میں نے ہنستے رقص کرتے کافر جن دیکھے ہیں

ایک لڑکی جس کی عمر بارہ تیرہ سال تھی اور ہماری دور پار کی رشتہ دار تھی عامل کے سامنے لائی گئی تو عامل نے کہا کہ نہیں آٹھ سال سے بڑا انسان گناہ گار ہوتا ہے اسے جن دکھائی نہیں دے سکتے کوئی آٹھ نو سال سے کم عمر بچہ لایا جائے۔ امی نے مجھے آگے کر دیا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ گاؤں میں گھر کے صحن میں سو رہے تھے کہ کوئی پتھر آ کر چارپائیوں کے

Read more

میری تمام تعارفی شناختیں، پکارتے مظلوم کے پاؤں کی مٹی برابر ہیں

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی بھلے ڈاکٹر ہوں گی لیکن فلسفی ہر گز نہیں ہے۔ جس طرح خواتین کے نازک اعضاء پر لگے تالوں کے معاملے کو انہوں نے اچھالا ہے بغیر یہ جانیں کہ نظریہ افادہ پسندی کی رو اس طرح کے واقعات دنیا میں ہر جگہ ہوتے ہیں اور تاریخ کے ہر دور میں ہوتے رہے ہیں۔ جہاں آبادی زیادہ ہوتی ہے وہاں ایسے واقعات کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ جہاں تعلیم کم ہو گی وہاں یہ شرح تھوڑی سی

Read more

موسم گرما سے محبت کے لیے البرٹ کامیو کے تین مشورے

احباب میں میری شہرت گرمیوں کے عاشق کی ہے۔ پینتالیس ڈگری درجہ حرارت میں پسینے میں شرابور جب میں یہ کہتا ہوں کہ ’آئی لو سمر‘ تو وہ اسے دماغی خلل سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ مجھے وقاص احمد اور البرٹ کامیو نے سمجھایا کہ گرمیوں سے عشق کیوں اور کیسے کرنا ہے۔ البرٹ کامیو کو میری اسی خدمت کے عوض نوبل انعام سے نوازا گیا۔ وقاص 24 برس کی عمر میں مر گیا۔ اس سے پہلے

Read more

شاہ کو خبر ہو، تنی رسی پر چلتا کسان گر گیا ہے

سیلابی ریلوں میں بہتے یہ جانوروں کے ریوڑ نہیں بلکہ ریوڑ کے ہر جانور سے کسان کی ایک جدا انسیت ہے۔ کسان کی ان سے محبت کے پیچھے معاشی مفادات بھی ہو سکتے ہیں لیکن کسان کے بچوں کی ان سے محبت بے لوث ہے۔ بہتے ریوڑوں میں یہ جانور بے نام نہیں ہیں۔ جانوروں کے یوں بہہ جانے کا دکھ تو کسان اور اس کے بچے جانتے ہیں یا پھر وہ ماں جانتی ہے کہ جس کے بچوں کے

Read more

وادی کالاش کہ جیسے کسی فلم کا سیٹ

موٹر سائیکل پر ایک طویل سفر سے حال ہی میں واپسی ہوئی ہے۔ قراقرم ہائی وے سے ہوتے ہوئے وادی غذر گئے یہاں یسین وادی کا چکر لگایا اور پھر شیندور لاسپور مستوج بونی سے ہوتے ہوئے چترال پہنچے۔ کالاش اور گول نیشنل پارک کے چکر لگانے کے بعد واپس لاہور آنے تک یہ سفر تقریباً دو ہزار کلو میٹر ہو چکا تھا۔ کئی دفعہ ایک سوال کا سامنا رہتا ہے کہ آپ گلگت بلتستان جانے کے لیے بابو سر

Read more

کیا تحریک انصاف کے علاوہ سب غدار ہیں؟

سات سال کی عمر تک روس میرے لیے ایک ایسا عفریت تھا جس کی بہت سی ٹانگیں اور بازو تھے۔ اس کا قد اتنا بڑا تھا کہ آسمان کو چھوتا تھا۔ روس میرے ذہن میں کیوں ایسے متشکل ہوا؟ یہ اسی کی دہائی تھی اور دور گاؤں دیہات تک خوف کی لہریں پھیل چکی تھیں۔ گھروں میں عموما بزرگ اپنے جملوں میں کہا کرتے تھے کہ ‘روس بہت بڑی بلا ہے جی‘۔ میرا بچگانہ ذہن اسی جملے کو پکڑتا تھا

Read more

کیا ہم گھٹیا ترین تہذیبی منافقت کے قابل بھی نہیں رہے؟

آئین کاغذ کے چند ٹکڑوں کا پلندا ہی تو ہے لیکن وہ لوگ، جنہیں انسان ہونے کا شرف حاصل ہے، وہ اس کے حوالے سے اس قدر حساس کیوں ہو جاتے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ انسانوں کی کثرت آئین کے حوالے سے حساس نہیں ہوتی بلکہ بہ امر مجبوری لکیر کا فقیر بنتے ہوئے اس کا احترام کرتی ہے؟ کیا یہی وجہ ہے کہ ہر طاقتور آئین میں درج الفاظ کی من پسند تشریح کر کے اپنی حرکتوں کا

Read more

بلاول کی ’بے نظیری خصوصیات‘ اور شیخ رشید کی معنی خیز مسکراہٹ

تارڑ صاحب سے پوچھا کہ آپ کے ناولوں میں طاقتور ترین کردار عورت ہی کے کیوں ہوتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ کیونکہ میرے اندر ساٹھ فیصد عورت ہے۔ فکر پر عورت کی پرچھائیں تو گوارا ہو جاتی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مرد کی ظاہری حرکات و سکنات میں عورت کی جھلک نظر آ جائے تو وہ معاشرے کے لیے مضحکہ خیز کیوں ہو جاتا ہے؟ کیا یہ عورت صنف کے حوالے سے ہمارے

Read more

مریم ناز کی باری پر سبھی چھٹی پر کیوں چلے جاتے ہیں؟

مریم ناز ایک بڑی لیکن بدقسمت فنکارہ ہے۔ مقامی و بین الاقوامی میڈیا نے کوریج دی لیکن آج سے تین سال پہلے انہوں نے ایک پکا کمرہ بنانے کے لیے چند سو ایٹنیں خریدیں تھیں، وہ اینٹیں اس کی جھونپڑی کے پاس ویسے ہی پڑی ہوئی ہیں۔ میری مریم سے شناسائی گزشتہ برس اس وقت ہوئی، جب ہم تھر میں تھے اور اپنے ٹی وی چینل کے لیے تیس قسطوں پر مبنی ایک پروگرام ریکارڈ کر رہے تھے۔ مٹھی میں

