کیا ’خبر‘ جاں کَنی کے مرحلے میں ہے؟

کیا ’خبر‘ جاں کَنی کے مرحلے سے دوچار ہے؟ کیا یقین واعتبار سے محروم ہوکر وہ جنسِ خس وخاشاک کی طرح بے وقعت و بے وقار ہوجانے کو ہے؟ بظاہر کچھ ایسا ہی لگتا ہے اور یہ اُفتاد کی گھڑی ہے۔ ’خبر‘ اُس وقت بھی سچی اور درست ہونے کے سبب معتبر تھی جب وہ صدیوں قبل گھوڑوں، خچروں اور اُونٹوں پر سفر کرتی تھی۔ اُس وقت بھی ’خبر ‘کے سچ یا جھوٹ کو پَرکھنے کے پیمانے موجود تھے۔ اَب

Read more

اسیرانِ لاہور کا خط اور پی ٹی آئی

کیا وفا کیش اور جماعت سے گہری وابستگی رکھنے والے پانچ اسیرانِ لاہور کا خط، اندھی گلی میں بھٹکتی پی ٹی آئی کو جُگنو بھر روشنی دے پائے گا؟ کیا چند سطور پر مشتمل یہ’پریس ریلیز‘ ہرآن آمادۂِ بحران تحریکِ انصاف کو تصادم وپیکار سے ہٹ کر سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کی راہ سُجھا پائے گا؟ بظاہر اِس کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ خط کو منظرِ عام پہ آئے ایک ہفتہ ہو گیا۔ اب تک نہ پارٹی نے

Read more

علمی و ادبی اداروں پر یلغار اور وزیراعظم شہباز شریف!

یہ دسمبر 2015 کا ذکر ہے۔ علم دوست صدرِ پاکستان، ممنون حسین (مرحوم) نے مجھے یاد کیا۔ دِل سوزی اور دَرد مندی سے اردو کے بطور سرکاری زبان نفاذ اور علمی و ادبی اداروں کی عدمِ فعالیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا۔ ”کیوں نہ جگہ جگہ بکھرے پڑے، بے حس اور نااہل وزارتوں کی چکّی میں پستے، علمی، ادبی، ثقافتی اور تاریخی اہمیت کے تمام اداروں کو یک جا کر کے ایک الگ وزارت کی چھتری تلے دے دیا

Read more

میزانیہ اور زائچہ!

بجٹ منظوری کی مشق آخری مرحلے میں ہے۔ یکم جولائی سے نئے مالی سال کا میزانیہ روبہ عمل آ جائے گا۔ عام آدمی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے، صنعتی و تجارتی سرگرمیوں پر کیا گزرے گی، نیم جاں معیشت کس قدر توانا ہوگی، بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے ہم اپنے ماحول میں کتنی کشش پیدا کرسکیں گے، محصولات میں کتنا اضافہ ہو گا، داخلی اور خارجی قرضوں پر انحصار کس قدر بڑھے گا یا کم ہو گا،

Read more

عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد

اسباب و محرّکات جو بھی ہوں، زہریلے شیش ناگ کی طرح پھَن پھیلا کر پھنکارنے والی تلخ حقیقت یہ ہے کہ علوم و فنون کی ترقی، ایجادات میں حیرت انگیز پیش رفت، عالی شان درس گاہوں کی چشم کُشا تحقیقات، مصنوعی ذہانت کی کرشمہ سامانیوں، پُرامن بقائے باہمی، کے دلکُشا نعروں، بنیادی انسانی حقوق کے قصیدوں اور سلطانی جمہُور کی کارفرمائی کے باوجود دنیا بڑی تیزی سے جنگل کے قانون کی طرف پلٹ رہی ہے۔ فریب کاریوں کا رنگ و

Read more

عبدالرحمان پیشاوری’ عجب چیز ہے لذتِ آشنائی‘

میں  اپنے ایک کالم میں عبدالرحمان پیشاوری کا ذکر کر چکا ہوں جس نے چھبیس سال کی عمر میں، علی گڑھ کالج کو الوداع کہا اور ترکوں کے شانہ بہ شانہ ’جنگِ بلقان‘  لڑنے ایک صدی پہلے کے قسطنطنیہ جا پہنچا۔ برادرِ عزیز محترم ’خلیل طوقار‘ کو میں پاکستان میں ترکی کا غیررسمی سفیر کہا کرتا  ہوں۔ وہ گزشتہ تین سال سے پاکستان میں ’’یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ‘‘ سے منسلک، خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ کمال کی اُردو بولتے ہیں۔

Read more

مُودی کا ”نیو نارمل“ اور راکھ ہوتا سیندور!

”آپریشن سیندور“ کی لاش، دَس مئی سے بے گور و کفن پڑی ہے۔ اَب تو اُس سے تعّفن بھی اُٹھنے لگا ہے۔ کھال ہڈّیاں چھوڑ رہی ہے۔ مُودی، بہار کے انتخابات جیتنے کے لئے گلی گلی محلّے محلّے جھوٹ کے سرکس سجا رہا ہے۔ آپریشن سیندور کو اپنی فتح قرار دیتے ہوئے جَنتاَ کو گمراہ کر رہا ہے اور اُس کی مسلح افواج کھُلے عام اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے مُودی کی راہ کھوٹی کر رہی ہیں۔ مُودی کا

Read more

پی۔ ٹی۔ آئی اور ’معمولِ نو‘ (NEW NORMAL)

اپریل 2022 میں، تحریکِ عدم اعتماد، کے ذریعے محرومِ اقتدار ہونے کے بعد تحریکِ انصاف کے سامنے ایک راستہ تو وہی تھا جو جمہوری فکر کی حامل، سیاست کا وسیع تجربہ رکھنے والی بالغ فکر جماعتیں اختیار کیا کرتی ہیں۔ وہ سیدھے سبھاؤ اپوزیشن بینچوں پر بیٹھ جاتی۔ صرف دو ووٹوں کی برتری سے قائم، معجونِ مرکب جیسی مخلوط حکومت کا ناطقہ بند کیے رکھتی اور سائفر جیسے ناٹک رچانے اور فوج کو نشانے پر رکھ لینے کے بجائے تحمل

Read more

جنگ کے بعد کا منظر نامہ!

کیا پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات کی ایک نئی بساط بچھنے جا رہی ہے؟ اور کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ”تاجرانہ حرکیات“ بھارت کی ہٹ دھرمی کو موم کر پائیں گی؟ اِن سوالات کا واضح جواب آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ ٹرمپ جلدی میں لگتے ہیں ۔ وہ ایک طاقتور عالمی راہنما کی حیثیت سے اپنا لوہا منوانا چاہتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی کشمیر، پانی اور دہشت گردی جیسے مسائل پر جامع مذاکرات کے لئے اپنی آمادگی ظاہر

Read more

پشاوری کی عزیمت سے مُودی کی ہزیمت تک!

عبدالرحمٰن پشاوری تو عقل و خرد سے ماورا دیارِ عشق و جنوں کا باشندہ تھا۔ علامہ اقبال کے الفاظ میں مال و دولتِ دُنیا اور رشتہ و پیوند کے بُتانِ وہم و گماں کو توڑ کر ملّت میں گُم ہو گیا۔ پشاور سے علی گڑھ اور علی گڑھ سے قسطنطنیہ تک، عشق کی ایک ہی جست نے سارا قصّہ تمام کر دیا۔ بھرپور جوانی کے تیرہ برس ترک بھائیوں کی نذر کرنے کے بعد ، قسطنطنیہ کی ایک گلی کو

Read more

ترکوں کا ہیرو، اپنے گھر میں اجنبی!

میں یہ کالم کم و بیش ایک صدی پہلے کے قسطنطنیہ اور آج کے استنبول سے لکھ  رہا ہوں۔ کل مجھے ایک پاکستانی کی صد سالہ برسی کی تقریب میں شرکت کرنی ہے۔ تُرک قوم اُسے اپنا ہیرو مانتی، اپنا فرزند کہتی ہے۔ صدر طیّب اردوان جب بھی پاکستان آئے، کسی نہ کسی تقریب میں اُس کا ذکر ضرور کیا۔ ذکر بھی ایسا کہ ایک ایک لفظ گہری محبت کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ کیا قوم ہے کہ ایک

Read more

پہلگام کا خونیں ناٹک!

حقیقت احوال جو بھی ہو، کبھی پنڈت جواہر لعل نہرو کا بھارت، سیکولرازم کو اپنے سَر کی کَلغی قرار دینے میں فخر محسوس کرتا تھا۔ دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا تمغہ سینے پر سجائے پھرتا تھا۔ نریندر مُودی نامی تہی مغز اور رعونت شعار شخص نے، گلی محلے کے اوباش کی طرح بھارت کے چہرے کا یہ نقاب بھی تار تار کر دیا۔ بچپن سے ہی راشٹریہ سیوک سنگھ (راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ) کی آغوشِ دہشت میں پرورش

Read more

اقبالؒ۔ کیا ہم بھول جائیں گے؟

علامہ اقبال کو رُخصت ہوئے ستاسی برس ہو چلے۔ لیکن کیا دِلوں میں چراغِ آرزو جلانے، جہد مسلسل کا عزم عطا کرنے، خودی، خود آگاہی اور خود شناسی کا درس دینے، حاضر و موجود کی قید سے آزاد ہو کر نئے جہانوں کی تلاش و جستجو کی لگن ابھارنے، غلامی کی شبِ سیاہ میں سحر تراشی کا جنوں بخشنے اور ”لاہور سے تا خاکِ بخارا و سمرقند“ اِک ولولہ تازہ دینے والی زندہ و جاوداں شاعری کے نقوش بھی گردوغبارِ

Read more

مخاصمت کی صلیب پہ لٹکی مفاہمت اور مزاحمت!

