چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں

بھادوں بڑا نرم و گداز سا مہینہ ہے۔ نہ گرمی سے دہکتا نہ سردی سے ٹھٹھرتا ہوا۔ نہ راتیں طویل نہ دن لمبے۔ برسات کی ہریالی پہنے ہوئے شاداب منظروں کا مہینہ۔ میری زندگی میں اس بکری مہینے کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ سو بھادوں طلوع ہوتے ہی یادوں کا ایک دبستان سا کھل جاتا…

Read more

17 اگست 1988ء: ہمیں یاد ہے وہ ذرا ذرا۔۔۔

یادش بخیر: 31 برس پہلے سترہ اگست کے دن بہاول پور کے قریب بستی لال کمال میں ایک ایسا سانحہ رونما ہوا تھا جس کی ہولناک گونج پوری دنیا میں سنی گئی۔ صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق اور ان کے رفقاء کی طیارے کے اندوہناک حادثے میں ناگہانی موت نے ملک بھر میں صف ماتم بچھا دی تھی۔ جب یہ حادثہ وقوع پذیر ہوا تھا، اس وقت اس زمین زاد کی عمر محض چار سال چھے دن کی تھی اور اوچ شریف میں موجودہ رہائش گاہ پر رہائش پذیر ہوئے ہمیں چار مہینے ہی ہوئے تھے۔ اس قومی سانحے سے چند روز قبل ہی ابا جی ایک بڑا سا ڈبہ نما بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی لے کر آئے تھے، جسے پوری شمس کالونی میں واحد ٹیلی ویژن سیٹ ہونے کا ”اعزاز“ حاصل تھا۔

Read more

یہاں “سارتر” ہمیشہ اٹھائے جاتے رہیں گے

یادش بخیر: جدید جمہوریت کے اس دور میں ریاست کو ماں کا درجہ حاصل ہوتا ہے، جو طاقتور کے مقابلے میں ہمیشہ اپنے کمزور بیٹے کی فلاح، سلامتی، صحت، تعلیم جیسے بنیادی حقوق پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔ جبکہ جمہوری تقاضوں سے نابلد تیسری دنیا کی ریاستیں اکثر سوتیلی ماں جیسی ہی نکلتی ہیں۔ بدقسمتی…

Read more

نیا پاکستان، جرم سخن اور عرفان صدیقی کا داخل زنداں ہونا

یادش بخیر، اس زمین زاد نے اخباری دنیا میں زبان و بیاں کا سلیقہ دو شخصیات سے سیکھا ہے۔ ایک والد گرامی نسیم صاحب ہیں۔ ان سے تو براہِ راست کسب فیض کیا۔ سکول سے واپسی پر نسیم صاحب کو ''نوائے وقت'' کا فکاہیہ کالم ''سر راہے'' پڑھ کر سنانا ہماری ذمہ داری تھی۔ لہذا…

Read more

سید محمد سلیم ریاض: ریڈیو پاکستان کی طلسمی آواز پیوند خاک ہو گئی

گزشتہ دو دہائیوں میں ہمارے نوسٹیلجیا سے جڑی بہت سی خوبصورت چیزیں قصہ پارینہ بنیں، جن میں ایک ریڈیو بھی شامل ہے۔ جدید ابلاغ کی ہوشربا سہولیات میسر ہونے کے باوجود ریڈیو سماعت کرنے کا اپنا ہی ایک لطف ہے۔ سرودِ رفتہ کے گل رنگ یاد باغ میں کنواری مٹی کی روح پرور باس میں…

Read more

زندگی میں ایک بار تنویر احمد عطاری سے ضرور ملیئے

جگنو اس لیے بھی اچھے ہوتے ہیں کہ یہ اندھیرے میں دور سے نظر آتے ہیں اور دور تک نظر آتے ہیں۔ تنویر احمد عطاری بھی ایک جگنو کی مانند ہیں جو جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں علم اور تحقیق کی روشنی بکھیر کر جمود زدہ معاشرے میں اپنے ہونے کا یقین دلا رہے…

Read more

نفسانفسی کے مارے اس عہد میں اب عید کارڈ کون بھیجے گا؟

گزشتہ دو دہائیوں میں ہمارے نوسٹیلجیا سے جڑی بہت سی خوبصورت چیزیں قصہ پارینہ بنیں۔ عید کارڈ ان میں سے ایک ہے۔ اب جہاں ہم ترقی یافتہ بن چکے ہیں، وہاں اپنی خوبصورت روایات کے حوالے سے قحط الرجالی بھی ہمارے مقدر میں آئی ہے۔ عیدالفطر کو منانے کے لیے رمضان المبارک کے آغاز سے ہی تیاریاں شروع ہو جاتیں ہیں۔ ماضی میں اپنے پیاروں، رشتے داروں، عزیز و اقارب اور دوست و احباب کو عید کارڈز ارسال کرنے کی دل ستاں روایت بھی انہی تیاریوں کا حصہ ہوا کرتی تھی، جسے اب جدید ٹیکنالوجی کا اژدھا نگل گیا۔

Read more

پاکستان اپنے محسن نواب صادق عباسی کی بے پایاں خدمات کا اعتراف کب کرے گا؟

14 اگست 1947 ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو وہ طاغوتی طاقتیں جو اس کے قیام کے خلاف تھیں روز اول سے ہی اس کی وحدت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو گئیں۔ ریڈ کلف کی غیر منصفانہ جغرافیائی اور اثاثہ جات کی تقسیم کے باوجود ہندوستان پاکستان کو اس کے حصے کا ساز و سامان دینے سے صاف انکاری ہو گیا۔ اس کی اس گھٹیا حرکت کا مقصد نوزائیدہ مملکت پاکستان کو معاشی لحاظ سے نقصان پہنچانا تھا۔ ایسے نازک حالات میں جس شخص نے دامے، درمے، سخنے اور قدمے پاکستان کی مدد کی وہ نواب آف بہاول پور سر صادق محمد خان عباسی (پنجم) تھے جنہوں نے اپنا تخت و تاج پاکستان پر نچھاور کر دیا۔

Read more

پرچے کی طوالت ناپ کر نمبر دینے والے اساتذہ اور ”پیاز“ دے کر پاس ہونے والے شاگرد

پاکستان کے نظام تعلیم میں مارچ، اپریل اور مئی کا مہینے سالانہ امتحانات کے حوالے سے سیزن کے ہوتے ہیں۔ گذشتہ روز گورنمنٹ ہائی سکول اوچ شریف میں قائم انٹر میڈیٹ کے امتحانی سنٹر میں جانے کا اتفاق ہوا تو بے اختیار اپنے سکول کے درخشاں زمانے کی یاد دل و دماغ میں ہمکنے لگی اور ایک ایک کر کے تمام کلاس فیلوز اور اساتذہ کرام کے روشن چہرے خوشبو بن کر آسودگی دینے لگے۔ خیال آیا کہ شاید ہم گورنمنٹ ہائی سکول اوچ شریف میں ”اداس نسلوں“ کی آخری خوش قسمت کڑی تھے جنہوں نے سکول کے عروج، بہترین تعلیمی ماحول، نظم و ضبط، اپنے فضیلت مآب اساتذہ کرام کی شفقت، ان کے وقار اور ان کی مشفقانہ مار کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور برداشت کیا۔ ”پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ“۔ اب تو سکول کی حالت اور استادوں کا رویہ اور ”مار نہیں پیار“ مارکہ شاگردوں کا برتاؤ دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اس قوم کے مستقبل میں بس ”ویرانی سی ویرانی ہے“۔

Read more

پاکستان میں آزادی صحافت: کاہے کو ٹینشن لینے کا، رے بابا!

تین مئی کو پاکستان سمیت دنیا میں آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1991 ء کی اپنی 26 ویں اجلاس میں منظور قرارداد کو نافذ کرتے ہوئے 1993 ء سے ہر سال 3 مئی کو عالمی سطح پر یوم آزادئی صحافت کے انعقاد کا فیصلہ کیا تھا۔…

Read more