انتخابات کے بعد حلقہ این اے 166 اور حلقہ پی پی 250 کا سیاسی منظر نامہ

8 فروری کو پاکستان پارلیمانی سیاست کے نئے عہد میں داخل ہوا، تمام تر خدشات کے باوجود ملکی تاریخ کے 12 ویں عام انتخابات منعقد ہو گئے اور جمہوریت نے ایک اور منزل طے کر لی۔ 16 ویں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی تشکیل کے لیے 855 حلقوں پر 12 کروڑ 79 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز نے اپنا کردار تاریخی امنگوں کے مطابق ادا کیا۔ یہ بڑی فتح ہے ورنہ فلک کج رفتار نے انتخابات کے انعقاد کے

Read more

کہانی آئی جے آئی کی تشکیل اور نواز شریف کے پہلی بار وزیر اعظم بننے کی

ایک ’بے وقوف‘ طالب علم کے طور پر سلطنت خداد داد پاکستان، یعنی خدا کے بخشے اس ’باڑے‘ کی ’داغ داغ‘ سیاسی تاریخ ہمیشہ سے ہمارا پسندیدہ موضوع رہی ہے۔ ہمارا تعلق اس نسل سے ہے جو مرد مومن، مرد حق ضیاء الحق صاحب کے سنہرے اسلامی دور آمریت میں پیدا ہوئی، بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی لولی لنگڑی جمہوریت میں اس نسل کا لڑکپن گزرا اور ’مخدوم الملک‘ سید پرویز مشرف کی ’روشن خیال‘ فوجی

Read more

سن 1930 کی دہائی کا سرکی شہر کیسا تھا؟

پانچ دریاؤں والے پنجند سے ذرا آگے جہاں سندھ، چناب کا ہاتھ پکڑتا ہے، سیت پور کا صدیوں پرانا قصبہ موجود ہے۔ مزید تھوڑا آگے بڑھیں تو دو دریاؤں کے بازوئی حصار میں موضع سرکی ہے جو آدھا یہاں اور آدھا اندر ہے یعنی دریا برد ہو چکا ہے۔ ضلع مظفر گڑھ کا قصبہ سرکی اپنی قدامت اور تاریخی عوامل کے حوالے سے مسلمہ حیثیت کا حامل ہے۔ ہڑپہ اور موہنجوداڑو کی تہذیب کا ہم عصر یہ قصبہ اس قدیم

Read more

میں نے ‘سرکی’ ڈوبتے دیکھا

یہ ذکر ہے 1992 ء کا، ستمبر کا مہینا، گزشتہ ماہ اگست میں ہی راقم السطور کی عمر کے 8 سال پورے ہوئے تھے۔ اوچ شریف میں مقیم ہمارے ابا جان نے چند ہفتے قبل ہی ہمیں اپنے گاؤں ٹبہ برڑہ میں بڑی اماں اور بھائی جان شبیر احمد ناز کے پاس ان کی خدمت اور پڑھائی کے لیے بھیجا تھا۔ اس وقت ہم جماعت سوئم کے طالب علم تھے اور اوچ شریف میں اپنے گھر کے قریب ماسٹر احسان

Read more

بچوں کا ادب اور ہماری ذمہ داریاں

بچوں کے نام ور ادیب، ممتاز کہانی نویس، ہر دل عزیز مصنف اور سیرت النبی کے موضوع پر صدارتی ایوارڈ یافتہ قلم کار محمد فہیم عالم صاحب کا اسلوب نگارش کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ پاکستان چلڈرن لٹریری سوسائٹی کے ڈائریکٹر اور اسی ادارے کے زیر اہتمام لاہور سے شایع ہونے والے ماہ نامہ ’بچوں کا باغ‘ ، ماہ نامہ ’بچوں کی دنیا‘ ، ماہ نامہ ’جگنو‘ اور ماہ نامہ ’اقراء‘ کے مدیر اعلا کے طور پر ذمہ داریاں

Read more

عمران خان: بگڑی ہوئی نسل کا بدبخت ہیرو؟ ایک متنازعہ کالم

9 مئی کے یوم سیاہ سے پہلے عمران خان اپنی تمام تر سیاسی غلطیوں، کوتاہیوں اور یوٹرنز کے باوجود قیادت کے جس مقام پر کھڑے تھے، ’اسلامی ٹچ‘ کے ساتھ اپنے ’غیرت مندانہ‘ بیانیے اور سوشل میڈیا کے ذریعے مائنڈ سیٹ کرنے کی مہارت کے طفیل ’طفلان انقلاب‘ کی نظروں میں ان کو قوم کے ہیرو کا تشخص حاصل ہو چکا تھا۔ قوم اپنے ہیرو کو ایک معجزاتی اور طلسماتی انسان تصور کیا کرتی ہے، وہ اس کو ہر حالت

Read more

تاریخ: 18 اپریل 1993 سے 18 جولائی 1993 تک

8 جنوری 1993 ء میں جب چیف آف آرمی سٹاف جنرل آصف نواز جنجوعہ کا دل کا دورہ پڑنے سے اچانک انتقال ہوا تو اس وقت سنیارٹی لسٹ میں بالترتیب لیفٹیننٹ جنرل رحم دل بھٹی، لیفٹیننٹ جنرل محمد اشرف، لیفٹیننٹ جنرل فرخ خان اور لیفٹیننٹ جنرل عارف بنگش شامل تھے، تاہم وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے چاروں جرنیلوں کو سپر سیڈ کرتے ہوئے پانچویں جنرل عبدالوحید کاکڑ کو پاکستان کی بری فوج کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔

Read more

جب ہمارے ’گستاخانہ‘ خط کے جواب میں پرویز مشرف نے اپنی کتاب کا تحفہ بھیجا

پاکستان کی سیاسی و عسکری تاریخ کے سابق ’مرد آہن‘ جنرل (ر) پرویز مشرف کی شخصیت، نظریات، سیاسی فیصلوں اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی جا سکتی ہے، البتہ ایسا کرنے کے لیے ایک تعصب سے پاک غیر جانب دارانہ ذہن کا حامل ہونا اور اس دور کے سماجی و زمینی حقائق اور عالمی سیاست کا ’سبالٹرن سٹڈیز‘ کے طور پر جائزہ لینا ضروری ہے۔ کیوں کہ بقول ڈاکٹر اجمل نیازی ”اختلاف رکھنے کا حق صرف اسے حاصل ہے جو

Read more

‘اساطیر امروز’ کی تیسری سالگرہ پر اس کے نام کھلا خط

اساطیر امروز ’کی تیسری سالگرہ پر اس کے نام کھلا خط از ملتان پنج شنبہ، 27 اکتوبر 2022 ء برخوردار! تم پر رب رحمن کی بے کنار رحمتیں اور بے شمار برکتیں۔ امید ہے کہ تم خیر و عافیت کے ساتھ اپنی دلفریب شرارتوں میں مگن اور کتابوں اور کھلونوں کی چیر پھاڑ میں مصروف ہو گے۔ آخری بار جب میں اوچ شریف آیا تھا تو تمہاری اماں نے شکایت کی تھی کہ تم موبائل فون پر کارٹون دیکھنے کے

Read more

وقار حسین: ’احمد پور شرقیہ گزیٹئر‘ کے خواب سے ’وزیر آباد ڈائجسٹ‘ کی تکمیل تک

زیست کے اس سفر میں ہمیں کئی لوگ ملتے ہیں۔ کچھ بچھڑ جاتے ہیں، جب کہ بہت سے چہرے طاق نسیاں کی زینت بن جاتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ خوب صورت لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی دل ستاں یادیں الوہی چراغ کی صورت ہمارے آنکھوں میں لو دیتی ہیں اور خوش بو بن کر دل و دماغ کو مہکائے رکھتی ہیں۔ ایسے سندر لوگوں کی باز آفرینی ہماری زندگی کی ہم سفر بن کر تلخی ایام

Read more

قومی تعلیمی نصاب میں ”بچوں کی سبز کتاب“ کا ہونا کیوں ضروری ہے؟

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بنیادی سطح پر بیداری پیدا کرنے کے اقدامات کرنا ایک اجتماعی قومی فریضہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی ہر ایک کو متاثر کرتی ہے، لیکن پاکستان میں تحفظ ماحول کے لیے نہ تو ذرائع ابلاغ میں کوئی بڑی مہم دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی سیاسی محاذ پر۔ پالیسی ساز ادارے بھی مستقبل کی خوف ناک ماحولیاتی صورت حال کے بارے میں زیادہ فکر مند نہیں ہیں۔ پاکستان عالمی سطح پر ماحولیاتی آلودگی میں

Read more

زندگی رات کے پچھلے پہر منیر نیازی کی خوابناک شاعری سے لطف اٹھانے کا نام ہے

آج لاہور سے عزیزم اظہر اقبال نے ڈاک خانہ کے ذریعے منیر نیازی کے شعری مجموعوں کی ”عیدی“ بھیجی، جسے دیکھ کر طبیعت نہال ہو گئی۔ اس کلجگ میں، جہاں اب خط لکھنے اور کتابیں پڑھنے کی روایت کو کہولت نے آ لیا، ڈاک بابو جب بھی کوئی چٹھی یا کتاب کا تحفہ لے کر آتا ہے تو اس کی دست بوسی کو جی چاہتا ہے۔ غم روزگار کے بار اور سماجی ذرائع ابلاغ کے دوش پر عجیب الخلقت شاعروں

Read more

جب عمران خان نے صدارتی ریفرنڈم میں پرویز مشرف کو ووٹ ڈالا

20 سال قبل 30 اپریل 2002ء کو فوجی آمر جنرل پرویز مشرف ایک متنازعہ ریفرنڈم میں واحد امیدوار کے طور پر 4 کروڑ 28 لاکھ 4 ہزار ووٹ لے کر پاکستان کے صدر ”منتخب“ ہوئے۔ 12 اکتوبر 1999ء کو وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کے ”چیف ایگزیکٹو“ کے طور پر خود ساختہ عہدے کا چارج سنبھالا۔ 20 جون 2001ء کو چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے بھارت

Read more

شاہنواز بھٹو کا قتل اور آصف زرداری: چند حقائق

لاہور میں پی ٹی آئی کے ”مقدس ہجوم“ میں اپنے تئیں ”خوددار“ رہنماؤں کی سیاپا فروشی اور تضاد سے بھری ژاوہ گوئی دیکھ اور سن کر جہاں سر میں درد ہونے لگ گیا وہاں ایک گھسا پٹا شعر بھی در دل پر دستک دینے لگا۔ مار گئے نیتا کیا سے کیا پدھو عوام وہیں کے وہیں رہے بدھو اقتدار سے ”بیاہ“ کے لیے تین چار پارٹیوں سے ”حلالہ“ کرنے والا ایک نام نہاد ”کنوارے“ سیاست دان ”خود ساختہ ریاست مدینہ“

Read more

روشنی میگزین: سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب کی قابل فخر کاوش

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب نے سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں میں مطالعے کی عادت راسخ کرانے، قومی زبان اردو کی ترویج اور طلباء و طالبات میں کتب بینی اور تحریر نگاری کے ذوق کو اجاگر کرنے کے لیے ’فروغ‘ کے نام سے ایک جامع پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت گزشتہ سال ستمبر میں بچوں کے پہلے ڈیجیٹل میگزین ’روشنی‘ کا اجرا کیا گیا۔ ’روشنی‘ کو پاکستان اور شاید دنیا بھر کے بچوں کے لیے

Read more

قائد اعظم کی "رسم” سالگرہ منا کر قائد اعظم کو شرمندہ مت کریں

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات پر ایسی تیسی پھیرنے اور ایمان، اتحاد اور تنظیم کے اصولوں کو اپنی بے اصولی اور احسان فراموشی سے تہس نہس کرنے والی بے ہنگم قوم نہایت "تزک و احتشام” سے ان کی سالگرہ منانے کی "رسم” ادا کر رہی ہے۔ آج ایک دن کے لیے قائد اعظم کی تقاریر، خطابات، ان کی شخصیت، سیاست، ایمان داری، دیانت داری اور اصول پسندی کے واقعات کو سیلن زدہ اور گرد آلود الماریوں سے

Read more

دسمبر کی خنکی میں ایک کالم اپنے بچپن کے دسمبر کے لیے

ماہ دسمبر کے آخری عشرے کا آغاز ہو چکا، دن ہیں کہ دھندلے ہوئے جاتے ہیں، اگر آپ کسی سرسبز و شاداب گاؤں کے باسی ہیں تو علی الصبح فطرت کے اس قدر دل کش نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں کہ روح تک سرشار ہو جاتی ہیں، ٹیوب ویل کا بہتا اچھلتا تازہ گرم پانی، پانی سے اٹھتی بھاپ، کھالوں میں بہتا شفاف آب رواں اور اس پہ بھاپ کے بادل، کھیتوں پہ چھایا کہرا، تاحد نظر پھیلی ہریالی، گندم

Read more

نیا بلدیاتی نظام: اوچ شریف کا ممکنہ بلدیاتی ڈھانچہ کیسا ہو گا؟

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے گزشتہ روز آئین پاکستان کے آرٹیکل 128 کی شق ( 1 ) کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس مجریہ 2021 ء پر دستخط کر دیے۔ قبل ازیں پنجاب کابینہ نے اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے ساتھ مذاکرات میں طے پانے والے مسودے کی منظوری کے بعد ترمیم شدہ بلدیاتی بل کو گورنر پنجاب کے پاس دستخط کے لیے بھیجا تھا۔ آرڈیننس کے تحت مقامی حکومتوں کی

Read more

 دلیپ صاحب! ہم آپ کو نہیں بھولے۔۔۔

یونانی دیو مالا میں زیوس سب سے بڑا اور طاقت ور دیوتا تھا۔ وہ جو چاہتا کر سکتا تھا۔ وہ بہادر اور تمام دیوتاؤں کا خدا تھا۔ کوئی بھی دانش میں اس کا ہم سر نہیں تھا۔ وہ انسانوں پر حکمرانی کرنے والے دیوتاؤں پر بھی راج کرتا تھا۔ یونانیوں نے زیوس کے بڑے بڑے مجسمے بنا رکھے تھے۔ زیوس زمین سے آسمان تک مالک و مختار تھا۔ دلیپ کمار کو اگر ہندی سنیما کا زیوس کہا جائے تو غلط نہ

Read more

اپنے دو سالہ بیٹے اساطیر امروز کے نام کھلا خط

از ایمرسن کالج ملتان پیارے اساطیر آداب! کیسے ہو؟ صبح فون پر تمہاری امی بتا رہی تھی کہ تمہیں شدید کھانسی اور زکام شروع ہو گیا ہے۔ ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے؟ محض دو سال ہی کی تو ہے۔ گزشتہ سال بھی انہی مہینوں میں تمہاری طبیعت اچانک بہت خراب ہو گئی تھی اور طبیب نے نمونیا تشخیص کیا تھا۔ اوچ شریف کے معالجین کی دکانوں کے طواف کے بعد آخر احمد پور شرقیہ میں ڈاکٹر امین چوہان کی

Read more

ہمیں شاکرؔ شجاع آبادی کے مرنے کا شدت سے انتظار ہے

برادرم فیصل ناز نے بردوش واٹس ایپ ایک ایسی ویڈیو ہمیں بھیجی جسے دیکھ کر ہمارا من حیث القوم اپنی اجتماعی بے حسی اور نالائقی پر رونے اور سر پیٹنے کو جی چاہا۔ ویڈیو کلپ میں سرائیکی وسیب کے مہاندرے شاعر اور سرائیکی شاعری کو نئے عہد اور آہنگ سے روشناس کرانے والے سائیں شاکر شجاع آبادی کسمپرسی اور خستہ حالی کی حالت میں موٹر سائیکل پر سوار ہیں۔ ویڈیو میں شاکر شجاع آبادی کی حالت دیکھ کر یہ خیال

Read more

”ہمدرد نونہال“ کی جدت کا ایک سال، اس کے نئے رنگ روپ نے بچوں کو کتنا متاثر کیا؟

درد اور مسائل کے جنگل میں خوشیاں شکار کرتے کرتے خوش رنگ زندگی اتنی مصروف ہو گئی ہے کہ بوسیدہ وجود اسی رات دن کے پھیر میں گھن چکر بن کر رہ گیا ہے۔ ایسے میں زیست کی گاڑی کی رفتار آہستہ ہو اور کچھ پل کو ”عیاشی“ میں بتانے کا موقع ملے تو ہم جیسے ”سادھوؤں“ کے لئے وہ عیاشی یا تو اپنا قلم تھام کر کسی جہان نو کی تلاش ہوتی ہے یا کسی اور تخلیق کار کے

Read more

قصہ ‘نشان حیدر’ کے ‘میجر راجہ عزیز بھٹی’ سے ملاقات کا

یہ 1990 ء کی دہائی کے آخری ماہ و سال کے سنہرے سجیلے دنوں کا ذکر ہے، جب 6 ستمبر اور اس طرح کے قومی ایام سرکاری چھپر سایہ کے بغیر اور مجبوری کی بجائے ایک جذبے، محبت اور ملی یکجہتی سے منائے جاتے تھے۔ ان دنوں میں ایک خاص قسم کا اپنا پن اور والہانہ پن جھلکتا تھا، یہ وہ عہد زریں تھا جب بقول ہمارے چچا جان کے ”خر دجالی“ عوامل اور کلجگ کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا، کارپوریٹ کلچر، کمرشل ازم کا ظہور بڑے محدود پیمانے پر تھا۔ جب ابھی اقدار و روایات زندہ تھیں یا شاید آخری ہچکیاں لے رہی تھیں۔ انہی دنوں 6 ستمبر کو پی ٹی وی کے دوش پر ایک ڈرامہ ”میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نشان حیدر“ نشر ہوا، ہمیں یاد ہے کہ اپنی بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پر رات گئے نشر ہونے والے اس ڈرامے کو دیکھ کر امی ابو سمیت کئی سوں کی آنکھیں نم ہو گئی تھی۔

Read more

اوچ شریف کی ستم رسیدہ مادر علمی کے بارے میں جانیے

یادش بخیر، گزشتہ روز جام صفدر حسین صاحب سے شرف بازیابی کے لئے اوچ شریف کالج جانے کا اتفاق ہوا، ملاقات کے دوران جہاں مختلف امور پر بات چیت ہوئی وہاں کالج کے دیرینہ مسائل پر بھی تبادلہ خیال ہوا، ملاقات کے ساتھ ساتھ لذیذ بسکٹ اور چائے کا ذائقہ ابھی تک زبان پر جام صاحب کی محبت اور بندہ پروری کی یاد دلا رہا ہے۔ راؤ محمد عمران کی ترقی اور تبادلے کے بعد جام صفدر حسین کالج کے

Read more

17 اگست 988 : جس دن ہمارے گھر میں چولہا نہیں جلا

یادش بخیر: آج 17 اگست ہے۔ 33 برس پہلے آج ہی کے دن بہاول پور کے قریب بستی لال کمال میں ایک ایسا سانحہ رونما ہوا تھا جس کی ہولناک گونج پوری دنیا میں سنی گئی۔ صدر پاکستان جنرل محمد ضیا الحق اور ان کے رفقا کی طیارے کے اندوہناک حادثے میں ناگہانی موت نے ملک بھر میں صف ماتم بچھا دی تھی۔ جب یہ حادثہ وقوع پذیر ہوا تھا، اس وقت ہماری عمر محض چار سال چھ دن کی

Read more

ہم گٹر کے پانی پر پلنے والی اقلیت ہیں، مائی باپ!

11 اگست کو اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر ہمارے قومی میڈیا نے مژدہ سنایا ہے کہ عمران خان کے فلاحی ریاست کے ”ویژن“ اور وزیر اعلی پنجاب کی متحرک ”قیادت“ میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے ترقیاتی بجٹ میں 5 گنا اضافہ کیا گیا ہے۔ ہماری کم عقلی و کوتاہ بینی ہے کہ ”ویژنری“ وزیر اعظم کی موجودگی اور ”متحرک“ وزیر اعلی کی ”اعلی قیادت“ میسر آنے کے باوجود ہم ابھی تک

Read more

جب ”بابا“ کے ہاتھوں ”بے بی“ کی حکومت برطرف ہوئی

ذکر ہے 6 اگست 1990 ء کی ایک حبس زدہ سہ پہر کا، اسلام آباد میں ظاہری طور پر تو سب کچھ معمول کے مطابق لگ رہا تھا لیکن اسی شہر خوباں کی خاموش فضا سمے کی رینگتی ساعتوں کو کچھ انہونی کا مژدہ سنا رہی تھی، ساڑھے تین بجے سہ پہر دارالحکومت کے کچھ علاقوں سے فوج کے دس، بارہ ٹرک گزرتے دکھائی دیے جن کے آگے ایک جیپ رواں دواں تھی، جیپ اور ٹرکوں میں سوار فوجیوں نے اپنی مشین گنوں کو الرٹ انداز میں اٹھا رکھا تھا اور ان کی انگلیاں ٹریگر پر تھیں، یہ قافلہ ایف 8 سے ہوتا ہوا بلیو ایریا کے اس میدان میں رک گیا جہاں کچھ عرصہ قبل قومی صنعتی نمائش منعقد ہوئی تھی، سوا چار بجے یہاں سے فوجی دستوں کو طے شدہ ٹھکانوں پر تیزی سے پہنچنے کا حکم ملا۔

Read more

مینا کماری: ”آپ کے پاؤں بہت خوبصورت ہیں، انہیں زمین پر مت اتاریے گا“

”ان کی آنکھوں میں اک جادو سا محسوس ہوتا تھا، ان کی آواز بے انتہا خوبصورت تھی، آواز اور مکالموں کی دلکش ادائیگی سے ایک حسین سنگم سا بن جاتا تھا، موتی برستے تھے جب وہ بولتی تھیں، الفاظ ترستے تھے کہ وہ انہیں اپنے ہونٹوں سے ادا کرے“ ۔ اداکار پردیپ کمار نے یہ الفاظ انڈین کلاسیکی سینما کی اس لیجنڈ اداکارہ اور خوبصورت شاعرہ کے لئے کہے تھے جو اپنی جواں مرگی کی پانچ دہائیاں گزرنے کے باوجود

Read more

جب نیپالی پنڈت رفیع صاحب کو بھگوان سمجھ کر عقیدت کے پھول چڑھانے پیدل ممبئی پہنچا

گائیکی کے سرتاج، برصغیر کے لافانی گلوکار محمد رفیع کی وفات کو چار دہائیاں بیت جانے کے باوجود ان کی آواز کی چاشنی، جادو اور مقبولیت آج بھی برقرار ہے۔ ”آج موسم بڑا، بے ایمان ہے بڑا، بے ایمان ہے آج موسم“ ، ”چلو دلدار چلو، چاند کے پار چلو“ ، ”آنے سے اس کے آئے بہار“ ، ”چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو“ ، ”کھلونا جان کر تم تو مرا دل توڑ جاتے ہو“ اور ”وہ جب یاد

Read more

اسد بھوپالی: وہ جب یاد آئے بہت یاد آئے

برصغیر کے معروف نغمہ نگار اور شاعر اسد بھوپالی کی گزشتہ روز 100 ویں سالگرہ منائی گئی، 10 جولائی 1921 ء کو بھوپال میں پیدا ہونے والے اسد بھوپالی کو زندہ رکھنے کے لیے فلم ”ٹاور ہاؤس“ کے لیے لکھا گیا ان کا یہ نغمہ ہی کافی ہے ”اے میرے دل ناداں، تم غم سے نہ گھبرانا“ ۔ ان کے والد کا نام منشی احمد خان تھا اور وہ ان کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ اسد بھوپائی کا اصل

Read more

ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی تعلیم کے لئے پاکستان میں پہلی مرتبہ ملتان میں ”ٹرانس ایجوکیشن“ پائلٹ پروجیکٹ کا افتتاح

ملتان میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو تعلیم کی فراہمی کے لئے پاکستان میں پہلی مرتبہ ”ٹرانس ایجوکیشن“ کے نام سے پائلٹ پروجیکٹ کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب کی طرف سے شروع کیے گئے اس پائلٹ پراجیکٹ کا افتتاح سیکرٹری ایجوکیشن جنوبی پنجاب ڈاکٹر احتشام انور نے گورنمنٹ گرلز کمپری ہینسیو ہائیر سیکنڈری سکول گلگشت میں کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری (ایڈمن) عطاء الحق، ڈپٹی سیکرٹریز خواجہ مظہر الحق، شاہد ملک، ڈی پی آئی (ایلیمنٹری)

Read more

پہلی ملاقات کے تین گھنٹے بعد شہید ہونے والے سپاہی کی یاد میں

فرنٹیئر کور کے نائیک حق نواز سے پہلی بار ہماری ملاقات 4 اپریل 2021 ء کو ہمارے بھائی محمد اختر علی کی وفات پر ہوئی تھی، دور پار کے رشتہ دار تھے۔ ہمارے بڑے بھائی ظفر علی نے ہمیں ایک دوسرے سے متعارف کرایا، دیکھنے میں خاموش طبع اور سلجھے ہوئے نظر آئے۔ ہماری مختصر سی بات ہوئی تھی۔ گزشتہ جمعرات کو مرحوم اختر بھائی کے چہلم کے سلسلے میں قرآن خوانی اور ختم شریف کا اہتمام کیا گیا تو

Read more

انکل سرگم جیسے آرٹسٹ مرتے نہیں، روٹھ جاتے ہیں

لاک ڈاؤن اور عیدالفطر کے انفراغ میں آج کل ہم اپنے گھر کے چھوٹے سے کتب خانے کی کیٹلاگ سازی کر کے کتابوں کو کسی ضابطے میں لانے کی سعی کر رہے ہیں۔ آج شام کو اس عمل کے دوران کتابوں کی موضوعاتی درجہ بندی کرتے ہوئے اچانک ایک کتاب نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ وہ کتاب میرے، آپ کے، ہم سب کے ”انکل سرگم“ یعنی سید فاروق قیصر کے طنزیہ قطعات، پیروڈیز، گیتوں، غزلوں، نظموں پر مشتمل ان کا مجموعہ کلام ”میرے پیارے اللہ میاں“ تھا۔

Read more

ریاستی لوگو میں تبدیلی: ”منافقت، خیانت، فریب“ کے زریں اصول

سائنس اور ٹیکنالوجی میں ”مہارت تامہ“ رکھنے والے ہمارے ”لیجنڈ“ وزیر اطلاعات و نشریات فضیلت مآب فواد چوہدری نے حکومت پاکستان کے لوگو میں ”چائے“ اور ”پٹ سن“ کے نشان کی جگہ سائنس، ٹیکنالوجی اور تعلیم کی عکاسی کرنے والے علامتی نشان لگانے کا مشورہ دیا ہے۔ پاکستان کی یہ ریاستی علامت 1956 ء میں بنائی گئی تھی۔ پھولوں کی ڈالی کے درمیان چار خانوں پر مشتمل عکس کے اوپر کی جانب ویسا ہی چاند ستارہ ہے جیسا پاکستان کے

Read more

ہم ناز کے ساتھ صحافت کے عہد سحر میں زندہ ہیں

ہم ”ناز“ کے ساتھ صحافت کے ”عہد سحر“ میں زندہ ہیں۔ اس لئے ناز کے ساتھ زندہ ہیں کہ ہم احمد پور شرقیہ سے تعلق رکھنے والے ملک کے بین الاقوامی شہرت یافتہ صحافی، تحصیل احمد پور شرقیہ میں انگریزی صحافت کے بانی و معمار، رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان کے صدر اور معاصر روزنامہ ”نوائے احمد پور شرقیہ“ کے مدیر اعلیٰ احسان احمد سحر کو جانتے ہیں اور سچے دل سے مانتے ہیں۔ گزشتہ روز احسان احمد سحر کے

Read more

صوبہ بہاول پور کے قیام کی 70 سالہ قدیم کہانی

اگست 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد ریاست بہاول پور نے نوزائیدہ مملکت پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔ الحاق کے ابتدائی چند برسوں میں بہاول پور کے حکمران نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی اور حکومت پاکستان کے درمیان متعدد معاہدے کیے گئے، انہی معاہدوں میں ایک 30 اپریل 1951ء کو ہونے والا ضمنی معاہدہ ”انسٹرومنٹ آف ایکسیشن“ بھی شامل ہے، جس کے تحت ریاست بہاول پور کے تمام مرکزی امور حکومت پاکستان نے لے لیے

Read more

راؤ شمیم اصغر: اس خرابے میں مری جان تم آباد رہو

یہ ان دنوں کی بات ہے جب صحافت پامال نہیں ہوئی تھی، اہل صحافت کا وقار اور اعتبار بھی سماج میں قائم تھا اور قلم کی حرمت بھی۔ سوشل میڈیا کا قہر نازل نہیں ہوا تھا۔ اخبارات پر پکوڑے بھی نہیں بیچے جاتے تھے۔ ممتاز صحافی اور مؤقر روزنامہ ”نوائے وقت“ کے سابق ریذیڈنٹ ایڈیٹر راؤ شمیم اصغر صاحب کے اسم گرامی سے ہم بچپن سے ہی آشنا تھے، 70ء کی دہائی سے 9 دسمبر 2000ء میں اپنی وفات حسرت

Read more

جنیوا معاہدے کے 33 سال:جب کوئلے کی کان میں ہم نے منہ کالا کروایا

80 ء کی دہائی کے وسط میں افغانستان پر حملہ آور سوویت افواج کے خلاف افغان جنگجو مذہبی گروہوں کی گوریلا کارروائیاں اپنے عروج پر تھیں کہ ماسکو میں ایک اہم تبدیلی رونما ہوئی۔ میخائل گورباچوف نے سوویت یونین میں طاقت کے اہم مرکز کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل کا عہدہ سنبھال لیا، اگلے ہی سال 1986ء میں چرنوبل سوویت ایٹمی تنصیبات میں دھماکے ہوئے، ایٹمی تابکاری کے خدشات نے ملکوں کو لرزا دیا، دنیا بھر میں ایٹمی تنصیبات کے غیر محفوظ ہونے پر تحفظات کی آوازیں بلند ہوئیں۔

Read more

33 سال قبل اوجڑی کیمپ میں آخر ہوا کیا تھا؟

وہ 10 اپریل 1988 ء کی ایک ”بے نور“ صبح تھی، 9 بج کر 45 منٹ پر اچانک راولپنڈی اور اسلام آباد کی فضا ہولناک دھماکوں سے لرز اٹھی۔ جڑواں شہروں کے مکینوں کو ایسے لگا جیسے پاکستان کے دارالحکومت کو کسی دشمن نے چاروں طرف سے گھیر کر اس پر میزائلوں کی بارش کر دی ہو۔ واقعہ کے کئی گھنٹے بعد پتہ چلا کہ کوئی دشمن حملہ آور نہیں ہوا بلکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم کے قریب

Read more

نادرا کے قومی شناختی چیتھڑے سے زیادہ ہماری اوقات نہیں

یادش بخیر! آج یک شنبہ کو معاصر اخبارات کے ڈھیر کا جائزہ لیا تو نگاہ ”پاکستان“ اور ”اوصاف“ کے اولین صفحات پر جا ٹھہری۔ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی مالیاتی اداروں کی دل داری کے حوالے سے شائع ہونے والی شہ سرخیوں نے ہمیں خامہ فرسائی پر مجبور کر دیا۔

مملکت خداداد ماشاء اللہ اسلامی اور الحمدللہ جمہوری پاکستان کی موجودہ ”مدنی“ حکومت جس طرح ہمارے ”مربی“ آئی ایم ایف کے سامنے لیٹتی چلی جا رہی ہے ، اس پر اسے مبارک باد نہ دینا کم ظرفی ہو گی۔

Read more

قرارداد مقاصد: جب ریاست ’مشرف بہ اسلام‘ ہوئی

مارچ کا مہینہ پاکستان کی تاریخ میں اہم واقعات اور مختلف حوالوں سے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ 72 سال قبل مارچ ہی کے مہینے میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے اپنے بجٹ اجلاس میں قراداد مقاصد منظور کر کے ریاست کو ”مشرف بہ اسلام“ کرنے کا فریضہ سرانجام دیا۔ قیام پاکستان کے بعد برطانوی پارلیمان کا بنایا ہوا ”حکومت ہند کا قانون مجریہ 1935ء“ پاکستان کا عارضی آئین بنا۔ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے

Read more

آدھا آسمان تھامنے والی مخلوق کو سلام

ٹیکسی، ٹریکٹر ٹرالی، ٹرک، بدکار، بدچلن، ٹیڑھی پسلی، کتے کی دم، ایٹم، پیس، ایکسپریس، مال، بم، پٹاخہ، پھلجھڑی، مرچ اور اس جیسی انگنت ناقابل تحریر ”مرصع و مسجع“ اصطلاحات کے ساتھ خواتین کی عزت و احترام کو ”چار چاند“ لگانے والے اس بیمار اور بانجھ بنجر معاشرے کے آدم زاد آج حوا کی بیٹیوں کا عالمی دن منا رہے ہیں۔ وطن عزیز کی 156 ملین کی آبادی میں 75 ملین سے زائد خواتین ہیں۔ گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس کے سماجی

Read more

سنیٹ انتخابات: 1985ء کے بعد پارلیمانی تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور پی ڈی ایم کے متفقہ امیدوار سید یوسف رضا گیلانی نے 169 ووٹ لے کر اسلام آباد سے سینیٹ الیکشن میں حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو شکست دے دی۔ انہوں نے 340 ووٹوں میں سے 169 جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عبدالحفیظ شیخ نے 164 ووٹ حاصل کیے۔ ریٹرننگ افسر نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ سات ووٹ مسترد ہوئے۔ ایوان بالا کے انتخاب میں جنرل نشست پر یہ سب

Read more

اداس نسلیں: وجودی مسائل کی خوبصورت داستان

بوریت، بے کاری اور مایوسی سے لبریز ان دنوں میں ہمیں اردو ادب کی شان دار کتاب ”اداس نسلیں“ کے ”مکرر“ مطالعے کا ایک بار پھر موقعہ ملا۔ اس ناول میں عبداللہ حسین نے مذہب، محبت، خدائی انصاف، سیاست، انسانی دکھوں اور گزرتے وقت کے ساتھ فرد کے اندرون کی اور سمٹ کے آنے والے وجودی مسائل کا ایک کہانی کی صورت میں احاطہ کیا ہے اور کیا ہی خوب کیا ہے۔ مذکورہ ناول کا ایک ”حسب حال“ اقتباس قارئین

Read more

کتابیں اپنے آباء کی: رضا علی عابدی کا شاہکار

اپنی دل آویز آواز اور فکر انگیز تحریروں کے سبب نصف صدی سے زیادہ عرصے سے لوگوں کی ذہنی، فکری، تہذیبی اور جذباتی تربیت کرنے والے بے مثل صدا کار، صحافی، ادیب، محقق اور سفرنامہ نگار جناب رضا علی عابدی جب بولتے ہیں تو سماعت کے ساتھ ساتھ قرات کا گمان ہوتا ہے اور جب ان کی تحریر پڑھتے ہیں تو وہ خود بولتے سنائی دیتے ہیں۔ اردو میں معدودے چند ادیب ہیں جو نہایت سہل انداز میں گمبھیر بات

Read more

کھوکھا لائبریری، ہمارا بچپن اور خورشید صاحب

عہد رفتہ کے متروک لمحوں میں اوچ شریف کی درگاہ حضرت محبوب سبحانی کی ہمسائیگی میں ایک لکڑی کا کھوکھا بوسیدگی کی ردا اوڑھے ہمیں عمرو و عیار، ٹارزن، چلوسک ملوسک، چھن چھنگلو، ہرکولیس اور فیصل شہزاد، ایکسٹو اور پاکیشیا سیکرٹ سروس کی تحیر آمیز کہانیاں سناتا تھا، ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہمیں طلسمی جہانوں کی سیر اور پراسرار کرداروں سے ہماری ملاقات کراتا تھا۔ اس کھوکھے کو ہم جیسے ”کتابی کیڑے“ ”عمران دی گریٹ لائبریری“ کے نام سے جانتے

Read more

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

ملک کی موجودہ سیاسی، سماجی اور معاشی صورت حال کے تناظر میں نہ جانے کیوں اداس رتوں کے پراسرار لیکن خوب صورت شاعر منیر نیازی کا یہ لازوال شعر یاد آتا ہے۔ منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ جانے پاک سرزمین پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے کہ تخت نشین ہونے والا ہر حکمران ملک و قوم کو بحرانوں سے باہر نکالنے کے وعدے

Read more

نیلو: رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

پاکستانی فلم انڈسٹری کی ماضی کی مایہ ناز اداکارہ نیلو بیگم طویل علالت کے بعد 81 برس کی عمر میں گزشتہ روز انتقال کر گئیں، 30 جون 1940ء کو سرگودھا کے کیتھولک مسیحی خاندان میں پیدا ہونے والی نیلو کا اصل نام عابدہ ریاض جبکہ پیدائشی نام سنتھیا الیگزینڈر فرنینڈس تھا۔ 16 برس کی عمر میں انہوں نے لاہور میں فلمائی گئی ہالی ووڈ فلم ”بھوانی جنکشن“ سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا۔ 1957 میں ریلیز ہونے والی فلم

Read more

ذوالفقارعلی بھٹو کا بیٹی بے نظیرکے نام خط

”پیاری بیٹی! میں تمہیں صرف ایک پیغام دیتا ہوں، یہ پیغام آنے والے دن کا پیغام ہے اور تاریخ کا پیغام ہے، صرف عوام پر یقین کرو، ان کی مساوات اور نجات کے لیے کام کرو، اللہ تعالی کی جنت تمہاری والدہ کے قدموں تلے ہے، سیاست کی جنت عوام کے قدموں تلے ہے، برصغیر کی پبلک زندگی میں کچھ کامیابیاں میرے کریڈٹ پر ہیں لیکن میری یادداشت میں صرف وہ کامیابیاں انعام و کرام کی مستحق ہیں جن کے ذریعے مصیبت زدہ عوام کے تھکے ہوئے چہروں پر مسکراہٹیں بکھر گئی ہیں اور جن کے باعث کسی دیہاتی کی غم ناک آنکھ میں خوشی کی چمک پیدا ہو گئی ہے۔“

Read more

پاکستان میں کمیونٹی پولیسنگ کا تصور دینے والا پولیس افسر

پاکستان میں پولیس کا مجموعی کردار عوام کی نظروں میں کبھی بھی پسندیدہ اور قابل ستائش نہیں رہا، اسی لیے پولیس کو وہ اعتماد حاصل نہیں ہو سکا جو عوام اور پولیس کے درمیان محبت کا رشتہ استوار کر سکتا۔ پولیس افسران اور ملازمین کی اکثریت خدمت کی دعویدار تو ہے مگر حقیقی معنوں میں اس کی روح سے ناآشنا ہے۔ اس کا سبب انگریزوں کے بنائے ہوئے وہ پولیس رولز بھی ہیں جو انہیں خدمت کی بجائے حکمرانوں کی لاٹھی ہی بناتے ہیں۔

جب افسران ایسے کلچر کے پابند ہوں تو تھانے میں فرائض سرانجام دینے والا ایس ایچ او ہر طاقتور کی بیساکھی بنے بغیر کیسے گزارہ کر سکتا ہے۔ مملکت پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد پولیس کا کردار آزاد و خودمختار ملک کی طرز پر تشکیل نہ پا سکا۔ بلاشبہ اس ادارے کو غیر آئینی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو مسلط رکھنے کے لیے استعمال کیا لیکن اس ادارے کے افسران نے بھی جسٹس محمد منیر کی طرز پر ”نظریہ ضرورت“ کی راہ نکالی۔

Read more

شان اکیڈمی سرکی کے رومان سے ”ہیکل سلیمانی“ کے نوسٹیلجیا تک

درد اور مسائل کے جنگل میں خوشیاں شکار کرتے کرتے خوش رنگ زندگی اتنی مصروف ہو گئی ہے کہ بوسیدہ وجود اسی رات دن کے پھیر میں گھن چکر بن کر رہ گیا ہے۔ ایسے میں زیست کی گاڑی کی رفتار آہستہ ہو اور کچھ پل کو ”عیاشی“ میں بتانے کا موقع ملے تو ہم جیسے ”سادھوؤں“ کے لئے وہ عیاشی یا تو اپنا قلم تھام کر کسی جہان نو کی تلاش ہوتی ہے یا کسی اور تخلیق کار کے

Read more

جانباز جتوئی: سرائیکی وسیب کی محرومیوں کا نوحہ خواں

سرزمین اوچ ہمیشہ سے علم و ادب کا گہوارہ رہی ہے۔ یہاں رہنے والی جن ہستیوں نے فن کی بلندیوں کو چھوا، ان میں ایک عظیم نام درویش صفت شاعر جانباز جتوئی کا بھی ہے، جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف لوگوں کے دلوں پر حکومت کی بلکہ اپنے بلند تخیل کی بنا پر شہرت کے بام عروج تک پہنچے۔ سرائیکی ادب میں حضرت خواجہ غلام فرید کے بعد سرائیکی خطے اور وسیب کی ترجمانی کرنے والے جانباز

Read more

"صبر طلب جمہوریت” اور صاحبزادہ فاروق علی خان کی خاموش موت

1973 ء کا متفقہ آئین منظور ہونے کے بعد معرض وجود میں آنے والی پہلی قانون ساز اسمبلی کے بلامقابلہ سپیکر منتخب ہونے والے صاحب زادہ فاروق علی خان طویل علالت کے بعد 29 نومبر 2020 ء کو ملتان میں انتقال کر گئے۔ 5 ستمبر 1931 ء کو گکھڑ منڈی میں پیدا ہونے والے صاحب زادہ فاروق علی خان 9 اگست 1973 ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی کے نویں سپیکر منتخب ہوئے اور 27 مارچ 1977ء تک اس منصب

Read more

میر ظفر اللہ جمالی نے استعفیٰ کیوں دیا؟

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی گزشتہ روز راول پنڈی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ انہیں دل کا دورہ پڑا تھا اور وہ وینٹی لیٹر پر تھے۔ یکم جنوری 1944ء کو صوبہ بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے گاؤں روجھان جمالی میں پیدا ہونے والے میر ظفر اللہ خان جمالی نے ابتدائی تعلیم روجھان جمالی میں ہی حاصل کی، بعد ازاں سینٹ لارنس کالج گھوڑا گلی مری، ایچی

Read more

اوچ شریف کی پانچ سو سالہ قدیم لائبریری کے بارے میں جانیے

550 قبل از مسیح میں آباد ہونے والا اوچ شہر اپنی قدامت، امارت اور روحانیت کے باعث ہمیشہ سے ہی فاتحین اور علم و فضل کی بڑی شخصیات کی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے۔ اپنی سیاسی، سماجی اور ثقافتی اہمیت کے پیش نظر ہر دور میں علم و ادب کے گیانی، سادھو اور بعد از اسلام اولیائے کرام نے اس شہر کا رخ کیا۔ حضرت سید صفی الدین گاذرونی وہ پہلے صوفی بزرگ تھے جو برصغیر میں وارد ہوئے اور اوچ میں رہائش اختیار فرما کر محض 17 سال کی عمر میں انہوں نے برصغیر کی پہلی اسلامی یونیورسٹی ”جامعہ فیروزیہ“ کی بنیاد رکھی، جس نے برصغیر میں اس وقت اسلامی تعلیم کے فروغ و ترویج کا فرض انجام دیا جب ہندوستان کی فضا مسلمانوں کے لیے پوری طرح سازگار بھی نہیں ہوئی تھی۔

Read more

”بلیک اینڈ وائٹ“ دور کے ”پی ٹی وی کلاسیک“ کی یاد میں۔

یہ 1988 ء کے سنہرے سجیلے دنوں کی داستاں یادوں کی بازآفرینی ہے۔ شاید ہمارے ”محبوب“ جنرل کے ”بلیک اینڈ وائٹ“ دور حکومت کی نزعی ساعتیں تھیں جب راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔ اداسی اور خموشی میں ملبوس ایک سہ پہر ابا جی لکڑی کے ڈبے کا چار فٹ طویل بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی لے کر جب گھر آئے تھے تو ہمارا گھر اوچ شریف کی پوری شمس کالونی میں وہ واحد ”خوش قسمت“ گھر قرار پایا جو ٹی وی جیسی ”نعمت“ سے ”سربلند“ ہوا۔

Read more

6 نومبر 1990: کہانی آئی جے آئی کی تشکیل اور نواز شریف کے وزیر اعظم بننے کی

ایک ادنی طالب علم کے طور پر پاکستان کی ”داغ داغ“ سیاسی تاریخ ہمیشہ سے ہمارا پسندیدہ موضوع رہی ہے۔ ہمارا تعلق اس نسل سے ہے جو ضیاء صاحب کے دور آمریت میں پیدا ہوئی، بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی لولی لنگڑی جمہوریت میں اس نسل کا لڑکپن گزرا اور پرویز مشرف کی فوجی حکومت میں جوانی۔ اور اب ”نئے پاکستان“ میں ”تبدیلی“ کی بدہاضمی کے ساتھ یہ اداس نسل ”ادھیڑ عمری“ کا کرب جھیل رہی ہے اور تیزی سے کہولت کی طرف گامزن ہے۔ اپنے ”تجربات“ کی بنا پر ہمارا تو یہی تجزیہ ہے کہ آئندہ بھی یہ ملک ایسے ہی ”چلتا“ رہے گا۔ یعنی کہ ووٹ کی ”عزت“ سولہ سنگھار کیے شاہراہ دستور پر جھانجھریں چھنکاتی رہے گی۔

Read more

کورونا میں مبتلا کمار سانو کے لئے عقیدت و عیادت کے ساتھ کچھ لفظی پھول

نیک خواہشات اور صحت کی دعا کے ساتھ یہ نثر پارہ 90 ء کی دہائی میں ہماری سماعتوں کو لازوال اور سدا بہار گیتوں سے آشنا کرنے والے ہمارے عہد کے مہان گلوکار کمار سانو صاحب کے لئے جن میں کورونا کی جانچ کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔ ”سانو دا“ کے گیتوں نے نہ صرف انسانی جذبوں کو عمومی انداز میں اپنا سر، تال اور آہنگ کا روپ سروپ دیا بلکہ ہماری پیڑھی کے عہد جوانی و لڑکپن کو روایتی

Read more

آہستہ بولیں! ایک ماں مقتولہ بیٹی کی نعش کے ساتھ رورل ہیلتھ سنٹر اوچ شریف کے فرش پر سو رہی ہے

زیر نظر تصویر دراصل ہمارے بانجھ بنجر سماج کی بے حسی کی ”مردہ“ مثال اور سسکتی، بلکتی، کرلاتی انسانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بلکہ اس خون آشام معاشرے میں درندگی اور شرمندگی کے درمیان پھنسی زندگی کا بوجھ ڈھوتے ہوئے کبھی کبھی تو ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ من حیث القوم ہم ابھی بھی وائی کنگز کے دور میں جیتے ہیں۔ گزشتہ روز حق مہر سے دستبردار نہ ہونے کے ”جرم“ میں اپنے ”مجازی خدا“ کی ”شقاوت قلبی“

Read more

انور سادات: اسرائیل کے خلاف جنگ سے اسرائیلی پارلیمان سے خطاب تک

6 اکتوبر 1981ء کو مصر کے دار الحکومت قاہرہ میں یوم فتح کی پریڈ کے موقع پر، اسلام پسندوں کے ہاتھوں، امن کے نوبل انعام یافتہ صدر انور سادات کے قتل کا واقعہ، نا صرف مصر کے داخلی منظر نامے کی تبدیلی کا پیش خیمہ بنا، بلکہ اسے مشرق وسطی کی سیاست میں بھی دور رس نتائج کا حامل سمجھا جاتا ہے۔

انور سادات 25 دسمبر 1918ء کو دریائے نیل کے ڈیلٹائی علاقے کے ایک قصبے میت ابو الکوم کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ 13 بہن بھائیوں میں سے ایک تھے۔ ان کے والد مصری، جب کہ والدہ سوڈانی تھیں۔ انور سادات نے 1938ء میں قاہرہ میں رائل ملٹری اکیڈمی سے گریجویشن کیا اور سگنل کور میں بھرتی ہوئے۔ وہ فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے شامل ہوئے اور انہیں سوڈان میں تعینات کیا گیا، جہاں ان کی ملاقات جمال عبد الناصر سے ہوئی۔ انہوں نے برطانیہ اور شاہ مخالف حرکة الضباط الاحرار تشکیل دی، جس کا مقصد مصر کو برطانوی قبضے سے آزاد کرانا تھا۔

Read more

گاؤں کی ”بھا آلی کوٹھی“ کی مونجھ میں ایک اظہاریہ

”بھا آلی کوٹھی“ عہد گم گشتہ میں ہمارے گاؤں والے گھر میں دریائی مٹی سے لیپے ہوئے، کچی دیواروں اور گھاس پھوس کی چھت پر مبنی ”کچن“ کا ”سوکھا“ یعنی کہ آسان نام تھا۔ ”بھا آلی کوٹھی“ کے درمیان میں مٹی کی لپائی سے ہی ایک چولہا بنا ہوا تھا جس کے آگے دو یا تین مربع فٹ کا احاطہ موجود تھا جس میں موٹی موٹی لکڑیاں دکھتی رہتیں۔ ان گیلی اور کڑوی کسیلی لکڑیوں سے کالے کالے دھویں جیسا غبار ہر وقت اٹھتا رہتا۔ ”بھا آلی کوٹھی“ میں آگ جلانے کے لئے صرف لکڑیوں کا ہی استعمال نہیں ہوتا تھا بلکہ بالن کا ایک اور بڑا اہم اور فوری ذریعہ اپلے بھی ہوتے۔

Read more

پانچ دریاؤں کے سنگم پر رومان نگر کا قصہ

برصغیر میں تاریخی۔ روحانی اور تہذیبی حیثیت کے حامل شہر اوچ شریف سے شمال کی جانب 12 کلو میٹر کے فاصلے پر ہیڈ پنجند وہ تفریحی مقام ہے جہاں پانچ دریا چناب، ستلج، بیاس، جہلم اور راوی مل کر حسین سنگم بناتے ہیں، پنجند کی تاریخی حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مہا بھارت کے قصے کہانیوں میں اس کا ذکر ملتا ہے جو ”پنجا ندا“ کے حوالے سے ہے۔ پنجاب کی تاریخ کا پنجند

Read more

19 ستمبر 1955 ء: کہانی سکندر مرزا کے ”مستقل“ گورنر جنرل بننے کی

پاکستان کے تیسرے گورنر جنرل ملک غلام محمد ذہنی طور پر انتہائی مخبوط الحواس ہو چکے تھے اور اپنے ماتحتوں اور ملنے والے لوگوں کو سرعام گالیاں دینے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔ گورنر جنرل ہاؤس کے ملازمین اور ارباب بست و کشاد میں سے ہر کوئی ان سے تنگ تھا مگر کسی کو ان سے استعفیٰ لینے کی ہمت نہیں تھی۔ اسی دوران 6 اگست 1955 ء کو ملک غلام محمد اپنی شدید علالت کے باعث دو مہینے

Read more

پنجاب کا نیا بلدیاتی نظام عوام کے لیے کتنا فائدہ مند ہو گا؟

گزشتہ روز پنجاب کے وزیر قانون بشارت راجہ کے زیر صدارت اجلاس میں 4 دسمبر کو غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے۔ فیصلے کے مطابق پہلے مرحلے میں ویلیج اور نیبرہڈ کونسلوں کے غیر جماعتی انتخابات میں 27 ہزار افراد بلدیاتی سسٹم کا حصہ بنیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں تحصیل کونسل اور میٹروپولیٹن کے انتخابات جنوری میں منعقد کرائے جائیں گے۔ حکومت کا یہ اعلان حقیقت کا روپ بھی دھارے گا یا

Read more

نانی اماں کی مونجھ اور ترنڈہ محمد پناہ کی یادیں

موضع سدو والی (ترنڈہ محمد پناہ) میں واقع ہماری نانی اماں کا گھر موسم گرما میں خنک چھاؤں اور جاڑے کی رت میں گلابی دھوپ کا سا تھا۔ بالپن میں یہ خیال تھا کہ دنیا کے سارے آسودہ اور شانت گھر شاید نانی اماں کے گھر جیسے ہی ہوتے ہیں۔ گارے مٹی کے بنے دو کچے کمرے، کچا اور کشادہ آنگن، آنگن کے وسط میں نیم کا ایک سر سبز درخت ایستادہ تھا۔ بائیں کونے میں پانی کا نلکا لگا

Read more

ایک غیر ضروری شخص کے لئے کلیشے کالم

ان سے ملئے، یہ اوچ شریف کے نواحی موضع مخدوم پور کی بستی جانگلہ کے رہائشی چاچا حضور بخش بلوچ ہیں۔ کہولت ان کے جسم میں کئی برس سے مقیم ہے لیکن قوت ارادی کی لاٹھی ٹیکتے یہ زندگی گھسیٹ رہے ہیں۔ انہیں یقین ہے ایک روز موت نے آنا ہے اور مجھے لے جانا ہے لیکن زمین پر یہ اپنی زندگی کا بوجھ کسی اور پر ڈالنے کے حق میں نہیں۔ سفید ریش، چہرے پر پھیلا جھریوں کا جال۔

Read more

اوچ شریف: میونسپلیٹی سے ٹاؤن کمیٹی کا سفر معکوس؟

12 اگست 2020 ء کو سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل ہونے والے ایک سرکاری نوٹیفیکیشن نے اہل اوچ کو حیران و پریشان کر کے رکھ دیا۔ 10 اگست کو سیکرٹری پنجاب لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی طرف سے جاری کیے گئے اس نوٹیفیکیشن میں میونسپل کمیٹی اوچ شریف کو ٹاؤن کمیٹی کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ 1979 ء کے بعد یہ دوسری بار ہوا کہ اوچ نے میونسپلیٹی سے ٹاؤن بننے کی ”ترقی

Read more

دوسالہ بندش کے بعد ہیڈ پنجند کے تاریخی پل کی بحالی

ہیڈ پنجند کے تاریخی پل کو دو سالہ بندش کے بعد یوم آزادی کے پرمسرت موقع پر ہمہ قسم کی ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا۔ پاکستان کے تین صوبوں کو ملانے والی قومی شاہراہ پر واقع اس اہم پل کی بندش و بحالی کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ یہ پل گزشتہ کئی سالوں سے خستہ حالی کا شکار تھا اور غالباً اپنی طبی عمر ہی پوری کر چکا تھا، مذکورہ پل کو کئی بار مرمت کے لئے

Read more

سہ ماہی ”الزبیر“ بہاول پور: آسمان ادب کا مہر منور

سابق صدر، شعبہ تاریخ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور، اردو اکادمی بہاول پور کے معتمد عمومی، ممتاز مصنف، محقق، مورخ اور مرتب پروفیسر ڈاکٹر شاہد حسن رضوی صاحب کی طرف سے علمی، ادبی و تحقیقی جریدے سہہ ماہی ”الزبیر“ اور ادب، سیاست، مذہب کے حوالے سے خوبصورت تحاریر کے مرقع میگزین ماہنامہ ”الہام“ کے تحائف بذریعہ ڈاک ایک ساتھ موصول ہوئے اور اس زمین زاد کو ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا کر گئے۔ شاید ڈاکٹر صاحب نے اس لئے اس ناچیز

Read more

ماسٹر شریف اوچوی صاحب کے ایک نالائق شاگرد کی یادداشتیں

یادش بخیر۔ امتداد مدت ہجراں۔ ہنگام کہنہ سالی۔ اگر ہم سے پوچھا جائے کہ ہمارے سب سے پیارے استاد کون ہیں؟ تو ہم فوراً کہیں گے کہ ماسٹر چوہدری محمد شریف اوچوی صاحب۔ اب پوچھئے کہ ان میں ایسی کیا خاص بات تھی؟ ہم کچھ سوچیں گے لیکن کچھ کہہ نہ پاویں گے کیونکہ ایک شاگرد اپنے استاد کی شخصیت میں وہ سب کچھ دیکھ لیتا ہے جو شاید استاد بھی اپنے متعلق نہ جانتا ہو۔ ہمارے لئے یہ بڑے

Read more

آئیے! ”ایکس ون“ سے ملتے ہیں

چھے سو سے زائد عمران سیریز کے ناول اور بچوں کے لئے پانچ ہزار سے زائد چھوٹی کہانیاں لکھ کر ناول نگاری کی دنیا میں افسانوی شہرت رکھنے والے نامور ادیب، صحافی، کالم نگار، ممتاز براڈ کاسٹر اور معروف قانون دان، ہم سب کے محبوب و مقبول مصنف جناب مظہر کلیم (ایم اے ) کی 22 جولائی کو 78 ویں سالگرہ منائی گئی۔ وہ بھی کیسے عجیب دن تھے۔ ہم گرمیوں کی طویل نہ ختم ہونے والی شاموں میں اپنے

Read more

جب ”کاکڑ فارمولے“ کے تحت صدر پاکستان اور وزیر اعظم کی ایک ساتھ ”رخصتی“ ہوئی

”کاکڑ فارمولے“ کے تحت صدر پاکستان غلام اسحاق خان اور وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی ایک ساتھ ”رخصتی“ کو آج 27 برس بیت گئے۔ اس کہانی کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ 6 نومبر 1990 ء کو میاں محمد نواز شریف نے اسلامی جمہوری اتحاد کے پلٹ فارم سے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے پہلی مرتبہ بطور وزیر اعظم اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا تاہم کچھ عرصے بعد ہی مختلف ایشوز پر ان کے

Read more

باغ و بہار: اپنے عہد کی اجتماعی زندگی اور تہذیبی احوال و آثار کی مستند دستاویز

”باغ و بہار“ میرامن دہلوی کی داستانوی کتاب ہے جو انہوں نے فورٹ ولیم کالج میں ”محسن اردو“ جان گلکرسٹ کی فرمائش پر لکھی۔ داستانوں میں جو قبول عام ”باغ و بہار“ کے حصے میں آیا ہے وہ اردو کی کسی اور داستان کو نصیب نہیں ہوا۔ عوام اور خواص دونوں میں یہ داستان آج بھی اتنی ہی مقبول ہے جتنی آج سے پونے دو سو برس پہلے تھی۔ اس کی غیر معمولی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ اس

Read more

ذکر صحافتی تاریخ کے اساطیری نیوز ایڈیٹر کا۔ ۔ ۔

ہماری خوش بختی کہ گزشتہ روز برادرم اسلم ہمشیرہ اور عزیزم اصغر جھبیل جیسے اساتذہ کرام نے اپنے قدوم میمنت لزوم سے کتاب سرائے کو رونق بخشی۔ مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے لیجنڈ فنکار اور شاعر طارق عزیز صاحب کا تذکرہ چھڑ گیا۔ ”ذکر یار“ سے شروع ہونے والی بات ان کی وفات کے حوالے سے اخبارات کی سرخیوں تک اور وہاں سے عباس اطہر صاحب تک جا پہنچی۔ کچھ معاصر اخبارات نے طارق عزیز صاحب کی وفات

