پرچے کی طوالت ناپ کر نمبر دینے والے اساتذہ اور ”پیاز“ دے کر پاس ہونے والے شاگرد

پاکستان کے نظام تعلیم میں مارچ، اپریل اور مئی کا مہینے سالانہ امتحانات کے حوالے سے سیزن کے ہوتے ہیں۔ گذشتہ روز گورنمنٹ ہائی سکول اوچ شریف میں قائم انٹر میڈیٹ کے امتحانی سنٹر میں جانے کا اتفاق ہوا تو بے اختیار اپنے سکول کے درخشاں زمانے کی یاد دل و دماغ میں ہمکنے لگی اور ایک ایک کر کے تمام کلاس فیلوز اور اساتذہ کرام کے روشن چہرے خوشبو بن کر آسودگی دینے لگے۔ خیال آیا کہ شاید ہم گورنمنٹ ہائی سکول اوچ شریف میں ”اداس نسلوں“ کی آخری خوش قسمت کڑی تھے جنہوں نے سکول کے عروج، بہترین تعلیمی ماحول، نظم و ضبط، اپنے فضیلت مآب اساتذہ کرام کی شفقت، ان کے وقار اور ان کی مشفقانہ مار کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور برداشت کیا۔ ”پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ“۔ اب تو سکول کی حالت اور استادوں کا رویہ اور ”مار نہیں پیار“ مارکہ شاگردوں کا برتاؤ دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اس قوم کے مستقبل میں بس ”ویرانی سی ویرانی ہے“۔

Read more

پاکستان میں آزادی صحافت: کاہے کو ٹینشن لینے کا، رے بابا!

تین مئی کو پاکستان سمیت دنیا میں آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1991 ء کی اپنی 26 ویں اجلاس میں منظور قرارداد کو نافذ کرتے ہوئے 1993 ء سے ہر سال 3 مئی کو عالمی سطح پر یوم آزادئی صحافت کے انعقاد کا فیصلہ کیا تھا۔…

Read more

پی ایچ۔ ڈی اسکالر کہلوانے والے “پیاسے کوے”

گزشتہ دنوں ایک جان پہچان والے صاحب ہمارے ہاں تشریف لائے، چہرے بشرے سے قدرے معقول لگے تھے۔ نظام تعلیم پر بات ہوئی تو فرمانے لگے کہ انہوں نے پی ایچ۔ ڈی کر لی ہے اور اب ایک گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول میں اپنی اضافی قابلیت کا مبلغ پانچ ہزار روپے ماہانہ ”محنتانہ“ بھی وصول…

Read more

پاکستان میں کتاب کلچر کا زوال

گزشتہ روز ( 23 اپریل کو) پاکستان سمیت دنیا بھر میں کتاب اور کاپی رائٹ کا عالمی دن منایا گیا۔ یہ دن منانے کا مقصد قاری کو اچھی اور معیاری کتاب دینے والے تخلیق کار کی عظمت کو سلام پیش کرنا، معیاری کتاب کے مطالعے کو قاری میں جس قدر ممکن ہو سکے عام کرنا اور معیاری کتب کی اشاعت کو فروغ دینا تھا۔ کتاب جہاں انسان کے علم اور ذہنی استعداد میں اضافہ کرتی ہے وہاں یہ اس کی بہترین دوست اور تنہائی کی رفیق بھی ہے اور آدمی کی روحانی تسکین کا باعث بھی بنتی ہے۔

پاکستان میں کم شرح خواندگی اور مہنگائی کے علاوہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث بھی کتاب کی اہمیت متاثر ہوئی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں محض 27 فیصد عوام کتب بینی کے شوقین ہیں۔ یوں تو بڑی سرعت کے ساتھ سوشل میڈیا نے کتاب کا مرتبہ ختم کرکے اپنی جگہ بنا لی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ BOOK (Best Object Of Knowledge) کی اہمیت ہمیشہ دائم آباد رہے گی کیونکہ سوشل میڈیا پکا پکایا اور بنا بنایا مواد فراہم کر رہا ہے جس سے طالب علم میں تحقیق، سوچ بچار، تلاش ذرائع، تجسس اور تنقید کی فیکلٹی کمزور ہو کر رہ گئی ہے۔

