تاریک معاہدے

قوم کو مبارک ہو کہ تحریک طالبان پاکستان سے ہمارا معاہدہ ہو گیا اور ایک مہینے کے "طویل”عرصے کے لئے فائر بندی ہو گئی۔ حال ہی میں امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات ہوئے تھے۔ ہمارے علم میں تھا کہ امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی ٹیم کی سربراہی زلمے خلیل زاد نام کے ایک امریکی شہری کے پاس تھی۔ زلمے خلیل زاد کو یہ ذمہ داری سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سونپی تھی جس کے بعد ایک تلخی

Read more

بس اب دعا کریں‎‎

احتجاج کرتے آئین و قانون کی بالادستی کی لڑائی لڑنے والے صحافی، وکیل، سیاسی کارکن ہماری زخم زخم تاریخ اور حال کی پیشانی پر چمکتا ہوا جھومر ہیں۔ ہم ان کی داستان اپنے بچوں کو سنائیں گے، ہم ان بہادروں کے گیت گائیں گے، ان کی قربانیوں کو دلوں پر رقم کریں گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ ہمارے غریب خانے میں وحشت بھرے اندھیروں کا راج سہی لیکن اس حال میں بھی ایسے لوگ تھے اور ہیں جو

Read more

تاریخ کے فیصلوں کا وقت‎‎

پاکستان کے سیاسی معاملات، ملک کے قیام سے آج تک اس قدر جمود کا شکار ہیں کہ ایک ہی مسئلے یا موضوع پر کوئی کہاں تک لکھے یا بولے۔ سردار کے کیلے والا لطیفہ بنا ہی ہمارے لیے تھا جو ایک دن راستے پر پڑے کیلے کے چھلکے پر پاؤں رکھ کے پھسل گیا اور دوسرے دن وہیں کیلے کا چھلکا دیکھ کر بولا کہ اوہ ہو آج پھر گرنا پڑے گا۔ وہی مسئلہ کہ حکومت کون کرے گا؟ کیسے

Read more

جھوٹ نگر اور عزت کا سورج  گرہن

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد ہوں، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر یا خود جناب وزیر اعظم عمران خان۔ نواز شریف کی واپسی کے معاملے میں ان عالی دماغوں کی بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ عمران خان نے فرمایا کہ وہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو کہیں گے اور نواز شریف کو بازو سے پکڑ لائیں گے۔ شیخ رشید اورشہزاد اکبر فرماتے ہیں کہ نواز شریف کا پاسپورٹ سولہ فروری کو ختم ہو رہا ہے

Read more

جذبہ شہادت کی توہین ‎

سب علم رکھتے ہیں کہ نواز شریف ہوں یا ذوالفقار علی بھٹو، ان کی ابتدائی تربیت فوجی سر پرستی میں ہوئی اور یہ بھی کہ اگر مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو بد ترین دھاندلی سے ہرایا نہ گیا ہوتا، تاریخ میں، شیخ مجیب، بھٹو صاحب یا نواز شریف صاحب کا کردار اور مقام بالکل مختلف ہوتا۔ لیکن تاریخ اور حقائق کو اگر مگر سے کچھ غرض نہیں وہ صرف نتائج کو دیکھتی ہے۔ ہمارا طریقہ کار یہ ہے کہ

Read more

شہباز شریف نہیں، مفاہمت اور امن کی گرفتاری‎

جناب شیخ رشید درست ثابت ہوئے اور شہباز شریف، ن سے ش علیحدہ نہ کرنے کی وجہ سے جیل پہنچ چکے ہیں۔ یہ گرفتاری شہباز شریف کی نہیں، مفاہمت کی سوچ اور خیال کی گرفتاری ہے۔ یہ اس آخری امید کی گرفتاری ہے جو معیشت کی بحالی اور امن سے گمان رکھتی تھی۔ مفاہمت محض شہباز شریف ہی کی نہیں، دوسری پارٹیوں میں بھی ایسی سوچ پائی جاتی تھی لیکن آج کے بعد ان سب کو راستے سے ہٹا دیا

Read more

نواز شریف کی تقریر اور مریم نواز کی دلیری

کوئی شک نہیں کہ اے پی سی کا لب لباب یا حاصل صرف اور صرف نواز شریف کی تقریر نکلی جس کے بعد مریم نواز کی تقریر اور ٹوئٹر بیان کی دھوم ہے۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو میزبان تو ٹھہرے لیکن میلہ نواز شریف اور مریم نواز نے لوٹ لیا۔ اس تقریر میں قابل غور ترین بات وہی تھی جس چرچا ہو رہا ہے کہ ” ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں بلکہ اس کو لانے والوں سے ہے”

Read more

بوریت سے بھرا پرانا کھیل

طلسم کدہ ہے ہمارا ملک۔ دیکھتے ہی دیکھتے پوری تصویر یوں بدلتی ہے کہ دیکھنے والوں کے سامنے کھیلنے والے فریق اپنی پوزیشن بدل کر اسی مقام پر کھڑے ہوتے ہیں جس کے خلاف انہیں ووٹ ملا تھا۔ مثلاً غور کریں کہ آج کل تحریک انصاف کے لیڈر اور کارکن جو لڑائی لڑ رہے ہیں, وہ کبھی ان کی تھی ہی نہیں مگر وہ لڑ رہے ہیں۔ ان کی سیاسی جدوجہد اس لئے نہیں تھی کہ انہیں ریٹائرڈ جنرل صاحبان

Read more

احمد نورانی کی خبر اور دو نمبر جمہوریت‎

کئی دنوں سے خیال تھا کہ دو نمبر جمہوریت کے نعرے یا دلیل کی حقیقت واضح کروں اور عرض کروں کہ جس چیز کو تحریک انصاف دو نمبر جمہوریت کہتے نہیں تھکتی تھی اس کا مطلب در اصل کیا ہے۔ شکر گزار ہونا چائیے احمد نورانی کا جنہوں نے اس مطلب کو ثبوت کے ساتھ سب کے سامنے رکھ دیا اور دو نمبر جمہوریت کی وضاحت کر دی۔ جن دوستوں کے لئے یہ تصویر ابھی تک ادھوری ہے اسے میں

