خارجہ پالیسی کی مشکلات اور اندرون ملک مذہبی اقلیتوں کا تحفظ
بھارت میں انتہا پسند سیاسی لابی اب اتنی طاقتور ہو چکی ہے کہ وہ حکومت کو پاکستان کی طرف قدم بڑھانے سے پہلے ہی روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس لابی کو مودی حکومت کی فرقہ وارانہ پالیسیوں اور پاکستان دشمنی پر مبنی بیان بازی نے ہی مضبوط کیا ہے۔ لیکن اب وہ ان گروہوں کے ہاتھوں اس قدر مجبور ہو چکے ہیں کہ ان کی حکومت 24 گھنٹے بھی پاکستانی وزیر خارجہ سے سشما سوراج کی غیر رسمی ملاقات کے بیان پر قائم نہیں رہ سکی۔ مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کی تحریک اور اسے دبانے کے لئے بھارتی فوج کے غیر انسانی ہتھکنڈوں سے ایک طرف بھارت کا جمہوریت اور انسان دوستی کا امیج متاثر ہورہا ہے تو دوسری طرف کشمیر میں سیاسی حل تلاش کرنے میں ناکام ہونے کے بعد بھارتی حکومت کے پاس پاکستان کے خلاف زیادہ تند و تیز لب و لہجہ اختیار کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا۔ اس پر مستزاد یہ کہ اگلے برس بھارت میں انتخابات ہونے والے ہیں اور سیاسی پارٹیوں کو جیتنے کے ایسے پاپولسٹ نعروں کی ضرورت ہوگی جو انہیں کامیابی دلوا سکیں۔ پاکستان کی ’دہشت گردی ‘کے مقابلے میں سخت رویہ اختیار کرنے والی حکومت بہرحال اپنے عوام کو یہ تو باور کروا سکتی ہے کہ بھلے وہ سب کا پیٹ بھرنے اور سب کو یکساں مواقع دینے کا اقدام نہیں کر سکی اور خواہ کرنسی بدلو جیسے ڈرامائی فیصلہ سے بلیک منی کا سراغ بھی نہیں لگایا جا سکا لیکن وہ پاکستان کے خلاف کامیاب ’سرجیکل اسٹرائیک ‘ کے ذریعے ہندوستان کے علاوہ کشمیر کے عوام کو بھی دہشت گردوں سے بچانے میں کامیاب ہوئی ہے۔
سستے جذبات کو فروغ دینے والا منہ زور بھارتی میڈیا بھارتی حکومت کے اس خالی ڈھول کو پیٹنے میں مہارت رکھتا ہے اور اب ملک میں ایسے ناظرین و سامعین کی بہت بڑی تعداد تیار کرلی گئی ہے جو پاکستان دشمنی کو ہی اپنی تکلیفوں اور مسائل کا حل سمجھتی ہے۔ گو کہ ورلڈ بنک نے ایک بار پھر قرار دیا ہے کہ اگر یہ دو ہمسایہ ملک ایک دوسرے سے دست و گریبان ہونے کی بجائے مصالحت کا کوئی راستہ تلاش کرسکیں تو ان کی باہمی تجارت کا حجم 37 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ یعنی جو غربت دشمنی کے نعرے لگانے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں کرنے سے دور نہیں ہو پائی ، اس کا اہتمام دوستی اور تجارت کے ذریعے تلاش کیا جاسکتا ہے۔
شاہ محمود قریشی ان پیچیدہ مسائل کو سادہ لوحی سے بیان کرتے ہوئے بھارت کو مذاکرات کی دعوت تو دے رہے ہیں لیکن انہوں نے اس سلسلہ میں ہوم ورک نہیں کیا ہے۔ طرفہ تماشہ یہ بھی ہے کہ امریکہ بھی اس خطے میں امن چاہتا ہے لیکن اس کا امن بھی پاکستان کو دبانے اور افغانستان میں سیاسی حل کی تلاش تک محدود ہے۔ امریکہ کو نہ کشمیر میں بھارتی استبداد اور مظالم دکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کے خلاف مسلسل جنگ کی نعرے بازی پر اسے تشویش ہوتی ہے۔ امریکہ کو اس پر بھی تشویش نہیں کہ بھارت نے افغانستان کو پاکستان کے خلاف پراکسی وار کا ٹھکانہ بنارکھا ہے۔ جو جنگ وہ براہ ارست سرحدوں پر کرنے کا حوصلہ نہیں کرتا اسے یا تو افغانستان میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے جیتنے کی کوشش کرتا ہے یا سرجیکل اسٹرائیک کا متھ کھڑا کرکے اپنے عوام کو خوش ہونے اور نعرے لگانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس صورت حال میں جنگ آپشن نہیں ہے کا نفیس سا بیان نہ تو پالیسی تبدیل کرنے کا سبب بنے گا اور نہ ہی اس سے مسائل حل ہونے کی طرف پیش رفت ہو سکتی ہے۔
پاکستان کو بھارت کے ساتھ مصالحت کا مقصد حاصل کرنے کے لئے کام کا آغاز اپنے گھر سے کرنا ہو گا۔ اگر پاکستان واقعی جنگ کی بجائے امن کو ریاستی پالیسی کے طور پر اختیا رکرنے کا تہیہ کر چکا ہے تو اسے یقین ہونا چاہئے کہ دیانت داری سے اختیار کی جانے والی یہ پالیسی ناکام نہیں ہو سکتی۔ امن چاہنے اور جنگ نہ کرنے کا عزم کرنے والی کسی قوم کو کسی طرف سے کوئی خطرہ نہیں ہو تا۔ یہ خطرہ اس وقت پیدا ہو تا ہے جب امن کا نام لیتے ہوئے جنگ کی تیاری کی جائے اور موقع ملنے پر دشمن پر وار سے بھی نہ چوکا جائے۔ امن کا حتمی فیصلہ کرنے والے ملک کو سب سے پہلے اپنی سرحدوں کے اندر امن قائم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ملک کے عوام میں اعتماد پیدا کرنا ہوگا کہ انہیں زندہ رہنے اور اپنے طور طریقے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق اور موقع فراہم کیا گیا ہے۔ ماضی میں کی گئی سیاسی اور اسٹریجک غلطیوں کا تدارک صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ ان کی عذر خواہی میں وقت اور صلاحیت صرف کرنے کی بجائے نئے لائحہ عمل کے مطابق عدم مداخلت کی پالیسی کا عملی مظاہرہ کیا جائے اور ان عناصر سے فاصلہ اختیار کیا جائے جن سے دوستی اس حد تک وبال جان بن چکی ہے کہ مشرق اور مغرب میں ہمسایوں کے علاوہ دنیا کی سپر پاور بھی ناراضگی کے بعد دھمکیوں پر اتری ہوئی ہے۔ اس تلخی کو نرم خو بیانات کی بجائے عملی اقدامات سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔
اس ہوم ورک کا ایک پہلو اس ہفتہ کے شروع میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی بین العقائد کانفرنس میں سامنے آیا ہے۔ اس کانفرنس میں مقررین نے یکساں طور سے مذہبی شدت پسندی کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ملک میں اقلیتوں کے لئے حالات مشکل ترین ہو چکے ہیں اور ان کی زندگیوں کی حفاظت اور حقوق کا تحفظ ممکن نہیں رہا۔ ہمسایوں سے امن کا خواہش مند کوئی ملک اگر اپنی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کا اہتمام کر لے تو سرحدوں پر اس کے لئے خطرات از خود ختم ہونے لگیں گے۔


