جو رکھتے ہیں وہ اوروں کے لئے سبق کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ نہ رکھنے والوں کی تعداد بھی بہت ہے۔ یہ دنیا تو ہے وجود سے عدم کی جانب جانے کا نام۔ وہ لوگ یقینا خوش قسمت ہیں جو اس کا لیکھا جوکھا رکھتے ہیں اور اپنی زندگی کی کہانی دوسروں سے ساجھا کرنے کی ہمت جٹا پاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ گاندھی کی طرح حق گوئی و بے باکی کم لوگوں میں ہی پائی جاتی ہے۔ ایسے لوگ نادر ہی ہوتے ہیں، جو اپنی کمیوں اور خامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی نشان دہی بھی کرتے ہیں۔

Read more

مودی کی جیت پر ایک ہندوستانی کے جذبات

کون جیتا اور کون ہارا ایسے بھی ہم کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ پہلے بھی ہم جیسے جیتے تھے۔ ہمارے پہلے والے جیسے جیتے تھے، آگے بھی جیتتے رہیں گے۔ ہم جیسے لاکھوں نوجوان سماج میں اپنی جگہ بنانے کی جدوجہد سے ہر روز نبردآزما ہوتے ہیں۔ اگر آج تک جتنے بھی امتحانات دیے ہیں، اس کے مطابق خود کو پڑھا لکھا تسلیم کرلیا جائے، تب ہمیں یہ سوال کس سے کرنا چاہیے؟ کس سے اس  ضمن میں عام و خاص کی زبان میں دریافت کرنا چاہیے کہ اگر حکومت نے بچپن سے ہم پر کئی ہزار روپے پھونک دیے، اس کے بعد بھی ہم کیوں خود کو کہیں کھڑا نہیں کر پا رہے ہیں؟

Read more

پہلا ناول لکھنے کے دوران بہت کچھ سیکھا

1978 کے ابتدائی دنوں میں ایک چھوٹے اشاعتی ادارہ کے لئے کام کرنے والی میری ایک دوست نے مجھے بتایا کہ اس نے کچھ غیر ناول نگار مصنفین (یعنی فلسفیوں، ماہرین سماجیات، سیاستدانوں وغیرہ) سے کہا ہے کہ وہ ایک چھوٹی سی جاسوسی کہانی لکھ کر دیں۔ میں نے اسے جواب دیا کہ میں تخلیقی تحریر میں دلچسپی نہیں رکھتا اور مجھے پورا یقین ہے کہ میں اچھے مکالمے لکھنے میں مکمل طور پر غیر فعال ہوں۔ یہ کہتے ہوئے میں نے اپنی بات ختم کی، کہ جب بھی میں ایک جرم پر مبنی ناول لکھوں گا، وہ کم از کم پانچ سو صفحات طویل ہو گا اور کسی قرون وسطی کے زمانے کے خانقاہ کے پس منظر میں ہو گا۔ پتہ نہیں، یہ بات میں نے کیوں کہی تھی، لیکن یہ تھوڑا سا اشتعال انگیز انداز میں کہی تھی۔ میری دوست نے مجھ سے کہا کہ وہ ایسے کسی جلد از جلد فروخت ہو جانے والے ادب کی بابت بحث کرنے میرے پاس نہیں آئی ہے۔ اور ہماری ملاقات وہیں ختم ہو گئی۔

Read more

بچپن کا روزہ اور رمضان کی یادیں

خود کو بچپن کے دنوں میں لے گیا، تو دِل میں اِک ہوک سی اٹھی۔ کہاں وہ مستیوں، رنگ رلیوں، بے فکریوں کے شب و روز اور کہاں زندگی کی یہ دوڑ دھوپ۔ پڑھائی، امتحان، امتحان در امتحان، ملازمت کی تلاش۔ بچھڑے احباب، بکھرے رشتے، کرم فرماوں کی کرم فرمائیاں۔ محبتیں، نا راضیاں۔ وفائیں، جفائیں، دغا بازیاں۔ اپنا احوال کیا کہیے کِہ ان گنت یادیں ہیں، جو ایک دوسرے سے آ گلے ملتی، ایسے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے، کِہ کس یاد کا ذکر کروں، کس بات کو چھوڑ چلوں۔یادوں کے جھروکے سے لگ بھگ بیس بائس برس پیچھے کے ماہ رمضان کا منظر دیکھوں، تو چہار سو سے تلاوت کی پر سوز صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ خوشیوں کا، چہچاہٹوں کا ریلا۔ بہن بھائیوں نیز دیگر احباب کا میلہ۔

Read more

احباب ڈھونڈتے ہیں کہ ظفر کدھر گیا

ہائے یہ کیسی بد نصیبی ہے کہ گزشتہ دنوں دہلی میں اردو صحافت کے ایک عہد کا خاتمہ ہوا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ پانچ اپریل 2019 کو حرکت قلب بند ہو جانے کے سبب اردو کا ایک بے باک، نڈر مجاہد، قلم کار اور صحافی جس نے کئی دہائیوں تک اردو…

Read more

دیندار حجام اور جماعت اسلامی کے نئے امیر کی داڑھی

جماعت اسلامی ہند کے نئے امیر سید سعادت اللہ حسینی کے منصب سنبھالتے ہی بہت سوں کے اندر چھپا حجام باہرنکل آیا اور داڑھیاں ناپی جانے لگیں۔ رخصت ہونے والے امیر کے مقابلے نو منتخب امیر کی داڑھی اور عمر دونوں کم ہیں اس لئے معترضین کو دونوں معاملات پر تنقید کا موقع مل گیا۔…

Read more

ہندوستانی سول سروسز: مسلمانوں کا کردار اور لائحہ عمل

ہندوستانی مسلمان بہت جذباتی واقع ہوئے ہیں، ممکن ہے اس کا سبب آزادی کے بعد سے ملک میں ان کے ساتھ جاری ظلم و تشدد ہو یا پھر ان کی اپنی پس ماندگی، بے بضاعتی اور بے وقعتی۔ یہ ایک الگ بحث کا موضوع ہے۔اکثر دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ ہندستانی مسلمانوں کو کہیں بھی اگر تھوڑی سی امید کی کوئی کرن نظر آتی ہے تو اس کے لئے وہ پلکیں بچھانا شروع کر دیتے ہیں، خوشی سے سر شار قوم اس کے لیے سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار ہو جاتی ہے، ایسے افراد کی کام یابی کے ہر جگہ چرچے ہوتے ہیں۔ یہ بہت اچھی اور خوش آیند بات ہے لیکن تکلیف اس وقت دو چند ہوتی ہے کہ وہ افراد جن کے لیے قوم نے خوشی کے آنسو بہائے ہوتے ہیں، جن کے اوپر انھیں فخر ہوتا ہے، لیکن جب قوم کو کچھ دینے کا وقت آتا ہے، اپنی قوم کو ان کی ضرورت پڑتی ہے یا مظلوم، دبے کچلے اور پسے ہوئے لوگوں کے ساتھ حق و انصاف کے لیے سامنے آنا ہوتا ہے، تب وہ امیدیں اور آرزوئیں خاک میں مل جاتی جو ایسے افراد کی ذات سے وابستہ تھیں۔ بسا اوقات وہ منافق یا پھر میر جعفر کا کردار ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے ہی لوگوں کا خون چوسنے، انہیں نقصان پہنچانے اور اپنے معمولی مفادات کی خاطر قوم کا سودا کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

Read more