Read more

اپنا ماضی ہی اپنا مستقبل نظر آتا ہے

متحدہ عرب امارات نے آخر کار اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔ اطلاعات کے مطابق آنے والے دنوں میں، عمان، مراکش، سعودی عرب اور کویت بھی تسلیم کر لیں گے۔ ایران میں چین کی ہونے والی بھاری سرمایہ کاری کا ان واقعات سے کیا تعلق ہے یا دنیا میں ہونے والی نئی صف بندیاں کس طرح ہو رہی ہیں، اس بحث کو چھوڑ کر میں ایک اور طرح کے ماتم ہوں۔ یہ 1990 کا سال تھا یعنی تیس سال قبل جب

Read more

نئی دنیا، پرانے مسائل اور بدلتے روزگار

ایک مدت ہوئی کہ یو ٹیوب پر احباب نے اپنے چینلز کھول کر گفتگو کا براہ راست طریقہ اپنا لیا تھا مگر محض اپنی سستی کی وجہ سے میں فاصلے پر رہا۔ کرونا وائرس کے سبب ہوئے لاک ڈاؤن نے لیکن مجبور کر دیا اور اچھی طرح سمجھا بھی دیا کہ انٹر نیٹ پر ہمارے انحصار اور مصروفیت نے جہاں آئندہ پانچ برسوں میں آنا تھا وہ صرف چند دنوں میں ہو چکا۔ لہذا مزید انتظار حماقت کے سوا کچھ

Read more

کورونا نے گلوبل ویلج کو گلوبل ہوم میں بدل ڈالا ‎

دنیا کی معیشت، معاشرت اور سیاسی حالات پر کرونا وائرس کا اثر اتنا گہرا اور ہمہ گیر ہے کہ اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ کسی بھی آفت سے پہنچنے والے نقصان کا اندازہ اسی وقت لگایا جا سکتا ہے جب وہ ختم ہو چکی ہو جبکہ کرونا وائرس کے خاتمے کا ابھی دور دور تک کوئی حتمی اندازہ سامنے نہیں آیا، کچھ کے نزدیک چھ ماہ سے ایک سال اور کچھ کے نزدیک تین سال سے

Read more

شکیل صاحب، جیو نیوز اور انقلاب‎

شکیل الرحمن صاحب سے میرا تعارف، میرے سکول جانے کے زمانے سے ہی تھا۔ ہر بیٹے کی طرح مجھے بھی شوق تھا کہ میں والد صاحب کے ساتھ جا کر ان کا دفتر دیکھوں اور ان کا دفتر روزنامہ جنگ تھا۔ میرے مرحوم چچا، رضا سہیل اس وقت جنگ میگزین میں لکھا کرتے پھر وہ جنگ کلچرل ونگ کے انچارج بنے۔ یہ لگ بھگ 1986 کا زمانہ تھا۔ جنگ اور نوائے وقت ہی اردو میڈیا پر حکومت کرتے تھے۔ مشرق،

Read more

ایک سفر جو دل میں ٹھہر گیا‎

آخری تحریر قلم بند کرنے کے بعد اہل خانہ کے ساتھ عمرہ کو روانہ ہو گیا تھا۔ بہت سوچا کہ اس عبادت کے بارے میں کچھ لکھوں مگر سچی بات ہے کہ جذبات کے سامنے الفاظ بے بس ہیں۔ الفاظ کی تمام جادوگری مل کر بھی اس کیفیت کو بیان کرنے سے قاصر ہے جو کسی مسلمان پر اس وقت طاری ہوتی ہے جب اسے مدینہ کی مہربان ہوائیں اپنی آغوش میں لے لیں یا مکہ مکرمہ کا جلال اس

Read more

خدا کا گھر ہی آخری امید رہ گیا ہے ‎

گزشتہ نومبر کی نو تاریخ کو، کرتار پور کی راہداری کا افتتاح تھا۔ کشمیر پر مودی کے قبضے کے باوجود، بیرونی سہارا ڈھونڈتی ہماری لاچاری ہمیں دکھا رہی تھی کہ عمران خان اس تقریب کے مہمان خصوصی بن کر پہنچے۔ بھارتی پنجاب کا وزیر اعلیٰ تک جس میں شریک نہ ہوا۔ من موہن سنگھ البتہ موجود تھے مگر وہ بھی انتہائی خاموش اور ریزرو سے تھے۔ میں وہاں پہنچا، بھارتی مہمانوں سے تھوڑی سی گفتگو یہ سمجھانے کو کافی تھی

Read more

نواز شریف سے عمران خان نے کتنا بڑا لفافہ پکڑا؟

آ گیا جی اونٹ پہاڑ کے نیچے؟ یہ حال ہوتا ہے، جب جذبات اور شوخی عقل کو الوداع کہہ دیں۔ جب بڑے بول اس آدمی ہی کے گلے پڑتے ہیں جو انہیں بول کر تکبر کرتا ہے۔ یاد ہے امیر قطر پاکستان کے دورے پر آیا تھا اور عمران خان صاحب سے ملاقات میں اس نے کچھ کہا تھا، اس کا جواب خان صاحب نے عوام میں دیا تھا کہ یہ ( نواز شریف) چاہے جس بادشاہ کے گھٹنے پکڑ

Read more

مجھے اس ملاقات کی تصویر نے خوش نہیں، اداس کیا

غبارہ پھٹ گیا۔ جب کسی کا اثاثہ ہی ہوائی باتیں، ہوائی قلعے اور مستی کے عالم کےجذبات ہوں تو نتیجہ اور ہو بھی کیا سکتا ہے۔  نہ کوئی ہوم ورک تھا، نہ کوئی سنجیدہ تیاری۔  محض جذباتی خواب، اقتدار کی شدید خواہش، پروٹوکول کی تمنا اور ہینڈسم شخصیت کا ملاپ۔ یہ کامیابی نہیں ذلت و عبرت کا راستہ ہے۔  ابھی تو غیرت نامی غلط فہمی کا غبارہ بھی پھٹنا ہے۔  میں اقتدار چھوڑ دوں گا نامی نعرہ بھی آہستہ آہستہ