Read more

بچوں کی جسمانی سزا پر پابندی، کیا نتائج برآمد ہوئے؟

کئی سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی تربیت کا موقع ملا اور اس دوران ایک سوال ہر جگہ ہی پوچھا گیا کہ فرض کیجیے ایک بچہ ‘بدتمیزی‘ کر رہا ہے جبکہ سزا دینے پر پابندی ہے، بتائیے آپ ہماری جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟ اچھا سوال ہے لیکن اس کا جواب کسی طور آسان نہیں ہے۔ ہمیں اخلاقیات کے حوالے سے کول برگ کے نظریے کے حوالے سے معلوم ہے کہ اخلاقی ترقی کے مراحل میں پہلا مرحلہ سزا و جزا

Read more

جن نکالنے کا بہترین طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟

’آ تیرے جن کڈھاں‘ کا محاورہ عمومی ثقافتی پس منظر میں شدید مار پیٹ سے متعلق ہے کہ ہمارے خطے میں جن نکالنے کا یہی موثر طریقہ کار سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کیا جن نکالنے کا اس کے علاوہ بھی کوئی مناسب طریقہ کار ہو سکتا ہے؟ ایک دوست کا فون آیا کہ اُن کے خاندان میں ایک لڑکی ہے، جو کہ پی ایچ ڈی کر رہی ہے، اس کی کچھ ویڈیوز آپ کو بھیج رہا ہوں لیکن یہ ویڈیوز

Read more

مرتی ماں، مردہ بچہ اور کُھلا پھرتا ہے مردانہ

جب کبھی سفر درپیش ہو تو راستے اور منزل پر آنے والے ریستورانوں میں ایک عجب معاملے سے واسطہ پڑتا ہے۔ آپ جیسے ہی کسی ریستوران میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کو اشارے سے ایک پردے والی نکڑ کی جانب جانے کا اشارہ کیا جاتا ہے۔ کیونکہ آپ کے ساتھ زنانہ ہے تو آپ ادھر چھپ کر بیٹھیں۔ میں خدمت گزار (ویٹر) کو کہتا ہوں کہ ہم یہاں عام لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں بیٹھ سکتے ؟ وہ عجیب

Read more

نانگا پربت کے سائے میں ایک الجھی سوچ

نانگا پربت کو، جگلوٹ ہوٹل رات ہونے کے باوجود نظر آتا تھا۔ ہم نظر نہیں آتے تھے کہ ایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ چودہ سالہ استوری بچہ ٹرک ہوٹل پر پانی پینے رکا تھا۔ مجھے دیکھا تو پاس آیا اور گپ شپ شروع کر دی۔ وہ استور کے فلک بوس پہاڑوں کی ایک سفید روح تھی۔ اسکی سفیدی میں، چاند رات کو نانگا پربت کی لشکتی برف کا عمل دخل معلوم پڑتا تھا، یا شاید معاملہ الٹ ہو۔ باتوں

Read more

نوید اقبال، اس پار کیا گزرے گی معلوم نہیں

تدفین کے وقت چھ سات پتھر کی سلیبیں ترتیب وار رکھی جاتی ہیں اور آخری پتھر رکھنے سے پہلے کھیس یا چادر کھینچ لی جاتی ہے۔ اگر اس منظر کی ویڈیو کو فاسٹ فارورڈ کر کے دیکھا جائے تو میت کے اوپر چھ سات پتھروں کی ترتیب وار ٹھک ٹھک کے بعد کہانی ختم ہو جاتی ہے۔ اب آنے والی نسل کو کیا معلوم کہ کیسے کیسے بڑے لوگ پتھروں کی ٹھک ٹھک کے بعد کہاں چلے گئے۔

نوید اقبال، اس پار کیا گزرے گی معلوم نہیں لیکن میرے بھائی۔ اس طرف کی ایک خبر تمہیں دینی تھی کہ تمہاری عینک ٹوٹ گئی ہے۔

نوید اقبال میرے خالہ زاد بھائی تھے۔ والد سخت گیر تھے جس کی وجہ سے نوید اقبال نے ایک خاص نفسیاتی مدافعتی نظام پیدا کر لیا تھا۔ وہ اپنے ارد گرد مایوسی کے کسی محرک کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ ایسے لوگ لاشعوری طور پر ہر وقت میلہ چاہتے ہیں خوشی چاہتے ہیں۔ یہ بچپن میں سخت گیری دیکھنے کے حوالے سے مخصوص ردعمل ہوتا ہے۔

Read more

وطن کی شلوار خون آلود ہے

کارل سیگن نے درست فرمایا تھا کہ ایک سو بیس ارب کہکشائیں مل کر بھی ایک انسان نہیں بنا سکتی۔ انسان اس قدر قیمتی ہے۔

دنیا میں کوئی ریاست ایک چار سالہ بچی سے قیمتی نہیں ہو سکتی۔ چاہے وہ ریاست ایٹمی قوت ہو یا چاہے اس ریاست کی بنیادیں کسی اعلی آدرش پر بنائی گئی ہوں۔ ریاست کے تمام ادارے ایک بکری کی چھینک سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے کہ جن کے انتظامی بندوبست کے نیچے چار سال کی بچی کو تین افراد۔ دو دن۔

بچی کی چیخیں۔ دو دن۔ دو راتیں۔ ہزاروں صدیاں۔ تین افراد۔

Read more

خدا کے دفتر کی کچھ فائلیں

گاؤں میں صبح اٹھتا ہوں۔ آنکھیں جھپک کر یقین حاصل کر لیتا ہوں کہ ایک دن اور روشن ہوا۔

دروازے سے نکلتے ہوئے دیوار کے ساتھ گلی میں ہمارے گھر کے باہر ایک پلاسٹک کا پائپ کنکریٹ کی دیوار سے۔ یہی کچھ چار انچ باہر نکلا ہوا ہے۔ گھر کا آلودہ پانی اس کی تھوتھنی سے دن بھر بہتا ہی رہتا ہے۔ نتھنوں سے لٹکتی کائی پر ننھے بچے کی رالوں کا گماں ہوتا ہے۔ ۔ ۔ مجھے لگتا ہے یہ اس پلاسٹک کے پائپ کے لیے ایک بوریت سے بھرپور کام ہو گا۔ لیکن ایک دن نظر پڑی کہ اس کی گردن کے پاس سے کنکریٹ میں سے ہی ایک ننھا سا پودا بھی نکلا ہوا ہے۔ اس کے قامت کا بیشتر حصہ زمین کے متوازی ہے پھر کہیں چھاتی سے آگے جا کر وہ اپنا سر آسماں کی جانب کر لیتا ہے۔ میں گھر سے نکلتے ہی اس بے جوڑ رشتے کو دیکھتا ہوں۔ پائپ اپنی تھوتھنی سے آلودہ پانی اگلتا رہتا ہے۔ نہ بھی اگل رہا ہو تو رالیں بہتی رہتی ہیں۔ اور اس کی بغل میں ننھا پودا وقت گزاری کا ساماں پیدا کرنے کے لیے جھومتا رہتا ہے۔ گلی میں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے بے معنی ہیں۔ لیکن میں جب بھی گھر سے نکلتا ہوں تو آنکھوں سے مسکراہٹ بھرا بلبلہ اس بے جوڑ رشتے پر پھینکتا جاتا ہوں۔

