ٹی وی اسکرین پر دہشت سے سیاسی جنات تک
پیچیدگی بیانیہ پر پیدا ہوتی ہے۔ آپ نے چالیس منٹ میں جو کچھ دکھایا اس کا اصل کہانی سے کتنا تعلق ہے؟ پاس سے کتنی سچویشنز ڈالیں۔ جو سچویشنز ڈالیں ان کو کس قدر مسالے دار بنایا۔ کیا کوئی ماہر نفسیات ‘ پورے پاکستان میں ۔۔۔کوئی ایک ماہر نفسیات یہ سرٹیفیکیٹ دے سکتا ہے کہ چالیس منٹ دورانیہ کی یہ جرم کہانی بہت سبق آموز ہے اور اس سے برے اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ ایک عام ناظر پوری کہانی کو غور سے دیکھتا ہے۔ کیونکہ اس میں جرم بہت دلکش انداز سے دکھانے کی کوشش کی گئی ہوتی ہے ۔اگر جرم کہانیوں کی اسی طور تصویر کشی جائز ہے تو اردو صحافت کی اس طرح کی خبروں ’ ’ستر سالہ بوڑھا جوان دوشیزہ کی عزت سے پوری رات کھیلتا رہا۔۔ داد عیش دیتا رہا۔۔ عصمت تار تار کردی “ وغیرہ پر تنقید بے معنی ہے کہ یہ معاملہ بھی اظہار آزادی رائے میں آتا ہے۔ اگر کسی محبوب نے دھوکے سے محبوبہ کو قتل کیا ہے تو قتل اور اس کے مضمرات تو آخری پانچ منٹ ہوتے ہیں جبکہ ابتدائی تیس پینتس منٹ کیا ہوتا ہے؟ آخری پانچ منٹ میں ناظر لاشعوری طور پر سوچتا ہے کہ اگر مجرم یہاں یہ والی غلطی نہ کرتا تو بچ سکتا تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے جرم کو پیش ایسے کیا۔عکسی نیورانز ہر وقت متحرک رہتے ہیں۔ فلم ٹی وی ہو یا ناول ، یہ ہر وقت دلکش سچویشنز میں ناظر کی اپنی ذات گھسانے کی کوشش میں مصروف رہتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کرائم شوز کے موضوع پر بیس سالہ طویل تحقیقات بھی یہی نتیجہ دیتی ہیں کہ ان سے ہم دلی میں کمی واقع ہوتی ہے۔ آپ کی اس کاوش سے معاشرہ mean world syndrome کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے ۔
تصور کیجیے کہ گیلپ سروے کے مطابق امریکہ میں تین دہائیوں سے بتدریج جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے لیکن 52 فی صد سے 89 فی صد لوگ گذشتہ تین دہائیوں سے لگاتار یہ سمجھتے رہے ہیں کہ جرائم کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے ۔ عوام کی یہ سوچ حقیقی اشاریات سے کوسوں دور کھڑی ہے۔ ان کو اس حقیقت سے دور لے کر جانے والے کون ہیں؟ کیا وہ معاشرے میں باہم مل جل کر رہنے کے حوالے سے معاہدے کی پاسداری کر رہے ہیں یا دھوکہ دہی کر رہے ہیں۔
جب آپ دنیا کو حقیقت سے کہیں زیادہ خطرناک سمجھنے لگتے ہیں تو ردعمل میں لاشعوری حوالے سے ایک میکانیت آنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اور اس میکانیت کے زیر اثر کسی معصوم کی جان جا سکتی ہے ۔