Read more

مسخرے تماشوں میں ہی جچتے ہیں، تخت پر نہیں ‎

عجیب موسم ہے اور اس سے بھی منفرد سیاسی صورت۔ بیماریوں پر ٹھٹھا مذاق، موت پر جوا، پھر اس پر بحث۔ اس سنگ دلی کو دیکھ کر آدمی سوچتا ہے کہ اپنی حالت پر حیرت کیسی۔ ہم ایسے ہی ہیں یا ہمیں ایسا بنا دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے جب ماضی، تاریخی جھوٹوں سے اٹا پڑا ہو تو اعتبار نامی جذبہ کہاں سے آئے۔ جب ریاست اور شہری کے مابین عمرانی معاہدہ یا آئین اور قانون مسلسل شہری کے تحفظ

Read more

شہزادی کا لباس اور مولانا کی دستار

کچھ ذکر شاہی جوڑے کا کرتے ہیں کہ ٹھہرے موسم میں یہ تازہ ہوا کی خبر ہے۔ ہارون رشید صاحب نے کمال کا ٹوئیٹ کیا (اگر انہوں نے ہی کیا) کہ جو لوگ شہزادی کے لباس میں پاکستانی جھلک دیکھ رہے ہیں وہ ذہنی غلام ہیں۔ حیران ہوں کہ وہ اس بنیادی حقیقت کو ہی نہیں جانتے کہ شاہی خاندان کے کسی بھی دورے سے قبل ان کا سٹاف طے کر چکا ہوتا ہے کہ ملکہ یا شہزادی نے کون

Read more

ایک تقریب میں ادھوری شرکت

اینکر اور کالم نگار، برادر جمیل فاروقی نے الحمرا میں منعقد ہونے والی ایک محفل کی دعوت دی جس سے صدر پاکستان عارف علوی کو خطاب کرنا تھا۔ پہنچنے پر پتہ چلا کہ تحریک انصاف پنجاب کے رہنما اعجاز چوہدری کی جانب سے کافی جاندار انتظامات ہوئے تھے۔ خاموشی سے ہال کے وسط کی ایک قطار کی نشست پر بیٹھ گیا مگر کچھ دیر بعد ہی جمیل فاروقی نے کال کر دی اور اصرار کر کے پہلی قطار میں میرے

Read more

لندن کا وہی پرانے والا وقار، ہم تبدیلی لے آئے مگر ڈھاک کے تین پات

قریب دو برس کے بعد پانچ ستمبر کو لندن روانہ ہوا، چونکہ بچوں کے بغیر گیا تھا توخیال تھا کہ تین ہفتے خوب چھٹی گزرے گی مگر ایک ہفتے بعد ہی اداسی نے ایسا جکڑا کہ واپس آتے ہی بنی اور دورہ مختصر کرتے ہوئے پندرہ تاریخ کو ہی واپس ہو لیا۔ قریب دس دن کے مختصر عرصے میں ممکن نہ تھا کہ سب دوستوں سے مل پاتا مگر انیل مسرت صاحب سے نہ ملنے کا افسوس رہے گا کہ

Read more

حکومت اور فوج کا ایک ہونا کافی نہیں‎

عجیب نعرہ ہے کہ حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں لہذا ترقی کے لئے تیار ہو جائیں۔ جنگی ماحول بن رہا ہے تو کیا ہوا، حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں۔ بھارت کشمیر ہڑپ کر رہا ہے، مت گھبرائیں، حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں۔ او بھائی، حکومت اور فوج نہیں، قوم اور فوج کو ایک صفحے پر ہونا چاہئیے۔ حکومت تو محض ایک سیاسی پارٹی کی نمائندگی کر تی ہے، بائیس کروڑ کے ملک میں ڈیڑھ

Read more

کوئی قدم تو آگے بڑھائیں‎

انگریزی کا محاورہ ہے Actions speak louder than words” اس کا ترجمہ کچھ اس طرح کا بنتا ہے کہ "عملی اقدامات، الفاظ سے اونچا بولتے ہیں”۔ 5 اگست کو نریندر مودی نے عملی قدم اٹھایا اور ہم ابھی تک وہی الفاظ دہرائے چلے جا رہے ہیں جو سنتے سنتے تیسری نسل بڑھاپے میں داخل ہو رہی ہے۔ میں انتظار میں ہی رہا کہ پاکستان کی موجودہ قیادت کوئی تو نئی بات کرے گی مگر ابھی تک مایوس ہوں۔ ایک واقعہ

Read more

تسلسل کیوں ضروری تھا؟

جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سالہ توسیع ہو چکی، اب یہ بحث ختم ہوئی۔ آئیڈیل دنیا میں اصول کیا ہوتے ہیں وغیرہ جیسی بحث کو اٹھا کر ایک طرف رکھیں اور حقیقت کو ویسا دیکھنے کی کوشش کریں جیسی وہ ہے۔ ہمارے ملک میں آرمی چیف کا عہدہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے، یہ اصولی بحث نہیں حقیقت ہے۔ اس پوزیشن پر موجود شخصیت کا انداز فکر، دنیا کو دیکھنے کا انداز، حتیٰ کہ اس کی پسند

Read more

 ایک وعدہ تو سچا ہے

سترہ اگست کے حوالے سے عرض ہے کہ میرا شمار ان لوگوں میں نہیں ہوتا جو ضیا الحق کو پاکستان کی تمام تر مصیبتوں اور عذاب کی واحد اور تنہا وجہ مانتے ہیں۔ ضیاء الحق نے اپنے سفر کی ابتدا جس رستے سے کی وہ اس نے خود نہیں بنایا تھا اور جس گڑھے میں وہ قوم کو پھینک گیا وہ گڑھا بھی اس کا کھودا ہوا نہیں تھا۔ اسکندر مرزا، ایوب خان اور یحییٰ خان وہ مرکزی تین افراد