Read more

کرونا رویہ۔ ۔ ۔ ایک ”حیرت انگیز کا قصہ“۔

ہمارے ایک بزرگ تھے۔ کوئی دلچسپ بات بتانی ہوتی تو کہتے۔ آؤ تمہیں ایک حیرت انگیز کا قصہ سناؤں۔
تو آئیے میں بھی آپ کو ایک حیرت انگیز کا قصہ سناؤں۔

گاؤں میں ایک جگہ بیٹھا تھا جہاں سات آٹھ افراد اور بھی بیٹھے تھے، ان کے مابین ہونے والی گفتگو پڑھیے۔ گفتگو پڑھنے کے دوران شرکا کے لہجوں کے تیقن کو تخیل میں ضرور لائیے گا۔

ایک نے دو واقعات بتائے کہ کیسے ان کے بہت قریبی جاننے والوں کو زہر کے انجکشن دیے گئے اور میتوں کو بغیر بتائے دفنا دیا گیا۔ ایسے میں ایک اور صاحب اٹھے اور کہنے لگے یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ ۔ ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اگر آپ کوئی مریض کسی اور مرض میں ہسپتال لے کر جائیں اور ڈاکٹروں کے کہنے پر اس کو کرونا کا مریض قرار دے دیں تو ایک لاکھ روپے ملتے ہیں جبکہ اگر آپ انکار کر دیں اور آپ کا مریض مر جائے تو جہاں بھی آپ دفنانے کے لیے قبرستان لے کر جائیں گے آپ کے پیچھے پیچھے اہلکار پہنچ جاتے ہیں جو آپ سے اڑھائی لاکھ کا مطالبہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ان کو یہ رقم نہ دی گئی تو وہ میت یہاں سے لے جائیں گے۔

Read more

کرونا پر 13 ویڈیوز۔ ۔ چودھویں بنانے سے کس نے روکا؟

اپریل کے دوسرے عشرے میں مائنڈ میٹرز یوٹیوب چینل پر کرونا لاک ڈاؤن سپیشل کے نام سے ویڈیوز بنانا شروع کیں، گو کہ اس چینل کا بنیادی مقصد ملک میں سائنسی رجحان کو فروغ دینا ہے اس لیے علم کائنات، نفسیات، بچوں کی نفسیات، فزکس اور بائیالوجی وغیرہ اس کے مخصوص موضوعات ہیں لیکن کرونا وبا کے حوالے سے سائنسی نکتہ نظر سے بات کرنا بھی ضروری تھی۔ ان ویڈیوز کا مقصد وطن عزیز میں آگہی مہم تھی۔ آنے والے خطرے سے انتباہ کرنا تھا۔ حفاظتی اقدامات کی تشہیر مقصود تھی۔ اور اس ساری کوشش کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجھے منہ کی کھانی پڑی۔

Read more

ایک کشادہ ڈِگی والے مرغے کی تلاش!

آج دفتر آ رہا تھا تو دھوپ میں چمک اور ہلکی تمازت محسوس ہوئی۔
سردیوں کے بعد موسم میں آتی یہ تبدیلی مریضانِ شمال کے لیے دل میں ٹیسیں لانے کا سبب بنتی ہے۔

لیکن دفتر پہنچتے پہنچتے ایک قضیے میں الجھ گیا۔ مجھے اس سال گلگت بلتستان میں سفر کے لیے ایک کشادہ ڈگی والے مرغے کی تلاش ہے۔
گذشتہ برس کینال روڈگلبرگ لاہور میں ایک تاریخی دستاویز پر دستخط ہوئے تھے۔

Read more

پروٹان عورتیں،الیکٹران مرد اور تیسری جنس نیوٹران!

جناب سلیم جاوید صاحب لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں۔ میں ان کا باقاعدہ قاری ہوں ۔ان کی زبان اور خیال دونوں سے لطف اور رہنمائی لیتا ہوں۔ ان کا مضمون ’ اپنی فطرت پر قیاس اصناف نازک سے نہ کر‘ نظر سے گزرا۔ ان کے مضمون کی شروعات ہی چونکا دینے کے لیے کافی تھیں۔ مرد عورت اور تیسری جنس کے تقابلے کے لیے
Kg 1.67*10 -27 کی سطح پر جا پہنچے۔

Read more

مرشد! میں بھونکدا ہاں، جو کئی شے وی نئیں بچی

نصرت فتح علی خان صاحب کی زندگی پر ایک دستاویزی پروگرام ”خسروئے ثانی“ بنا رہا تھا۔ اکثر موسیقار گھرانوں کے وارثین نے انٹرویو کے دوران کہا کہ خان صاحب کا تعلق قوال گھرانے سے تھا۔ تال بہت اچھا سمجھتے تھے۔ کس جگہ ضرب لگانی ہے اور حاضر سامعین کی توقعات پر کیسے پورا اترنا ہے یہ خان صاحب سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا۔ لیکن وہ گائیک نہیں تھے۔ کلاسیکی موسیقی کو سن سن کر کچھ چیزیں کہہ لینے کا

Read more

ظ سے ظلم۔۔۔ د سے دنیا۔.۔ پ سے پالتو!

