تہی دست

جامی بھائی کے کتاب کی رسمِ اِجرا تھی اور میں ٹریفِک جام میں بُری طرح پھنس گیا تھا۔ بڑی مُشکل سے گُلو خلاصی ہوئی۔ نتیجتاً جب میں اُردو ہال پہونچا کافی دیر ہو چُکی تھی۔ جب میں ہال میں داخل ہُوا تو جلسہ شُروع ہو چُکا تھا۔ مجھے بہت پیچھے بیٹھنے کے لئے سِیٹ مِلی۔ ڈائس پر محترمہ زینت ساجدہ صاحبہ اور پروفیسر سراج الدین صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ کوئی نئے صاحب جِنھیں میں جانتا نہ تھا تقریر کر رہے

Read more

سُود و زیاں

فون کی گھنٹی بے تحاشا بج رہی تھی۔ رات کے دس بج چُکے تھے۔ وہ سونے کے لئے لیٹ چُکا تھا۔ وہ انجان پڑا رہا۔ فون اُٹھانے کی ذمّہ داری اُس نے بیوی پر رکھ چھوڑی تھی۔ اکثر فون بیوی کے لئے ہی آتے تھے۔ کبھی بہن فون کر رہی ہے۔ کبھی کوئی بھائی یا پھر بھانجی۔ بھانجی کے تو دن میں تین چار فون آتے تھے۔ ”ہیلو“ فون بالآخر بیگم نے ہی اُٹھایا۔ ”آفتاب ہے گھر پر“ ”ایک مِنٹ“

Read more

کائی کہانی

نوٹ : یہ کہانی اس دور کی ہے جب سیل فون ایجاد نہیں ہوا تھا۔ وہ بے بسی سے اپنے سامنے رکھے ہوئے بیسن کو دیکھنے لگا۔ بیسن میں خون ہی خون تھا۔ ابھی ابھی اسے الٹی ہوئی تھی۔ اس کا سارا سینہ درد سے کچا ہو رہا تھا۔ وارڈ بوائے کب آ کر بیسن اٹھا کر لے گیا اسے پتہ نہیں چلا۔ تھکن سے نڈھال ہو کر وہ لیٹ گیا۔ اس پر میٹھی سی غنودگی طاری ہونے لگی تھی

Read more

تسلسل کہانی

آج کھانا کچھ زیادہ بچ گیا ہے ۔ اپنے برتن میں رکھے ہوئے کھانے کو دیکھ کر اس نے سوچا۔ آج گھر جانا چاہیے منورہ دیکھ رہا ہو گا۔ یکایک کچھ لفظ اس کے کان میں گونج اٹھے۔ ”آپا تم آنے میں بہت دیر کرتی ہو۔ مجھے نیند آتی ہے۔“ شکایتی لہجہ کی تلخی اس کے ہونٹوں پر گھل گئی اور لفظ سنسناتی ہوئی گولیوں کی طرح اس کے دل میں اتر گئے۔ نو بج گئے ہوں گے۔ اس نے

Read more

تھکے پاؤں

”ممی میری ربن کہاں ہے“ آسیہ نے پکار کر پوچھا اور اس سے پہلے کہ ممی باورچی خانہ سے جواب دیتیں، عمران بول اٹھا۔ ”افوہ بے بی تم ابھی تک چوٹیوں سے کھیل رہی ہو۔ روز تمہاری چوٹیوں کی وجہ سے اسکول کو دیر ہو جاتی ہے“ ۔ ”رہنے دو بھیا تم بھی تو وقت پر تیار نہیں ہوتے ہو۔ کبھی پالش کرتے رہتے ہو، کبھی کتابیں ڈھونڈا کرتے ہو“ ۔ عمران جو کہ پالش کر رہا تھا اس کی

Read more

روزگار کا سنگ میل یا نوکری کی کچی تازہ قبر

”تو آپ قیصر ابراہیم کے بڑے بھائی ہیں“ اس کے بیٹھتے ہی انہوں نے سوال کر ڈالا۔ ”جی ہاں“ وہ کچھ بوکھلا سا گیا۔ انٹرویو اس طرح شروع ہو گا اس نے سوچا بھی نہ تھا۔ ”آپ کی کوالیفی کیشن“ ۔ انہوں نے فائل الٹتے ہوئے پوچھا ”انٹر میڈیٹ“ ”بس! کوئی معقول وجہ؟“ ”نا مساعد حالات کی بنا ر مجھے تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا“ ۔ اس نے عذر پیش کیا۔ ”کہاں کہاں نوکری کی آپ نے“ ۔ وہ

