سائبان
سب لوگ کھانے سے فارغ ہو چکے تھے۔ بڑے بوڑھے اپنی باتوں میں مصروف تھے۔ نوجوانوں کی الگ ٹولی تھی۔ اُن کے بنائے ہوئے کھانوں کی دھوم تھی۔ خصوصاً دم کی مچھلی اور مرگ کی دھوم تھی۔
’’آنٹی مجھے آپ کی مچھلی کی Recipe مِل سکتی ہے‘‘؟ سارہ نے پوچھا۔
’’کیا کروگی Recipe لے کر‘تمھارے پاس تو اتنی Recipe جمع ہیں لیکن پکانے کی تو نوبت ہی نہیں آتی‘‘۔
’’اِسے Recipe مت دیجیے آنٹی۔ اِسے تو صِرف Recipes جمع کرنے کا شوق ہے۔‘‘ حمیدہ نے چھیڑا۔
’’سارہ کو تو نمک تک کا صحیح اندازہ نہیں ہے۔ ہمیشہ نمک تیز ہو جاتا ہے‘‘۔ اسریٰ نے لقمہ دِیا۔
’’آنٹی مِیٹھا بھی آپ ہی نے بنایا ہے‘‘؟
’’نہیں بینا نے بنایا ہے‘‘۔ اُنھوں نے بہو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ آج بہو کے پاوں خوشی کے مارے زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔
"So you have arrived” ماجد کے دوست شہود نے جیسے اعلان کرتے ہوئے کہا۔ سب اُس کی طرف متوجہ ہوکر سننے لگے۔ جدّہ میں نوکری، بنجارہ ہلز میں گھر، خوب صورت بیوی؛ اور کیا چاہیے۔
بیٹے کو یہ سب حاصل کرنے میں سات سال لگ گئے۔ سات سال میں اُس نے وہ کر دِکھایا تھا جو اُن کے شوہر تِیس سال میں بھی نہیں کر سکے تھے۔ محنت تو سبھی کرتے ہیں لیکن کِسی کِسی کی محنتیں بار آور نہیں ہوتیں۔ اُنھوں نے پھر اُداس ہو کر سوچا، لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ اُن کی محنتیں رائیگاں تھیں، جدوجہد بے معنی تھی۔ اُنھوں نے خُودکو تسّلی دی۔ وہ وقت اور تھا یہ وقت اور ہے۔ وہ دھیان بٹانے کے لیے پھر نوجوانوں کی باتوں کی طرف متوجہ ہو گئیں۔ شہود پاس پڑوس میں رہنے والو ں کا غائبانہ تعارف کرا رہا تھا۔ نکڑ والا جو مکان ہے اُس میں آرمی کے رِٹائرڈ کیپٹن رہتے ہیں، بہت مِلن سار آدمی ہیں۔ تمھارے گھر کے سامنے صدیقی صاحب رہتے ہیں۔ Hyderabad waters works کے چِیف اِنجینئر ہیں۔ اُنھی کی وجہ سے اس گلی میں پانی کی قِلّت نہیں ہے۔ اُن سے بھی دوستی کی جا سکتی ہے۔ اُن کے پڑوس میں نواب صاحب رہتے ہیں؛ ہاں اُن سے مِلنے سے پرہیز کرنا۔ ویسے بھی وہ وقت سے بہت نالاں ہیں کہ افضل ساگر کے نشیب میں رہنے والے لوگ افضل ساگر کے دہانے تک آ پہونچے۔ کیا قیامت ہے ملے پلی کے لوگ یہاں تک آ گئے۔ اُنھیں شکایت ہے کہ NRIs تین چار سو گز کے پلاٹوں پر گھر بنا کر بنجارہ ہلز کا حسن برباد کر رہے ہیں۔ پہلے تو بنجارہ ہلز میں نواب اور امرا رہا کرتے تھے۔ اب تو ہر کوئی بنجارہ ہلز کا رُخ کر رہا ہے؛ چار پیسے مشرقِ وُسطیٰ میں کیا کما لیے، پہونچ گئے بنجارہ ہلز۔