پس پردہ کہیں دور سے آواز آ رہی ہے۔۔ اپنی کہانی۔ ۔کیسے کہیں گے اپنی کہانی۔۔ رات کو وہ گریباں پکڑ لیتا ہے۔ آنسوؤں سے بھیگا چھوٹاسا چہرہ کہ اس کے آنسو مجھے اس کے چہرے کی جسامت سے بڑے دکھائی دیتے ہیں۔ رات کے پچھلے پہر اپنے ننھے ہاتھوں سے وہ میرا گریباں پکڑ لیتا ہے۔ میں ہڑ بڑا کر اٹھنا چاہتا ہوں لیکن نہ جانے اس تین فٹ کی زندگی کے اندر کیسی طاقت ہے یا میرے اندر

Read more

لائل پوری موٹے، میں تمھیں معاف نہ کر دوں؟

  نہ تایخی سقم کہوں گا، نہ مورخین کی بد دیانتی، مسئلہ فقط مورخین کی اپنی فہم کے مطابق واقعات کی ترجیحات کا تعین ہے ۔ لیکن کیا تاریخ کو مورخین کی فہم پر چھوڑ دینا چاہئیے ۔ میرا خیال ہے یہ نہ صرف ظلم ہو گا بلکہ نسل انسانی کو صحیح راستے پر ڈالنے میں ایک رکاوٹ بھی۔ مثال کے طور پر 1997ءکو ہی لیں ۔ آپ کو اہم واقعہ میاں نواز شریف کا بھاری اکثریت لے کر وزیر اعظم

Read more

پاسو کا اندھا کباڑی، سخی آصف خواب بیچتا ہے!

پاسو جب وطن بنا تو ہم وطنوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔لاشعوری طور پاسو کو کچھ سکھانے گیا تھا لیکن جتنا عرصہ قیام رہا وقت سیکھنے میں ہی بیت گیا۔ ایسے نوجوانوں سے ملاقاتیں رہیں جن کا نتیجہ دوستی کی شکل میں برآمد ہوا۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو گا کہ پاکستان میں مردوں کے بالوں کا فیشن یعنی ہیر سٹائل پاسو سے شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد ملک کے بڑے شہروں میں پھیلتا ہے۔ بلکہ

Read more

مولانا فضل الرحمان مارچ: کامیاب یا ناکام؟ فل سٹاپ

کل مولانا کے مارچ کم دھرنا کے بارے میں ید بیضا اور حاشر ابن ارشاد کی گفتگو سنی۔ یہ تو نہیں کہوں گا کہ ۔۔میں یہ کہتا ہوں۔۔ بلکہ بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے یہ کہوں گا کہ کسی سیانے نے یہ کہا ہے کہ کبھی دو دانشوروں کی بحث نہ سنیے کہ دوطرفہ بھاری بھر کم دلائل سے نتیجہ اخذ کرنا تودرکنار آپ خود عقلی انتشار کا شکار ہو کر مزید بے اطمینانی پال لیں گے۔ کیا

Read more

ذکر پینسٹھ کے رجز گوؤں کا

1965کے گمنام سپاہیوں، موسیقاروں،سورة الفتح کا نقش کاڑھنے والی ماوں بیٹیوں اور بہنوں کو سلام ! اگر کوئی ایسا پیمانہ ہوتا جس سے یہ پرکھا جا سکتا کہ ’’حرام موسیقی‘‘ نے حلال جنگ میں کیا حصہ ڈالا تو شاید ہم دانتوں میں انگلیا ں دبائے کھڑے ہوتے ، صرف17 دنوں میں 23 لازوال جنگی ترانے تخلیق ہوئے ، ایسی شاعری ۔ ہائے ہائے ۔ آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر

Read more

دانشور کون ہوتا ہے؟

دانشور کون ہوتا ہے؟ اس کے حوالے سے مختلف آراء اور اصطلاح پر تشریحات موجود ہیں۔ میرے نزدیک ایک دانشور کے کیا خدوخال ہوتے ہیں عرض کیے دیتا ہوں۔ لازم نہیں کہ آپ اس سےاتفاق کریں لیکن سوچ اور اس موضوع پر مکالمےکی نئی راہیں ضرور کھل سکتی ہیں، جس سے میرے لئے سیکھنے کے اسباب پیدا ہو سکتے ہیں۔ 1۔ غصے پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے راقم نے کہیں پڑھا کہ جس انسان کا بھی غصے پر مکمل کنٹرول

Read more

عطا آباد جھیل میں اپنے جوانوں کو بچاتے ہوئے شہید ہونے والے کرنل عارف

سفر ہے شرط پروگرام کی ریکارڈنگ کے لیے کرنل عارف نے ہمیں بریفنگ دینی تھی۔ ہم گلگت پہنچے اور رات 8 بجے کرنل عارف اپنے لیپ ٹاپ کے ہمراہ تشریف لائے۔ مجھے بعد میں علم ہوا کہ ان کا تعلق چکوال سے تھا لیکن ان سے ملاقات کے ابتدائی لمحات میں ہی اندازہ ہو گیا کہ ان کا تعلق اسی خطے سے ہو گا۔ اصل میں کوئی بندہ انفنٹری کا ہو اور اس کا تعلق چکوال، تلہ گنگ، اٹک یا میانوالی سے ہو تو اپنے پس منظر کی وجہ سے دو کلومیٹر دور سے پہچان لیتا ہوں۔

رات 11 بجے تک کرنل صاحب لیپ ٹاپ سے تصاویر اور نقشے دکھاتے رہے۔ صبح ہم نے 6 بجے عطاآباد جھیل کے سپل وے پر جانا تھا۔ سائیٹ پر دوبارہ بریفنگ ہوئی جس میں کافی معلومات ملیں۔ عطاآباد جھیل کا ملبہ شروع میں ایک آفت زدہ علاقہ تھا۔ کچھ معلوم نہیں تھا کہ کیا یہ ملبہ 30 کلومیٹر طویل جھیل کے پانی کے دباؤ کو برداشت کر پائے گا یا نہیں؟ معلومات دیں گئیں کہ سالانہ 10 میٹر کے حساب سے پانی کے اخراج والی جگہ پر بلاسٹنگ کرکے سپل وے کو گہرا اور چوڑا کیا جائے گا۔

Read more

میں کس حکومتی ایوارڈ کا فوری مستحق ہوں؟

حراموش کے کسی دوست نےمیرے حوالے سے پوسٹ ڈالی جس میں حکومت کو کہا گیا کہ ان کے لیے کسی ایوارڈ کا اعلان کیا جائے۔ پوسٹ میں تارڑ صاحب کی خدمات کا ذکر تھا اس لیے اس کو شئیر کر دیا۔ پوسٹ کے نیچے بہت سے دووستوں نے مثبت آراء دیں جن کا بہت شکر گزار ہوں۔ لیکن اس پوسٹ اور اس کے نیچے دی گئی آراء نے دماغ کے بہت سے دریچے وا کر دیے۔ جاننے والے نہیں جانتے

Read more

ہنزہ میں حلال گوشت کہاں سے ملے گا؟

سائیکی کیفے کاؤنٹر پر چند نوجوان تشریف لائے۔ دعا سلام کے بعد پوچھنے لگے ادھر نائٹ کلب کہاں پر ہے؟ میرے چہرے پر حیرت دیکھ کر کہنے لگے، ایک دوست نے بتایا تھا۔ میں نے ان کی غلط معلومات کی کچھ تصحیح کی ہی تھی کہ ایک نوجوان نے کہا، میرا تو یہاں دل ڈوبا جا رہا ہے۔ پوچھا کہ بھائی یہاں آپ کا دل کیوں ڈوبا جا رہا ہے، کہنے لگے سمجھ نہیں آتی کہ یہاں حلال گوشت کہاں

Read more

ہنزہ کا ذہین چور ۔۔۔ پکڑا گیا!