Read more

مقبوضہ کشمیر: جذبات بھری خیالی دنیا سے باہر نکلیں

مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی جارحیت کا جواب جو مجموعی طور پر ہم نے آج دیا، اس کا لب لباب بس اتنا ہے کہ اگر بھارت نے ہمارے خلاف جارحیت کی یا حملہ کیا تو ہم اس کا جواب دیں گے اور اگر کمزور پڑے تو ایٹم بم چلانا پڑے گا۔ اس میں نیا کیا ہے؟ میں طنز نہیں کر رہا اور اندازہ رکھتا ہوں کہ کشمیر کے معاملے میں دنیا کا کوئی قابل ذکر ملک بھارت کو ناراض

Read more

کوئی بڑی خبر بن رہی ہے

دل دھڑک رہا ہے کہ کیا ہونے والا ہے؟ مقبوضہ کشمیر میں بھاری تعداد میں بھارتی افواج کی تعیناتی کا مقصد کیا ہے؟ کیا اس کا تعلق بھارتی یوم آزادی سے ہے؟ بھارتی وزیر اعظم اس یوم آزادی پر بھارتی عوام کو کیا کہنے جا رہا ہے؟ امریکی صدر نے کشمیر کا ذکر محض دو ہفتے کی مدت میں دو مرتبہ کیوں کیا؟ وہ کیوں عمران خان اور مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ اسے مسلہ کشمیر

Read more

سمندر کا بلاوا اور ہماری کاغذی کشتی

"جب یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارے مسائل بہت پیچیدہ ہیں، تو در اصل یہ بتایا جا رہا ہوتا ہے کہ ہم نے آئین اور قوانین پر عمل نہیں کرنا۔ جب سادگی سے عمل نہیں کرنا تب پیچیدگی پیدا ہوکر رہے گی۔ اسے دور کرنے کے لئے پھر ایک اور پیچیدگی، یعنی ایک اور قانون کی خلاف ورزی۔”

Read more

پیچیدہ مسائل ہنر اور سلیقہ مانگتے ہیں، غصہ یا جنون نہیں

ایک ماہ سے کچھ زیادہ عرصہ ہوا کہ ایک خبر دبے پاؤں چلی آئی کہ وزیر اعظم عمران خان، اسد عمر کی دلجوئی کا علاج کچھ یوں کرنا چاہتے ہیں کہ انہیں قومی اسمبلی کا سپیکر منتخب کروا دیا جائے۔ ضروری تھا کہ موجودہ سپیکر اسد قیصر خود اپنا استعفیٰ پیش کردیں اور جب اس سلسلے میں عمران خان نے اسد قیصر سے ملاقات کی تو ان سے فوری تعاون یعنی استعفیٰ کا جواب خان صاحب کو وہ نہیں ملا

Read more

عمران خان نے مریم نواز کو لیڈر بنا دیا‎

مریم نواز کی پریس کانفرنس کا لب لباب تو واضح اور سامنے ہے کہ میاں نواز شریف کو علاج کے لئے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جائے۔ اس عاجز نے 6 مئی 2019 کو شائع ہونے والی تحریر میں تفصیل سے عرض کر دیا تھا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن تو ہے مگر کسی بھی پیچیدگی کی وجہ سے یہاں کا کوئی ڈاکٹر انہیں ہاتھ لگانے کو تیار نہیں کہ اگر سرجری کے دوران نواز

Read more

ہر جانب بڑھتا غصہ، خدا خیر کرے۔‎

وہ شور مچا ہے کہ کچھ سمجھ میں نہ آئے، اگر ایسا ہی ہے کہ عقل بے بس ہو چکی، سچ اور جھوٹ برابر لگتا ہے تو جان لیں کہ شور مچانے والے کامیاب ہو چکے۔ وزیر اعظم عمران خان اور روس کے صدر پیوٹن کی کھانے کی میز پر ہلکی پھلکی بات چیت کا شور مچا کر روسی صدر کو تھاں مار ڈالنے کے دعوے عروج پر ہیں۔ بھائی جوش اپنی جگہ، شور مچانے سے پہلے خدا کے لئے

Read more

میرا ننھا دوست اور سوال کے راستوں پہ لمبی ہوتی گھاس

نہر پر نیو کیمپس کے پل پر سے روز گزرتا ہوں، آپ ہی کی طرح راستوں پر بھکاریوں کو دیکھتا، نظر انداز کرتا مگر چند دنوں سے سگنل پر بچوں کی ایک نئی قطار کو نظر انداز نہ کر پایا۔ ایک بہت ہی معصوم سا بچہ جس کی عمر کوئی گیارہ سال ہے پاس آ کرحیرت بھری مسکراہٹ سے کبھی آنکھوں میں دیکھتا ہے کبھی گاڑی کے اندر جھانکتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں کبھی صفائی کے کپڑے، کبھی بیچنے

Read more

دیوتا معصوم ہوتے ہیں

ہم طلسم کدہ کی رعایا ہیں۔ معجزوں پر یقین محکم رکھنے والوں کو معجزے ہی دیکھنے کو ملتے ہیں، سو مل رہے ہیں۔ ہم زندگی کی دوڑ میں بھاگ رہے ہیں۔ جب بھی تھکن آہستہ ہونے پر مجبور کرتی ہے تو غیب سے آواز آتی ہے، بھاگو کہ رکنا تمہیں مار دے گا۔ ہم پھر بھاگنے لگتے ہیں۔ بجلی، گیس کے بل، بچوں کی فیس، کپڑے اور کھانا۔ بھاگو اور بھاگتے رہو۔ رکنا نہیں۔ جو کہا جائے وہ دہراؤ، جو

Read more

نواز شریف کا آپریشن کون کرے؟‎

خبر یہ ہے کہ پیس میکر ڈالنا تو دور کی بات, پاکستان کا کوئی ماہر، تجربہ کار ڈاکٹر نواز شریف کو ہاتھ لگانے کو تیار نہیں کہ کسی پیچیدگی کی وجہ سے اگر نواز شریف کو کچھ بھی ہو گیا تو وہ ڈاکٹر باقی زندگی کہاں گزارے گا۔ الزامات اور سازشی نظریات اس ڈاکٹر کا جینا مشکل کر دیں گے۔ سادہ سی بات ہے کہ نواز شریف کی سرجری کوئی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا نوجوان تو نہیں کرے گا۔

