پھر جب مجھے ہوش آٰیا

پسماندہ ممالک میں مسلح جرائم بہت عام ہیں اور عوام سڑکوں پر خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں، مگر آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ اور پُر امن ملک میں پیش آنے والے اس خوفناک جرم کے متعلق جان کر یقیناً آپ حیران رہ جائیں گے۔ منگل کے روز یہ لرزہ خیز واقعہ ریاست کوئینز لینڈ کے ایک دیہاتی علاقے میں پیش آیا۔
مقامی اخبار نیوز نائن کے مطابق ایک نوجوان لڑکی شام کے وقت واروک کے علاقے میں ایک دیہاتی سڑک پر تنہا سفر کر رہی تھی۔ بدقسمتی سے ایک ویران جگہ پر اُس کی گاڑی خراب ہو گئی، مگر وہاں مدد کے بہانے رکنے والے ایک شخص نے لڑکی کو وحشیانہ جسمانی و جنسی تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
متاثرہ لڑکی نے اگلے روز ہسپتال میں اس واقعے کے متعلق اپنا بیان ریکارڈ کرتے ہوئے بتایا ” شام تقریباً سوا چھ بجے میری گاڑی خراب ہوئی اور میں نے اسے سڑک پر ایک جانب کھڑا کر دیا۔ کچھ دیر بعد ایک سفید رنگ کی گاڑی میرے قریب رکی اور اس میں سے ایک شخص نکلا اور مجھے مدد کی پیشکش کی۔ میں نے جواب دیا اس کی ضرورت نہیں کیونکہ میں نے اپنے والد کو اطلاع کی ہے۔ یہ کہہ کر میں گاڑی کی پچھلی جانب گئی مگر اس نے مجھے دبوچ لیا اور میرا سر اتنے زور سے گاڑی کے ساتھ مارا کہ میں بے ہوش ہو گئی۔ کچھ دیر بعد ہوش آیا تو دیکھا کہ میرے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور وہ شخص میری عصمت دری کر رہا تھا۔ جب میں نے مزاحمت کی کوشش کی تو اس نے دوبارہ میرا سر پکڑ کر گاڑی کے ساتھ مارا اور میں پھر ہوش ہو گئی۔ اس کے بعد جب ہوش میں آئی تو وہ وہاں سے جاچکا تھا۔ “
بدقسمت لڑکی کو زخمی حالت میں واروک ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زیر علاج ہے۔ پولیس نے ملزم کا ایک خاکہ جاری کیا ہے جس کے مطابق وہ سفید فام، داڑھی مونچھوں والا شخص ہے جس نے نیلے رنگ کی شرٹ اور پینٹ پہنی ہوئی تھی۔ کوئینز لینڈ پولیس کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ ملزم کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم ہو تو فوری طور پر پولیس سے رابطہ کرے۔