باہر صحن کے واش روم میں آئے دن کوئی چیز غائب ہوتی۔ دن کیفے میں گزرتا اور شام واپس آتے تو کچھ نہ کچھ غائب ہوتا۔ کبھی صابن تو کبھی کنگھی۔ کبھی ٹوتھ پیسٹ تو کبھی ٹوتھ برش۔ ہنزہ میں ہمارے گھر کے صحن کی دیوار نہیں جو کہ اکثر گھروں کی نہیں ہےتو کوئی بھی آسانی سے آ جا سکتا ہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ چوری کی نوعیت بہت عجیب تھی ۔ اسی واش روم میں کپڑے ، تولیہ

Read more

پاکستان اور بھارت: جنگی ہیجان کی نفسیات

پاکستان اور بھارت میں اس وقت جنگ کا ہیجان فتح کے جھنڈے گاڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ جمہوریت کے تسلسل اور جمہوری اداروں کی مضبوطی پر بھارت ایک جانب تو بجا طور پر درست فخر کرتا  دکھائی دیتا ہے  جبکہ دوسری طرف اگر عوام کی سطح پر دیکھا جائے تو جنگ کے حوالے سے جو انسیت اور ‘دشمن ملک’ کو نیست و نابود کر دینے کی جو خواہش وہاں پروان چڑھتی دکھائی دیتی ہے وہ کسی ‘سیکیورٹی سٹیٹ’ میں بھی شاید ہی دکھائی دے۔ یہ کیسا عجیب تضاد ہے؟

دوسری جانب عوام کی سطح پر پاکستان میں بھی جنگ سے انس کہیں زیادہ ہے گو کہ اس کا موازنہ بھارت کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا

Read more

صلاحیت سماعت کی غیر موجودگی میں کائنات خاموش ہے؟

چار دن پہلے لاہور میں کچھ دوست بیٹھے تھے۔ ٹی وی پر ایک سماعت کی صلاحیت کا ایک ٹیسٹ چلایا۔ ٹیسٹ کے نتائج دلچسپ تھے۔ دو دوست 15 ہزار ہرٹز پر آواز سن رہے تھے اس سطح پر میرے اور شعیب سرور کے لیے صرف خاموشی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ تقریبا 12 ہزار ہرٹز پر ہم اس قابل ہوتے تھے کہ آواز سن سکیں۔ ٹیسٹ بار بار چلایا گیا اور بار بار ایک ہی نتیجہ سامنے آیا۔ نتیجہ یہی تھا کہ میرے اور شعیب سرور کے لیے 12 ہزار ہرٹز سے زیادہ کی آواز وجود ہی نہیں رکھتی۔ یوں ہم اگر اپنی ان حسی تحدیدات کو سامنے رکھیں تو ایک حس کے محرک کم ہونے کے سبب ہماری پیرسیپشن کا دائرہ کم ہوتا چلا گیا ہے۔ یہی معاملہ ہماری قوت فیصلہ سے بھی براہ راست تعلق رکھتا ہے۔

عنوان مضمون میں جو سوال ہے اس پر حاشر ابن ارشاد نے توجہ مبذول کروائی کہ یہ سوال سب سے پہلے جارج برکلے نے اٹھایا بعد میں یہ سوال 1883 میں ایک میگزین میں نیم سائنسی حوالے سے شائع ہوا۔

Read more

ناچتی ایڑیوں کی مقدس دُھول!

میں ناچتے لوگوں کے پاؤں سے اڑتی اس مقدس دھول کو دیکھتا تھاجس سے وہ بے خبر تھے ۔ ایک سو بیس ارب سے زائد کہکشاؤں پر مشتمل اس وسیع و عریض کائنات میں ایک ناقابل ذکر سیارہ زمین۔ اور اس پر موجود نقطے برابرایک گاؤں جس میں گمنام انسانوں کے ایک گروہ میں چند لوگ ناچتے تھے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے دھول اڑتی تھی۔ مقدس دھول۔ مجھے نہ ایک سو بیس ارب سے زائد کہکشاؤں سے

Read more

گھریلوملازمین پر تشدد اور نو عمر بچوں کے ساتھ ریپ کی نفسیاتی وجوہات

یوں تو گھریلو ملازمین پر کیے گئے تشدد کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن تحقیق میں آپ عام اور کثرت میں پائے جانے والے رویے کو ہی زیر بحث لاتے ہیں۔ ایسی بحث میں ہمارامقصداور ہدف جذبات اور ایک طرف رکھتے ہوئے معروضی مطالعہ ہوتا ہے۔ فرائیڈ سگمنڈ رویوں کا مطالعہ کرتے وقت ، رویوں کے پیچھے شعور لاشعور جیسی قدرے غیر سائنسی محرکات کو دیکھتے ہیں جس پر آپ ہزار بحث کریں لیکن فرائیڈ کی کامیابی ہی یہی

Read more

ڈاکیومینٹری: ہنزہ میں خودکشی کا بڑھتا رجحان

اس ڈاکیومینٹری میں آراء ہنزہ کے شہریوں کی ہیں جن میں سماجی رہنما و کارکن، ماہرین تعلیم ویونیورسٹی سکالرز شامل ہیں۔ ان آراء سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن بحیثیت مجموعی یہ آراء ہمیں مسئلہ کی حساسیت اور نوعیت کی جانب رہنمائی ضرور کرتی ہیں۔ کسی مسئلہ کی موجودگی سے سرے سے ہی انکار یا نظر انداز کرنا اس کا حل نہیں ہے۔ انکار اور نظر انداز کرنے کے رویے کا نتیجہ یہی نکلا ہے کہ مسئلہ اور زیادہ

Read more

ہاتھ زخمی فیڈرخالی ہے۔ پہلی رات بھاری ہے!