میڈیا کی ایک مثالی تعریف معاشرے کو توہمات سے نکالنا‘ اور شعور پیدا کرنے کے حوالے سے ہے لیکن اگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ میڈیا ایک صنعت ہے جس کا بنیادی مقصد پیسہ کمانا ہے تو یقینا یہ جنات و جرائم کی دنیا جائز دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اس ’جائز‘ کام سے دھوکہ دہی کی بو آئے تو کوئی ایسا ادارہ ہو نا چاہیے جو میڈیا یا کسی بھی شعبہ کو اس سے باز رکھے۔
اظہار آزادی رائے میں پہلے دو لفظوں کے ساتھ ایک تیسرا جاندار لفظ ’ رائے ‘ نتھی ہے۔ رائے کے پیچھے اگر جھوٹ اور دھوکہ دہی نمایا ں دکھائی دے تو ان تین لفظوں کے آگے میں سر بسجود نہیں ہو سکتا۔
ریٹنگ کے حوالے سے ہم عجب مغالطے کا شکار ہیں ۔ اسی مغالطے کے سبب پہلے ہم نے فلمی صنعت کا جنازہ نکالا کہ ہم کیوں بہتر مضامین پر فلمیں بنائیں ہمارا ناظر تو ریڑھی والا ہے۔ یہ قوم اتنی باشعور نہیں ہے کہ بہتر کہانی کو سمجھ سکے۔ ہم یہ بات کسی طور سمجھنے سے قاصر رہے کہ ستر کی دہائی میں بہترین فلموں کے بعد اسی کی دہائی میں گنڈاسہ کیوں مشہور ہو گیا۔ اس کے پیچھے کون سے نفسیاتی عوامل تھے۔ آمر جب پورے زوروں پر ہوتا ہے تو گھٹن زدہ ماحول میں عوام کے لیے ایسے مناظر بہت تسکین آمیز ہو جاتے ہیں کہ کوئی تو ہے جو گنڈاسے سے منفی کرداروں کو پیٹ رہا ہے۔
لیکن نوے کی دہائی کے وسط تک ہی گنڈاسہ دم توڑ گیا۔ آپ اس کے باوجود مصر رہے اور فلمی صنعت کا جنازہ نکال کے رکھ دیا۔
پرائیویٹ ٹیلی وژن آیا تو ابتدا میں جیو نے بہترین صحافتی روایات کا مظاہرہ کیا۔ غامدی، حمزہ نامہ اور الف جیسے پروگرام مشہور ہوئے۔ پروگرام ’الف ‘جو کہ مابعد الطبیعاتی نوعیت کا پروگرام تھا وہ بھی شہرت حاصل کر گیا۔ کتنی عجیب بات ہے کہ اس وقت Orkut اور فیس بک کی پروفائلزمیں پسندیدہ پروگراموں میں یہی پروگرام دکھائی دیتے تھے۔ اسی چینل کے پروگرامز میں ایک تنوع نظر آتا تھا جو کہ معاشرے کے ہر طبقے کو مخاطب کرتا تھا۔ لیکن ان پروگراموں کو مقبولیت حاصل کرنے کے لیے ایک وقت درکار ہوتا ہے ۔ بعد میں آنے والے چینلز کے بیشتر مالکان کاروباری پس منظر رکھتے تھے اور فوری منافع کے قائل تھے۔ کرائم شوز، اور جنوں کی تلاش جیسے پروگرام کم بجٹ زیادہ منافع والے پروگرام تھے۔
میں اب بھی یہ کہتا ہوں کہ میڈیا کی مثالی تعریف کو اگر ہم ایک طرف رکھ دیں، انارکی کو بطور نظام چن لیں تو یہ پروگرام کیا برے ہیں۔
اگر یہ اخلاقی حوالے سے جائزدوڑ ہے کہ بہتر مواقع ملنے کی وجہ سے کچھ لوگ تعلیم یافتہ ہو جاتے ہیں اور یہ تعلیم یافتہ لوگ حق رکھتے ہیں کہ بہتر مواقع نہ ملنے والے ’جاہلوں‘ کو دھوکے میں رکھ کر دولت کما سکتے ہیں تو میں اختلاف کرنے والا کون ہوں۔
لیکن اگر مجموعی انسانی دانش ‘ انسانی معاشرے کو تشکیل کرنے والے معاہدے کو مد نظر رکھتی ہے اور اس معاہدے کو احترام دیتی ہے، پسے ہوئے طبقوں کو ’خوف‘ اور ’توہمات‘ سے نکالنا چاہتی ہے تو اس کو کردار ادا کرنا ہو گا۔




