بیگم کلثوم نواز۔۔۔


کیا طر حدار، باوقار، بہادر، زیرک، معاملہ فہم اوردوربیں خاتوں تھیں۔ اور مشرق کی جیتی جاگتی تصویر، معرکہ پڑا تو میدان میں مردانہ وار اتریں، بے ننگ و نام ڈاکٹیٹر کوللکارا۔ آزمائش کی گھڑی ٹلی تو خاموشی کے ساتھ گھر بیٹھ گئیں تین بار” خاتونِ اول ‘‘کا اعزاز رکھنے والی میں رعونت کی رمق تک نہ تھی کمال درجے کی مہماں نواز۔ ایک دن پندرہ بیس افراد کی میٹنگ (اور بھر پور تواضع ) کے بعد میاں صاحب فرداً فرداً شرکا کو الوادع کہہ رہے تھے کہ اندر سے نکلیں ”یہ کیا کررہے ہیں؟ کھانا کھلائے بغیر آج تک میں نے کسی کو جانے دیا ہے اس گھر سے؟ روکیں سب کو کھانا لگ رہا ہے ‘‘

پانامہ عروج پر تھا جے۔ آئی۔ ٹی بن چکی تھی پیشیاں ہو رہی تھیں ہم ڈونگہ گلی مری والے گھر میں ٹیرس میں کرسیاں ڈالے بیٹھے تھے بس دو چار لوگ ہی تھے گرمیوں کے دن تھے لیکن اُس روز ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی بیگم صاحبہ بولی ”مریم مجھے ٹھنڈ سی لگ رہی ہے اندر سے کوئی چادر لے آؤ ‘‘اندر جانے میں شاید کچھ دیر لگ جاتی مریم نے اپنی شال اتار کر ماں کے کندھوں پر ڈال دی بات چل رہی تھی کہ پانامہ لیکس کا کیا بننا ہے۔ ایک وکیل صاحب بھی تھے میاں صاحب توجہ سے ان کی بات سُن رہے تھے اُن کا کہنا تھا کہ کسی جگہ آپ کا نام نہیں، کہیں کرپشن کا نام ونشان نہیں، کہیں ثبوت ہے نہ شہادت۔ کیسے سزاد یں گے۔ زیرک خاتون خاموشی سے سنتی رہیں۔

خوش گمانیوں کی برکھا تھمی تو بولیں ”نواز ایک لمحے کے لئے بھی مت سوچو کہ یہ تمہیں چھوڑیں گے یا کلین چٹ دیں گے جنہوں نے یہ سب کچھ کیا ہے وہ تمہیں بری کرنے کے لئے نہیں کیا پانامہ تو بس بہانہ ہے تمہیں اپنے اصل جرم اور قصور کا علم ہے یہ ضرور تمہیں سزا دیں گے کچھ ملے نہ ملے‘‘ اور ایک سناٹا چھا گیا ڈان لیکس کا آتش فشاں دہک رہا تھا جب بیگم صاحبہ نے ایک فیصلہ کن مرحلے پر تاریخ ساز کردار ادا کیا یہ کہانی پھر کبھی۔

وہ نیک بخت بھی تھی اور خوش بخت بھی اُسے آخر ی سانس تک پتہ نہ چلا کہ اُس کا میاں شہزادوں جیسی زندگیاں گزارنے والا باؤ جی اڈیالہ جیل کی تنگ و تاریخ کوٹھڑی میں پڑا ہے اُسے یہ خبر بھی نہ تھی کہ اُ س کی گڑیا جس کے آنسو پلکوں پہ دہرے رہتے تھے صرف نواز شریف کی بیٹی ہونے کے جرم میں، قیدِ تنہائی کاٹ رہی ہے اُسے یہ بھی علم نہ تھا کہ بغض، نفرت اور کینہ سے بھرے دِلوں اور دماغوں سے کیسی بساندھ اُٹھ رہی ہے وہ سو دوزیاں سے بہت دور جاچکی ہے۔

ڈھلتی رات کے پچھلی پہر اڈیالہ جیل کا پھاٹک کھلا کلثوم نواز کی گڑیا اور باؤجی ایک پولیس وین میں بیٹھے تو کلثوم نواز کی روح بلندیوں کو پرواز کرچکی تھی جیل کی سنگلاخ بلندو بالا دیواروں کی منڈیر پر پاکستان کی بے چہرہ سیاست، مکروجبڑے کھولے قہقہے لگا رہی تھی۔

اخلاقیات، روایات، اقدار اور انسانیت سے عاری اس حیاء باختہ سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی اور بیوی کو ”مصلوبِ قاتل ‘‘کا چہرہ بھی نہیں دیکھنے دیا تھا جانے ظلم و ستم کی یہ سیاہ رات کب ختم ہو گی؟ جانے کب ہم اس سرطان کوپاتال سے گہری قبر میں جھونک کر ایک مہذب قوم بن سکیں گے۔ بھٹو سے کلثوم تک جانے کس کس کی روح کو اس دن کا انتظار رہے گا۔ وہ ایک عظیم خاتون تھی۔ اللہ اُس کی عظمتوں کی نگہبانی فرمائے اُسے درجاتِ بلند سے نوازے۔ آمین!

https://twitter.com/IrfanSiddiqui__/status/1039898735558500352

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2