روشن خیالی کے نام پر تاریک خیالی اور اپنی جہالت کے پوسٹر

جہالت پر کسی کی اجارہ داری نہیں، یہ وہ کیفیت ہے جس کا کسی ڈگری، کسی یونیورسٹی سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ یہ کس پر اور کب طاری ہو جائے اس کا بھی کوئی اندازہ نہیں۔ ہمارا ملا بھائی نہایت درد مندی سے اسلام کا مقدمہ اس انداز سے لڑتا ہے کہ خود اسلام چیخ اٹھے کہ مجھے ایسے وکیلوں سے بچاؤ۔ عیسائیت کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، ہم مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ، جو اللہ کے پیغمبر اور سچے رسول ہیں کو عیسائیوں نے حد سے بڑھی عقیدت میں، ان کی حیثیت اور مقام سے اتنا آگے بڑھایا کہ خدا کا شریک بنا ڈالا اور ایسا انہوں نے حضرت عیسیٰ کی محبت میں کیا نتیجتاً شرک پر اتر ائے، یعنی نہایت عقیدت سے گمراہی کا راستہ چن لیا۔ اب ان کو بہکانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ رب کریم نے نہایت نہایت خوبصورتی سے قرآن میں بتایا ہے کہ ہم روز قیامت عیسیٰ سے پوچھیں گے کہ کیا تم نے ان لوگوں کو بتایا تھا کہ تم ہمارے بیٹے ہو۔ حضرت عیسیٰ کا جواب بھی بتا دیا ہے کہ وہ کہیں گے کہ میرے رب میں نے تو انہیں ایسا کچھ نہیں بتایا تھا۔روشن خیالی کے وکیلوں نے اس ملک میں ایک جائز مقدمے کا بیڑا غرق اس انداز میں کیا ہے کہ روشن خیال جہاں بھی ہو گا اس نے اپنا سر پیٹ ڈالا ہوگا۔ خواتین کے عالمی دن پر خواتین کے حقوق کے نام پر جو تماشا ہوا، اس سے کیا نتیجہ نکلے گا، اس طرح کے وکیلوں کے ہوتے ملا بھائی کو کیا رنج کہ اس کا مقدمہ تو خود یہ توجہ کی طالب خواتین لڑتی ہیں۔

Read more

فیاض چوہان، نوائے وقتی سچ اور اسرائیلی پائلٹ

آئیے جشن منائیں کہ ہم نے اسلامی اقدار کو اپناتے ہوئے پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان سے جان چھڑا لی کہ اس نے مسلمان اکثریت کے معاشرے میں ہندو اقلیت کا دل دکھایا تھا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق اقلیت کی جان، مال، آبرو اور عبادت گاہوں کی حفاظت مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر ایک وزیر ہی اقلیتوں کی آبرو یعنی مذہب کامذاق اڑائے تو وہی ہونا چائیے تھا جو ہوا۔ مگر ٹھہریں یہ سب اسلام کے نام پر تو نہیں ہوا پھر کس لئے ہوا۔

چلیں جشن منائیں ہم لبرل ہو چکے آزاد خیال ہیں اور انسانی حقوق کے راستے پر اتنا آگے چل چکے کہ ایک وزیر نے ہمارے لبرل معاشرے میں اقلیت کے مذہب کا تمسخر اڑایا اور ہم نے کینیڈا کے روادار معاشرے کو پیچھے چھوڑتے ہوئے انسانی حقوق کی مثال قائم کر دی۔ مگر ٹھہریں، حکومت بنے زیادہ عرصہ نہیں گزرا، عاطف میاں نام کا ایک معاشی ماہر جس کی قابلیت کا احترام امریکہ سمیت دنیا بھر کے معاشی اداروں میں کیا جاتا ہے کو عمران حکومت نے انگیج کرنے کا سوچا ہی تھا کہ شور اٹھا وہ تو قادیانی ہے۔ تبدیلی کی دعویدار حکومت دم دبا بھاگ گئی۔ تو پھر یہ کیا تھا، نہ اسلامی نہ لبرل یہ آج کا سرکاری سچ تھا جو جنگی حالات کے جبر تلے ہونا ہی تھا، یعنی صرف اور صرف خالص سیاست تھی۔

