فحاشی کے اڈے پر زبردستی رکھی گئیں 2 لڑکیاں فرار؛ جسم پر جگہ جگہ پراسرار نشانات کی موجودگی


فحاشی کے اڈے پر زبردستی رکھی گئیں 2 لڑکیاں فرار، پولیس نے ان کا معائنہ کیا تو جسم پر جگہ جگہ پراسرار نشان تھے، پوچھا تو انہوں نے ان کی ایسی شرمناک وجہ بتادی کہ جان کر انسان کی روح کانپ اُٹھے

 

بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، مگر یہ دنیا میں جنسی جرائم کا سب سے بڑا مرکز بھی ہے، اور انسانی سمگلنگ و جسم فروشی کا سب سے بڑا اڈہ بھی۔ بھارت کے طول عرض سے غریب گھرانوں کی لڑکیاں بڑے شہروں میں لائی جاتی ہیں، اورپھر اُن کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے یقیناً اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس المیے کی ایک دلخراش مثال دارلحکومت دلی سے بازیاب کروائی گئی دو لڑکیوں کی زبانی سامنے آئی ہے، جن سے جسم فروشی تو کروائی ہی جا رہی تھی،مگر اُن کا رنگ گورا نہ ہونے پر بھی اُن کے ساتھ ناقابل یقین غیر انسانی سلوک کیا جا رہا تھا۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق دونوں لڑکیوں کا تعلق مغربی بنگال سے ہے لیکن چند سال قبل انہیں ملازمت کا جھانسہ دے کر جسم فروشی کے لئے دارالحکومت دلی لایا گیا۔ دلی کمیشن فار ویمن کو ان خواتین کی حالت زار کے بارے میں 181 ہیلپ لائن پر آنے والی ایک فون کال کے ذریعے اطلاع دی گئی تھی۔ یہ اطلاع ملنے پر کمیشن کے اہلکاروں نے شہر کے جنوبی حصے میں نظام الدین کے علاقے سے ان لڑکیوں کو بازیاب کروایا۔

لڑکیوں نے بتایا کہ قحبہ خانے کی مالکن ان کی سانولی رنگت کی وجہ سے انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بناتی تھی اور زبردستی طرح طرح کے کیمیکل اور کریمیں لگانے پر مجبور کرتی تھی تاکہ ان کی رنگت گوری ہوجائے۔ وہ اس بات پر نالاں تھی کہ اُن کے گہرے رنگ کی وجہ سے کسٹم اُن کی جانب مائل نہیں ہوتی۔ لڑکیوں کا رنگ زبردستی گورا کرنے کے لئے انہیں مضر صحت کریمیں اور کیمیکل استعمال کرنے پر مجبور کیا گیا جس کے باعث اُن کی جلد کو سنگین نقصان پہنچ چکا تھا اور یہ نشان پڑ جاتے تھے۔ جب وہ جلد پر ایسی چیزیں استعمال کرنے سے انکار کرتی تھیں تو اُن پر تشدد کیا جاتا تھا، اور بعض اوقات اُن کے جسم کو سگریٹ سے جلانے کے واقعات بھی پیش آ چکے تھے۔

پولیس نے قحبہ خانے کی مالکن ریشما کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ اس کی کاروباری شراکت دار شائنہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں خواتین کئی سال سے قحبہ خانہ چلا رہی تھیں اور بھارت کی دور دراز ریاستوں سے لڑکیوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر لانے کے بعد جسم فروشی پر مجبور کر دیتی تھیں۔ ملزمہ ریشما کے خلاف قانونی کاروائی کی جارہی ہے جبکہ اس کی ساتھی شائنہ کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

Facebook Comments HS