پی۔ ٹی۔ آئی پر عجب وقت آن پڑا ہے۔ لق و دق صحرا میں بگُولے کی طرح رقص کرتے اور گھُمّن گھیریاں کھاتے ہوئے اُسے کچھ اندازہ نہیں کہ وہ کس کیفیتِ وجد میں ہے اور اُس کے گردوپیش کیا ہو رہا ہے۔ باگ کسی اور کے ہاتھ میں ہے، رکاب میں پاؤں کسی اور کا ہے، کاٹھی پر کوئی اور سوار ہے اور چابک کوئی اور لہرا رہا ہے۔ قائدین کے طور پر اڈیالہ جیل کے آس پاس منڈلاتے،

Read more

کیا توہین صرف عدلیہ ہی کی ہوتی ہے؟

میر تقی میر کی لُغت مُستعار لی جائے تو عدل کی کارگۂِ شیشہ گری کا کام بے حد نازُک ہے۔ اتنا نازُک کہ سانس بھی آہستہ لی جائے۔ یہ تلوار کی دھار سے تیز اور بال سے باریک پُل صراط پر سنبھل سنبھل کر پاؤں دھرنے اور توازن برقرار رکھنے کا فن ہے جس کے لئے جسمانی تربیّت یا اعضاء کی مخصوص ساخت کی نہیں، صرف اُس حلف کو اپنے ایمان و یقین کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے جو

Read more

عدلیہ کی بنیادوں میں بارُود!

اسلام آباد ہائیکورٹ پر ایک عرصے سے جلالی کیفیت طاری ہے۔ اِس کیفیت کا ارتعاش، شہرہ آفاق چھبیسویں ترمیم سے پہلے ہی محسوس کیا جا رہا تھا۔ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ اِس ارتعاش کا سبب کیا تھا جو پہلے اضطراب اور پھر اشتعال کی شکل اختیار کر گیا۔ تحقیق و جستجو کرنے والے صحافی اور معاملات کو گہری نظر سے دیکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ اِس کیفیت کا کچھ نہ کچھ تعلق تحریکِ انصاف کے بانی

Read more

’پراجیکٹ عمران خان‘ ۔ بہت مہنگا پڑ رہا ہے!

’جعفر ایکسپریس‘ کے دہشت گردانہ اغوا نے پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کو لرزا دیا۔ مسلح افواج کے دلیرانہ اور جزئیات کی حد تک پختہ کار پیشہ ورانہ آپریشن نے بہت بڑی خون ریزی سے بچا لیا۔ فوج کے جوانوں نے اپنی جانیں نچھاور کر کے، اپنے ہم وطنوں کی جانیں بچائیں۔ دشوار گزار سنگلاخ پہاڑی سلسلوں میں، دہشت گردوں کے نرغے میں گھری جعفر ایکسپریس کے چارسُو رات کے اندھیرے گہرے ہو رہے تھے، سینکڑوں گھرانے اپنے پیاروں کی

Read more

” عوامیّت“ کی موجِ بلاخیز اور جمہوریت!

امریکی اور یوکرینی صدور، ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان حالیہ مکالمہ چند منٹوں پر مشتمل تھا لیکن اِس مکالمے سے شروع ہونے والا ”مکالمہ“ ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ شرکائے نشست کی گفتگو، الفاظ اور لب و لہجہ ہی نہیں، ”بدن بولی“ (Body Language) بھی دیدنی تھی۔ یہ اُس عوامیّت (Populism) کا عُریاں مظاہرہ تھا جس کی کرشمہ سازیاں اَب یورپ، امریکہ اور لاطینی امریکہ تک ہی محدود نہیں رہیں، ایشیا تک آن پہنچی ہیں۔ کوئی آٹھ

Read more

خان صاحب! کیا آپ کی بھی کچھ حدود ہیں؟

بے برگ و ثمر خطوط نویسی سے اُکتا کر، عمران خان نے معروف امریکی جریدے ”ٹائم“ کے لئے ایک مضمون تحریر کیا ہے۔ یہ مضمون دراصل کس نے لکھا؟ کیسے ”ٹائم“ تک پہنچا؟ تحقیق و تفتیش کے کن مراحل سے گزر کر ”ٹائم“ اِس نتیجے پر پہنچا کہ یہ واقعی اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی تحریر ہے؟ یہ سب سوالات اہم سہی لیکن سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ مضمون عمران خان کے نام سے شائع ہوا اور

Read more

مُہمّات، مذاکرات اور مکتوبات سے ’گرینڈ الائنس تک‘

چیف جسٹس، مسٹر جسٹس یحییٰ آفریدی، عدالتی نظام میں اصلاحات کے لئے لا اینڈ جسٹس کمشن کی تیار کردہ دس نکاتی تجاویز پر وسیع تر مشاورت کر رہے ہیں۔ وزیراعظم اور اُن کے قانونی مشیروں کے بعد چیف جسٹس نے پی۔ ٹی۔ آئی کے آٹھ رُکنی وفد سے دو گھنٹے طویل ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد پی۔ ٹی۔ آئی کے زُعما نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے قوم کو آگاہ کیا کہ انہوں نے جناب چیف جسٹس کے سامنے کس

Read more

”سیاسی عدمِ استحکام“ کا تصوراتی بیانیہ!

اپریل 2022 سے اَب تک، پی۔ ٹی۔ آئی کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود پاکستان کسی سیاسی بحران کا شکار ہوا نہ روایتی عدمِ استحکام کا کوئی ایسا بھونچال آیا کہ دَرودِیوار لرز اٹھتے اور نظمِ حکومت کو سنبھالے رکھنا مشکل ہوجاتا۔ البتہ پی۔ ٹی۔ آئی کی اپنی کشتی بَرمودا تکون کے خونیں جبڑوں تک آن پہنچی ہے۔ چوبی تختے چرچرا رہے ہیں، بادبان دھجیاں ہو رہے ہیں، کشتی کو سنبھالا دینے کے بجائے مسافر ایک دوسرے کو سمندر میں دھکیل

Read more

اَب جج فیصلے نہیں، خط لکھتے ہیں!

کچھ عرصہ قبل سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی عدلیہ 142 ممالک میں 130 ویں اور خطے کے چھے ممالک میں پانچویں نمبر پر تھی۔ اِس مقامِ بلند پر فائز ہونے کا واحد محرّک عزت مآب جج صاحبان کی اپنی کارکردگی تھی کیوں کہ اُس وقت نہ چھبیسویں ترمیم آئی تھی، نہ ’اُمید سے‘ بیٹھے کسی جج کی ”حق تلفی“ ہوئی تھی، نہ کوئی آئینی بینچ تشکیل پایا تھا، نہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں تین جج صاحبان

Read more

پرویزمشرف سے ڈونلڈ ٹرمپ تک!

تحریکِ انصاف جس بے تابی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئی تھی، اُسی شتابی کے ساتھ رُخصت ہو گئی۔ 23 دسمبر کو شروع ہونے والا سلسلہ مذاکرات، تین نشستوں کے بعد 23 جنوری کو ختم ہو گیا۔ کبھی کرکٹ کے ایک بے ہُنر کھلاڑی کے بارے میں لطیفہ نما سی حکایت سُنا کرتے تھے۔ وہ اپنی باری آنے پر بلّا اٹھائے میدان میں اُترنے لگتا تو سُلگتا ہوا سگریٹ منہ سے نکال کر کسی دوسرے کھلاڑی کو تھماتے ہوئے

Read more

صرف آٹھ ماہ زندہ رہنے والا ”القادر یونیورسٹی ٹرسٹ“

190 ملین پاؤنڈ کے عدالتی فیصلے میں ”القادر یونیورسٹی پراجیکٹ ٹرسٹ“ کو جعلی (SHAM) ٹرسٹ قرار دیا گیا ہے جو بحریہ ٹاؤن کے مالک، ملک ریاض حسین سے، 170 ملین ڈالر کے عوض زمین، نقد رقوم اور متعدد دیگر مفادات بٹورنے کی خاطر پُرفریب چھتری کے طور پر قائم کیا گیا۔ میں نے ’القادر ٹرسٹ‘ کے حوالے سے تحقیق و جستجو کی تو ”صاف چلی شفاف چلی“ کی قبائے تقدیس تار تار ہوتی گئی اور اُس کے ”صادق و امین“

Read more

190 ملین پاﺅنڈ:کرپشن کی طلسم ہوش رُبا!