زیادہ عرصہ نہیں گزرا مجید نظامی مرحوم کا ایک ادارہ ہو ا کرتا تھا نوائے وقت۔ ہے تو آج بھی مگر نہ زندوں میں نہ مردوں میں، بہرحال جب یہ ادارہ پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا اس وقت اس ادارے کی پالیسی کا ترجمان جو کہ کسی بھی اخبار کا اداریہ ہوتا ہے، میں ہندو لفظ اکیلا کبھی چھپا ہو مجھے یاد نہیں۔ کیونکہ اس لفظ کے ساتھ، مکار، کمینہ، بنیا، سازشی جیسے اعزازات ہمیشہ چھپتے تھے۔ یعنی مکار ہندو، سازشی ہندو، کمینہ ہندو وغیرہ۔

Read more

کالعدم تنظیموں کا گورکھ دھندا: تماشا ابھی باقی ہے

پاک بھارت بیزار کن تماشا، ایک بار پھر بغیر کسی نتیجے کے ڈھل چکا۔ یقیناً پاکستان اس سے فاتح بن کر نکلا ہے، یہ میں نہیں دنیا بھر کا میڈیا کہہ رہا ہے اور ایسا وہ ہماری محبت میں نہیں کہتا۔ اس حالیہ بحرانی کیفیت میں بھارتی میڈیا کے کردار نے ہماری بہت مدد کی۔…

Read more

بھارتی میڈیا کا جنون: شکر ہے میں بھارتی نہیں

ویسے تو 14 فروری محبت کا دن کہلاتا ہے کہ تجدید محبت ہو یا اظہار محبت، یہ تاریخ محبت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ مگر اس 14 فروری کو پلوامہ میں ہوئے حادثے کے بعد سے آج تک تجدید محبت پاکستان سے اور اظہار محبت عمران خان سے ہو رہا ہے۔ انسانوں کی شخصیت، سادہ حساب و کتاب سے بہت مختلف ہوتی ہے اور کا بہترین مشاہدہ آج کل دیکھنے کومل رہا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں میں نہ تو مہنگائی کم ہوئی نہ ہی غربت، نہ ہی کوئی خزانہ نکلا نہ ہی مغربی دنیا ہمارے ساتھ آ کر کھڑی ہوئی۔

یہ کس بات پر خوشی کا احساس ہے، کیوں دل شکر ادا کر رہا ہے کہ میں ہندوستان میں کھینچی گئی لکیر کے اس جانب پیدا ہوا جو، اب پاکستان ہے۔ ایسا شکر کا احساس بہت کم ہوا ہے۔ میں ہندوستان کی معاشی طاقت، اس کی سفارتی حیثیت، اس کی ثقافت سے جتنی واقفیت رکھتا ہوں اس کے بعد خود پر بلا وجہ فخر کی کوئی وجہ سرے سے نہیں بنتی۔ مجھے بھارتی میڈیا کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ اس کے گزشتہ دو ہفتے کے کردار نے مجھے پاکستانی ہونے پر فخر دلایا۔

Read more

شکر ہے، میں بھارتی نہیں

ویسے تو 14 فروری محبت کا دن کہلاتا ہے کہ تجدید محبت ہو یا اظہار مہبت، یہ تاریخ محبت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ مگر اس 14 فروری کو پلوامہ میں ہوئے حادثے کے بعد سے آج تک تجدید محبت پاکستان سے اور اظہار محبت عمران خان سے ہو رہا ہے۔ انسانوں کی شخصیت، سادہ…

