پاسو کا اندھا کباڑی، سخی آصف خواب بیچتا ہے!

پاسو جب وطن بنا تو ہم وطنوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔لاشعوری طور پاسو کو کچھ سکھانے گیا تھا لیکن جتنا عرصہ قیام رہا وقت سیکھنے میں ہی بیت گیا۔ ایسے نوجوانوں سے ملاقاتیں رہیں جن کا نتیجہ دوستی کی شکل میں برآمد ہوا۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو گا کہ پاکستان میں…

Read more

مولانا فضل الرحمان مارچ: کامیاب یا ناکام؟ فل سٹاپ

کل مولانا کے مارچ کم دھرنا کے بارے میں ید بیضا اور حاشر ابن ارشاد کی گفتگو سنی۔ یہ تو نہیں کہوں گا کہ ۔۔میں یہ کہتا ہوں۔۔ بلکہ بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے یہ کہوں گا کہ کسی سیانے نے یہ کہا ہے کہ کبھی دو دانشوروں کی بحث نہ سنیے کہ…

Read more

ذکر پینسٹھ کے رجز گوؤں کا

1965کے گمنام سپاہیوں، موسیقاروں،سورة الفتح کا نقش کاڑھنے والی ماوں بیٹیوں اور بہنوں کو سلام ! اگر کوئی ایسا پیمانہ ہوتا جس سے یہ پرکھا جا سکتا کہ ’’حرام موسیقی‘‘ نے حلال جنگ میں کیا حصہ ڈالا تو شاید ہم دانتوں میں انگلیا ں دبائے کھڑے ہوتے ، صرف17 دنوں میں 23 لازوال جنگی ترانے…

Read more

دانشور کون ہوتا ہے؟

دانشور کون ہوتا ہے؟ اس کے حوالے سے مختلف آراء اور اصطلاح پر تشریحات موجود ہیں۔ میرے نزدیک ایک دانشور کے کیا خدوخال ہوتے ہیں عرض کیے دیتا ہوں۔ لازم نہیں کہ آپ اس سےاتفاق کریں لیکن سوچ اور اس موضوع پر مکالمےکی نئی راہیں ضرور کھل سکتی ہیں، جس سے میرے لئے سیکھنے کے…

Read more

عطا آباد جھیل میں اپنے جوانوں کو بچاتے ہوئے شہید ہونے والے کرنل عارف

سفر ہے شرط پروگرام کی ریکارڈنگ کے لیے کرنل عارف نے ہمیں بریفنگ دینی تھی۔ ہم گلگت پہنچے اور رات 8 بجے کرنل عارف اپنے لیپ ٹاپ کے ہمراہ تشریف لائے۔ مجھے بعد میں علم ہوا کہ ان کا تعلق چکوال سے تھا لیکن ان سے ملاقات کے ابتدائی لمحات میں ہی اندازہ ہو گیا کہ ان کا تعلق اسی خطے سے ہو گا۔ اصل میں کوئی بندہ انفنٹری کا ہو اور اس کا تعلق چکوال، تلہ گنگ، اٹک یا میانوالی سے ہو تو اپنے پس منظر کی وجہ سے دو کلومیٹر دور سے پہچان لیتا ہوں۔

رات 11 بجے تک کرنل صاحب لیپ ٹاپ سے تصاویر اور نقشے دکھاتے رہے۔ صبح ہم نے 6 بجے عطاآباد جھیل کے سپل وے پر جانا تھا۔ سائیٹ پر دوبارہ بریفنگ ہوئی جس میں کافی معلومات ملیں۔ عطاآباد جھیل کا ملبہ شروع میں ایک آفت زدہ علاقہ تھا۔ کچھ معلوم نہیں تھا کہ کیا یہ ملبہ 30 کلومیٹر طویل جھیل کے پانی کے دباؤ کو برداشت کر پائے گا یا نہیں؟ معلومات دیں گئیں کہ سالانہ 10 میٹر کے حساب سے پانی کے اخراج والی جگہ پر بلاسٹنگ کرکے سپل وے کو گہرا اور چوڑا کیا جائے گا۔