Read more

روشن خیالی کے نام پر تاریک خیالی اور اپنی جہالت کے پوسٹر

جہالت پر کسی کی اجارہ داری نہیں، یہ وہ کیفیت ہے جس کا کسی ڈگری، کسی یونیورسٹی سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ یہ کس پر اور کب طاری ہو جائے اس کا بھی کوئی اندازہ نہیں۔ ہمارا ملا بھائی نہایت درد مندی سے اسلام کا مقدمہ اس انداز سے لڑتا ہے کہ خود اسلام چیخ اٹھے کہ مجھے ایسے وکیلوں سے بچاؤ۔ عیسائیت کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، ہم مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ، جو اللہ کے پیغمبر اور سچے رسول ہیں کو عیسائیوں نے حد سے بڑھی عقیدت میں، ان کی حیثیت اور مقام سے اتنا آگے بڑھایا کہ خدا کا شریک بنا ڈالا اور ایسا انہوں نے حضرت عیسیٰ کی محبت میں کیا نتیجتاً شرک پر اتر ائے، یعنی نہایت عقیدت سے گمراہی کا راستہ چن لیا۔ اب ان کو بہکانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ رب کریم نے نہایت نہایت خوبصورتی سے قرآن میں بتایا ہے کہ ہم روز قیامت عیسیٰ سے پوچھیں گے کہ کیا تم نے ان لوگوں کو بتایا تھا کہ تم ہمارے بیٹے ہو۔ حضرت عیسیٰ کا جواب بھی بتا دیا ہے کہ وہ کہیں گے کہ میرے رب میں نے تو انہیں ایسا کچھ نہیں بتایا تھا۔روشن خیالی کے وکیلوں نے اس ملک میں ایک جائز مقدمے کا بیڑا غرق اس انداز میں کیا ہے کہ روشن خیال جہاں بھی ہو گا اس نے اپنا سر پیٹ ڈالا ہوگا۔ خواتین کے عالمی دن پر خواتین کے حقوق کے نام پر جو تماشا ہوا، اس سے کیا نتیجہ نکلے گا، اس طرح کے وکیلوں کے ہوتے ملا بھائی کو کیا رنج کہ اس کا مقدمہ تو خود یہ توجہ کی طالب خواتین لڑتی ہیں۔

Read more

فیاض چوہان، نوائے وقتی سچ اور اسرائیلی پائلٹ

آئیے جشن منائیں کہ ہم نے اسلامی اقدار کو اپناتے ہوئے پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان سے جان چھڑا لی کہ اس نے مسلمان اکثریت کے معاشرے میں ہندو اقلیت کا دل دکھایا تھا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق اقلیت کی جان، مال، آبرو اور عبادت گاہوں کی حفاظت مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر ایک وزیر ہی اقلیتوں کی آبرو یعنی مذہب کامذاق اڑائے تو وہی ہونا چائیے تھا جو ہوا۔ مگر ٹھہریں یہ سب اسلام کے نام پر تو نہیں ہوا پھر کس لئے ہوا۔

چلیں جشن منائیں ہم لبرل ہو چکے آزاد خیال ہیں اور انسانی حقوق کے راستے پر اتنا آگے چل چکے کہ ایک وزیر نے ہمارے لبرل معاشرے میں اقلیت کے مذہب کا تمسخر اڑایا اور ہم نے کینیڈا کے روادار معاشرے کو پیچھے چھوڑتے ہوئے انسانی حقوق کی مثال قائم کر دی۔ مگر ٹھہریں، حکومت بنے زیادہ عرصہ نہیں گزرا، عاطف میاں نام کا ایک معاشی ماہر جس کی قابلیت کا احترام امریکہ سمیت دنیا بھر کے معاشی اداروں میں کیا جاتا ہے کو عمران حکومت نے انگیج کرنے کا سوچا ہی تھا کہ شور اٹھا وہ تو قادیانی ہے۔ تبدیلی کی دعویدار حکومت دم دبا بھاگ گئی۔ تو پھر یہ کیا تھا، نہ اسلامی نہ لبرل یہ آج کا سرکاری سچ تھا جو جنگی حالات کے جبر تلے ہونا ہی تھا، یعنی صرف اور صرف خالص سیاست تھی۔

زیادہ عرصہ نہیں گزرا مجید نظامی مرحوم کا ایک ادارہ ہو ا کرتا تھا نوائے وقت۔ ہے تو آج بھی مگر نہ زندوں میں نہ مردوں میں، بہرحال جب یہ ادارہ پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا اس وقت اس ادارے کی پالیسی کا ترجمان جو کہ کسی بھی اخبار کا اداریہ ہوتا ہے، میں ہندو لفظ اکیلا کبھی چھپا ہو مجھے یاد نہیں۔ کیونکہ اس لفظ کے ساتھ، مکار، کمینہ، بنیا، سازشی جیسے اعزازات ہمیشہ چھپتے تھے۔ یعنی مکار ہندو، سازشی ہندو، کمینہ ہندو وغیرہ۔

Read more

کالعدم تنظیموں کا گورکھ دھندا: تماشا ابھی باقی ہے

پاک بھارت بیزار کن تماشا، ایک بار پھر بغیر کسی نتیجے کے ڈھل چکا۔ یقیناً پاکستان اس سے فاتح بن کر نکلا ہے، یہ میں نہیں دنیا بھر کا میڈیا کہہ رہا ہے اور ایسا وہ ہماری محبت میں نہیں کہتا۔ اس حالیہ بحرانی کیفیت میں بھارتی میڈیا کے کردار نے ہماری بہت مدد کی۔ جس کے جواب میں یہاں لوگ اپنے مسائل بھول کر ملک کے ساتھ کھڑے ہو گئے جس کا حتمی مگر وقتی فائیدہ عمران خان کو