جب کانٹا چبھتا تھا تو رو رو کرآسمان سرپراٹھا لیتی تھی۔ اماں اپنی سہیلیوں کو کہتی۔ اس کی زندگی کیسے گزرے گی؟
ذرا سا درد ہو یا تھوڑی سی بھوک لگے کہرام مچا دیتی ہے۔

اماں کو سہیلیاں جواب دیتیں۔ کوئی بات نہیں اتنی سی تو بچی ہے۔ بڑی ہو کر سیکھ جائے گی۔ اریبہ بھی تو سیکھ ہی گئی ہے۔
اب جب کے میں سیکھنے پر آئی ہوں تو گذشتہ بارہ گھنٹوں میں سب سیکھ لیا لیکن جنہوں نے اس سیکھے پر خوش ہونا تھا وہ کہیں نظر نہیں آ رہے۔

ہاتھ زخمی ہے۔ بہن کے ہاتھ میں فیڈر خالی ہے۔ لیکن درد کہیں نہیں ہے۔ گذشتہ بارہ گھنٹوں میں اتنا کچھ ہوا۔ کہ ہاتھ اور خالی فیڈر کی جانب دھیان ہی نہ جا سکا۔ میں ابھی تک انہیں لمحات میں قید ہوں۔ ساہیوال نام شہر کے آس پاس۔ فریاد کرتا بابا۔ روتی ماں اور پھر۔ تڑ تڑ کرتی گولیوں کی کافی دیر تک کی گئی بوچھاڑ۔

Read more

دلیر بھوکا بھارتی فوجی اور نڈر دادا!

 ٹی وی خبروں میں بھارتی فوجی کی ویڈیو دیکھی جس میں وہ پیٹ بھر کر کھانا نہ ملنے کی شکایت کر رہا ہے۔ خبر کو دیکھ کر دادا کا سنایا ایک دلچسپ واقعہ یا د آ گیا۔ دادا  اور اس واقعہ کےچشم دید گواہ (گاؤں کے ہی دوسرے بزرگ)  ہنس ہنس کر روداد سناتے تھے۔ قصہ یہ تھا کہ دادا کہیں مدراس  کے آس پاس تعینات تھے۔ وہاں روزانہ چنے کی دال پکتی تھی۔ دادا کے بقول چنے کی دال

Read more

دادا، میرا بچپن اور …. قضیہ ایک کتے کا!

 میں تیسری جماعت میں تھا ۔ ہمارا گھر ایک ڈھوک یا جھوک تھی یعنی گاﺅں سے دور کھیتوں اور درختوں میں کہ جہاں چار دیواری نہیں تھی اور یوں ہمارا صحن افق تک پھیلا تھا۔ اسکول بھی ڈھوک طرز پر ہی دو کچے کمرے تھے۔ اسکول جانے کے لیے کپڑے سے بنا ایک جھولا نما بستہ جو کاندھے پر لٹکانے کے باوجود زمین پر گھسٹتا، اس کے اند ر ایک تختی جو چلتے وقت گھٹنوں سے ٹکراتی رہتی اور ایک

Read more

برٹرینڈ رسل کے خطوط ۔۔میں ذکر ذوالفقار علی بھٹو!

ایک ایسے معاشرے میں جہاں عمومی بیانیہ "ملک کو سیاستدان لوٹ گئے” کے گرد گھومتا ہو، جہاں آج بھی محفلوں میں آمریت و جمہوریت کا موازنہ کیا جاتا ہو، جہاں مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کے ذمہ داروں کے تعین پر بحث میں بھٹو کو گھسیٹا جائے جبکہ اس سانحے سے پہلے کی پوری دہائی آمریت راج کرتی رہی ہو تو وہاں اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ دنیا کے عظیم فلسفی مفکر انسانیت دوست، مشرق کو مغرب کے

Read more

جب بی بی شہید ہوئی تو میں۔۔۔ چھت پر جا کر رو دیا!

ہمارے جیسوں کی سیاسی وابستگیاں نہیں ہوتیں انسانی وابستگیاں ہوتی ہیں۔ ہمارے گھر اور رشتہ داروں میں پاکستان پیپلز پارٹی سے ہمدردی کی گنجائش کم تھی۔ نوے کی دہائی میں جب بی بی کے خلاف کردار کشی مہم چلی تو پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ گنے چنے جاننے والے منہ چھپاتے پھرتے تھے۔ بی بی کے خلاف بازاری زبان میں شعر زباں زد عام تھے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ کسی بھی عورت جس سے ہم کسی بھی حوالے سے وابستہ ہوں اس پر کیچڑ اچھالا جائے جھوٹی کردار کشی کی مہم چلائی جائے اور سب جانتے بھی ہوں کہ یہ جھوٹ ہے تب بھی ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں جبکہ بی بی کے مقابلے میں نواز شریف تو بہر حال مرد تھے۔ مرد کی کردار کشی زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتی ہے کہ رنگ رلیاں مناتے ہوئے پکڑا گیا تو کیا ہوا مرد ہے شہزادہ ہے کچھ تو کرے گا۔ یہ میں آپ کو روایتی دیہی سوچ کے تناظر میں بتا رہاہوں۔ تو اس وقت ایک شہزادے اور ایک شہزادی۔۔ نہیں بلکہ ایک شہزادے اور ایک عورت کے درمیان سیاسی جنگ عروج پر تھی۔ اور ہمارا خاندان اور بیشتر گاؤں کی آبادی شہزادے کے ساتھ تھی۔ تو اس پس منظر کے حامل کو پیپلز پارٹی سے کیا ہمدردی ہو سکتی تھی؟

Read more

آل ہنزہ ہوٹلز ایسوسی ایشن۔ دوسرے سیاحتی مراکز کے لیے ایک مثال!

آل ہنزہ ہوٹل ایسوسی ایشن کا قیام 2009 میں عمل میں آیا۔ ہوٹل مالکان اور سیاحوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اس ایسو سی ایشن کے قیام کے پس پردہ محرک آغا خان اکنامک بورڈ تھا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آل ہنزہ ہوٹل ایسوسی ایشن کیا کرتی ہے اور سیاح اس سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

آل ہنزہ ہوٹل ایسوسی ایشن ایک طرف تو ہوٹل مالکان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے تو دوسری طرف سیاحوں کے لیے یہ بات یقینی بناتی ہے کہ ان کو ہنزہ میں قیام کے دوران کسی طرح کی دھوکہ دہی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ آل ہنزہ ہوٹل ایسوسی ایشن نے سب سے پہلے تمام ہوٹلز کا دورہ کر کے اس کے کمروں کا چیک کیا اور سہولیات کے اعتبار سے ان کے زیادہ سے زیادہ ریٹ کو فکس کیا۔ اس عمل کے دوران ایسوسی ایشن کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ہوٹل مالکان کے اس مؤقف کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا تھا کہ سیزن کی مدت بہت کم ہوتی ہے تو اس میں ریٹ کو فکس کرنے سے انہیں نقصان ہوتا ہے۔ آل ہنزہ ہوٹل ایسوسی ایشن نے تمام ہوٹل والوں کو سمجھایا کہ آپ کی سرمایہ کاری ایک سے زیادہ سیزن میں واپس ہو سکتی ہے۔ اگر آپ یہ چاہیں گے کہ آپ کی سرمایہ کاری ایک ہی سیزن میں واپس آ جائے تو اس سے سیاحوں کے ساتھ زیادتی کا امکان زیادہ سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ آل ہنزہ ہوٹل ایسوسی ایشن کے قیام کا بڑا مقصد یہ بھی ہے سیاحوں کے ساتھ ہنزہ میں ہوٹل ریٹ کے حوالے سے زیادتی کے امکان کو صفر کیا جا سکے۔

Read more

چلاس: کافر چٹان، محب الوطن پاکستانی بن گئی!

