چودہ برس بعد بھی – دو جنازے اور دو بیٹوں کی شرکت سے محرومی


نواز شریف کو کیوں اجازت نہ ملی کہ وہ سینتالیس سالہ رفاقت کا قرض اتارے۔ سفر کے آخری موڑ پر، سرطان کے موذی مرض میں جان ہارتی رفیقہ حیات کے پاس کچھ دن گزار لیتا؟ کلثوم کی گڑیا کو کیوں اجازت نہ ملی کہ وہ لمحہ لمحہ موت کی آغوش میں جاتی ماں کے سرہانے بیٹھ کر کچھ باتیں ہی کر لیتی جو ”مانواں تے دھیاں“ رل بیٹھ کر کیا کرتی ہیں؟ کیوں ان کے مقدمات اس برق رفتاری سے چلائے گئے جس کی نظیر ستر سالہ تاریخ میں نہیں ملتی؟ کیوں یہ استدعا نہ مانی گئی کہ کلثوم نوازکی حالت تشویش ناک ہے۔ اس لئے فیصلے کو کچھ دن ملتوی رکھا جائے؟ نواز شریف اور مریم نے ایسا کونسا قبیح جرم کیا تھا کہ انہیں پا بہ رکاب بیٹھی بیگم کلثوم کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کی مہلت نہ دی گئی؟

اسکا جواب یہاں کوئی نہیں دے گا۔ اس بستی میں تو شاید یہ سوال پوچھنے والا بھی کوئی نہ ملے۔ لیکن سوال زندہ رہتے ہیں اور جواب دینا ہی پڑتے ہیں۔ حشر کے روز تو ایک عدالت لگنی ہی ہے وہ عدالت کسی وٹس ایپ کال، کسی جے آئی ٹی، کسی دو رکنی، سہ رکنی اور پنج رکنی بینچ کی محتاج نہیں ہوتی۔ جہاں جھوٹی کہانیاں گڑھنے والا کوئی گواہ نہیں ہوتا۔ جہاں کوئی پی سی او جج ہوتا ہے اور نہ خود فروش عدلیہ۔ قادرمطلق ضرور پوچھے گا کہ تمہارے دل پتھر کے کیوں ہو گئے تھے اور تمہاری آنکھوں کا پانی کیوں مر گیا تھا۔ دونوں جہانوں کے لئے رحمت بن کے آنے والے خاتم النبینﷺ نے پوچھ لیا تو کیا جواب دو گے؟ اس ہستی ﷺکے بارے میں تو علامہ اقبال جیسے مرد حق آگاہ نے بھی کہا تھا کہ ”اے اللہ تعالی! میرا نامہ اعمال دیکھنا ضروری ہی ٹھہرے تو محمد مصطفی ﷺ کی نگاہوں سے چھپا کر دیکھنا“۔

چودہ برس قبل میاں محمد شریف کی میت آئی تو ان کے بیٹے پاکستان نہ آسکے۔ چودہ برس بعد بیگم کلثوم نواز کی میت آئی تو ان کے بیٹے ماں کی تدفین کے لئے وطن نہیں آسکے۔ قانون اور انصاف کے نام پر انسانیت کشی کا چلن کل بھی یہی تھا، آج بھی یہی ہے۔ کچھ بھی نہیں بدلا۔

https://twitter.com/IrfanSiddiqui__/status/1040964788111724544?s=08

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2