Read more

بھارتی میڈیا کا جنون: شکر ہے میں بھارتی نہیں

ویسے تو 14 فروری محبت کا دن کہلاتا ہے کہ تجدید محبت ہو یا اظہار محبت، یہ تاریخ محبت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ مگر اس 14 فروری کو پلوامہ میں ہوئے حادثے کے بعد سے آج تک تجدید محبت پاکستان سے اور اظہار محبت عمران خان سے ہو رہا ہے۔ انسانوں کی شخصیت، سادہ حساب و کتاب سے بہت مختلف ہوتی ہے اور کا بہترین مشاہدہ آج کل دیکھنے کومل رہا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں میں نہ تو مہنگائی کم ہوئی نہ ہی غربت، نہ ہی کوئی خزانہ نکلا نہ ہی مغربی دنیا ہمارے ساتھ آ کر کھڑی ہوئی۔

یہ کس بات پر خوشی کا احساس ہے، کیوں دل شکر ادا کر رہا ہے کہ میں ہندوستان میں کھینچی گئی لکیر کے اس جانب پیدا ہوا جو، اب پاکستان ہے۔ ایسا شکر کا احساس بہت کم ہوا ہے۔ میں ہندوستان کی معاشی طاقت، اس کی سفارتی حیثیت، اس کی ثقافت سے جتنی واقفیت رکھتا ہوں اس کے بعد خود پر بلا وجہ فخر کی کوئی وجہ سرے سے نہیں بنتی۔ مجھے بھارتی میڈیا کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ اس کے گزشتہ دو ہفتے کے کردار نے مجھے پاکستانی ہونے پر فخر دلایا۔

Read more

شکر ہے، میں بھارتی نہیں

ویسے تو 14 فروری محبت کا دن کہلاتا ہے کہ تجدید محبت ہو یا اظہار مہبت، یہ تاریخ محبت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ مگر اس 14 فروری کو پلوامہ میں ہوئے حادثے کے بعد سے آج تک تجدید محبت پاکستان سے اور اظہار محبت عمران خان سے ہو رہا ہے۔ انسانوں کی شخصیت، سادہ حساب و کتاب سے بہت مختلف ہوتی ہے اور کا بہترین مشاہدہ آج کل دیکھنے کومل رہا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں میں نہ تو مہنگائی

Read more

سعودی ولی عہد تحریک انصاف میں جان ڈال گئے

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دورہ، پاکستان تحریک انصاف کے دوستوں کے بجھے سے چہروں پر زندگی دوڑا گیا۔ عرصہ تو محض چھ ماہ کا ہی گزرا تھا مگر واقعات و حالات کے تابڑ توڑ حملوں نے پی ٹی آئی کی لیڈرشپ اور کارکنوں کو خاموش سا کروا دیا تھا۔ کمزور سا دفاع ہوتا یا پھر سیدھی گالیاں، جو دلیل نہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اس صورتحال میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، پی ٹی آئی کو طاقت کا انجکشن لگا گئے، ان میں جان دوڑی اور سوشل میڈیا پر اب وہ گرج برس رہے ہیں۔ ان کا حق ہے کہ وہ اپنے لیڈر اور انتخاب پر خوش ہوں داد دیں، نعرے لگائیں لیکن یاد رہے کہ ان کے لئے یہ وقتی ریلیف ہے، چند دن گزر جائیں گے پھر زمین کی حقیقتیں سامنے ہوں گی۔ ان دو سیاسی جماعتوں کی گہما گہمی سے باہر نکل کر دیکھیں تو پاکستان کے لئے یہ دورہ بہت اہم تھا۔

Read more

ایوان صدر کو ایوان وزیراعظم سے بالاتر بنانے کی گونج سنائی دے رہی ہے

برادرم ذوالفقار راحت کی دعوت اور اصرار پر صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات کے لئے اسلام آباد جانا ہوا۔ اور ایک دن میں جتنی مصروفیت ممکن ہو سکتی ہے اتنی ہی رہی۔ گیارہ بجے صدر سے ملاقات، دوپہر کا کھانا آئی جی اسلام آباد کے ساتھ، بعد دوپہر کی گپ چوہدری فواد کے ساتھ اور رات کا کھانا اسلام آباد کلب۔ البتہ میں اسلام آباد ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فواد کے ساتھ گپ شپ کے بعد کچھ اور ملاقاتوں کے لئے نکل گیا اور رات گئے لاہور واپسی کے لئے روانہ ہوا۔

Read more

جیل میں ملاقات: میں نے میاں نواز شریف کو ایسا مرجھایا ہوا کبھی نہیں دیکھا

ہلکی برستی بارش میں جمعرات کی صبح میں کوٹ لکھپت جیل کے سامنے کھڑا تھا۔ سڑک کے ایک جانب ٹی وی چینلز کی ڈی ایس این جیز کی قطار سی لگی تھی اور دوسری طرف ملاقاتیوں کی سواریاں۔ جیل دروازے کی جانب راستے پہ سیکیورٹی بیریئرز تھے اور تیاری پکڑتے پولیس اہلکار، انتظار تھا کہ اب جیل دفتر سے پہلی لسٹ آئے گی اور ملاقاتیوں کا نام پکارا جائے گا۔ ساڑھے نو ہی بجے تھے اور بھیگتی صبح کی سردی

Read more

وزیر اعلی عثمان بزدار ہی رہیں گے، عمران خان کا فیصلہ

سب سے پہلے تو یہ خبر پڑھ لیں کہ وزیر اعظم عمران خان سانحہ ساہیوال کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی پشت پر زیادہ مضبوطی سے کھڑے ہیں ہیں لہذا عثمان بزدار کہیں نہیں جا رہے، کپتان کے ایک قریب ترین ذریعے نے مجھ سے بات کرتے ہوئے جتنی شدت سے عثمان بزدار کا دفاع کیا اس سے مجھے یوں محسوس ہوا کہ تحریک انصاف کے اپنے ممبران اسمبلی جتنا چاہیں شور مچا لیں، وہ اتنے ہی بے بس ہیں جتنے ہماری جمہوریت میں ارکان اسمبلی ہو سکتے ہیں، امید ہے کہ انہیں اب سکون ہو گا، چاہیں تو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی سے اب وہ گلے مل کر گانا گا سکتے ہیں، تیرا غم میرا غم اک جیسا صنم۔

