روحانیت کے گہرے سمندروں میں پاکستانی حکومت کی کاغذی ناؤ


اس حکومت کے چلنے کا طریقہ کیا ہوگا یہ کن پالیسیوں پر کس طرح عمل پیرا ہوں گے اس کے بارے میں کچھ کہنے یا اندازہ لگانے سے اب بڑے سے بڑا سیاسی پنڈت بھی بے بس سا نظر آئے گا کیونکہ وہ محض دنیاوی علوم کا ماہر ہی ہو سکتا ہے اور بس، جبکہ یہاں تو شروعات سے بھی پہلے بنیادوں میں پراسراریت کا دخول ہو چکا ہے۔ روحانی اور نفسی علوم کی ایک طویل تاریخ ہے۔ حضرت سلیمان کے دربار میں موجود اس ہستی کے علم کی گواہی الہامی صحائف کا حصہ ہے جو ملکہ بلقیس کا تخت پلک جھپکتے اٹھا لایا تھا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اس شخص کا ذکر کرتے ہوئے اسے فرشتہ یا نبی کہہ کر نہیں پکارا گیا۔ فقط یہ کہ وہ ایک شخص تھا اور خدا کے عطا کردہ علوم میں سے ایک علم رکھتا تھا، اس کارنامے کا ذکر پڑھ کر معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ ایک علم کی مہارت میں درجہ کمال کو پہنچا ہوا تھا۔

اگر آپ غور کریں تو نفسی علوم کے اس طرح کے ماہر ہر مذہب اور خطے میں ملتے ہیں۔ افریقہ، عرب، روس اور یورپ میں ان علوم رکھنے والوں کی شہرت یہاں تک پہنچی تو برصغیر کے اپنے ماہروں کی شہرت بھی دور دور تک پھیلی۔ کہیں ناسٹرڈامس کھڑا دو عظیم جنگوں اور ابھرنے والی آخری سپر پاور کی خبر دیتا ہے کہیں راسپوٹین روس کے زار کے بیٹے کی زندگی اس بچاتا دکھائی دیتا ہے جب بادشاہ کے سب طبیب ہار مان چکے تھے۔ ماننے والی بات ہے کہ ان دو حضرات کے پاس کچھ تو ہوگا کہ وہ تاریخ میں نام لکھوا گئے، مصیبت مگر یہ ہے کہ ڈیمس سمیت کئی دوسرے پرسرار علوم کے ماہروں کی ہی پیشنگوئی کے مطابق دوسری جنگ عظیم ہٹلر کو جیتنا تھی۔ انگریز ہٹلر اور نازی جرمنی کی اس کمزوری سے واقف تھے اور انہوں نے پیرا شوٹ کے ذریعے اس زمانے کے مشہور نجومیوں کی سچی جھوٹی پیش گوئیاں پمفلٹ پر چھپوا کر باقاعدہ پیرا شوٹ کے ذریعے جرمن آبادیوں پر پھینکیں جن میں ان کے ہارنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ یہی کام ہٹلر کی ائیر فورس نے فرانس کے ساتھ جنگ میں کیا۔ مطلب پیش گوئیاں باقاعدہ سے جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہیں۔

راسپوٹین کو زار خاندان کے خیر خواہوں نے اسے قتل کرنے کے لئے پہلے زہر دیا اور اس کے اثر نہ کرنے پر گولی مار دی۔ مطلب اس کا علم اسے یہ نہ بتا سکا کہ اسے قتل کیا جانے لگا ہے لہذا خود کو بچا بھی نہ سکا۔ ہندو یوگیوں کا نفسی علم بھی شہرت رکھتا ہے، مصریوں اور افریقیوں کا بھی مگر یہاں بھی مسئلہ وہی ہے کہ ایک دھند ہے کہاں ٹھیک، کہاں غلط؟ کچھ پتہ نہیں۔