190 ملین پاﺅنڈ کے عنوان سے معروفِ زمانہ مقدمے کا فیصلہ آ گیا۔ اِس طلسمِ ہوش رُبا کا پہلاباب، سندھ سے طلوع ہوتا ہے جہاں ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور بحریہ ٹاﺅن کے درمیان وسیع وعریض زمین کاتبادلہ ہوا۔ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تو اِس ڈیل کو خلافِ قانون اور ناجائز قرار دیتے ہوئے بحریہ ٹاﺅن پر 460 ارب روپے کا جرمانہ عائد کردیاگیا۔ ساڑھے سات برس میں یہ رقم ادا کرنے کے لئے قسط بندی کر دی گئی اور اس

Read more

ان کے صحن میں سورج دیر سے نکلتے ہیں

ماں کے بارے میں میرے گزشتہ کالم نے نہ جانے کتنے دلوں کے تار چھیڑ دیے۔ کتنوں کے زخموں کا موم ادھیڑ ڈالا۔ مجھے بے شمار فون آئے اور اَن گنت پیغامات۔ ان میں سے ہر ایک نے میرے کالم کے آئینے میں اپنی ماں کا چہرہ دیکھا۔ لاریب ساری دنیا کی مائیں ایک سی ہوتی ہیں لیکن ہر ایک کی ماں، صرف اس کی ماں ہوتی ہے۔ دنیا بھر کی ماؤں جیسی لیکن سب سے جدا، سب سے منفرد۔

Read more

میری ماں

ماں کو دنیا سے رُخصت ہوئے اٹھارہ برس ہو گئے۔ پچھلی بار جب میں راولپنڈی کے اُس قدیم قبرستان پہنچا جہاں میرے والدِ مرحوم کی پائینتی سے ذرا آگے کر کے میری والدہ کی قبر ہے تو ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور آسمان بادلوں سے ڈھکا تھا۔ خزاں کا ناقوس بج چکا تھا۔ زمین پر پیلے رنگ کے پتے بکھرے ہوئے تھے۔ قبروں کے بیچوں بیچ گیلی مٹی سے چپکے ان پتوں پہ چلتا ہوا جب میں والدین

Read more

ایک تھی بے نظیر !!

بھٹو کی بیٹی کو رخصت ہوئے سترہ برس ہو گئے۔ اس سے میری آخری ملاقات کو کم و بیش اٹھارہ برس ہو چلے ہیں۔ اس طویل عرصے کے دوران کتنے ہی واقعات قصہ ماضی بن کر حافظے کی لوح سے محو ہو گئے۔ کتنی ہی یادیں وقت کا سیل تند رو بہا لے گیا۔ بے نظیر بھٹو کو میں نے کتنی ہی بار دیکھا ہو گا۔ باپ اور بھائیوں کی قبروں کے سرہانے پر کھڑے، ڈھلکتے آنسو ﺅں کو تھامتے

Read more

”سیاسی عدم استحکام“ کا بیانیہ!

کیا پاکستان واقعی کسی ’سیاسی عدمِ استحکام‘ کا شکار ہے یا یہ محض بیانیہ تراشی کے ہُنر کی معجزہ کاری ہے جو ”حقیقتِ ثابتہ“ کے طور پر دِل و دماغ میں بو دی گئی ہے؟ ”عدمِ استحکام“ کے مَرض کی تشخیص کے لئے ریاست کے تین بنیادی ستونوں، انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کی نبض کا جائزہ لینا ہو گا۔ دیکھنا ہو گا کہ کیا ان میں سے کوئی ایک ستون بھی متزلزل ہے؟ کیا یہ خطرہ منڈلا رہا ہے کہ

Read more

بے حکمتی کے گرداب میں مذاکراتی تنکے کی تلاش!

عمران خان کی اٹھائیس سالہ سیاسی زندگی، مذاکرات، مفاہمت اور مصلحت جیسے ”غیر انقلابی“ عوامل سے کُلّی طور پر عاری رہی ہے۔ اپوزیشن میں ہوں یا حکومت میں، وہ اپنے سیاسی حریفوں سے ہاتھ ملانا، بات کرنا بلکہ اُن کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی اپنی سیاسی غیرت و حمّیت کے منافی خیال کرتے ہیں۔ آج پی۔ ٹی۔ آئی جس گرداب میں غوطے کھاتے ہوئے کسی ”مذاکراتی تنکے“ کا سہارا ڈھونڈ رہی ہے، اُس تک لانے میں بنیادی کردار

Read more

”کیا یہ واقعی سیاسی جماعت ہے؟“

24 نومبر کی ”فائنل کال“ پی۔ ٹی۔ آئی کی نگاہ میں اس لئے ناکام و نامراد نہیں ٹھہری کہ وہ ڈی۔ چوک پہنچ کر اپنے عزائم کے خاکے میں رنگ نہیں بھر سکی۔ اُس کے نزدیک شکستِ آرزو کا نوحہ یہ ہے کہ حسبِ توقع لاشیں نہیں گریں، حسبِ تشنگی خون نہیں بہا اور حسبِ تسکین غارت گری نہیں ہوئی۔ پارٹی کے اندر ایک دوسرے کا گریبان پھاڑنے اور منہ نوچنے کا تماشا ”لاشوں“ کی تعداد پر لگا ہے۔ ”حسب

Read more

”فائنل کال“ اور ’گوئبلز‘ کی بے چین روح!!

کیا پی ٹی آئی، 24 نومبر کی لشکر کشی اور شرم ناک ہزیمت کے بعد، زمینی حقائق سے متصادم جارحانہ غیردانش مندانہ اور طفلانِ خود معاملہ جیسی بے سروپا حکمتِ عملی کی رسوا کن بے ثمری پر غور کرے گی؟ کیا وہ خود کو کسی فریبِ مسلسل میں مبتلا رکھنے اور اپنے پیروکاروں کو دشتِ بے اماں کے سرابوں کا رزق بنا دینے کے بجائے ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچے گی کہ اس نے کہاں کیا ٹھوکر کھائی اور

Read more

مدینہ شریف کہاں واقع ہے؟

24 نومبر کا ”یوم مارو یا مر جاؤ“ ابھی منزل مراد تک نہیں پہنچا۔ سو اس کے انجام سے قطع نظر، عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے اس شہرہ آفاق بیان کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے جس نے پی۔ ٹی۔ آئی کی بے ہنری اور کم دانشی کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ پی۔ ٹی۔ آئی جب بھی کوئی ایسا کارنامہ سرانجام دیتی ہے، لوگ انگشت بدنداں، تصویر حیرت بنے سوچتے رہ جاتے ہیں کہ

Read more

کوئی لاش گرے، کوئی خون بہے، کوئی بات بنے!

تحریک انصاف کے بانی، عمران خان نے 24 نومبر کو ”یومِ مارو یا مر جاؤ“ قرار دے دیا ہے۔ دیکھیے اِس بحر کی تہہ سے کیا اُچھلتا اور گنبد نیلوفری کیا رنگ بدلتا ہے۔ اِس سوال کے جواب کے لئے افلاطونی دانش کی ضرورت نہیں کہ تحریکِ انصاف کو کس نے بند گلی کے اندھے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے؟ پی۔ ٹی۔ آئی کی تخلیق سے لے کر آج تک، اٹھائیس برس کے طویل عرصے میں، عمران خان نے

Read more

منحصر ’ڈونلڈ‘ پہ ہو جس کی امید!

عمران خان کو کچھ بھی کہہ لیں، اُنہوں نے پاکستانی سیاست کی کشتِ ویراں میں ایسے ایسے اچھوتے اور نادرِ روزگار عجوبے کاشت کیے ہیں، اور مسلسل کرتے چلے جا رہے ہیں، کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ”سیاسی“ کہلانے والی کوئی دوسری جماعت اُن کا تصوّر بھی نہیں کر سکتی۔ میں چاہوں تو ایسے اَن گنت عجوبوں کی فہرست مرتب کر سکتا ہوں لیکن کالم کی تنگ دامانی مانع ہے۔ سو میں فوجی تنصیبات پر منظم حملوں

Read more

ایک معزز جج کی خود نوشت کا ایک ورق!

جج اور وہ بھی کسی بڑی عدالت کا جج ہوتے ہوئے، فرصت و فراغت کے ایسے لمحے کہاں کہ باقاعدگی سے روزنامچہ لکھا جائے۔ مجھے تو کبھی ایسی یکسوئی میسّر نہ آئی کہ ٹِک کر اپنی یادداشتیں مرتب کرتا اور اپنے اہلِ وطن کو آگاہ کرتا کہ مجھ پر کیسے کیسے کڑے وقت پڑے لیکن میں نے کبھی اپنے ”ضمیر“ سے روگردانی نہیں کی۔ ہمیشہ وہی فیصلہ دیا جس کی آواز میرے دِل کے کسی عمیق گوشے سے اٹھی۔ ہر

Read more

آئینی ترمیم۔ پارلیمنٹ کی جارحانہ دفاعی جست

چھبیسویں آئینی ترمیم کی اونٹنی کم وبیش دوماہ تڑپنے پھڑکنے، پہلو بدلنے، بلبلانے اور دردِزہ جیسے کرب سے گزرنے کے بعد بالآخر، حکومتی اتحاد کے موافق کروٹ بیٹھ گئی ہے۔ برحق زمینی حقیقت اب یہ ہے کہ چھبیسویں ترمیم آئین کے حجلہِ عروسی میں آ بیٹھی ہے۔ اِس ترمیم کے ذریعے کی گئی تمام تبدیلیاں پاکستان کے آئین کا حصہ بن چکی ہیں۔ اِن تبدیلیوں کا درجہ ومقام اَب وہی ہے جو 1973ء کے دستور میں درج شقوں کا ہے۔

Read more

کیا ججوں کی تعیناتی عدلیہ کا خانگی مسئلہ ہے؟

چھبیسویں آئینی ترمیم کی ’اُونٹنی‘ ، آئندہ چار چھ دِنوں میں کسی نہ کسی کروٹ بیٹھ جائے گی۔ دو ہی ممکنات ہیں۔ ایک یہ کہ ترمیم کسی دروازے، کھڑکی یا دریچے سے راستہ بناتی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کا حصّہ بن جائے۔ دوسرا یہ کہ دَروازوں، دریچوں اور دیواروں سے سَر پھوڑنے کے بعد ، خاک بَسر، وزارتِ قانون میں پڑی فائلوں کے گورستان کا رزق ہو جائے۔ ڈولی اُٹھے یا اَرتھی، دونوں صورتوں میں ایک بھونچال بہر طور

Read more

ایسی ہوتی ہیں سیاسی جماعتیں؟

میں اتوار کے دِن یہ کالم لکھ رہا ہوں جو آپ منگل کو پڑھیں گے۔ عالم یہ ہے کہ گزشتہ چار روز سے اسلام آباد کی سڑکیں، گلیاں، بازار، منڈیاں، تعلیمی ادارے اور دفاتر بند پڑے ہیں۔ مریض ہسپتالوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ مسافر ہوائی اڈوں تک نہیں جا سکتے۔ تازہ سبزیوں، پھلوں اور روزمرہ استعمال کی اشیائے خورد و نوش کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ دیہاڑی دار مزدوروں اور محنت کشوں پر

Read more

تفصیلی فیصلہ: ہیجان خیز معجون مرکب!

