فواد حسن فواد کی پیش بینی اور میرے واہمے

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں بالعموم لوگ اپنی سوچ اور پسند کے مطابق کسی شخص کا خاکہ تیار کرتے، اس میں اپنے ذوقِ نظر کے مطابق رنگ بھرتے، اس کی تصویر کو ایک مخصوص چوکھٹے میں جڑتے اور پھر نفرتوں کے کباڑ خانے میں پھینک دیتے یا محبتوں کے نگار خانے…

Read more

فواد حسن فوادؔ ۔۔۔ کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے

فواد حسن فواد کبھی صرف فواد تھا۔ ایک دبلا پتلا دھان پان سا لڑکا جو ہاکی اور کرکٹ میں جُتا رہتا تھا۔ 14 جنوری کو وہ ساٹھ برس کا ہوا تو لاہور کے کیمپ جیل میں تھا۔ اُس دن وہ ہم سب گھر والوں کو بہت یاد آیا۔ وہ کوئی نصف صدی سے ہمارے گھر…

Read more

کشمیر کی بیٹی

مری چھوٹی سی جنّت کے چمن زاروں پہ جانے کون سے آسیب کا سایہ ہے پَت جھڑ کی یہ لمبی رُت بدلنے میں نہیں آتی غلامی کی شبِ تاریک ڈھلنے میں نہیں آتی کئی نسلوں کا خوں پی کر بھی کوئی مشعلِ اُمیّد جلنے میں نہیں آتی خدائے، بحر و بر! میں اس جہانِ سنگ…

Read more

حوالاتی نمبر  4266 : چیف جسٹس کے انصاف کا منتظر

اتوار 27 جولائی کی سہ پہر اڈیالہ جیل کی اونچی فصیلوں سے لگی کھڑی تھی اور میں سپرنٹنڈنٹ ثاقب کے دفتر سے اٹھ کر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ طاہر کے دفتر میں آ بیٹھا تھا۔ میرے اندر بے چینی کی کوئی ایسی لہر نہیں اٹھ رہی تھی لیکن جیل کا متعلقہ عملہ اس قدر عجلت میں تھا…

Read more

قلم کو ہتھکڑی ( 4 )

یہ نوجوان جانے کب سے اڈیالہ جیل کے سب سے خوفناک منطقے، ہائی سیکورٹی بلاک (HSB) کی اس کھولی میں بند تھے۔ میرے جرم کی نوعیت جان کر وہ بہت محظوظ ہوئے۔ شاید میری صلاحیتِ جرم کی کم مائیگی پر انہیں ترس آیا۔ لیڈر نما نوجوان بولا ”سر آپ کے لئے چائے بنائیں؟ “ میں…

Read more

قلم کو ہتھکڑی

شکستِ نشہ سے چور، مدقوق چہرے والا قیدی، راستے بھر بلکتا، پولیس والوں کی منتیں کرتا، گالیاں کھاتا، اپنے ہم سفروں کو ضیافت طبع کا سامان فراہم کرتا رہا، پیرانہ سالی سے نڈھال، اعضا کی شکستگی سے چور، خستہ حال پریزن وین خود کو سمیٹتی گھسیٹتی آگے بڑھتی رہی۔ خدا خدا کرکے کوئی گھنٹہ بھر…

Read more

قلم کو ہتھکڑی (2)

صرف تھانے کی حراست گاہ میں وقت چیونٹی کی رفتار سے چل رہا تھا۔ دن کے گیارہ بج چکے تھے۔ کمرے کے کھلے دروازے کے باہر پولیس اہلکاروں کی نقل و حرکت بڑھ رہی تھی۔ میں اس سوچ میں غلطاں تھا کہ عدالت کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا جا رہا؟ اب تک ایف آئی…

Read more