سفر ہے شرط پروگرام کرنے کے دوران جس حقیقت نے مجھے حیرت سے دوچار کیا تھا وہ چلاس کی تاریخی ورثہ کے حوالے سے اہمیت تھی۔ حیرت اس بات پر تھی کہ چلاس جیسے شہر میں تو سیکڑوں ہوٹل ہونے چاہیے تھے جہاں رہنے کو کمرہ دستیاب نہ ہو جبکہ چلاس کی شہرت شدت پسند رویوں کے تناظر میں اس قدر منفی ہوتی گئی کہ اس کی آثار قدیمہ کے حوالے سے اہمیت پس منظر میں چلی گئی۔

پروگرام میں ہی بتایا تھا کہ چلاس، گلگت بلتستان کی تہذیب کا مرکز رہا تھا۔ گلگت یعنی سارگن شہر تو ابھی کل کی بات ہے یعنی کوئی پندرہ سو سے دو ہزار سال پرانی بات ہے جبکہ چلاس، داریل اور تانگیر سندھ تہذیب کے مراکز میں سے تھے۔ اسی چلاس میں ایک ایسا بت بھی ہوتا تھا جس کے قدموں کے نیچے سے ’ٹریفک‘ گزرتی تھی۔

Read more

کیا ٹریفک پولیس واقعی اتنی بری ہے؟

مجھے گاڑی چلاتے کم و بیش بیس سال ہو گئے ہیں۔ اس دوران پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کا بھی تجربہ رہا اور موٹر سائیکل کار چلاتے ہوئے بھی سڑک کی نفسیات سے آگہی رہی ۔ ان بیس برسوں میں آج تک کسی ٹریفک پولیس والے نے بد تمیزی نہیں کی۔ اب ایسا بھی نہیں کہ یہ بیس برس میں نے مریخ پر گزارے۔ یقینا پولیس والوں نے بارہا روکا ہو گا۔ کبھی میں کسی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو

Read more

حراموش کو فراموش کرنا ممکن نہیں

کوئی دو برس گزرے، مستنصر حسین تارڑ صاحب کے ساتھ حراموش مہم میں شرکت رہی۔ تارڑ صاحب کی پلکوں پر نہ جانے کب سے حراموش جھیل پر ایک شب بسر کرنے کا خواب اٹکا تھا۔ اس سے پچھلے سال بھی انہوں نے ایک کوشش کی لیکن بوجہ حرمزدگی موسم ‘ مسلسل تین دن جہاز اڑنے سے انکاری رہا۔ اس امکان کے پیش نظر پروگرام یہ تھا کہ ایک گاڑی کرایے پر لی جائے گی اور لاہور سے اسلام آباد جایا

Read more

ایک ان پڑھ دیہاتی گنوار گلگتی کی باتیں!

ہوٹل کے لیے پنڈی سے خریدا ہوا سامان گلگت پہنچ چکا تھا۔ اب سامان کو پسو لے کر آناتھا۔ ایک سوزوکی ڈرائیور سے بات ہوئی۔ ڈرائیور کا نام شمس الاسلام فرض کر لیں۔ سامان کو سوزوکی پر لوڈ کرنے کے دوران میں اپنے اور ڈرائیور کے لیے چپس کے دوپیکٹ مع کوکا کولا کے دو ٹن پیک خرید کر لے آیا۔ سوزوکی روانہ ہونے کو تھی جب شمس الاسلام نے مجھے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔ صاحب اپنا ایک بیٹا ہے ابھی

Read more

اب عمران کو تنہا مت چھوڑنا!

یہ جولائی کی 24 تاریخ ہے۔ کل انتخابات کا دن ہے۔ چند سطریں پیش خدمت ہیں کہ سند رہیں بھٹو کے ساتھ تو جو ہوا سو ہوا۔ تاریخ کے قاری ہیں، عہد کے چشم دید گواہ نہیں لیکن بعد میں جو کچھ بی بی کے ساتھ ہوا اس عہد کم ظرف کو کھلی آنکھوں سے دیکھا۔ آج جنہیں بی بی شہید کہا جاتا ہے، اور متنبہ کیا جاتا ہے کہ نواز شریف جیسے لیڈر کا بی بی جیسی قد آور

Read more

کیا مشینی انسان برتر اخلاقیات کا حامل ہو گا؟

انسانی ذہن کو جو سبقت ارتقائی سفر میں نصیب ہوئی اس کو اختصار سے بیان کیا جائے تو یہی کہا جائے گا کہ تکرار پر مبنی نمونوں کو پڑھنے سمجھنے اور پھر پیش گوئی کی صلاحیت نے اس کو باقی انواع کی نسبت کہیں آگے لا کھڑا کیا۔ حسی اعضاء سے دماغ میں جانے والی کوئی بھی تحریک مختصر دورانیے کی یاداشت میں جا پہنچتی ہے ۔ وہاں سے طویل مدتی یاداشت میں اسی سے ملتے جلتے نمونوں کی مدد

Read more

ٹی وی اسکرین پر دہشت سے سیاسی جنات تک

کیا سماج کی بہتری کے لیے ‘کشید کی گئی مجموعی انسانی دانش کو کوئی کردار ادا کرنا چاہیے یا نہیں؟ اس مجموعی انسانی دانش کو کیا کسی پیمانے سے پرکھا جا سکتا ہے؟ اگر ہم یہ کہیں کہ دانش overview effect کے بڑھنے کا نام ہے اور اس کا حتمی نتیجہ رواداری کی شکل میں برآمد ہوتا ہے تو شاید کلی اتفاق ممکن ہے۔ یہ اتفاق اس لیے ناگزیر ہے کہ بنیاد سائنس ہے۔ اسی انفرادی دانش کے دائرے کو

Read more

قراقرم ہائی وے پر اخلاقی دیوالیہ پن

یہاں عجب منظر ہے۔ ایک دن میں کئی کئی حادثات معمول بن چکے ہیں۔ غیرملکی سیاح بھاگ کر کچھ عرصے کے لیے مختلف نالوں میں پناہ لے چکے ہیں۔ مقامی لوگ بالخصوص خواتین کو عجیب و غریب تجربات سے واسطہ پڑ رہا ہے۔ ٹھہریے کہانی کو 20 رمضان کے بعد سے شروع کرتے ہیں جب حملہ آور سیاح یہاں نہیں پہنچے تھے۔ میری بیوی اور بہن بچوں سمیت پسو میں ہوٹل کے صحن میں بیٹھی رہتیں۔ ہوٹل کے عین سامنے

Read more

شمسی نظام کی وسعت جاننے کے لیے ۔۔۔ایک بہترین ویب سائیٹ جانئے!