سوال پُرانا ہی سہی مگر آج پوری شدّت سے اُٹھ کھڑا ہوا ہے اور جواب مانگتا ہے۔ کوئی بھی ادارہ، راہِ راست سے بھٹکے تو عدالت اُس کی گرفت کرتی ہے۔ پارلیمنٹ کے کسی بھی قانون کو اِس دلیل پر کالعدم قرار دے دیتی ہے کہ وہ آئین کے الفاظ یا روح سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اگر عدالت آئین و قانون کے واضح آرٹیکلز کی نفی کرے تو اُسے کون ٹھیک کرے گا؟ میں نے 12 جولائی 2024 کے عدالتی

Read more

”اَنہونی کے خوف“ سے جنم لیتا بحران!

12 جولائی 2024ء کا آٹھ رکنی عدالتی فیصلہ، ’کثیرالاولاد بحران‘ کی طرح مسلسل بچے جنتا چلا جا رہا ہے۔ اس نے ایک ایسے اونٹ کی شکل میں جنم لیا جس کی کوئی کل سیدھی نہ تھی۔ اب وہ محاورے کی زبان میں ”چینی آبگینوں کی دکان میں بپھرا ہوا بیل“ (A bull in the China shop) بن چکا ہے۔ ”طلسم ہوش ربا“ کا آغاز اس وقت ہوا جب متعدد بار یاد دہانیوں کے باوجود تحریک انصاف اپنے ہی دستور کے

Read more

9 مئی کا ’پرنٹ ایڈیشن‘ !

13 جنوری کی شام، تحریکِ انصاف کے بانی، عمران خان کے ترکش نے زہر میں بجھا ایک اور تیر چلایا۔ اُن کے، نیلے نشان والے باضابطہ ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے ایک طویل پیغام جاری ہوا۔ اِس پیغام میں ایک بار پھر آرمی چیف سید عاصم منیر کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک بار پھر حمودالرحمن رپورٹ کی ورق گردانی کی گئی۔ ایک بار پھر یحییٰ خان اور مجیب الرحمن کی یادیں تازہ کی گئیں۔ ایک بار پھر قاضی فائز عیسیٰ پر سنگ

Read more

پُرامن اجتماع کا قانون: ایک آئینی تقاضے کی تکمیل!

پُرامن اجتماع اور امنِ عامہ بل 2024، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری اور صدرِ مملکت کی توثیق کے بعد باضابطہ طور پر قانون بن چکا ہے۔ اس قانون کا دائرہِ اطلاق صرف اسلام آباد تک محدود ہے۔ یہ پانچ جماعتوں کا تیار کردہ پرائیویٹ بل تھا جس پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا، بلوچستان عوامی پارٹی کی سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری، عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر عمر فاروق، ایم۔ کیو۔ ایم کے سینیٹر فیصل سبزواری اور مسلم

Read more

عدالتی ایجادات کی کثیرالعیال ماں!

عزت مآب جسٹس منصور علی شاہ کے ”تصوّرِ آئینی توازن“ کی روشنی میں عدلیہ کے کردار پر بات کرتے ہوئے مجھے اس امر کا احساس رہتا ہے کہ جسٹس صاحب ہماری عدلیہ کا معتبر نام ہیں۔ بطور جج اُن کے کردار و عمل پر بھی کم ہی انگلی اٹھائی گئی۔ اگلے ماہ وہ چیف جسٹس کے منصبِ بلند پر فائز ہو رہے ہیں۔ جسٹس (ر) اعجازالاحسن مستعفی نہ ہوتے تو شاہ صاحب کو 6 اگست 2025 تک انتظار کرنا تھا۔

Read more

”خوف، رعایت، رغبت اور عناد“ کی صَلِیب پہ لٹکا ”آئینی توازن“ !

10 اگست کو ”اقلیتوں کے حقوق“ کے حوالے سے منعقدہ ایک سمینار میں تقریر کرتے ہوئے عزت مآب جسٹس منصور علی شاہ نے بعض نہایت فکر انگیز نکات اٹھائے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ”سپریم کورٹ کے فیصلوں پر ہر صورت میں عمل درآمد کرنا ہو گا۔ یہ ایک لازمی آئینی تقاضا ہے۔ اس طرف چل پڑے تو“ آئینی توازن ”بگڑ جائے گا۔ انتظامیہ کو سمجھنا ہو گا کہ فیصلوں پر عمل درآمد کے سوا کوئی چوائس نہیں۔“ خیال

Read more

ایک پرانا کالم!

(یہ کالم کوئی ساڑھے سات ماہ قبل 2 جنوری 2024 کو شائع ہوا تھا۔ تب اس کا عنوان تھا۔ ”9 مئی! دھند گہری ہو رہی ہے۔“ قندِ مکرر کے طور پر وہی پرانا کالم پیش خدمت ہے اس سوالیہ تجسس کے ساتھ کہ ”کیا دھند چھٹنے لگی ہے؟“) *** *** 9 مئی کی منصوبہ بند غارت گری پر مسلح افواج کا ردّعمل قطعی، غیر مبہم اور دو ٹوک تھا۔ کہا گیا ”یہ قومی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ سیاست کا

Read more

ہمارے آئین کا ’بنیادی تقاضا‘ اور برطانوی عدالتیں

سپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج، جو اِنشاءاللہ جلد ہی چیف جسٹس کے منصب بلند پر فائز ہوں گے، عزت مآب جسٹس منصور علی شاہ نے فرمایا ہے کہ ”عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد لازمی تقاضا ہے اور انتظامیہ کے پاس اِس کے سوا کوئی’چوائس‘ نہیں۔ اِس طرف چل پڑے تو آئینی توازن بگڑ جائے گا۔ سپریم کورٹ کو یہ اتھارٹی آئین نے دی ہے…“ جی چاہتا ہے کہ جج صاحب کے اِن ارشادات پر کچھ لکھوں لیکن

Read more

12 جولائی کا فیصلہ: حقیقی نظرثانی لازم ہے

معلوم نہیں شاعر کون ہے اور پورا شعر کیا ہے؟ لیکن فارسی زبان کا ایک مصرع ضرب المثل کا مقام حاصل کرچکا ہے۔ چوں کُفر از کعبہ بَر خیزد کُجا ماند مُسلمانی (جب، نعوذ باللہ، کعبہ ہی سے کفر پھوٹنے لگے تو مسلمانی کہاں جائے؟) آئین کی محافظ اور اس کی تشریح و تعبیر کی ضامن عدلیہ کے حالیہ زیرِبحث فیصلے پر اس سے زیادہ پُرمغز، معنی خیز اور برجستہ و برمحل تبصرہ ممکن نہیں۔ 12 جولائی کے شاہکار فیصلے

Read more

 مسئلہ بند نہیں، کھُلی عدالتیں ہیں!

گزشتہ ہفتے، تین معزز جج صاحبان نے، مختلف مواقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس، مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے جسٹس اطہر من اللہ کے تحریر کردہ ایک فیصلے سے جزوی اختلاف کرتے ہوئے اپنے نوٹ میں افسوس کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ خود ہی جلد فیصلہ سنانے کے اصول پر عمل نہیں کرتی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ دسمبر 2023 میں ہو گیا تھا جسے تحریر کرنے کی ذمہ داری جسٹس اطہر من اللہ

Read more

”غدّاران ِوطن“ اور ”جارُوب کَش بیانیہ“

’جارُوب‘ یعنی جھاڑو، فرش پہ بکھری پڑی اشیا میں کوئی امتیاز نہیں کرتا۔ سب کچھ سمیٹ کر کسی کونے میں جمع کردیتا ہے۔ جھاڑو پھیرنے ہی کے انداز میں، کسی موضوع کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور ٹھوس موقف اختیار کرنے کے بجائے محض پلڑوں کا توازن قائم رکھنے کے لئے عمومی فتویٰ نما بیان جاری کر دینے کو انگریزی میں (Sweeping Statement)  کہتے ہیں۔ اس کا مہذب ترجمہ تو ”جارُوب کَش بیانیہ“ ہی ہوسکتا ہے لیکن عام فہم

Read more

”نظریہ ضرورت“ سے ”نظریہ سہولت“ تک!