میں لاہور میں رہنے والے تین روحانی علوم کے ماہروں سے واقفیت رکھتا ہوں جن سے کام کے سلسلے میں ملاقات ہوئی، ایک کا نام عبداللہ بھٹی ہے۔ ان کے کمال فن کی گواہی مجیب الرحمٰن شامی اور حامد میر جیسے کہنہ مشق صحافیوں نے کالم کی شکل میں دی ہے۔ روحانیت پر ایک سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کے ماننے والے دیوانوں کی طرح ان کا پیچھا کرتے ہیں۔ ان سے ملاقات کے بعد یقین سے کہا سکتا ہوں کہ آپ کے ہی بارے میں چند باتیں بتا کر آپ کو حیرت میں مبتلا کر دیں گے مگر ایک حد تک۔ صحیح بھی غلط بھی۔ دوسرے دوست ہیں قاضی سعد، یہ بھی لاہور میں ہیں۔ اپنے فن کے اس قدر ماہر کہ آپ سے محض فون پر بات کر کے یا آپ کی تصویر دیکھ کر ہی آپ کی شخصیت کو پڑھنا شروع کر دیں گے، مگر جب سے انہیں جانتا ہوں کم ہی ہوا کہ انہیں خوش دیکھا، بڑی ہمت سے مصیبتوں کا مقابلہ کرتے ہیں مگر عذاب زندگی عام لوگوں سے کہیں زیادہ۔ مطلب یہ کہ یہاں بھی کچھ ہے اور نہیں بھی۔

دوبئی میں میرا ایک دوست پرسرار یا نفسی علوم کا بڑا شوقین ہے، اور میں ہر طرح کے علم کی خاک چھاننے کا شوقین، ایک بار مجھے اپنے جاننے والے ایک ہندو ماہر کے پاس ملاقات کے لئے ساتھ لے گیا۔ یہ پنڈت ایک سمارٹ نوجوان تھا جو ممبئی میں رہتا تھا اور میری ہی طرح چند دن چھٹی گزارنے آیا تھا۔ بڑے مزے کی گپ شپ رہی، اس نے اپنے حالات زندگی پر ویسے ہی گفتگو کی جیسے کوئی بھی شخص اپنے شوق یا کاروبار پر کرتا ہے۔ مثلاً بتانے لگا کہ دو مرتبہ ایسا ہو چکا ہے کہ اس کے ماننے والوں نے اسے فون کر کے بتایا کہ خود کشی کا وقت آ گیا اور آخری بات آپ سے ہو رہی ہے اور کال بند، دونوں بار اس کی دوڑ لگی ان کے گھر جا کر ان کو بچانے میں، اس لئے کہ پولیس نے اسے پکڑنا تھا جس سے مرنے والے کی آخری بات ہوئی، اور ظاہر ہے آخری کال اس پنڈت کی نکلتی اور پھر اس پر الزام لگ سکتا تھا کہ اسی پنڈت نے خودکشی کا نہ کہا ہو۔ اس پر کیس بنتا ہے۔ گفتگو میں مجھے کم از کم دو باتیں ایسی بتا دیں جو میرے لئے آج تک باعث حیرت ہیں، مگر بات پھر وہی کہ کچھ ہے اور نہیں بھی۔

غرض یہ کہ نفسی علوم میں کچھ بھی متعین نہیں کچھ ٹھوس نہیں۔ بات، شوق یا ریسرچ تک رہے پھر بھی ٹھیک ہے مگر یہ کہ کاروبار حکومت ان علوم کی روشنی میں چلایا جائے، خوفزدہ کرنے والی بات ہے۔ بہرحال امید اچھی رکھنی چاہئے کہ روحانی مشورے، انگوٹھی، اور کپڑوں کے رنگ کے انتخاب تک ہی رہ جائیں ورنہ حیرتوں کا ایک نیا جہان ہر روز ہمارا منتظر ہو گا۔ اس راستے پر مکمل اطاعت کی بھی جاتی ہے اور مکمل اطاعت کا حکم بھی ہوتا ہے ویسے ہی جیسی اطاعت اب عمران خان تحریک انصاف سے چاہتے ہیں لیکن ہم سب کو یاد رکھنا ہے کہ اب وہ پوری قوم کے وزیر اعظم ہیں اور یہ ذمہ داری صرف تحریک انصاف کی نہیں بلکہ ہم سب کی ہے کہ ہم انہیں یاد دلاتے رہیں کہ آصف علی زرداری بھی پیر رکھتے ہیں، بی بی اور نواز شریف بھی چھڑیاں کھاتے رہے مگر آج کہاں ہیں؟

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2