Read more

میں کس حکومتی ایوارڈ کا فوری مستحق ہوں؟

حراموش کے کسی دوست نےمیرے حوالے سے پوسٹ ڈالی جس میں حکومت کو کہا گیا کہ ان کے لیے کسی ایوارڈ کا اعلان کیا جائے۔ پوسٹ میں تارڑ صاحب کی خدمات کا ذکر تھا اس لیے اس کو شئیر کر دیا۔ پوسٹ کے نیچے بہت سے دووستوں نے مثبت آراء دیں جن کا بہت شکر…

Read more

ہنزہ میں حلال گوشت کہاں سے ملے گا؟

سائیکی کیفے کاؤنٹر پر چند نوجوان تشریف لائے۔ دعا سلام کے بعد پوچھنے لگے ادھر نائٹ کلب کہاں پر ہے؟ میرے چہرے پر حیرت دیکھ کر کہنے لگے، ایک دوست نے بتایا تھا۔ میں نے ان کی غلط معلومات کی کچھ تصحیح کی ہی تھی کہ ایک نوجوان نے کہا، میرا تو یہاں دل ڈوبا…

Read more

ہنزہ کا ذہین چور ۔۔۔ پکڑا گیا!

باہر صحن کے واش روم میں آئے دن کوئی چیز غائب ہوتی۔ دن کیفے میں گزرتا اور شام واپس آتے تو کچھ نہ کچھ غائب ہوتا۔ کبھی صابن تو کبھی کنگھی۔ کبھی ٹوتھ پیسٹ تو کبھی ٹوتھ برش۔ ہنزہ میں ہمارے گھر کے صحن کی دیوار نہیں جو کہ اکثر گھروں کی نہیں ہےتو کوئی…

Read more

پاکستان اور بھارت: جنگی ہیجان کی نفسیات

پاکستان اور بھارت میں اس وقت جنگ کا ہیجان فتح کے جھنڈے گاڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ جمہوریت کے تسلسل اور جمہوری اداروں کی مضبوطی پر بھارت ایک جانب تو بجا طور پر درست فخر کرتا  دکھائی دیتا ہے  جبکہ دوسری طرف اگر عوام کی سطح پر دیکھا جائے تو جنگ کے حوالے سے جو انسیت اور ‘دشمن ملک’ کو نیست و نابود کر دینے کی جو خواہش وہاں پروان چڑھتی دکھائی دیتی ہے وہ کسی ‘سیکیورٹی سٹیٹ’ میں بھی شاید ہی دکھائی دے۔ یہ کیسا عجیب تضاد ہے؟

دوسری جانب عوام کی سطح پر پاکستان میں بھی جنگ سے انس کہیں زیادہ ہے گو کہ اس کا موازنہ بھارت کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا

Read more

صلاحیت سماعت کی غیر موجودگی میں کائنات خاموش ہے؟

چار دن پہلے لاہور میں کچھ دوست بیٹھے تھے۔ ٹی وی پر ایک سماعت کی صلاحیت کا ایک ٹیسٹ چلایا۔ ٹیسٹ کے نتائج دلچسپ تھے۔ دو دوست 15 ہزار ہرٹز پر آواز سن رہے تھے اس سطح پر میرے اور شعیب سرور کے لیے صرف خاموشی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ تقریبا 12 ہزار ہرٹز پر ہم اس قابل ہوتے تھے کہ آواز سن سکیں۔ ٹیسٹ بار بار چلایا گیا اور بار بار ایک ہی نتیجہ سامنے آیا۔ نتیجہ یہی تھا کہ میرے اور شعیب سرور کے لیے 12 ہزار ہرٹز سے زیادہ کی آواز وجود ہی نہیں رکھتی۔ یوں ہم اگر اپنی ان حسی تحدیدات کو سامنے رکھیں تو ایک حس کے محرک کم ہونے کے سبب ہماری پیرسیپشن کا دائرہ کم ہوتا چلا گیا ہے۔ یہی معاملہ ہماری قوت فیصلہ سے بھی براہ راست تعلق رکھتا ہے۔

عنوان مضمون میں جو سوال ہے اس پر حاشر ابن ارشاد نے توجہ مبذول کروائی کہ یہ سوال سب سے پہلے جارج برکلے نے اٹھایا بعد میں یہ سوال 1883 میں ایک میگزین میں نیم سائنسی حوالے سے شائع ہوا۔

Read more