سپریم کورٹ کے تیرہ رُکنی بینچ میں شامل آٹھ معزز جج صاحبان کے ”تاریخ ساز“ فیصلے کی رُو سے خواتین اور اقلیتوں کی متنازع نشستیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے والی ”سُنّی اتحاد کونسل“ کو ملیں گی نہ اسمبلیوں میں موجود دوسری جماعتوں کو۔ اِن نشستوں کے حقدار، مختلف اسمبلیوں میں بیٹھے وہ افراد ہیں جنہوں نے کسی سیاسی جماعت کے ٹکٹ یا نشان پر الیکشن نہیں لڑا، جو آزادانہ حیثیت سے انتخابی اکھاڑے میں اترے، جنہوں نے اسمبلیوں میں آ

Read more

”تیزاب کا تالاب“ اور سنگدل تماش بین!

سات سال قبل، 2017 کے یہی روز و شب تھے جب ایک منصوبہ بند سازش کے ذریعے شاہراہ مستقیم پر چلتے پاکستان کو بے برگ و ثمر دلدلی جنگلوں کی طرف دھکیل دیا گیا۔ یہ سوال اَن گنت مرتبہ پوچھا گیا اور شاید برسوں بعد تک بھی پوچھا جاتا رہے گا کہ نواز شریف کو سیاست بدر کر کے ایک ناپختہ کار طفلِ خود معاملہ کو ملک کی باگ ڈور سونپنا کیوں ناگزیر ٹھہرا تھا؟ کیا پاکستان زوال پذیر تھا؟

Read more

امریکی قرارداد۔ پی ٹی آئی کی بڑی کامیابی!

”تقدیسِ انتخابات“ کے نام پر پاکستان کی پشت پر تازیانے برسانے اور اسے ”نکو“ بنا کر عالمی برادری میں رسوا کرنے کیلئے امریکی قرارداد کی تعبیر و تفسیر کچھ ایسی مشکل نہیں۔ انتخابات ہوئے پانچ ماہ ہونے کو ہیں۔ امریکی ترجمان متعدد بار اپنا سرکاری موقف دے چکے ہیں کہ ”یہ پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔“ یہ داخلی معاملہ یکایک اِس قدر سنگین عالمی مسئلہ کیسے بن گیا کہ امریکی کانگرس کو ایسی شعلہ بداماں قرارداد منظور کرنا پڑی؟ اس

Read more

مذاکرات: ایلچیوں کو رسوا نہ کریں!

میڈیا چوپالوں کی گرم بازاری کے باوجود پی۔ ٹی۔ آئی سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ سنجیدہ، بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لئے کوئی ٹھوس پیش رفت کر سکتی ہے۔ اِس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ٹھہراؤ، سبھاؤ، مکالمہ، بات چیت، افہام و تفہیم اس کی سرشت میں ہی نہیں۔ دوسرا سبب یہ کہ وہ سیاستدانوں کے بجائے آج بھی اُسی ”بارگاہِ فیض“ کی طرف دیکھ رہی ہے جہاں سے ماضی میں اُسے فیضان حاصل

Read more

سنگ خارا کی چٹان اور اہل دانش

گزشتہ ہفتے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ، پاکستان کے چیف جسٹس، مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے، عمران خان صاحب ( جو وڈیو لنک پر موجود تھے) سے کہا کہ ”آپ لوگ ڈائیلاگ کیوں نہیں کرتے؟ ڈائیلاگ سے کئی راستے نکلتے ہیں۔ مسئلوں کا حل نکلتا ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ مل بیٹھیں۔ یہ کوئی ایک دوسرے کے دشمن تو نہیں۔ اور بات چیت تو دشمنوں سے بھی کرنا پڑتی ہے۔ جائیں جا کر ارکانِ پارلیمنٹ سے بات کریں۔“ خان

Read more

”کالے بھونڈ“۔جسٹس اطہر من اللّٰہ کا معنی خیز استعارہ!

گزشتہ ہفتے، سپریم کورٹ میں، ”کالی بھیڑوں“ اور ’بلیک بمبل بی“ (Black Bumble bee) کا تذکرہ کچھ اس انداز سے آیا کہ سنجیدگی میں لپٹا کورٹ روم نمبر ایک، قہقہوں سے گونج اٹھا۔ میرا دل بھی سنجیدہ گفتاری بلکہ تلخ نگاری سے اوبنے لگا ہے۔ سو، جی چاہتا ہے ماحول کی اس شگفتگی سے تھوڑا لطف اٹھا لیا جائے۔ وزیراعظم شہبازشریف کی طرف سے پانامہ کے حوالے سے ججوں میں ”کالی بھیڑوں“ کے ذکر کی گونج سپریم کورٹ میں سنائی

Read more

ایک اور 9 مئی کی اکساہٹ!

9 مئی 2023ء کی پہلی سالگرہ کے ساتھ ہی، 365 دنوں پر محیط لمبی ڈھیل کو فولادی ڈھال بناتے ہوئے، پی ٹی آئی ایک اور فیصلہ کن 9 مئی کے لئے ہتھیار تیز کر رہی ہے۔ اس کا لہجہ ”بہارِ اقتدار“ کے خوش رنگ موسموں میں بھی شہد آشنا نہ تھا لیکن اب اس کے اَنگ اَنگ سے شرارے پھوٹ رہے ہیں اور ہونٹ تیزاب کے فوارے بن چکے ہیں۔ مبصرین اس جارحانہ پَن کے اسباب کا سراغ لگا رہے

Read more

یہ آپ کا بحران ہے، پاکستان کا نہیں!

کیا پاکستان واقعی کسی آتش فشاں کے دہانے پہ کھڑا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے اور کھولتا ہوا لاوا سب کچھ خاکستر کر دینے کو ہے؟ کیا ہم واقعی کسی ایسے سنگین بحران سے دوچار ہیں جس سے نکلنے کی کوئی راہ ہمیں سجھائی نہیں دے رہی؟ کیا کوئی دیو ہیکل سونامی اپنے خونخوار جبڑے کھولے ہماری طرف بڑھ رہا ہے اور ہم کسی آن غرقاب ہونے کو ہیں؟ کیا یہاں واقعی حکومت نام کی کوئی چیز

Read more

انتظامیہ اور مقننہ کس کو چٹھی ڈالیں؟

دو تین دن قبل ایک شوخ و چنچل اور فکر انگیز خبر پر نگاہ پڑی۔ ”لاہور ہائیکورٹ کے جج، مسٹر جسٹس شاہد کریم نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے، 13 مئی تک حکومت پنجاب کو طلبہ و طالبات میں موٹر سائیکل تقسیم کرنے سے روک دیا ہے۔“ عزت مآب جج صاحب کے سامنے کوئی شہری اس طرح کی درخواست لے کر نہیں گیا تھا لیکن کسی اور مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے اچانک ان کا دھیان اس بڑے ’قومی مسئلے‘

Read more

9 مئی۔ تیر نیم کش

کل، 8 مئی کی نصف شب، 9 مئی 2023 کو ایک برس بیت جائے گا۔ 365 دن۔ 365 راتیں۔ ہماری سیاست رنگا رنگ احتجاجوں اور تحریکوں سے بھری پڑی ہے۔ سیاست دانوں کے حوالے سے پھانسی گھاٹوں، قتل گاہوں، بندی خانوں اور جلاوطنیوں تک ظلم و ستم کی درجنوں داستانیں بکھری پڑی ہیں۔ لیکن ردعمل کے طور پر ایسے آتشیں مناظر کا دھندلا سا عکس بھی دکھائی نہیں دیتا جو 9 مئی کو ہماری لوح تاریخ پر رقم ہوئے۔ یہ

Read more

مذاکرات یا ’التماسِ نجات‘

استاد داغ دہلوی نے کہا تھا کس کا یقین کیجئے، کس کا یقیں نہ کیجئے لائے ہیں اس کی بزم سے یار خبر الگ الگ کچھ یہی احوال تحریک انصاف کا ہے۔ اپنی اپنی بولیاں بولنے والے راہنماؤں کی رنگا رنگ پھلجھڑیوں سے لوگ لطف اندوز تو ہوسکتے ہیں، یہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ پی۔ ٹی۔ آئی کا اصل موقف کیا ہے؟ اب تو عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں لیکن جب وہ بنی گالہ یا زمان پارک تھے،

Read more

جماعت اسلامی کا قافلہِ سخت جاں اور حافظ نعیم الرحمن

لگ بھگ 83  برس بعد، جماعت اسلامی کا قافلہِ سخت جاں سید مودودی، میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، سید منور حسن اور سراج الحق سے ہوتا ہوا، عروس البلاد کراچی کے مردِ آتش بجاں، حافظ نعیم الرحمن تک آن پہنچا ہے۔ سید مودودی نے آغازِ سفر میں ہی طے کر دیا تھا کہ معاشرے کی ہمہ گیر اصلاحِ احوال اور اسلامی نظام کی ترویج کے لئے سختی کے ساتھ آئینی وقانونی حدود کے اندر رہنا ہے۔ سو جماعت آج

Read more

’ارتعاش مابعد‘ کی زد میں آیا ایوان بالا

پانامہ سے اقامہ کشید کرنے، نواز شریف کو اپنی ”خود سر“ بیٹی کے ہمراہ جیل میں ڈالنے اور 2018 میں آر۔ ٹی۔ ایس کی گردن دبوچ کر پراجیکٹ عمران خان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والے تمام کرتب کار آج بھی کامرانی کے احساس سے سرشار اپنی پرتعیش آسائش گاہوں میں آسودگی بخش زندگی کے مزے لے رہے ہیں لیکن پاکستان اتنے بڑے ریکٹر سکیل کے زلزلے کی تباہ کاریوں کی زد میں آیا کہ ملبہ سمیٹنے میں نہیں آ

Read more

پی ٹی آئی کا بیانیہ اور جج صاحبان کا بیان حلفی!