Read more

افسانہ :چھوٹی خالہ

سفر اپنے آخری مرحلہ میں تھا، ریل گاڑی کی رفتار دم توڑ رہی تھی، تھکن سے اس کا جسم چور چور تھا، ایک ایک ہڈی درد کر رہی تھی۔ حیدرآباد سے نئی دہلی، نئی دہلی سے امرتسر، اٹاری، پھر واہگہ بارڈر، پھر لاہور اور وہاں سے اسلام آباد، بیچ میں امیگریشن اور کسٹمز کی خواری۔ سلیمان بھائی نے کہا بھی تھا کہ ہوائی جہاز سے چلے جاؤ، ٹکٹ کے پیسے میں دے دیتا ہوں۔ لیکن ابا کی اصول پسندی، وہ کب کسی کا احسان لینے راضی ہوتے، وہ اپنی ضد پر اڑے رہے کہ ٹرین سے ہی جاؤں گا۔

Read more

بے سمت راستوں کے مسافر

وہ تیزی سے سارے منظر سمیٹنے لگا۔ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ منظر ساتھ نہیں جائیں گے۔ اس کے ساتھ اگر کوئی چیز جائے گی تو وہ ایک اتھاہ تاریکی ہوگی جس میں ہر منظر کھو جائے گا۔ ہر رنگ بے رنگ ہو جائے گا۔ پھر بھی وہ منظر سمیٹ رہا تھا۔ اس نے ایک سمت نظر ڈالی۔ ایک وسیع منظر اس کے نگاہوں میں سمٹ آیا۔ ایک بہت بڑی سبز و شاداب وادی تھی۔ ہری بھری پہاڑوں کی چوٹیاں

Read more

کھویا ہوا جزیرہ

جب تیسری بس بھی نکل گئی تو اس نے دل ہی دل میں ایک بار پھر میکانک کوگالیاں دینا چاہا لیکن اس بار بھی وہ ناکام رہا۔ صرف اس لئے کہ جس قسم کی گالیاں دینے کی وہ ہمت وہ کر سکتا تھا وہ ان گالیوں کے سامنے کچھ حیثیت ہی نہیں رکھتے تھے جو میکانک اور اس کے ساتھی ایک دوسرے کو دیا کرتے تھے۔ میکانک اسے آٹھ دن سے کار کے لئے ستارہا تھا اور وہ بے بس

Read more

حیدر آباد سے حیدر آباد تک

منیر بھائی کو حیدر آباد سے بہت مُحبّت تھی لیکن وہ پاکستان چلے گئے۔ یہ 1958 کی بات ہے۔ اُنھیں حیدر آباد کی ہر چیز سے پیار تھا۔ گلابی جاڑوں سے جو ایک ہلکے سے سویٹر اور مفلر سے بہل جاتے تھے؛ گرما کی شاموں اور راتوں سے۔ گرما میں شام کے وقت آنگن میں ہونے والے چھڑکاو سے۔ چار پائیوں پر ٹھنڈی سفید چادریں اور ان پر بکھیرے ہوئے موتیے کے پھولوں کی مہک سے۔ پہلی پہلی بارش میں

Read more

سائبان

ایک چھناکا ہوا اور اندر ہی اندر کوئی چیز ٹوٹ کر کِرچی کِرچی ہو گئی۔ اُنھوں نے سر اُٹھا کر اپنے شوہر کی طرف دیکھا۔ وہ گھمبیر سی صورت بنائے زیورات کے معائنے میں مصروف تھے۔ یہ وہ زیور تھے جنھیں وہ پہن کر دُلھن بنی تھیں۔ اِن زیوروں سے کئی خواب وابستہ تھے۔ اُن کے دل میں ایک عجیب سی خواہش نے انگڑائی لی، کہ ایک بار صرف ایک آخری بار وہ زیور پہن کر آئنے میں دیکھیں، کہ

Read more