’’یار میرا گھر تو چھہ سو گز پر بنا ہوا ہے‘‘۔ ماجد نے احتجاج کیا۔
’’اُس سے اُنھیں کوئی فرق نہیں پڑتا، پہلے یہاں پانچ دس ایکڑ پر بنائے ہوئے باغات اورکوٹھیاں ہوتی تھیں‘‘۔
’’یہ چار پانچ سو گز کے مکانات پسینے کی کمائی سے بنائے ہوئے ہیں۔ کسی حاکمِ وقت کی عطا کی ہوئی جاگیریں نہیں ہیں۔ نشیب والے فراز تک یونھی نہیں پہونچ جاتے۔ اُنھیں بہتے ہوئے دھارے کے مخالف تیرنا پڑتا ہے‘‘۔ ماجد تھوڑا سا تلخ ہو گیا۔
’’نواب صاحب کے پڑوس میں ’ما بے دولت‘ کا مکان ہے اور یہ کوئی جاگیر نہیں ہے‘‘۔ شہود نے تلخی کو کم کرنے کے لیے کہا۔
’’بڑے خطرناک پڑوس میں رہتے ہو تم‘‘۔ امجد نے ہم دردی جتائی۔
’’مِسکین آدمی ہوں، گھر بدل نہیں سکتا۔ باپ دادا کے بنائے ہوئے گھر میں رہتا ہوں‘‘۔ شہود نے کہا۔
سارہ کی نظر اچانک بینا کے پیر کی سونے کی چین پر گئی۔
’’ہائے کتنی کیوٹ ہے۔ کب لی تم نے‘‘؟
’’دو دِن ہوئے‘‘۔
’’بدمعاش؛ جھوٹی! تم تو کہہ رہی تھیں کہ پیر کی چین کے لیے ماجد راضی ہی نہیں ہو رہے ہیں‘‘۔
’’امی جان کے کہنے پر بڑی مشکِل سے راضی ہوئے۔ امّی نے میری ضِدّ کی حِمایت کی تھی‘‘۔
’’آنٹی زندہ باد‘‘۔ لڑکیوں نے نعرہ لگایا۔
’’تو اب تمھارا سونے کا شوق، گلے اور ہاتھوں سے ہوتا ہوا پیروں تک پہنچ گیا‘‘۔ عثمان نے چھیڑا۔
’’بینا بیگم کے کیا کہنے۔ کسٹمز کی نظروں سے بچانے کے لیے ایک آدھ چین تو میرے گلے میں بھی ڈال دیتی ہیں‘‘۔ ماجد نے کہا۔
’’سونے کی چین ہی تو ہے ماجد بھائی۔ کوئی لوہے کا طوق تھوڑا ہے‘‘۔ فاطمہ نے چھیڑا سب لڑکیاں بینا کے پیروں پر جھک کر چین کا معائنہ کرنے لگیں۔
اُنھوں نے محبت سے بہو کو دیکھا۔ گلے میں سونے کی تین لڑیوں والی زنجیر۔ منہدی لگے ہاتھوں میں سونے کے کنگن۔ ہونٹوں پر لگی ہوئی سرخ لِپ اِسٹک، اپنے میاں کی محبّت میں سرشار بہو اُنھیں بہت پیاری لگی۔ ایسی سرشاری جو اُنھوں نے اپنی تیس سالہ ازدواجی زِندگی میں محسوس نہیں کی تھی۔ کیوں کہ اُن کے میاں ایک خاص رکھ رکھاؤ والے تھے اور اُس زمانہ میں محبّت کے اِظہارکا رِواج ہی نہ تھا۔ زِندگی بھر کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ اُنھوں میاں کو یا میاں نے اُنھیں مسکرا کر دیکھا ہو۔ اُنھوں نے لِپ اِسٹک کبھی لگائی ہی نہ تھی۔ وہ مِسّی کے زمانے کی عورت تھیں۔ منہدی بھی اُنھوں نے شادی کے بعد ایک ہی دفعہ لگائی تھی۔ میاں نے اُنھیں رُکھائی سے ٹوک دیا تھا کہ اُنھیں منہدی پسند نہیں ہے۔ پھر اُس کے بعد اُنھوں نے زِندگی بھر منہدی نہیں لگائی تھی۔ نئی نسل کے لیے زِندگی کا یہ دور کتنا خوب صورت ہے، اس میں لمحہ لمحہ زِندگی کو جوڑنا نہیں پڑتا ہے۔ ہر سال نئے کپڑے‘ نئے زیور۔ اُن کے زمانے میں تو زیور زِندگی میں صرف ایک بار ہی بنتے تھے؛ شادی کے وقت؛ پھر زِندگی بھر اُنھی زیورات کے ساتھ گزارہ کرنا پڑتا تھا۔ رواج یہی تھا۔ زِندگی مہلت ہی نہیں دیتی تھی زیور خریدنے کی۔
تینوں بیٹے اُن کا بہت خیال رکھتے تھے۔ بیٹا بہو سال میں ایک مہینے کے لیے حیدر آباد آتے تھے۔ ماجد نے اِس سال اُنھیں سونے کے کنگن بھی لا کر دیے تھے۔ ترکی ڈِزائن کے نفیس مُنّقش کنگن۔ اُنھوں نے خوش اسلوبی سے وہ کنگن بھی بہو کو پہنا دیے تھے، کہ اب بڑھاپے میں اُنھیں زیور کی خواہش نہیں ہے، کیوں کہ اُنھیں اندازہ ہو چلا تھا کہ بہو کا دل اُن کنگنوں کے لیے ہمک رہا ہے۔
آج اُنھیں اپنے شوہر کی بہت یاد آ رہی تھی۔ کاش! وہ زندہ ہوتے اور یہ سب اپنی آنکھ سے دیکھتے کہ گھر میں کیسی بہار آئی ہوئی ہے۔ آج زِندگی میں خوشیاں بٹ رہی تھیں۔ لیکن وہ اپنا حِصّہ سمیٹنے سے پہلے ہی زِندگی کی محفل سے اُٹھ کر چلے گئے تھے۔ اُنھوں نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے سوچا، لیکن آج تو ٹھنڈی سانس بھی لینا ایک جرم لگ رہا تھا۔
کافی کا تلخ گھونٹ لیتے ہوئے اُنھوں نے ڈائننگ ہال میں ایک نِگاہ ڈالی۔ ہر طرف خاموشی تھی۔ سب لوگ سوئے ہوئے تھے۔ پتا نہیں رات دعوت کب ختم ہوئی۔ وہ جب سونے کے لیے اُٹھ کر گئیں تھیں، تو دعوت اپنے پورے شباب پر تھی۔ سب لڑکے لڑکیاں بینا کے گن گا رہے تھے۔
’’بِینا کی قسمت کے کیا کہنے۔ تھری چیرس ٹو بینا‘ز ہٹ‘‘۔
اُن کی طبیعت کسل مند سی تھی اور شوہر کی یاد اب تک ذہن میں گھوم رہی تھی۔ طبیعت کی کسل مندی دُور کرنے کے لیے وہ دُور تک نکل گئیں۔ Bina’s Hut کِتنا خوب صورت نام ہے۔ اِک اور نام تھا جو اُن کے ذہن کے نہاں خانوں میں کہیں بسا ہوا تھا۔ ’’سائبان‘‘۔ یہ وہ نام تھا جو اُنھوں نے اپنے گھر کے لیے سوچ رکھا تھا۔ اِک ادھوری خواہش؛ ایک حسرتِ نا تمام؛ ٹُوٹے ہوئے دِل کی کسک؛ اُنھوں نے اُداس ہوتے ہوئے گیٹ کے ستون میں جڑے ہوئے سنگِ مر مر کی تختی کو دیکھا۔ Bina’s Hut۔
پتھر پتھر کی قسمت بھی کتنی مختلف ہوتی ہے۔ ایک ہوتا ہے سنگِ مرمر جو عمارتوں کے ماتھے پر سجایا جاتا ہے اور ایک ہوتا ہے گنیٹ کا پتھر جو بنیادوں میں لگتا ہے، جو بوجھ اُٹھاتا ہے اور کسی کو نظر نہیں آتا۔ اُنھوں نے اُداس ہو کر سونچا۔