Read more

سعودی ولی عہد تحریک انصاف میں جان ڈال گئے

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دورہ، پاکستان تحریک انصاف کے دوستوں کے بجھے سے چہروں پر زندگی دوڑا گیا۔ عرصہ تو محض چھ ماہ کا ہی گزرا تھا مگر واقعات و حالات کے تابڑ توڑ حملوں نے پی ٹی آئی کی لیڈرشپ اور کارکنوں کو خاموش سا کروا دیا تھا۔ کمزور سا دفاع ہوتا یا پھر سیدھی گالیاں، جو دلیل نہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اس صورتحال میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، پی ٹی آئی کو طاقت کا انجکشن لگا گئے، ان میں جان دوڑی اور سوشل میڈیا پر اب وہ گرج برس رہے ہیں۔ ان کا حق ہے کہ وہ اپنے لیڈر اور انتخاب پر خوش ہوں داد دیں، نعرے لگائیں لیکن یاد رہے کہ ان کے لئے یہ وقتی ریلیف ہے، چند دن گزر جائیں گے پھر زمین کی حقیقتیں سامنے ہوں گی۔ ان دو سیاسی جماعتوں کی گہما گہمی سے باہر نکل کر دیکھیں تو پاکستان کے لئے یہ دورہ بہت اہم تھا۔

Read more

ایوان صدر کو ایوان وزیراعظم سے بالاتر بنانے کی گونج سنائی دے رہی ہے

برادرم ذوالفقار راحت کی دعوت اور اصرار پر صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات کے لئے اسلام آباد جانا ہوا۔ اور ایک دن میں جتنی مصروفیت ممکن ہو سکتی ہے اتنی ہی رہی۔ گیارہ بجے صدر سے ملاقات، دوپہر کا کھانا آئی جی اسلام آباد کے ساتھ، بعد دوپہر کی گپ چوہدری فواد کے ساتھ اور رات کا کھانا اسلام آباد کلب۔ البتہ میں اسلام آباد ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فواد کے ساتھ گپ شپ کے بعد کچھ اور ملاقاتوں کے لئے نکل گیا اور رات گئے لاہور واپسی کے لئے روانہ ہوا۔

Read more

جیل میں ملاقات: میں نے میاں نواز شریف کو ایسا مرجھایا ہوا کبھی نہیں دیکھا

ہلکی برستی بارش میں جمعرات کی صبح میں کوٹ لکھپت جیل کے سامنے کھڑا تھا۔ سڑک کے ایک جانب ٹی وی چینلز کی ڈی ایس این جیز کی قطار سی لگی تھی اور دوسری طرف ملاقاتیوں کی سواریاں۔ جیل دروازے کی جانب راستے پہ سیکیورٹی بیریئرز تھے اور تیاری پکڑتے پولیس اہلکار، انتظار تھا کہ…

Read more

وزیر اعلی عثمان بزدار ہی رہیں گے، عمران خان کا فیصلہ

سب سے پہلے تو یہ خبر پڑھ لیں کہ وزیر اعظم عمران خان سانحہ ساہیوال کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی پشت پر زیادہ مضبوطی سے کھڑے ہیں ہیں لہذا عثمان بزدار کہیں نہیں جا رہے، کپتان کے ایک قریب ترین ذریعے نے مجھ سے بات کرتے ہوئے جتنی شدت سے عثمان بزدار کا دفاع کیا اس سے مجھے یوں محسوس ہوا کہ تحریک انصاف کے اپنے ممبران اسمبلی جتنا چاہیں شور مچا لیں، وہ اتنے ہی بے بس ہیں جتنے ہماری جمہوریت میں ارکان اسمبلی ہو سکتے ہیں، امید ہے کہ انہیں اب سکون ہو گا، چاہیں تو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی سے اب وہ گلے مل کر گانا گا سکتے ہیں، تیرا غم میرا غم اک جیسا صنم۔

Read more

ہم تماش بین ہیں اور بس۔۔۔‎

بیس سال ہونے کو آئے، جاوید اقبال نامی ایک شخص مرحوم پولیس افسر طارق کمبوہ کے پاس پیش ہوا اور بولا میں نے سو بچے قتل کئے ہیں۔ طارق کمبوہ نے سوچا کہ اس شخص کا دماغی توازن خراب ہے اور اسے باہر نکلوا دیا۔ اب اس نے روزنامہ جنگ کو خطوط لکھے جن کے…

Read more