Read more

دیو گڑھ، سکندریہ، چچ اور اوچ: تجھے کس نام سے پکاروں

ازمنہ گزشتہ سے انسان بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں انسان کا سب سے موثر ہتھیار ماحول سے مطابقت ہے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ جس ذی روح نے ماحول سے بہتر تطبیق کی وہ باقی رہی۔ اسی طرح تعمیر اور تخریب بھی انسانی فطرت میں شامل ہے اور اس کا سلسلہ انسان کے زمین پر آنے کے بعد سے جاری ہے۔ وقت بہت سے حقائق پر پردے ڈالتا رہا اور جب کسی خطے میں جنگ ہوئی تو باقی صرف کھنڈرات بچے۔ انہی جنگ و جدل کے نتیجے میں دنیا کی بڑی بڑی تہذیبیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں اور کہیں کہیں ان کے آثار باقی رہ گئے۔”مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے“۔ کچھ ایسی ہی صورت حال اوچ شریف کی بھی ہے۔

Read more

چلتے ہوتو ”اوچ“ کو چلئے کہتے ہیں کہ ”میلہ“ ہے

میلے کسی بھی سماج کے تہذیبی و ثقافتی نقوش اور سماجی روایات و ارتباط کا عکس ہوتے ہیں، موسم تبدیل ہوتے ہی مٹی کی قدیم روایات سے جڑے ہر شخص میں محبت کی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں اور ہر سو رنگ وخوشبوکا ایک سیل رواں نظر آنے لگتا ہے۔ زندگی کے مختلف رنگ جب محبت کی لڑی میں پروئے جائیں تو وہ اس علاقے کی ثقافت بن جاتے ہیں۔ ثقافت زندگی کے مختلف دیدہ زیب رنگوں کا مجموعہ ہے جو لوگوں میں کبھی جھومر کی شکل میں نظر آتا ہے تو کبھی میلے کی صورت میں لوگوں کو تفریح مہیا کرتا ہے۔مقامی رنگ و روپ سے آراستہ میلے جہاں ثقافتی روایات کے امین ہوتے ہیں وہاں مذہبی رنگ ان کی افادیت میں دو چند اضافہ کر دیتا ہے۔ ان میلوں ٹھیلوں کا موسم اکثر موسم بہار کے ساتھ ہی شروع ہوتا ہے۔ وطن عزیز میں ان میلوں کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو وہ کسی نہ کسی طور پر اولیائے کرام کی پاکیزہ محفل کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ بکرمی مہینے چیت کے پہلے جمعتہ المبارک سے شروع ہو کر چوتھے جمعتہ المبارک تک جاری رہنے والا اوچ شریف کا تاریخی میلہ بھی بزرگان دین کی بابرکت محفلوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

Read more

ریڈیو کے عالمی دن پر ”پرانے پاکستان“ کے بوسیدہ شہری کی ریڈیو کتھا

آج کے اس جدید دور میں بلاغ کا کوئی بھی ذریعہ چاہے جتنابھی پرانا کیوں نہ ہو گیا ہواس کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہی صورت حال ریڈیو کے بارے میں بھی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ہمارے نوسٹیلجیا سے جڑی بہت سی خوبصورت چیزیں قصہ پارینہ بنیں، جن میں ایک ریڈیو بھی شامل ہے۔ نجانے کتنی ہی نسلوں کا ریڈیو سے نوسٹیلجیا وابستہ ہے۔ جدید ابلاغ کی ہوشربا سہولیات میسر ہونے کے باوجود ریڈیو سماعت کرنے کا اپنا ہی ایک لطف ہے۔

ان سطور میں یہ زمین زاد ریڈیو کے حوالے سے اپنے بچپن کے رومانس کو آپ سے شیئرکرنا چاہے گا۔ ریڈیو کو ہمارے گھر میں خاص اہمیت حاصل تھی۔ ہمارا گھر شہر کے ان گنے چنے گھرانوں میں شامل تھا جہاں ڈاک خانہ سے ریڈیو کا لائسنس بنوانے کو فخر اور قانون پسندی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اباجی (رسول بخش نسیم) اس سلسلے میں کوئی تساہل نہیں برتا کرتے تھے۔ اس دور میں ہمارا گھر کچا تھا۔ کچے آنگن میں کنواری مٹی کی روح پرور باس میں بسا ایک چھوٹا سا گھرجہاں سرشام ہی صحن میں چھڑکاؤ کرکے چارپائیوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی میز پر لکڑی کے ڈبے کا ریڈیو رکھ دیا جاتاجو دن کو ابو کے کمرے میں میز پر دھرا رہتا۔

Read more

تحصیل احمد پور شرقیہ کے سرکاری سکولوں کی پکار اور آئین

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی میں بنیادی کردار اداکرتی ہے۔ اس لئے دنیا بھر کی حکومتیں اپنے شہریوں کو تعلیمی سہولیات اورمعیاری تعلیم کی فراہمی کے لئے اقدامات کرتی ہیں۔ اپریل 2010 ء میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے پاکستان کی پارلیمان نے دستور میں آرٹیکل 25 (اے ) کا اضافہ کیا۔ جس کے تحت معیاری تعلیم کو کسی بھی شہری کا بنیادی حق قرار دیا گیا مگراسی اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ہی تعلیم کے اہم ترین شعبے کوصوبوں کے سپرد کرکے اس بنیادی حق کی فراہمی کو کاغذی کارروائی تک محدود کر دیا گیا۔

Read more

سرائیکی وسیب کے فنکارکس دیوار گریہ سے سر پھوڑیں؟

کسی بھی مہذب معاشرے میں فنکار، ادیب، شاعر، موسیقار، گلوکار اور اداکار کو عام انسان کے سانچے سے مختلف سمجھا جاتا ہے کیونکہ مہذب دنیا سمجھتی ہے کہ یہ لوگ وہ ”میوٹیٹیس“ ہوتے ہیں جو کسی بھی معاشرے میں اس لئے پیدا کر دیے جاتے ہیں کہ اس معاشرے کے لوگ کہیں اپنی زندگیوں کی…

Read more

بیادرفتگان رسول بخش نسیم

کئی بار قلم اٹھایا اور رکھ دیا، آنکھیں دھندلا جائیں تو لکھنا مشکل ہو جاتا ہے، کوئی زندگی کی رعنائیوں کا مرثیہ بے نم آنکھوں سے لکھ کر دکھائے تو مانوں، آخری قدم قبرستان سے باہر رکھنے لگا تو ایک بار پھر مڑ کر دیکھا، مٹی کا ایک ڈھیر سامنے تھا، تو کیا وہ رعنائی خیال، وہ تبسم، وہ تکلم، وہ علم، وہ بصیرت، وہ حسن خلق، سب پیوند خاک ہو گئے؟ کیا ان سے دائمی محرومی ہی انسان کا مقدر ہے؟ لگا دل اچھل کر سامنے آگیا ہے، دل نے چاہا کہ میں اس خاک سے مخاطب ہو کر غالب کے الفاظ میں شکوہ کروں کہ تو نے ”یہ“ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے؟ اداسی نے پاؤں جکڑ لئے، اللہ کا شکر کہ مرشد اقبال ؒ آگئے اور میرا ہاتھ پکڑ لیا، میں سنبھل گیا، جکڑے ہوئے قدم اٹھنے لگے، انہوں نے سرگوشی کی

Read more