8 فروری کے انتخابات سے حیات نو پانے اور 9 مئی کی حدت بڑی حد تک کم ہو جانے کے باوجود پی ٹی آئی کو خاصا مشکل لگ رہا تھا کہ وہ اپنے بانی چیئرمین کو اڈیالہ جیل سے باہر کس طرح لائے جن کے مقدمات کے فیصلے بس چند قدم کی دوری پر تھے۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ عدلیہ کو بے چہرہ کردینے اور قانون و انصاف کی پوشاک پر سیاہی تھوپنے کا کوئی موقع ہاتھ آ

Read more

جج صاحبان کا مکتوب گرامی!

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ معزز جج صاحبان کی اجتماعی فریاد کا محرک کچھ بھی ہو، اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ کوئی دوسری رائے نہیں کہ مطلوب فیصلے لینے کے لئے ججوں کو ڈرانے، دھمکانے یا للچانے کا باب ہمیشہ کے لئے بند کردینے کا وقت آ گیا ہے۔ لیکن خط کا معاملہ اتنا بھی سادہ و معصوم نہیں۔ اہم سوال تو یہ ہے کہ کیا خوف اور لالچ سے کلی طور پر آزاد ججوں نے

Read more

عدلیہ کا عہدِ سیاہ کار اور غلطیوں کی اصلاح!

کیا غلاظت میں لت پت ماہ و سال تھے۔ ”پروجیکٹ عمران“ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔ نوازشریف نامی بھاری بھرکم پتھر کو راستے سے ہٹانے کی حکمت عملی طے پا رہی تھی۔ پانامہ کی زنبیل فتنہ کھل چکی تھی۔ نوازشریف کیخلاف کارروائی کیلئے عمران خان اور سراج الحق کی آئینی درخواستیں فضول، لغو، ناکارہ اور لایعنی قرار دیکر شاہراہِ دستور پر پھینکی جاچکی تھیں جب منصوبہ سازوں کو ایسے ججوں کی ضرورت پیش آئی جنہیں چکنی مٹی

Read more

پی۔ ٹی۔ آئی کی گود کیوں ہری نہ ہوئی؟

جمعیت العلمائے اسلام کے امیر محترم، مولانا فضل الرحمن کی چوکھٹ کو بوسہ دینے، مجلس وحدت المسلمین کے علامہ ناصر عباس کی بارگاہ عالی میں کورنش بجا لانے، رابطہ جمعیت العلمائے اسلام کے مولانا محمد خان شیرانی کے آستانہ عالیہ پر جبہ سائی کرنے اور تحریک انصاف (نظریاتی) کے اختر ڈار کی قدم بوسی کرنے کے بعد ”چہرہ تلاشی“ کے لئے ماری ماری پھرتی پی۔ ٹی۔ آئی سنی اتحاد کونسل کے حجرہ مشکبار میں پہنچی اور حضرت صاحبزادہ حامد رضا

Read more

کیا 8 فروری نے 9 مئی کو نگل لیا؟

چوپالوں میں بیٹھے، حقے کے کش لیتے گپ باز، ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے ارکان آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں۔ ادھر ادھر سے کرید لگانے کی سعی ناکام کے بعد کہنہ مشق صحافی الجھی ہوئی گتھی سلجھانے کے لئے ایک دوسرے سے الجھتے رہتے ہیں۔ سیاسی موسموں کی پہچان پرکھ رکھنے والے مبصرین اسی ادھیڑبن میں سر کھجاتے ہوئے سو جاتے ہیں۔ کوئی حاتم طائی نہیں جو اس حمام بادگرد کا راز پائے۔ ہر ایک کو بظاہر یہی

Read more

مریم نواز۔ ”زندان اقتدار کی قید بامشقت“

وہ اسلام آباد کی ایک گرم مرطوب صبح تھی۔ 15 جولائی 2017 اور ہفتے کا دن۔ ہماری تاریخ کی سب سے طاقتور اور خونخوار جے۔ آئی۔ ٹی نے وزیراعظم کی بیٹی مریم نواز شریف کو پانامہ تحقیقات کے حوالے سے طلب کر رکھا تھا۔ مجھے رات کو مریم کا فون آیا۔ ”انکل! آپ نے صبح 9 بجے آنا ہے۔ میری پیشی ہے۔“ وزیراعظم ہاؤس کے رہائشی حصے کے ڈرائینگ روم میں چھوٹی سی محفل جمی تھی۔ وزیراعظم نواز شریف کے

Read more

پتھر کو جونک کیسے لگے؟

کوئی کچھ بھی کہہ لے، انتخابات کے بعد بھی ہمہ پہلو عدم استحکام اور سیاسی انتشار کی بنیادی وجہ ہماری قومی سیاست میں ایک ایسے آتش مزاج کردار کی نمود ہے جو اپنی عادت، خصلت، جبلت اور سرشت کے اعتبار سے سیاسی تقاضوں اور قرینوں سے دور کا تعلق واسطہ بھی نہیں رکھتا۔ نرگسیت (NARCISSISM) ایک موذی مرض ہے جو آکاس بیل کی طرح انسان کی ہر شاخِ فکر واحساس کو چوس لیتا ہے۔ عمران خان ہماری ستتر سالہ قومی

Read more

انتخابات، توقعات اور ”بارودخانہ“

پاکستان کو عدم استحکام، سیاسی انتشار، اقتصادی تباہ حالی اور ہمہ جہتی زوال کی دلدل میں جھونکنے کا جو عمل 2014 کے چار ماہی دھرنوں سے شروع ہوا تھا، 8 فروری 2024 کے انتخابات کے بعد بھی تھمتا یا کسی کنارے لگتا دکھائی نہیں دیتا۔ ساڑھے چھ برس سے اس حرماں نصیب ملک نے سکھ کا سانس نہیں لیا۔ نوازشریف کے خلاف سازش تیار کرنے اور اسے کامیابی سے پایہِ تکمیل تک پہنچانے والے سارے کردار اپنے گھروں میں بیٹھے،

Read more

انتخابات کے بعد!

شکوک وشبہات اور بے یقینی کی گہری دھند کے باوجود 8؍فروری کے صاف وشفاف افق سے انتخابات کا سورج طلوع ہوا جب خیبرپختون خوا اور پنجاب اسمبلیوں کو رُخصت ہوئے ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور سندھ، بلوچستان اور وفاق کے منتخب ایوانوں کو تحلیل ہوئے بھی چھ ماہ ہونے کو ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ انتخابی عمل بڑی حد تک پُرامن رہا۔ داخلی اور خارجی مبصرین نے بے قاعدگیوں کی بات ضرور کی ہے،

Read more

پانچ سال کی تقدیر اور فقط ایک لمحہ!

ہمارے ہاں انتخابات کی تاریخ کچھ زیادہ دِل خوش کن نہیں۔ 1956 کے آئین کے تحت پہلے عام انتخابات کی مہم زوروں پہ تھی کہ پہلے مارشل لاءنے آن لیا۔ کوئی گیارہ برس پہ محیط یہ رات تھک گئی تو اپنی متعفن میراث تازہ دم شب آمریت کو سونپ کر گھر چلی گئی۔1970کے انتخابات پاکستان کو دولخت کر گئے۔1977 کے انتخابات ایک اور گیارہ سالہ مارشل لاءدے گئے۔ 1985 (غیرجماعتی) سے 1999 تک پانچ انتخابات سے جنم لینے والی پانچوں

Read more

مسلم لیگ (ن) کا منشور: ایک سنجیدہ عہد نامہ

منشور کی تیاری، میرے اندازے سے کہیں زیادہ مشکل اور پیچیدہ مشق تھی۔ اپنے کام کو سہل کرنے کے لئے میں نے بتیس ذیلی کمیٹیاں تشکیل دے کر انہیں اپنی خصوصی مہارت اور دلچسپی کے مطابق کام سونپ دیا۔ آئینی و قانونی اصلاحات، معیشت، صنعت و تجارت، زراعت، دفاع پاکستان ، امور خارجہ، تعلیم و صحت، نوجوانوں اور خواتین کے امور، ماحولیاتی تبدیلیوں، اقلیتوں کے حقوق، انفارمیشن ٹیکنالوجی ،قومی سلامتی ،توانائی، بلدیاتی نظام، سمندر پار پاکستانیوں،آزادی اظہار رائے ،صحافیوں کے

Read more

ایسے ہوتے ہیں سیاستدان؟

2024ء کو طلوع ہوئے ابھی چند دن ہی گزرے ہیں لیکن ایک ایسا انکشاف اس کی لوحِ تقویم کا نوشتہ بن چکا ہے جسے ”امّ الانکشافات“ کہنا بے جا نہ ہوگا۔ اخبار نویس اڈیالہ جیل سے یہ چونکا دینے والی خبر لائے ہیں کہ ”عمران خان سیاستدان“ ہیں۔ مجھے گماں گزرا کہ شاید ثاقب نثار کی طرف سے ”صادق اور امین“ قرار پانے کے بعد اب جیل میں آراستہ کسی عدالت نے انہیں ”سیاستدان“ کا تمغہ اعزاز بھی عطا کردیا

Read more

”طائفہ“۔ ہم خیالی سے ہم زوالی تک!

