امریکہ کے ساتھ تعلقات اور لڑکھڑاتی سفارت کاری


بی بی سی کے پروگرام سیربین میں یہ بیان دینے پر جب میزبان نے شاہ محمود قریشی سے پوچھا کہ اگر یہ رقم پاکستان کا حق ہے تو پاکستان اسے وصول کرنے کے لئے کیا کرے گا۔ اس کا پاکستانی وزیر خارجہ کے پاس جواب نہیں تھا کیوں کہ ذبردست کے سامنے کوئی کمزور کر بھی کیا کرسکتا ہے۔ لیکن پاکستان کمزور ہونے کے باوجود ایٹمی طاقت ہونے کا تمغہ سجائے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گا۔ اسی لئے اس سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی کو اخلاقیات کی دہائی دینا پڑی جس کی سفارت کاری یا امریکہ کی حکمت عملی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

یوں بھی اگر شاہ محمود قریشی کی یہ بات مان لی جائے کہ امریکہ نے کولیشن سپورٹ فنڈ سے جو رقم پاکستان کو فراہم کرنی ہے یا کرتا رہا ہے، وہ امداد نہیں ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کے اخراجات کا معاوضہ ہے تو بھی امریکی مؤقف تو واضح اور صاف ہے کہ پاکستان جس کام کا حق خدمت مانگ رہا ہے، وہ اس نے سرانجام ہی نہیں دیا۔ وہ اپنے علاقوں میں افغان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے، انہیں واپس افغانستان میں دھکیل دے اور پاکستان میں افغان طالبان لیڈروں اور ان کے اہل خانہ کو تحفظ دینے کی پالیسی ترک کردے تو امریکہ پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ میں سے رقوم ادا کردے گا۔ دیانتداری سے دیکھا جائے تو امریکہ بھی وہی بات کہہ رہا ہے جو شاہ محمود قریشی نے کہی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ پاکستان کہتا ہے کہ اس نے وہ کام کیا ہے جس کا معاوضہ دینے سے انکار کیا جارہا ہے اور امریکہ کہتا ہے کہ نہیں وہ کام ویسے نہیں ہؤا جیسا کہ طے ہؤا تھا۔ اس کام کو درست طریقہ سے انجام دیا جائے تب ہی ’معاوضہ ‘ ملے گا۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ مؤقف اختیار کیا ہوا ہے کہ پاکستان کو امریکی امداد کی ضرورت نہیں ہے لیکن پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف جو جنگ کی ہے اس کا اعتراف کیا جائے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ کسی بڑی طاقت کو آنکھیں دکھا کر تو اپنی خدمات کا اعتراف کروایا نہیں جا سکتا ۔ تو اس کا ایک ہی حل ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف وہ کارروائیاں کرنا بند کردے جو وہ امریکہ سے کولیشن سپورٹ فنڈ میں سے رقوم لینے کے لئے کرتا ہے۔ کیوں کہ جس کام کا طے شدہ معاوضہ دینے سے انکار کیا جا رہا ہے، اسے انجام دینے سے انکار کرنے میں پاکستان بالکل حق بجانب ہوگا۔ تاہم اس میں یہ قباحت ضرور پیش آئے گی کہ پاکستانی عوام کے سامنے حکومت اور فوج کو اپنا مقدمہ درست انداز میں پیش کرنا پڑے گا۔ یہ بتانا پڑے گا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ امریکہ کو سہولت بہم پہنچانے کی مقررہ قیمت وصول کرنے کے لئے یہ کام کرتا رہا ہے۔ البتہ یہ مؤقف اس پاکستانی پالیسی سے متصادم ہو گا جس کے مطابق پاکستان دہشت گردی کو اپنی جنگ قرار دیتا ہے اور اس کے خاتمہ کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کا اعلان کرتا رہتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو فوجی کمانڈر جنرل جوزف ڈنفورڈ کے ساتھ منگل کو جب نئی دہلی جاتے ہوئے تھوڑی دیر کے لئے اسلام آباد رکیں گے تو ان کا ایجنڈا ایک نکاتی ہوگا۔ کہ پاکستان افغانستان میں سرگرم عناصر کو اپنے قبائلی علاقوں سے نکال دے یا افغان طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرلے۔ پاکستان کی طرف سے اس معاملہ میں خواہ کیسی ہی عذر خواہیاں کی جائیں موجودہ امریکی حکومت کوئی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں۔ سخت گیر امریکی مؤقف کی ایک وجہ پاکستانی پالیسی کا دوغلا پن ہے۔ پاکستان نہ افغانستان کے معاملات سے مکمل طور سے الگ ہونے کے لئے تیار ہے اور نہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہے۔ ایک طرف امریکہ کو خوش رکھنے کے لئے ہر قسم کے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد شروع کئے گئے ہیں اور دوسری جانب افغان طالبان سے راہ و رسم برقرار ہیں۔ پاکستان کو امید ہے کہ امریکہ جب عاجز آکر افغانستان سے نکل جائے گا تو طالبان ہی افغانستان میں پاکستانی مفادات کے تحفظ کے لئے اس کا سہارا بنیں گے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری یہ حکمت عملی اب امریکہ پر عیاں بھی ہو چکی ہے اور پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام بھی رہی ہے۔ پاکستان جب تک اس پالیسی کو تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہو گا ٹرمپ حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے کی بجائے مزید سنگین صورت اختیار کرسکتے ہیں۔

پاکستان اب امریکہ کا اسٹریجک پارٹنر نہیں ہے۔ یہ اعزاز اب بھارت کو حاصل ہو چکا ہے۔ سیکرٹری پومیو اسلام آباد سے اڑان بھر کر نئی دہلی جائیں گے جہاں وہ اپنے نئے دوست ملک بھارت کے ساتھ مشترکہ مفادات کے اسٹریجک پہلوؤں پر تبادلہ خیال کریں گے۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان پاکستان کے حوالے سے مشترکہ تشویش میں سی پیک منصوبہ سر فہرست ہے۔ جس طرح پاکستان میں اس منصوبہ کو گیم چینجر قرار دیا جاتا ہے، اسی طرح امریکہ اور بھارت اسے علاقے میں اپنے اثر و رسوخ اور مفادات کے لئے مہلک سمجھتے ہیں۔ پاکستان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک بڑی گیم جیتنے کے لئے چھوٹی پسپائی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ افغانستان کے بارے میں پاکستان کی سخت گیر پالیسی ایسی ہی چھوٹی لڑائی ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali