’پرانے پاکستان‘ کی ’متروک‘ یادداشتیں
کئی بار ایسا بھی ہوتا کہ رکشے کا کرایہ ہضم کرنے کے لئے وی سی آر اور کیسٹیں کپڑے میں باندھ کر اور اسے سر پر دھر کر ہم گھر تشریف لاتے، فلم دیکھنے کے دن 11 بجے تک وی سی آر وغیرہ دوکان پر لازمی پہنچانا ہوتا ورنہ فی گھنٹہ کے حساب سے جرمانہ چارج ہوتا، جس جوش و جذبے سے ہم لے کر آتے، واپسی پر قدم من من کے ہو جاتے، اس کے بعد ایک ہفتے تک فلموں کی سٹوری، ہیروئن کے میک اپ اور گانوں پر تبصرے رواں رہتے، ہندوستانی فلمیں ’’دل‘‘، ’’دل ہے کہ مانتا نہیں‘‘ ، ’’ساجن‘‘ اور’’ عاشقی‘‘ وغیرہ ابھی تک ہمارے نوسٹیلجیا میں ہمکتی ہیں۔
ریڈیو کو ہمارے گھر میں خاص اہمیت حاصل تھی ، ہمارا گھر شہر کے ان گنے چنے گھرانوں میں شامل تھا جہاں پوسٹ آفس سے ریڈیو کا لائسنس بنوانے کو فخر اور قانون پسندی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اباجی اس سلسلے میں کوئی تساہل نہیں برتا کرتے تھے، لکڑی کی باڈی والا ریڈیو سیٹ ابو کے کمرے میں میز پر دھرا ہوتا ، (جسے اب بھی ہم نے سنبھال کر رکھا ہوا ہے)۔ اس دور میں ایف ایم ریڈیو کا دور دور تک نام ونشان نہیں تھا، ریڈیو ملتان اور ریڈیو بہاول پور کے دوش پر نشر ہونے والے اپنے پسندیدہ پروگراموں میں خطوط کے ذریعے پسندیدہ گانوں کی فرمائش کی جاتی اور جب مطلوبہ پروگرام آن ایئر ہوتا تو ہم سب بہن بھائی میزبان کے کنج لب سے اپنا نام سننے کے لئے ریڈیو سیٹ کے گرد جمع ہو جاتے ، ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر، ساجد حسن درانی، محمد نقی، مظہر کلیم خان اور شمشیر حیدر ہاشمی اپنی خوبصورت آوازوں اور خوبصور ت باتوں کے باعث اب تک ہمارے دل ودماغ میں ہمکتے رہتے ہیں۔
اسی دور میں ٹیپ ریکارڈ نامی ایک چیز بھی ہوا کرتی تھی، 1980ء کی دہائی کے آواخر میں اباجی نیشنل کمپنی کا ایک ٹیپ ریکارڈ لے کر آئے تھے، (جو اب بھی میرے پاس محفوظ ہے) ابو طلعت محمود، کندن لال سہگل، رفیع صاحب اور لتا جی کی جانستاں آوازوں کے عاشق تھے۔ ان سب کی مدھ بھری آواز میں سرود رفتہ کی الوہی مہک لئے لازوال گیتوں کا سحر۔۔۔اب بھی مجھے عروضی زمانوں سے باہر لے جاتا ہے اور اداس کر دیتا ہے، تنہائی ہو اور ایسی سدابہار آوازیں ہوں تو انسان کو کسی ساتھی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، ان سب کی آواز یقینا لافانی ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں ہمارے نوسٹیلجیا سے جڑی بہت سی خوبصورت چیزیں قصہ پارینہ بنیں، دیہات ہی نہیں شہروں میں بھی ٹھنڈے پانی کے لئے گھڑے کا استعمال عام تھا، یہ گھڑے لکڑی کی جن چوکیوں پر رکھے جاتے تھے انہیں گھڑونچی کہا جاتاتھا، آج کی نسل گھڑے اور گھڑونچی کے لفظوں سے ہی ناواقف ہے، اس طرح کنویں اور رہٹ کا رجحان بھی ختم ہو کر رہ گیا ہے، گاؤں میں ہمارے گھر جامن کے درخت کے نیچے کنواں تھا جس کا ٹھنڈا پانی روح تک کو سرشار کر دیتا تھا۔ ہر جمعہ کو امی صبح سویرے ناشتے کے ساتھ ہی دوپہر کا کھانا تیار کر کے کپڑے دھونے کے لئے رہٹ پر جاتی تھیں، گاؤں کی دوسری بڑی بوڑھی عورتیں بھی ہاں موجود ہوتیں، سب مل کر کپڑے دھوتیں ، حال احوال پوچھتیں، ہم بچے بالے بھی کھالے میں نہانے کی عیاشی کر لیتے، آبائی زمینوں پر کاشت کاری کرتے چچا جان موسمی پھلوں سے ہماری خاطر تواضع ضرور کرتے۔
1992ء میں تعلیم کے حوالے سے ہماری ’پتلی‘ حالت کو دیکھتے ہوئے والد بزرگوار نے ہمیں گاؤں میں بڑے بھائی شبیر احمد ناز کے پاس بھیج دیا جنہوں نے گاؤں کی تاریخ میں پہلی بارایک سکول قائم کرکے بچوں کو مفت تعلیم دینے کا بیڑا اٹھایا تھا، ایک چھپر تلے قائم یہ سکول ہماری تعلیم و تربیت کا اولین مرکز تھا، بھائی جان موٹر نیوران نامی مرض کے لاعلاج مریض تھے اور جسم کو حرکت دینے سے قاصر، وہ چارپائی پر ساکت لیٹے لیٹے بچوں کو پڑھاتے، ہم ٹاٹ پر بیٹھ تحصیل علم کرتے، مجھ سمیت کسی بھی مجال نہیں تھی کہ سکول کے ڈسپلن سے ہٹ کر کوئی کام کرتے، اس دور میں سکولوں میں قلم دوات اور تختی کا راج تھا،ہر بچہ لکڑی کی تختی کو روزانہ دھو کر اس پر گاچی یا ملتانی مٹی کا لیپ کرکے آتا تھا، لکھنے کے لئے کانے کی قلم کو خاص انداز سے گھڑا جاتا اور اردو کی خوش خطی کے لئے استعمال کیا جاتا، ہر بچے کے بستے میں لوہے کی سلیٹ اور اس پر لکھنے کے لئے چاک یا سلیٹی ضرور موجود ہوتی تھی، بھائی جان بچوں کو خوش خط اردو لکھنے کے لئے ’’زیڈ ‘‘کی نب اور اچھی انگریزی لکھنے کے لئے ’’جی‘‘ کی نب استعمال کراتے۔ پینافلیکس اور گرافک ڈیزائننگ کے اس دور میں یہ چیزیں اب سٹیشنری کی دکانوں پر بھی دستیاب نہیں رہیں جبکہ تختی، سلیٹ، سلیٹی اور گاچی بھی نظروں اور سماعتوں سے دور ہو چکے ہیں۔
سکول میں چھٹی سے آدھا گھنٹہ پہلے ہم چھوٹی کلاس کے بچے لہک لہک کر اور ردھم کے ساتھ ’’ایک دونی دو، دو دونی چار‘‘ کا ایسا ورد کرتے کہ ایک فضا بن جاتی۔ آج تعلیمی نغمگی سے بھرپور یہ آوازیں ’’پڑھو پنجاب ، بڑھو پنجاب‘‘ کے دلکش نعرے میں دب گئی ہیں۔ خط کی لذت وہی جان سکتے ہیں جنہوں نے خطوط لکھے اور وصول کئے ہیں، ابو شہر سے باقاعدگی کے ساتھ گاؤں میں امی اور بہن بھائیوں کو خطوط لکھتے، عید کارڈ بھیجتے اور اخبارات و رسائل بھیجتے، ان کے خطوط کے انتظار میں ہم روز گاؤں کے داخلی راستے پر کھڑے ہو کراس بوڑھے ڈاکیے کا انتظار کرتے جو پچیس کلومیٹر دور سیت پور کے ڈاک خانہ سے ہماری ڈاک لے کر آتا۔ رسول بخش پوسٹ مین گاؤں کا ایک خوبصورت کردارتھا، جس کی سائیکل کے ہینڈل پر دو تھیلے اور کیریئر پر کچھ لفافے رکھے ہوتے۔ وہ شخص ہر ایک کا شنا سا ہوتا، لیکن افسوس کہ بے ہنگم ترقی نے گاؤں میں اس کا کردار ختم کر دیا ہے، کیونکہ خط کی تہذیبی و ثقافتی روایت تاریخ کے کوڑے دان میں دفن، لیٹر بکس عہد گم گشتہ کی بھول بھلیوں میں گم، ڈاکخانے ویران، جدیدیت کی ’’ماری‘‘ اور سوشل میڈیا کو ’’پیاری‘‘ نئی نسل خطوط نویسی سے وابستہ سرشاریوں، بے قراریوں اور وارفتگیوں سے ناآشنااور 150 سالہ ’بوڑھے‘ محکمہ ڈاک نے ’نومولود‘ انٹرنیٹ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ ماضی کے اس سجیلے سنہرے دنوں میں جب نہ موبائل فون تھے، نہ سوشل میڈیا، نہ فیس بک اور نہ واٹس ایپ، ہم ایک دوسرے کے زیادہ قریب تھے، تخلیقی ہم آہنگی، بے ساختگی، باہم روابط کی خوشی اور گرم جوشی زیادہ ہوتی تھی، اب رابطے کی تمام تر سہولیات کے باوجود لگتا ہے کہ باہم تعلقات میں مطلب براری کی آمیزش ہو گئی ہے، ایک عجیب نوع کی غیریت، مصنوعی پن اور ایک اتھلاپن سا آگیا ہے، اب جہاں ہم ترقی یافتہ بن چکے ہیں، وہاں اپنی خوبصورت روایات کے حوالے سے قحط الرجالی بھی ہمارے مقدر میں آئی۔