ذوقِ پرواز کے خمار میں پرندے جب حدّ افلاک سے بھی آگے نکل جانے کی ٹھان لیں تو ان کے پر خلا کی وسعتوں میں سمت کا احساس کھو کر جھڑنے لگتے ہیں۔ انہیں اس وقت تک اپنی بے بال وپری کا اندازہ نہیں ہوتا جب تک وہ بے جان سا لوتھڑا بن کر زمین پرآ نہیں گرتے۔ خوف خدا سے بے نیاز رعونت شعار خود پرست بھی ایک نہ ایک دن اِسی انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ پاکستان کی

Read more

سینیٹ کی پُراسرار قرارداد

میں جمعہ کو سینٹ سے چھٹی پر تھا۔ جو کچھ ہوا، سب منظرعام پر آچکا ہے۔ میں نے پریس گیلری میں موجود دو مستند صحافیوں سے پوری روداد سنی۔ یہ جاننے میں کچھ دن لگیں گے کہ فتنہ ساماں قرارداد کی کھچڑی سینٹ کے باورچی خانے میں خود ’’میرِمطبخ‘‘ کی نگرانی میں تیار ہوئی یا مارگلہ کی فضائوں میں آنکھ مچولی کھیلتی چڑیاں اس کے لئے دال چاول کے دانے چُن کر لائیں۔ گمانِ غالب یہی ہے کہ یہ ایک

Read more

9 مئی۔ دھند گہری ہورہی ہے!

9 مئی کی منصوبہ بند غارت گری پر مسلح افواج کا ردّعمل قطعی، غیرمبہم اور دوٹوک تھا۔ کہا گیا”یہ قومی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ سیاست کا لبادہ اوڑھے اقتدار پرستوں نے وہ کچھ کرڈالا جو پچھتر سالوں میں ہمارا دشمن بھی نہ کرسکا۔ ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت (Rebellion) کی آگ بھڑکانے والوں کو قانون کے شکنجے میں کسا جائے گا۔ فسادیوں کے بدنما چہرے انسانی حقوق کے پرفریب پردوں میں چھپنے نہیں دیں گے۔ 9 مئی

Read more

امریکہ کا 6 جنوری اور ہمارا 9 مئی!

9 مئی کے حوالے سے ”تحریک انصاف“ کا معاملہ ایک گورکھ دھندا بنتا جا رہا ہے۔ تو کیا یہ محض ایک واہمہ تھا؟ کوئی اشتباہِ نظر تھا؟ کسی جادوگر کی ساحری تھی جس نے ہماری آنکھوں اور دل و دماغ میں کچھ نقوش ثبت کردئیے اور ہم اِن ” تخیلاتی ہیولوں“ کو حقیقی مناظر سمجھ بیٹھے؟ اگر ایسا نہیں اور تحریکِ انصاف واقعی 9 مئی کو دفاعی تنصیبات پر حملوں کے ذریعے فوج میں بغاوت ابھارنے اور آرمی چیف کا

Read more

عدالت کوئی فیکٹری ہے؟

جج ارشد ملک (مرحوم) کی احتساب عدالت کا چھوٹا سا کمرہ کھچا کھچ بھرا تھا۔ میں پہلی صف میں ’مرکزی ملزم‘ ، سابق وزیراعظم نواز شریف کے دائیں ہاتھ بیٹھا تھا۔ وہ عدالتی کارروائی سے لاتعلق کسی گہری سوچ میں ڈوبے تھے۔ اچانک میری طرف رخ کر کے بولے۔ ’کاغذ قلم ہے آپ کے پاس؟‘ میں ہمیشہ ان دونوں ’ہتھیاروں‘ سے مسلح رہتا ہوں۔ جیب سے مڑا تڑا سا کاغذ نکالا اور قلم انہیں پکڑا دیا۔ میاں صاحب نے کاغذ

Read more

پی۔ ٹی۔آئی کی مقبولیت۔ حقیقت یا سراب؟

انگریزی کا ایک محاورہ نما قول ہے ”عمومی تاثر ،اصل حقیقت سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔“1970ء کے پہلے عام انتخابات میں یوں لگ رہا تھا جیسے جماعت اسلامی مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کی شدید مزاحمت کرے گی۔ ایسا نہ ہوا۔ 1993 ء میں قاضی حسین احمد مرحوم نے ”پاکستان اسلامک فرنٹ“ کے نام سے ایسا سماں باندھا کہ آنکھیں چندھیانے لگیں۔ ”ظالمو! قاضی آرہا ہے“ کے نعروں سے دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکنے لگی۔93ء میں سے صرف تین امیدوار جیتے۔

Read more

کچھ ان تصویروں کا بھی سوچیں!

عزت مآب چیف جسٹس، قاضی فائز عیسیٰ نے بجا طور پر نکتہ اٹھایا ہے کہ آئین توڑنے والے ججوں کی تصویریں، عدالتی کمرہ نمبر ایک میں کیوں لگی ہیں؟ لیکن صرف آئین شکنوں ہی نہیں، ان کی تصویروں کے بارے میں بھی کچھ سوچنا ہو گا جو طلائی حاشیوں والی ریشمی عبائیں پہن کر انصاف کی قبائیں تار تار کرتے رہے۔ جو بغض و عناد کی بنا پر اللہ تعالی سے باندھا گیا حلف وفا توڑتے رہے۔ جنہیں پاکستان کے

Read more

بوئے خان، کاٹے نوازشریف!

سہیل وڑائچ صاحب کے گزشتہ کالم پر میرا پہلا ردّعمل یہی تھا کہ اب چُپ سادھ لینے کا مرحلہ آگیا ہے۔ میں نے جو کہنا تھا، وضاحت سے کہہ چکا۔میں نے چار متعیّن سوالات اٹھائے تھے تاکہ ’مکالماتی مکالمہ‘ موضوعاتی حدودِاربعہ کے اندر رہے لیکن کسی ایک بھی سوال کا جواب نہیں ملا۔ کہانی وہیں گھُمن گھیریاں کھا رہی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ وہی پرانی بات دہراتے ہوئے کہاگیا __ ’جو سلوک عمران خان کے دور میں نوازشریف

Read more

9 مئی: سازش یا ”سیاسی معاملہ “؟

سہیل وڑائچ صاحب کے کالم ”دیر آید غلط آید“ کا نوے فیصد سے زائد حصہ ذاتی حملوں، طعن وتشنیع اور کردار کشی پہ مشتمل ہے۔ ان کے کالم ”تسی اچے اسی قصوری“ میں بھی مجھے بے ڈھب اور ناتراشیدہ القابات و خطابات سے نوازا گیا تھا۔ میں نے اس وقت بھی ایسی باتوں کا جواب نہیں دیا تھا، اب بھی نہیں دے رہا۔ میں جانتا ہوں کہ دلیل کے فقدان سے ذہنی خلجان اور جذباتی ہیجان جنم لیتا ہے اور

Read more

نوازشریف سے نہیں، ’’چابی برداروں‘‘ سے رجوع کریں

عربی سے جنم لینے والی ایک فارسی ترکیب اردو میں بھی مستعمل ہے__ ’’خلطِ مَبحَث۔‘‘ لُغت میں اس کا مفہوم ہے ’’مغالطے کیلئے اصل موضوع سے ہٹ جانے یا اُسے الجھا دینے کا عمل۔‘‘ سہیل وڑائچ صاحب کا کالم ’’تُسی اُچّے، اَسی قصوری‘‘ اس خلطِ مَبحَث کا شاہکار نمونہ ہے۔ نہ جانے کتنی تحقیق وریاضت کے بعد وہ نومئی کی غارت گری کا موازنہ کرنے کیلئے پاکستان کی تاریخ سے دو مثالیں تلاش کرپائے ہیں۔ پہلی یہ کہ ’’جیالوں نے

Read more

عمران خان اور ”مٹی ڈالو“ کا نظریہ

عمومی قیاس یہی ہے کہ دانش و حکمت کا خزانہ صرف بزرگوں کے پاس ہوتا ہے لیکن زمانہ بہت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ دانش و حکمت کے اوزان اور ترازو بھی بدل گئے ہیں۔ رائج الوقت نظریہ یہ ہے کہ جس طرح عمر گریزاں کے ساتھ ساتھ چہرے پر جھریاں پڑنے لگتی ہیں، ابروؤں کے بال موٹے، سفید، گھنے اور بھاری ہو کر، ڈھیلے ڈھالے لٹکے ہوئے پپوٹوں سے گلے ملنے لگتے ہیں، دانت اپنی جڑیں چھوڑ دیتے

Read more

’لیول پلینگ فیلڈ‘ کا واویلا

’لیول پلینگ فیلڈ ” (Level Playing Field) یعنی انتخابات میں تمام جماعتوں کے لئے یکساں اور منصفانہ مواقع کا مطالبہ، پیپلز پارٹی کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ عام طور پر اس طرح کا واویلا انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد اس وقت اٹھتا ہے جب جاگتی آنکھوں کے ست رنگے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں اور اولین نتائج کے ساتھ ہی ایک دل گرفتہ سی شام، شام فراق کی طرح شکست خوردگان کے اجاڑ خیموں میں آن اترتی

Read more

کہانی ”سیاہ کاریوں“ اور ”سہولت کاریوں“ کی

بلاشبہ عزت و عظمت اور ذلت و رسوائی کے فیصلے قادر مطلق کے دست قدرت میں ہیں۔ احساس کامرانی سے سرشار کسی سہولت شعار جرنیل کا ٹویٹ اس کے باطن کی ترجمانی تو کر سکتا ہے، ہمیشہ کے لئے لوح محفوظ پہ لکھے اٹل فیصلے نہیں مٹا سکتا۔ یہ فیصلے، کئی سالہ محنت بچانے پر کمربستہ کسی جرنیل کے دائرہ اختیار و اقتدار سے بھی ماورا ہوتے ہیں۔ بندوق یا ترازو کا عقد مصلحت (Marriage of convenience) کچھ عرصے کے

Read more

کیا عناد، انصاف پر حاوی رہے گا؟

عزت مآب جج صاحبان کا اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر، صدق دل سے اٹھائے گئے حلف کا اہم ترین جملہ ہے ”میں تمام لوگوں کے ساتھ، کسی خوف یا رعایت کے بغیر اور کسی رغبت اور عناد کے بغیر انصاف کروں گا۔“ اعلی عدلیہ کا ہر جج، مسند انصاف پر براجمان ہونے سے پہلے یہ حلف اٹھاتا ہے۔ ہر اردو لغت میں حلف کے معنی قسم کھانا ہے۔ گویا ہر جج اپنے مذہب، عقیدے یا نظریے کے

Read more

الوداع لندن!