Read more

ہم تماش بین ہیں اور بس۔۔۔‎

بیس سال ہونے کو آئے، جاوید اقبال نامی ایک شخص مرحوم پولیس افسر طارق کمبوہ کے پاس پیش ہوا اور بولا میں نے سو بچے قتل کئے ہیں۔ طارق کمبوہ نے سوچا کہ اس شخص کا دماغی توازن خراب ہے اور اسے باہر نکلوا دیا۔ اب اس نے روزنامہ جنگ کو خطوط لکھے جن کے ساتھ 80 کے قریب تصاویر ارسال کیں۔ مجاہد جعفری اور جمیل چشتی جو کرائم کی بیٹ سنبھال رہے تھے، خطوط میں بتائے گئے پتہ پر

Read more

نواز شریف کو یقین تھا کہ ایٹمی وزیراعظم کے خلاف بغاوت ناممکن ہے

کھودا پہاڑ نکلا چوہا والی مثال گھوم گھوم کر ہماری حقیقت ہی کیوں بنتی ہے۔ جو پہاڑ ہم کھودتے ہیں اس کے اندر سے چوہا کیوں برآمد ہو جاتا ہے۔ ہم ہمیشہ غلط پہاڑ کی کھدائی میں جت جاتے ہیں یا غلط پہاڑ ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ جن اقوام نے ہمارے سامنے اپنے پہاڑوں پر کھدائی شروع کی، وہاں خزانے برآمد ہو گئے۔ ادھر ہم ہیں کہ اکہتر سال سے کھودے چلے جا رہے ہیں اور کبھی ایک پہاڑ کبھی دوسرا، مگر نکلتا چوہا ہی ہے۔

بیس سالوں میں پہاڑوں کی کھدائی کے نتائج دیکھیں۔ جب 1999 میں ہم باضابطہ طور پر نئی نئی ایٹمی قوت بننے کے مزے لے رہے تھے، بھارتی وزیر اعظم واجپائی لاہور کے مینار پاکستان پر تقریر کر چکے تھے کہ پاکستان کو بھارت کی مہر نہیں چائیے، اس کی اپنی مہریں چلتی ہیں کہ کارگل ہو گیا۔ پتہ چلا کہ ملک کو ایٹمی قوت بنانے والا نواز شریف در اصل غدار ہے۔ دوسری طرف نواز شریف کے نزدیک فوجی حکومت غیر ایٹمی پاکستان میں تو آسکتی ہے مگر اب ایٹمی دھماکے کرنے والے وزیر اعظم کے خلاف فوج کوئی کارروائی نہیں کرے گی اور اسی یقین کے بطن سے پرویز مشرف نمودار ہوئے، تاریخ تھی 12 اکتوبر۔

Read more

تیرا کیا بنے گا خوبصورتیا؟

کل کی بات لگتی ہے، 2008 کے انتخابات ہوئے، ملک میں جمہوریت بحالی کا جشن تھا، پرویز مشرف نے یوسف رضا گیلانی سے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیا اور سینہ تان کر داد طلب انداز میں کیمروں اور حاضرین سے مخاطب ہوئے، خواتین و حضرات دیکھ لیں، میں نے وعدہ پورا کر دیا۔ جمہوریت بحال ہو چکی۔ جب انہوں نے یہ الفاظ کہے تو میں سوچتا رہ گیا کہ اس جمہوریت کا وعدہ انہوں نے کس سے اور

Read more

تیرا کیا بنے گا خوبصورتیا

کل کی بات لگتی ہے، 2008 کے انتخابات ہوئے، ملک میں جمہوریت بحالی کا جشن تھا، پرویز مشرف نے یوسف رضا گیلانی سے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیا اور سینہ تان کر داد طلب انداز میں کیمروں اور حاضرین سے مخاطب ہوئے، خواتین و حضرات دیکھ لیں میں نے وعدہ پورا کردیا جمہوریت بحال ہو چکی۔ جب انہوں نے یہ الفاظ کہے تو میں سوچتا رہ گیا کہ اس جمہوریت کا وعدہ انہوں نے کس سے اور کب کیا تھا۔ فوج میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے، آرمی چیف بنتے ہوئے یا چیف ایگزیکٹو بنتے ہوئے، ان کا تو سارا عرصہ جمہوریت کا مذاق اڑاتے گزرا تھا وہ سوال اٹھایا کرتے تھے کہ کیا یہ قوم اتنی بانجھ ہو چکی ہے کہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے علاوہ کوئی اور لیڈر پیدا نہیں کر سکتی۔

یقین دلاتے تھے کہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی آئندہ کبھی باری نہیں آئے گی۔ سب کو معلوم تھا کہ چوہدری افتخار کی تحریک کے بعد بے نظیر بھٹو کا قتل پرویز مشرف کو اس حد تک کھوکھلا کر چکا ہے کہ اب فوج بھی دامن بچانے میں لگی تھی۔ پرویز مشرف نے مسلح افواج کے اپنے ہی لگائے نئے چیف اشفاق پرویز کیانی کے گلے شکوے بہت جلد شروع کر دیے تھے۔ بہرحال بطور صدر ان کے استعفی سے سمجھ آیا کہ وہ جنرل کیانی سے خفا کیوں تھے۔

Read more

وزیر اعظم کو بتایا جا چکا ہے کہ ان کے پاس چھ ماہ سے زیادہ وقت نہیں

یہ علیمہ خان کی بیرون ملک پراپرٹی کی خبر اچانک کہاں سے آئی، بیان کردہ تفصیلات کا نزول کہاں سے ہو گیا۔ اب اس کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں عین اسی طرح جیسے پارک لین، لندن پر واقع نواز شریف کے فلیٹس کی ہوئی تھیں۔ کیوں کہا جا رہا ہے کہ اس سال کے آخر تک اصل تبدیلی آ جائے گی اور اگر ان اسمبلیوں کے اندر سے نہ آئی تو سب کچھ لپیٹ دیا جائے گا، یہ ذہنی تیاری کیوں کروائی جا رہی ہے۔ قابل اعتماد ترین ذرائع کے مطابق، چوہدری شجاعت حسین، وزیر اعظم کو صاف بتا چکے ہیں کہ ان کی حکومت اگر درست راستے پر نہ چلی تو ان کے پاس چھ ماہ سے زیادہ وقت نہیں۔

