6 ستمبر 1965 کی صبح میجر جنرل اختر حسین ملک کہاں تھے؟


رن آف کچھ میں کامیابی کے بعد پاکستانی فوج کے حوصلے بلند تھے۔ چنانچہ بھارتی افواج کی خستہ ذہنی حالت کا اندازہ کرتے ہوئے مئی 1965ء میں آپریشن جبرالٹر کی منصوبہ بندی کی گئی۔ 8 اگست 1965ء کو میجر جنرل اختر حسین ملک کی کمان میں آپریشن جبرالٹر کا آغاز کیا گیا۔ میجر جنرل اختر حسین ملک 12ویں ڈویژن کے جی او سی تھے۔ تاہم 28 اگست تک واضح ہو گیا کہ آپریشن جبرالٹر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہا بلکہ 12ویں ڈویژن پر بھارتیوں کے پے در پے حملوں کے باعث مظفر آباد شہر بھی خطرے کی زد میں آ رہا تھا۔ اس موقع پر یکم ستمبر 1965ء کو آپریشن گرینڈ سلام شروع کیا گیا جس میں اکھنور کے قریب بین الاقوامی سرحد پار کرنا بھی شامل تھا۔ 2 ستمبر کو چھمب جوڑیاں محاذ کی کمان میجر جنرل اختر حسین ملک سے لے کر میجر جنرل یحییٰ خان (جی او سی  7th ڈویژن) کے سپرد کر دی گئی۔ کمان کی تبدیلی میں ایک دن صرف ہو گیا۔ اس تبدیلی کے اسباب واضح نہیں ہو سکے۔ قدرت اللہ شہاب کہتے ہیں کہ جنرل ایوب خاں اکھنور کی ممکنہ فتح کا سہرا میجر جنرل یحییٰ خان کے سر باندھنا چاہتے تھے۔ الطاف گوہر لکھتے ہیں کہ کمان کی تبدیلی جنرل موسیٰ خان اور وزارت خارجہ کی طرف سے اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش تھی۔ بہرصورت چھ ستمبر کی صبح بھارت نے لاہور اور سیالکوٹ کے مقامات پر بین الاقوامی سرحد عبور کر کے کھلی جنگ چھیڑ دی۔ اس موقع پر میجر جنرل اختر حسین ملک کہاں تھے۔ آئیے اس پر جنرل ایوب خان کے صاحبزادے گوہر ایوب خان کی گواہی لیتے ہیں۔

چھ ستمبر کی صبح گوہر ایوب کراچی سے اسلام آباد سفر کر رہے تھے۔ اپنی کتاب "ایوان اقتدار کے مشاہدات” میں صفحہ 114 پر لکھتے ہیں،

” کراچی سے اسلام آباد پہنچنے کے بعد میں صبح نو بجے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کے پاس چلا گیا تاکہ تازہ ترین صورت حال معلوم کر سکوں۔ بھٹو سے چند منٹ بات چیت کے بعد مجھے باتھ روم جانے کی ضرورتت محسوس ہوئی۔ مجھے ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں میں نے ایک شخص کو بیڈ پر مدہوش پڑے ہوئے پایا۔ یہ شخص کوئی اور نہیں، میجر جنرل اختر حسین ملک تھے۔ میں جب کمرے میں داخل ہوا تو مجھے دیکھ کر انہوں نے اٹھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ اگرچہ ہم نے بادل نخواستہ ایک دوسرے کا حال پوچھ لیا تاہم مجھے محسوس ہوا کہ مدہوشی کے عالم میں انہوں نے مجھے پہچانا نہیں۔ میں نے بھٹو سے پوچھا کہ میجر جنرل اختر حسین ملک کو اپنے ہیڈ کوارٹر مری میں ہونا چاہیے تھا۔ وہ یہاں کیا کر رہا ہے؟ بھٹو نے صرف اپنے کندھے اچکائے اور منہ سے کوئی جواب نہیں دیا۔”

Facebook Comments HS