تہی دست
جامی بھائی کے کتاب کی رسمِ اِجرا تھی اور میں ٹریفِک جام میں بُری طرح پھنس گیا تھا۔ بڑی مُشکل سے گُلو خلاصی ہوئی۔ نتیجتاً جب میں اُردو ہال پہونچا کافی دیر ہو چُکی تھی۔ جب میں ہال میں داخل ہُوا تو جلسہ شُروع ہو چُکا تھا۔ مجھے بہت پیچھے بیٹھنے کے لئے سِیٹ مِلی۔ ڈائس پر محترمہ زینت ساجدہ صاحبہ اور پروفیسر سراج الدین صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ کوئی نئے صاحب جِنھیں میں جانتا نہ تھا تقریر کر رہے
Read more