Read more

فراست صاحب! ہم آپ کو نہیں بھولے

بہت سے لوگ محمد فراست اقبال صاحب کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے وابستہ ایک باصلاحیت اور محنتی بیوروکریٹ کے طور پر جانتے ہوں گے، لیکن بیوروکریسی کے روایتی پروٹوکول کی ہاہاکار اور اعلی عہدے کی چکاچوندی سے ہٹ کر وہ علم و آگہی کی روشنی سے منور ایک درویش اور بے نیاز قسم کی باذوق اور وضع دار ادبی شخصیت تھے۔ بیوروکریٹک رویے سے بالکل پاک اور سادہ انسان۔ ان کی دانش، برمحل اشعار سے مزین برجستہ گفتگو، حاضر دماغی

Read more

ٹیپ ریکارڈ اور آڈیو کیسٹ کے رومانس میں ہمکتے سنہرے دنوں کی یاد

یہ قصہ پارینہ بن جانے والے عہد گم گشتہ کی سنہری سجیلی یادوں کی دلستاں بازیافت ہے جو گاہے دل میں لہکتی اور روح میں ہمکتی ہے۔ ایک سچی، فطری اور بے ساختہ زندگی کی مونجھ جو نمود ذات کی تمنا میں بے ثمر بیت گئی۔ جولائی 1991 ء کی ایک حبس زدہ دوپہر کی اونگھتی ہوئی ساعتوں میں بھائی جان پہلی بار شہر سے نیشنل پیناسونک کمپنی کا ایک ٹیپ ریکارڈ اور چند آڈیو کیسٹیں لے کر گاؤں کے

Read more

جب غیر سیاسی پارلیمان کا سلیکٹڈ وزیر اعظم "ضیابیطس” کا شکار ہوا

32 سال پہلے 29 مئی 1988 ء کی شام عجلت سے بلائی گئی ایک پریس کانفرنس میں پاکستان کے فوجی حکمران صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے آئین کے آرٹیکل 58 ( 2 ) بی کے تحت ملنے والے اختیارات کے تحت وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو برطرف کرتے ہوئے قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ توڑنے کا اعلان کر دیا۔ اس اقدام کی وجوہات بتاتے ہوئے صدر محمد ضیاء الحق نے کہا کہ انتخابات کا حقیقی مقصد حاصل نہیں

Read more

آہ۔ ۔ ۔ خالد شیر دل: تجھے کس پھول کا کفن ہم دیں

خالد شیر دل۔ ۔ ۔ اکثر لوگوں کے لئے یہ نام شاید نیا ہو، ہماری خود بھی ان کے ساتھ محض تین یا چار ملاقاتیں رہیں اور وہ بھی موبائل فون کے ذریعے۔ ۔ ۔ خالد شیر دل صاحب ہمارے ملک کے ایک متحرک بیوروکریٹ اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے سرکردہ افسروں میں سے ایک تھے۔ 24 ویں سی ٹی پی میں وہ محمد فراست اقبال صاحب کے قریبی ساتھی اور انتہائی گہرے دوست تھے، گزشتہ روز کراچی میں طیارے کے افسوس ناک حادثے میں وہ انتقال کر گئے۔ ۔ ۔

Read more

ایک کالم عید کارڈ بھیجنے کا شرف حاصل کرنے والوں نام

صاحب! اب ہم عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں نئے رشتے بنانے اور کچھ پانے کی اکساہٹ باقی نہیں رہتی، سو ہم پرانے اثاثوں اور ان سے وابستہ کہنہ سال یادوں کو سینت سینت کر رکھتے ہیں۔ برس ہا برس سے دل کی آرائش گاہ میں سجی مورتیاں ہمیں بے حد عزیز ہیں سو اکثر انہی مورتیوں کو چمکاتے اور یاد کارنس کی جھاڑ پونچھ کرتے رہتے ہیں۔

کورونا وائرس کی وبا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ابتلاء کے حالیہ دنوں میں ہمیں لگا کہ زیست کی رو میں بگٹٹ چلنے والے رخش عمر نے اچانک ہی بگ چال اختیار کر لی ہے۔ سمے تھم سا گیا ہے۔ یار خوش خصال محمد فراست اقبال کے ایک خوبصورت شعر نے در دل پر دستک دی ہے، آپ بھی سن لیجیے۔ ۔ ۔

Read more

ملیے! میلسی کے ایک باکمال آرٹسٹ سے

ضلع وہاڑی کے ایک چھوٹے سے شہر میلسی کی یاد عرصہ دراز سے ہمارے دل میں بکل مارے بیٹھی ہے۔ اس شہر سے ہمارا ”سہ گونہ“ تعلق یوں ہے کہ یہاں غلام مصطفی عجمی صاحب جیسے جید صحافی، پروفیسر شفیق الرحمن الہ آبادی اور شاہد حفیظ الہ آبادی جیسے مہان قلم کار اور ادیب سانسیں لیتے ہیں جن کی موجودگی کسی بھی چھوٹے شہر کو بڑا بنا دیتی ہے کہ شہر شخصیات سے پہنچانے جاتے ہیں۔

Read more

صحافت کی کشت ویراں، صحافتی بالشتیے اور احسان احمد سحر

احسان احمد سحر صاحب ضلع بہاول پور کے حقیقی معنوں میں سینئر اور عامل صحافی ہیں۔ ہمارے والد بزرگوار نسیم صاحب کے ہم عصر اور ان کے دوست۔ ہماری بدقسمتی کہ ہم ابھی تک ان سے ”روبرو“ شرف بازیابی سے محروم ہیں، البتہ ٹیلی فون پر تین یا چار مرتبہ ”دوبدو“ ملاقات کا شرف حاصل ہے۔ غائبانہ نیاز مندی کی یہ کٹھالی جانے کب تک رواں رہے۔ برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ ابھی رات کے پچھلے پہر جب نیند ہماری

Read more

بہاول پور کا یونیورسٹی چوک اور اوچ شریف کی دو مرحوم انقلابی روحیں

فروری 2011 ء کے ابتدائی دنوں کا ذکر ہے۔ اپنے پندرہ روزہ اخبار ”نوائے اوچ“ کے ڈیکلریشن کے حصول کے لئے اکثر و بیشتر ہمارا بہاول پور کی ضلعی انتظامیہ کے دفاتر میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ ضروری امور کی انجام دہی کے بعد ہمارا بہترین مشغلہ یونیورسٹی چوک پر لگی کتابوں کی نمائش پر جا کر مہنگی کتابوں کو تکنا اور سستی لیکن معیاری کتابوں کو خریدنا تھا۔ ماضی قریب کے ان خوبصورت دنوں کی یاد اور ملنے

Read more

زندگی اگر "ٹام اینڈ جیری” جیسی معصوم ہو جائے

سوشل میڈیا کے ذریعے آج ہمیں ایسی عزیز ترین ہستی کے انتقال کی خبر ملی جن سے بظاہر ہمارا کوئی رشتہ اور تعلق واسطہ نہیں لیکن جن کے بغیر شاید ہمیں زندگی میں مسکراہٹ، شرارت اور معصومیت کا مفہوم ہی کبھی پلے نہ پڑتا۔ وہ صرف ہمارے لئے ہی عزیز از جان نہیں تھے بلکہ کروڑوں انسان ان کے چاہنے والے تھے مذکورہ بالا ساری تمہید ہم اپنے جس پیارے رشتے دار کے لئے باندھ رہے ہیں وہ موصوف 95

Read more

ہم خون آشام معاشرے کے راجا گدھ ہیں

1993ء میں جنوبی افریقہ کے ایک فوٹو جرنلسٹ کیون کارٹر نے سوڈان میں قحط کے دوران میں ایک تصویر کھینچی تھی۔ تصویر میں ایک گدھ ایک بھوکی اور قریب الموت بچی کے مرنے کا انتظار کر رہا ہے، تا کہ اسے نوچ کر کھا سکے۔ یہ تصویر دنیا میں اس قدر مشہور ہوئی کہ انہیں اس تصویر کی وجہ سے پلٹزر پرائز سے نوازا گیا۔ جب وہ اس ایوارڈ کے پانے کا جشن منا رہا تھا، تو ساری دنیا کے

Read more

جب نظام دکن نے بھارتی وزیر اعظم کے وار فنڈ میں پانچ ہزار کلو گرام سونے کا چندہ دیا

حیدر آباد دکن غیر منقسم ہندوستان کی 565 ریاستوں میں سب سے بڑی ریاست تھی۔ اس کے حکمران نظام کہلاتے تھے۔ اگست 1947ء کی تقسیم برصغیر کے دوران میں ریاست حیدر آباد دکن کے نظام میر عثمان علی خان صدیقی تھے جو آصف جاہ خاندان کی ساتویں پشت سے تعلق رکھتے تھے۔ 1911ء سے 1948ء تک حکومت کرنے والے اس نظام کی دولت مندی کے قصے الف لیلوی داستانوں کی طرح مشہور تھے، لیکن یہ سب کچھ اب تاریخ کا

Read more

وبا کے دنوں میں ایک باپ کی وصیت

پیارے بیٹے! ”پرانے پاکستان“ کا ایک بوسیدہ شہری، جو اداس نسلوں کے تسلسل کی آخری کڑی ہے، عمر رواں کی بے اعتبار سانسوں کی مالا جپتے جپتے جسے کہولت نے آ لیا ہے۔ کرونا وائرس کی اس عالمگیر وبا کے موقع پر تمہیں وصیت کرتا ہے۔ یاد رکھنا کہ تم اس ملک میں پیدا ہوئے ہو جس ملک میں علیل قائداعظمؒ کی ایمبولینس خراب ہو جایا کرتی ہے اور یہاں آئین بنانے والے سولی چڑھ جایا کرتے ہیں جبکہ مقبول

Read more

اہل پاکستان کو 64ویں یوم جمہوریہ پر 80واں یوم پاکستان مبارک ہو‎

یادش بخیر؛ پاکستانی قوم 23 مارچ کے دن اپنے 64 ویں یوم جمہوریہ کو 80 ویں ”یوم پاکستان“ کے طور پر روایتی جوش و جذبے اور تزک و احتشام کے ساتھ منا رہی ہے۔ من حیث القوم تاریخ اور تاریخی عوامل سے کھلواڑ کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ بدقسمتی سے مملکت خداداد طلسم ہوش ربا میں تاریخ کو سبالٹرن اسٹڈیز کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے ڈپٹی کمشنر کی پریس ریلیز یا پی آر او کے ہینڈ آوٹ کے