شمسی نظام اور اس کے اجسام کے مابین پائے جانے والے فاصلوں کی وسعت کو ‘محسوس ‘ کرنا اس لیے ناممکن ہو جاتا ہے کیونکہ مہین سے ریت کے ذرے پر بیٹھ کر صحرا کی وسعت کا اندازہ کیونکر ہو سکتا ہے؟ ریت کے اس ذرے پر نفرتوں کو فروغ اس لیے بھی ملتا ہے کیونکہ اس ذرے سے باہر جھانکنے کی لازمی تعلیم درسی کتابوں سے یا تو دور ہے اور یا اگر دی بھی جا رہی ہے تو

Read more

نظام شمسی کی وسعت ۔۔۔پیمانہ قراقرم ہائی وے!

کائنات اور ہماری کہکشاں تو ایک طرف ٗ ہم اپنے ننھے منھے نظام شمسی کی وسعت کو بھی تخیل میں لانے سے قاصر ہیں۔ روشنی کی رفتار کو پیمانہ بنا کر ہندسوں کی مدد سے فاصلوں کی پیمائش تو بتائی جا سکتی ہے لیکن تخیل میں صحیح منظر کشی ناممکن بات ہے۔ نظام شمسی میں سورج اور باقی اجسام میں کمیت کا موازنہ ایک اور دلچسپ معاملہ ہے۔ ہمارے نظام شمسی میں پہلے چار سیارے سورج کے بہت نزدیک ہیں

Read more

کیا میڈیا جان بوجھ کر منفی خبریں دکھاتا ہے؟

ہم منفیت کے ساتھ کیوں جڑے ہیں؟ کیا میڈیا ہمیں منفی خبریں دکھاتا ہے یا ناظرین دیکھنا ہی منفی خبریں چاہتے ہیں؟ کیا منفیت سے زیادہ متاثر ہونے کی کوئی ارتقائی وضاحت ہے؟ منفیت پسندی سے بچنا کیوں ضروری ہے؟ ان پہیلی نما سوالات کو حل کرنے کے لیے ہمیں انسان کے ارتقائی سفر کو دیکھنا ہو گا۔ اس سفر میں اگر ہم منفیت پسندی کاشکار ہوئے تو کیوں ہوئے؟ کیا منفیت پسندی کا تعلق ہماری بقا کے ساتھ تھا؟

Read more

آپ اخلاقیات کی کونسی سطح پر ہیں؟

اخلاقیات کیونکہ ایک موضوعی معاملہ ہے اس لیے اس پر سائنسی طرز فکر کی روشنی میں بات کرنا قریبا ناممکن ہو جاتا ہے۔ نفسیات کے لیے اخلاقیات ایک پیچیدہ موضوع رہا ہے۔ اخلاقیات کے حوالے سے کول برگ نظریہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں اخلاقیات کی تین سٹیجز ہیں اور ہر سٹیج دو مزید سٹیجز پر مشتمل ہے۔ چوتھی سٹیج تک جم غفیر پہنچتا ہے لیکن پانچویں اور چھٹی سطح پر بہت کم لوگ پہنچتے ہیں ۔ اس

Read more

زمینی تعصبات کو خلاباز کیسے دیکھتے ہیں؟

تعصبات ایسے مدافعانہ عقلی حیلے ہیں جنہوں نے حیات کی بقا میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن اب یوں لگتا ہے جیسے یہی تعصبات اور مدافعانہ عقلی حیلے انسان کی بقا کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔ یہ موضوع مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ حامل تعصبات کے انگوٹھے کے نیچے نیوکلئیر بم اور دیگر مہلک ہتھیاروں کابٹن ہے۔ تعصبات کو کم کرنے کی جانب سفر کی پہلی منزل تعصبات کو پہچاننا ہے۔ گذشتہ

Read more

بچوں کی نفسیات – تعارف – ویڈیو بلاگ

بچوں کی نفسیات سے کیا مراد ہے؟ بچوں کی نفسیات پر ان ویڈیوز کا کیا مقصد ہے؟ بچوں کی نفسیات کے حوالے سے ہمارے ہاں کونسے مغالطے پائے جاتے ہیں؟ کیا اچھا بچہ وہ ہے جو فرمانبردار ہے؟ بچہ کیسے آپ کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کے لیے مناسب وقت ڈھونڈتا ہے؟

Read more

‘ہم سب‘ کے قارئین کے نام ایک مختصر سا مکمل خط!

ہم سب پر کافی دنوں سے غیر حاضری رہی۔ اس کی وجوہات میں کئی مصروفیات کا عمل دخل ہے لیکن نمایاں کردار مائنڈ میٹرز کے نام سے ایک یو ٹیوب ویڈیو چینل کا قیام تھا۔ 35 ویڈیوز کی تکمیل کے بعد اس کو پبلش کر دیا گیا ہے۔ موضوعات میں، خوف، مغالطے، تعصبات، شمسی نظام کی وسعت کو ماپنے کے کچھ طریقوں سے لے کر نیورولوجی، انسانی جسم کی ساخت، بچوں کی نفسیات وغیرہ شامل ہیں۔ ابتدا میں صرف یہ

Read more

ڈاکٹر عبدالسلام۔ ڈاکیومنٹری کیوں نہ چل سکی!

2007 کا زمانہ تھا۔ میں ایک ایسے چینل میں کام کر رہا تھا جو ترقی پسند سوچ کے فروغ میں بھی دلچسپی لیتا تھا۔ میرے سینئر پروڈیوسر آغا اقرار ہارون تھے۔ ایک دن بیٹھے نہ جانے کیا دل میں آئی کہ ہم نے ڈاکٹر عبد السلام پر دستاویزی پروگرام کا مرکزی خیال چینل کے سینئر حضرات کو پیش کیا۔ خوشی کی انتہا نہ رہی جب خیال قبول کیا گیا اور بجٹ مختص کر دیا گیا۔ تحقیق شروع کی۔ ڈاکٹر صاحب

Read more