اس جزیرے پہ عورتوں کی سرگرمیاں جہاں مردوں کا داخلہ منع ہے


وہ جزیرہ جہاں مردوں کو داخلے کی اجازت نہیں، یہاں خواتین کیا کرتی ہیں؟ جان کر مردوں کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

 

یونان میں واقع اس جزیرے کے بارے میں تو ہم آپ کو بتا چکے ہیں جس پر خواتین کا داخلہ ممنوع ہے۔ اس جزیرے پر عیسائی مذہب کا مقدس مقام ’ماﺅنٹ ایتھوس‘ واقع ہے جہاں خواتین تو درکنار، بلیوں کے سوا کسی بھی قسم کے مادہ جانوروں کو بھی داخلے کی اجازت نہیں۔ اب خواتین کے لیے خوشخبری آ گئی ہے کہ فن لینڈ میں ان کے لیے بھی ایک ایسا ہی جزیرہ کھول دیا گیا ہے جہاں مردوں کا داخلہ ممنوع ہے،اور وہاں خواتین کے لیے ایسی سہولیات میسر کی گئی ہیں کہ سن کر ہر مرد کا دل چاہے گا وہ بھی کسی طرح اس جزیرے پر پہنچ جائے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ جزیرہ ہیلسنکی کے ساحل کے قریب ہی واقع ہے جس کا نام ’سپر شی‘ (SuperShe)رکھا گیا ہے۔ یہاں الٹرا لگڑری ہوٹل اور دیگر ایسی شاندار سہولتیں موجود ہیں جو باقی دنیا میں شاید ہی کہیں سیاحوں کو میسر آتی ہوں۔ اس جزیرے پر ایسے سرسبزوشاداب اور حسین نخلستان ہیں کہ دیکھ کر ہی انسان ہشاش بشاش ہو جائے۔

رپورٹ کے مطابق اس جزیرے پر آنے والے مہمانوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے کئی طرح کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ یہ جزیرہ ایک نیٹ ورکنگ گروپ ’سپرشی کمیونٹی ‘کے زیرانتظام ہے۔ اس گروپ کی بانی امریکی خاتون کرسٹینا روتھ ہیں اور وہی اس جزیرے کے تمام انتظامات کی سربراہ ہیں۔کرسٹینا کا کہنا تھا کہ ”اس جزیرے پر مردوں کا داخلہ اس لیے بند کیا گیا ہے کہ اگر یہاں کوئی پرکشش مرد آئے گا تو تمام خواتین یہاں ہونے والی صحت مندانہ سرگرمیوں کو بھول کر لپ اسٹک لگانا اور میک اپ کرنا شروع کر دیں گی۔ چنانچہ ہم نے فیصلہ کیا کہ یہاں مردوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی جائے تاکہ خواتین یکسوئی کے ساتھ یوگا، فٹنس سیشنز، ککنگ کلاسز اور دیگر ایسی تعمیری سرگرمیوں پر توجہ مرکوز رکھ سکیں۔“ رپورٹ کے مطابق اس جزیرے کا رقبہ 8.4ایکڑ ہے جو کلی طور پر کرسٹینا روتھ کی ملکیت ہے۔یہاں خواتین کو 3500پاﺅنڈ (تقریباً 5لاکھ 66ہزار روپے) کے عوض ایک ہفتہ کے لیے لگژری رہائش اور دیگر انواع و اقسام کی سہولیات دی جاتی ہیں۔

Facebook Comments HS