Read more

سرکی پتن: کِیویں ساکوں یاد نہ رَاہسی

یہ اظہاریہ پار سال کی جاں ستاں مونجھ میں گھلی اداسی کی دل ستاں باس ہے جو گاہے گاہے من میں ہمکتی ہے اور بے چین کیے رکھتی ہے۔ ضرب عضب کی خوں رنگ رتوں میں مل کر خزاں کی زردی ماحول کو گھمبیر اور طبیعت کو بوجھل بنا رہی تھی۔ جب یہ طے ٹھہرا کہ ٹھل حمزہ کے راستے سے کشتی کے ذریعے سندھو سائیں کے فراخ سینے کو چیرتے ہوئے گاؤں کی اور کوچ کریں۔ مسافروں اور مال

Read more

اب قلم سے آزاد بند ہی ڈال۔۔۔

اپنے اپنے مفادات، خواہشات اور انا کے اسیر بعض گداگران سخن کو جہاں سے چارہ ملتا ہے، وہاں منہ مار لیتے ہیں۔ یہ جملہ یقینا نوے فیصد صحافیوں پر لاگو نہیں آتا، کیونکہ ہمارے نزدیک جو صحافی ہیں ان کی بہت بڑی تعداد صحافت کے اصولوں کے مطابق فرائض منصبی ادا کرتی ہے۔ البتہ یہ جملہ ان صحافیوں پر خوب چسپاں ہوتا ہے جو صحافتی پس منظر نہیں رکھتے اور انہوں نے صحافت کو اپنے ذہن کی غلاظتوں سے بھر

Read more

گورنمنٹ ہائی سکول اوچ شریف، جہان زمان و مکاں گلے ملتے ہیں

یادش بخیر، گذشتہ روز یوں ہوا کہ جہان رنگ و بو کی یکسانیت اورمکروہات دنیا کی آلائشوں سے طبیعت کچھ اوبھ سی گئی تو ہم نے دل کو بہلانے اور روح کو سہلانے کے لئے اپنی مادر علمی گورنمنٹ ہائی سکول اوچ شریف میں جانے کا قصد کیا۔ سکول کا پھاٹک عبور کرتے ہی بے اختیار زمانہ طالب علمی کی یاد دل و دماغ میں ہمکنے لگی اور ایک ایک کر کے تمام کلاس فیلوز اور اساتذہ کرام کے روشن

Read more

مادری زبانوں کا عالمی دن پاکستان کی سیاسی تاریخ پر کلنک کا ٹیکہ ہے

25 فروری 1948 ء کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا۔ وزیر اعظم نواب زادہ لیاقت علی خاں نے کہا کہ صرف اردو ہی مغربی اور مشرقی پاکستان کو متحد رکھ سکتی ہے، لہذا اردو اور صرف اردو ہی پاکستان کی سرکاری زبان ہو گی۔ 21 مارچ 1948 ء کو قائد اعظم محمد علی جناح نے ڈھاکا میں جلسہ عام میں اعلان کیا کہ ”پاکستان کی سرکاری زبان اردو کے سوا

Read more

شہر کی بے چہرہ زندگی سے گاؤں کی بوڑھی پگڈنڈیوں تک

غم روزگار سے لب ریز اور غم جاناں سے لب دوز شہر کی بے چہرہ زندگی کی کٹھالی میں دائرہ در دائرہ گھوم کر اپنے ہی بدن کے اندر عمر قید کی سزا کاٹتے کانٹے جب کلجگ کی نفسانفسی، افراتفری، انتشار، اخراجات ہمیں اندر سے لیر لیر کر دیتے ہیں تو ہماری تنہائی پسند طبیعت ان کترنوں کو چن کر بے نام اداسی اور اکتاہٹ کی گھٹڑی میں باندھ دیتی ہے اور پھر شانتی و خامشی کی اترن پہنے اجلے

Read more

”میٹرک فیل“ عین حیدر کے لئے ”عین نوازش“ کے ساتھ

یہ حالیہ دنوں کی بات ہے، ہم گاؤں میں دوپہر کے کھانے کے بعد کوئلوں پر پکی گڑ والی چائے سے حظ اٹھا رہے تھے کہ واقعتا موبائل فون کی مترنم گھنٹی بج اٹھی۔ کوئی انجان سا نمبر سکرین پر جگمگا رہا تھا۔ دل ہی دل میں موبائل فون کے خالق ”مارٹن کوپر“ کو کوستے ہوئے ہم نے کال ریسیو کی تو دوسری طرف سے ایک صاحب گویا ہوئے ”نعیم صاحب! کہاں ہیں آپ؟ میں آپ کا ہم نام بول

Read more

منظر اُوچوی منظروں کے دائرے سے باہر نکل گئے

وہ 28 دسمبر 2019 ء کی ایک کہرزدہ اور بے نورصبح تھی۔ شدید سردی نے جیسے اردگرد کے ماحول کو منجمداور سوگوار کر دیا تھا۔ دفتر جاتے ہوئے راستے میں کسی مسجد کے لاؤڈ سپیکرز سے کسی کی وفات کا اعلان ہو رہا تھا جو ٹھیک طرح سے سمجھ نہ آنے کے باوجود اداس کر گیا۔ اوچ شریف ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ کسی واقعہ یا وفات کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے لیکن اعلان شاید

Read more

”تاریخ اوچ متبرکہ“ ایک مطالعاتی جائزہ

دینی و علمی حلقوں میں جناب علامہ مفتی محمد سراج احمد قادری رضوی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، گزشتہ چالیس برسوں سے انہوں نے اوچ شریف جیسے چھوٹے سے علاقے میں دین کی شمع روشن کر رکھی ہے، اپنی دینی خدمات، معلمی جیسے مقدس پیشے سے عرصہ دراز تک وابستگی، جامعہ مدرسہ عزیزالعلوم کے خطیب اور جماعت اہلسنت اوچ شریف کے سرپرست اعلیٰ کی حیثیت سے اتحاد بین المسلمین اور بین المسالک ہم آہنگی کے لئے ان کی

Read more

کچھ "بزرجمہر” کے بارے میں۔۔۔

یادش بخیر: آج ہمارے ایک ”بزرجمہر“ دوست نے اپنی تمام تر قابلیت اور علمیت کو بالائے طاق رکھ کر ہماری ”بے بضاعتی“ پر صاد کرتے ہوئے واٹس ایپ پہ مسیج بھیجا کہ ہم نے مظہر کلیم (ایم اے ) اور جاسوسی کے پرانے ناولوں میں ”بزرجمہر“ کا لفظ پڑھا تھا۔ یہ ”بزرجمہر“ کون ہیں اور ان کی تدبیر اور معاملہ فہمی کی مثال کیوں دی جاتی ہے؟ مذکورہ دوست نے ان کی شخصیت کے حوالے سے کوئی تحریر بھی گروپ

Read more

دسمبر کی شبنمیں رات اور سرود رفتہ میں ہمکتے سدابہار گیت کی مہک

یادش بخیر: یہ 31 دسمبر 1999 ء کی یخ بستہ رات کا ذکر ہے۔ یہ زمین زاد اپنے گاؤں کے کچے کمرے میں رضائی اوڑھے ریڈیو پر بی بی سی لندن کی اردو سروس سماعت کر رہا تھا۔ آواز تھی اساطیری براڈ کاسٹر جناب رضا علی عابدی کی اور ”سیربین“ پروگرام میں تذکرہ تھا اس سدا بہار گیت کا، جسے ختم ہونے والی صدی میں انڈین سینما کی تاریخ کا بہترین گیت قرار دیا گیا۔ پروگرام کے فالواپ میں جناب

Read more

ڈھاکا ”فال“ نہیں ہوا بلکہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا ہے

یادش بخیر؛زمین زاد کا تعلق اس بے چہرہ نسل سے ہے جو ”ضیابیطس“ میں لتھڑے عہد ناسپاس میں پیدا ہوئی۔ وہ نسل جس نے پاکستان کو بنتے اور ٹوٹتے تو نہیں دیکھا البتہ بگڑتے اور سسکتے ضرور دیکھا ہے۔ ہماری پیدائش کے وقت صدیق سالک کے ڈھاکا کو ”ڈوبے“ 13 سال بیت چکے تھے۔ ہم نے ڈھاکا ڈوبتے نہیں دیکھا البتہ خاک و خون میں ڈوبنے اور ڈوب کر ابھرنے کا قصہ اپنے والد گرامی سے کئی بار سنا۔ پاکستان

Read more

مظفر گڑھ گزیٹیئر: ڈاکٹر احتشام انور کی قابل قدر کاوش

برصغیر میں نوآبادیاتی طاقت ہونے کے باوجود انگریزوں نے پنجاب کے اضلاع کے تفصیلی گزیٹیئر مرتب کر کے ان کی اشاعت میں کامیابی حاصل کی جو اب بھی اضلاع کی تاریخ و ثقافت سے متعلق مستند حوالوں کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ گزیٹیئر سب سے اہم اور مستند دستاویز کے طور پر متعلقہ ضلع کی تاریخ، جغرافیہ، آبادی، روایات، معیشت اور زراعت جیسی تمام متعلقہ تفصیلات و معلومات کا احاطہ کرتے تھے۔ تاہم 1947 ء میں قیام پاکستان

Read more

دسمبر، لالٹین، نوسٹیلجیا

یادش بخیر: میرے گاؤں کے گھر کی کہنہ سال لالٹین کی حیثیت دراصل میرے لئے روشنی کے نروان کی سی ہے، یہ جب جلتی ہے تو دراصل اس کی زرد ملگجی روشنی میں میرے بچپن، جوانی اور اب کہولت کی گھڑیاں مجھ سے ہمکلام ہوتی ہیں۔ دسمبر کی یخ بستہ راتوں میں کچے کمرے میں دہکتے انگاروں سے بھرے چولہے کے ساتھ بچھی چٹائی پر بیٹھ کر اس لالٹین کی پوتر اور الوہی روشنی میں استاد کا آموختہ دہراتے ہوئے

Read more