چوہدری صاحب نے ایسا کیوں کہا۔ آپ نے چوہدری پرویز الٰہی کی ویڈیو دیکھ لی جس میں وہ جہانگیر ترین کو بتا رہے ہیں کہ سرور کو روکو وہ پنجاب میں کام نہیں چلنے دے گا۔ یہ ویڈیو کس نے بنائی، خود پرویز الٰہی کے سٹاف نے، لیک کس نے کی، خود پرویز الٰہی کے سٹاف نے، بعد میں کیا ہوا، کہا گیا کہ یہ غلطی تھی جس کی وجہ سے اندرونی گفتگو باہر آئی، سوچیں ذرا کہ اگر یہ غلطی نہیں تھی تو۔

Read more

زرد بیج ہوں اور سبز ہونا چاہتا ہوں

ٹوکیو سے ٹورنٹو تک کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ ترین سطح پر مکالمہ جاری ہے کہ تیزی سے پھیلتے ٹیکنالوجی کے انقلاب کے اثرات دنیا پر کیا ہوں گے۔ اس بات پر تقریباً سب کا اتفاق ہے کہ بھاپ کے انجن کی ایجاد کے بعد پرانی معاشی ترتیب کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوئی، ایک نیا معاشی نظام نمودار ہوا جس کی ضروریات اور جبر سے دنیا بھر کی سلطنتیں اور معاشرے شدید متاثر ہوئے۔ جنگیں تو ہمیشہ سے لڑی جاتی رہیں

Read more

روحانیت کے گہرے سمندروں میں پاکستانی حکومت کی کاغذی ناؤ

سچی بات ہے کہ حکومت جبکہ پوری طرح سے بن بھی نہ پائی ہو، نکتہ چینی کرنا بری روایت ہے۔ اس لئے صبر سے کام لے کر اچھی امیدیں باندھے رکھیں۔ مگر کمال ہے عمران خان کا کہ انہوں نے شروعات ہی کچھ اس ڈھنگ کی ہیں کہ 28 اگست کی شام ارشاد بھٹی جیو پر اور سمیع ابراہیم تک بول ٹی وی پر چلا اٹھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ میں نے نئے پاکستان کی نئی نویلی وفاقی

Read more

آ چکی تبدیلی؟

کیا تبدیلی آ چکی ہے؟ میں ڈھونڈتا پھر رہا ہوں مجھے ملتی نہیں سوچا آپ سے پوچھ لوں۔ آ ہی چکی ہو ہوگی۔ یاد کرتے ہیں جب تمام حفاظتی انتظامات کے باوجود محترمہ بے نظیربھٹو وفاق میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئیں اور جو سمجھوتے انہوں نے کیے ان کا جواز حکومت چلانے کے علاوہ کچھ ہو نہیں سکتا تب بھی وہ روایتی طاقت کے مراکز کو مطمئن نہ کر پائیں اور اگلے ہی سال قومی اسمبلی میں اپوزیشن

Read more

ووٹر اپنے حصے کی جہنم کا انتخاب کر لیں

انتخابات میں اب چند گھنٹے باقی ہیں۔ دھماکے سیاست میں اور بدقسمتی سے گراؤنڈ پر بھی جاری ہیں، اس وقت ایک بے یقینی، سیاسی خلا کی سی کیفیت کا ہونا عین فطرت کے مطابق ہے مگر اس بار تذبذب اور اظطراب زیادہ ہے۔ تحریک انصاف کے زیادہ تر ووٹر اس وقت مسلم لیگ کی قیادت کے ساتھ ہونے والی کارروائی کو جس شعوری سطح پر کھڑےہو کر دیکھ رہے ہیں وہاں سے انہیں یہ سب بہت جائز اور قدرت کا

Read more

انتخابی مہم میں سیاسی قیادت کو اپنی حفاظت سے غافل نہیں ہونا چاہیے

مستونگ میں ہونے والی سنگدلانہ دھشت گردی کی واردات نے ہر پاکستانی کا دل دہلا دیا۔ رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کردی۔ حال ہی میں اسلام آباد میں پاکستان، روس، ایران اور چین کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے سربراہان کی میٹنگ ہوئی۔ 12 جولائی کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق، میٹنگ کا ایجنڈا افغانستان میں طاقت پکڑتی داعش کی کارروائیوں سے متعلق تھا۔ یہ ایک بہت غیر معمولی ملاقات تھی، روس کے صدر پیوٹن کئی مرتبہ لوکل اور

Read more

کل خرگوش کو پکڑنے کے ڈرامے نے اسے سیاسی شیر بنا دیا

چند دن پشاور میں گزار کر سوچ رہا تھا کہ آپ کو بتاؤں کہ پشاور کی حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ پرویز خٹک وہاں کی سڑکوں پر بم مار کر بھاگ گئے ہیں، کیا معلوم تھا کہ وہاں واقعی خود کش دھماکہ ہو جائے گا اور ہارون بشیر بلور شہید ہوں گے۔ کل کی بات لگتی ہے جب بشیر بلور کا انٹرویو ان کے گھر میں لیا تھا جہاں سفید مور گہری سبز گھاس پر پھرتے اور سفید حسین

Read more

2018 کے انتخابات میں کیا نیا ہونے جا رہا ہے؟

انتخابات کا موسم ہے۔ اس موسم میں سیاسی جذبات میں ابال آیا ہی کرتا ہے۔ ماضی میں جب سیاسی بیان محض اخبار ہی شائع کرتے تھے تب بھی بتاتے تھے کہ فلاں کی تقریر لہو گرمانے والی، ولولہ انگیز تھی یا ٹھنڈی۔ نعرے فلک شگاف ہیں یا نہیں، اندازہ لگائیں، فلک شگاف۔ اب اس کے ساتھ نیوز چینلز، سوشل میڈیا نے سیاسی حدت کو کہیں زیادہ دہکا یا بھڑکا دیا ہے۔ اسی ماحول کو لائقِ احترام نصرت جاوید اندھی نفرت

Read more