  پیر، دو اکتوبر کی سہ پہر میں ہیتھرو کے ہوائی اڈّے سے باہر نکلا تو لندن اپنے روایتی موسم کی رومانوی قبا اوڑھے، دِل نواز سی خنکی میں لپٹا ہوا تھا۔ آسمان گہرے سرمئی بادلوں سے ڈھکا تھا۔ ہلکی بارش سے سرخ اینٹوں، سفید کھڑکیوں والے دھلے دھلائے گھروں کے اَنگ انگ سے لندن پھوٹ رہا تھا۔ اسی دِن، سرِشام ایک ریستوران میں کافی کی میز پر میاں صاحب سے ملاقات ہوئی۔ اِس ملاقات میں کوئی تیسرا نہیں تھا

Read more

ایک اور سیاسی جماعت!

کیا پاکستان کو درپیش گوناگوں مسائل کا حل ایک نئی سیاسی جماعت کا قیام ہے؟ یہ سوال میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے۔ تین جانے پہچانے سیاستدان، شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور مصطفی نواز کھوکھر اس مفروضہ نئی سیاسی جماعت کے مبلغین یا محرکین سمجھے جاتے ہیں۔ تینوں سے میری بہت گہری دوستانہ قربت نہ سہی لیکن بہت اچھی دعا سلام ہے۔ میں تینوں کے بارے میں نہایت مثبت رائے رکھتا ہوں۔ تینوں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ تینوں قومی

Read more

جسٹس قاضی فائز عیسٰی سے صرف ایک التماس

بلاشبہ ہر غلطی، معافی اور ہر معافی تلافی مانگتی ہے۔ سید مودودی کا معروف قول ہے۔ ”کوئی غلطی بانجھ نہیں رہتی۔ انڈے بچے دیے چلی جاتی ہے۔“ میں اتنے اضافے کی جسارت کر رہا ہوں کہ غلطی جتنی بڑی ہوگی، اتنی ہی زیادہ کثیرالاولاد اور کریہہ النسل بھی ہوگی۔ زمانوں تک دودھوں نہاتی پوتوں پھلتی رہے گی۔ غلطی جج سے بھی ہوجاتی ہے لیکن شعوری طورپر، کسی ایجنڈے کے تحت، منظم سازش کے انداز میں انصاف کشی، غلطی کے زمرے

Read more

بندیال صاحب کی رخصتی اور عدلیہ کا ”بندر گھاؤ“

اجنبی ہوتی اردو میں کبھی ایک دو لفظی مرکب، محاورے کے طور پر بولا جاتا تھا۔ ”بندر گھاؤ“ ۔ بندر کو لگنے والا کوئی زخم جوں ہی بھرنے لگتا اور اس پر موم آتا ہے، وہ اپنے تیز نوکیلے ناخنوں سے اسے کھرچ ڈالتا ہے۔ لہو پھر سے رسنے لگتا ہے۔ زخم پھر سے ہرا ہوجاتا ہے۔ سو جو مسئلہ جان کا روگ بن جائے اور حل نہ ہونے پائے ”بندر گھاؤ“ کہلاتا ہے۔ ہماری عدلیہ بھی برسوں سے ”بندر

Read more

نگران حکومتیں۔ کار لاحاصل!

وقت آ گیا ہے کہ نگران حکومتوں کے تماشائے بے ذوق کی صلاحیت، اہمیت اور افادیت کا بے لاگ جائزہ لیتے ہوئے دیکھا جائے کہ دنیا بھر کے جمہوری ممالک سے ہٹ کر، ہم نے عہد آمریت کی متعارف کردہ اس مشق رائیگاں کو کیوں سینے سے لگا رکھا ہے؟ یہ اچھوتا خیال 1956 اور 1973 کے دستور سازوں کو بھی نہ سوجھا۔ جنرل محمد ضیاءالحق نے بحالی آئین فرمان مجریہ 1985 کے ذریعے صدر اور گورنروں کے اس اختیار

Read more

نواز شریف، بجلی کے بل اور دیوار ”ملامت“ !

نواز شریف کے ساتھ جو ہوا سو ہوا، پاکستان کو تباہی و بربادی کی اس پاتال میں پھینکنے والوں کا گریبان کون پکڑے؟ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم کر کے بارہ روپے فی یونٹ بجلی دینے والا تو آج بھی وطن سے باہر بیٹھا واپسی کی ساعت سعید کے زائچے بنا رہا ہے اور چھ برس کے دوران بجلی کے نرخ چھپن روپے یونٹ پہنچا دینے والوں کا نام لینے کے لئے بھی جان کی امان چاہیے۔ کاش ہر

Read more

صدر عارف الرحمان علوی

صدر ڈاکٹر عارف الرحمان علوی ہمیشہ سے ایسے نہ تھے۔ ان کا تعلق ایک با وقار خانوادے سے ہے۔ والد مرحوم ڈاکٹر حبیب الرحمان الہیٰ نہایت نیک نام شخص تھے۔ جواہر لعل نہرو کے معالج رہے۔ جماعت اسلامی سے سرگرم وابستگی رہی۔ عارف علوی بھی والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی سے وابستہ رہے۔ جماعت کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا۔ جلد سید مودودی کے حجرہ بے آب و رنگ

Read more

انوار الحق کاکڑ

انوار الحق کاکڑ کو میں نے پہلی بار سینیٹ میں دیکھا جب مارچ 2021ء میں ایوان بالا کا رکن بنا تب وہ اقتدار کا جھولا جھولتی تحریک انصاف کے ساتھ سرکاری بینچوں پر بیٹھتا تھا۔ باضابطہ اجلاس کے پہلے یا دوسرے دن ہی وہ میرے پہلو میں آ بیٹھا۔ دیر تک نیاز مندانہ انداز میں مجھ سے غائبانہ تعارف کی داستان کہتا رہا۔ بلوچستان کی مصفیٰ ہواؤں کا پروردہ گورا چٹا پٹھان، خوش جمال تو تھا ہی مجھے خوش خصال

Read more

بحیرہ انصاف کی ”برمودا تکون“

جمہوری ادوار ہماری عدلیہ کے سنگلاخ کوہ و بیاباں کا درجہ رکھتے ہیں جن سے وہ سیل تند رو کی طرح ٹکراتی رہتی ہے لیکن جوں ہی اس کا سامنا آئین شکن آمروں سے ہوتا ہے، وہ یکایک ”جوئے نغمہ خواں“ کا روپ دھار لیتی ہے۔ آمروں کو اپنی مرضی کا آئین لکھنے اور انہیں وردی سمیت صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت دیتے ہوئے اس کا چہرہ بشاشت سے گلنار ہوجاتا ہے لیکن کروڑوں عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ کے کسی

Read more

عمران خان: سفر تمام ہوا؟

عناصرِ فطرت کی باگ ڈور قادرِ مطلق کے ہاتھ میں ہے۔ موسموں کے تیور اور ہواؤں کے رُخ بدلتے دیر نہیں لگتی۔ کوئی انسان کتنا ہی طاقت ور اور زور آور کیوں نہ ہو، اس کی کرتب کاریوں اور حیلہ سازیوں کی ایک حد ہوتی ہے۔ اُس کے بعد کارخانۂ قدرت کی کوئی نادیدہ مشین حرکت میں آجاتی ہے۔ تب وہم و گماں تک میں نہ سمانے والی انہونیاں، جیتی جاگتی حقیقتوں کی شکل میں دانت نکوسے سامنے آ کھڑی

Read more

میں اکثر سوچتا ہوں!

یہ چار برس قبل کہی گئی نظم ہے، جب 2019  کے انہی دنوں میں، ”انسانی حقوق کی پاسبان“، ”شخصی آزادیوں کی نگہبان“ اور ”احترام آدمیت کی ترجمان“ حکومت نے نصف شب کو مجھے گھر سے اٹھا کر ہتھکڑی ڈالی اور ایک اسسٹنٹ کمشنر سے فیصلہ لے کر اڈیالہ جیل کی قصوری چکی میں بند کر دیا۔ ایسا نہ کل درست تھا نہ آج ٹھیک ہے لیکن پاکی داماں کی حکایت کو یورپ اور امریکہ تک لے جانے والوں کو اتنا

Read more