برصغیر کے علماء اور سیاست
تعلیم کے بعد اگر ہم سیاست کی بات کریں تو علمائے کرام نے ملکی سیاست میں وہ کارہائے نمایاں دکھائے کہ اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ چنانچہ 1857 کی جنگ آزادی میں انہی علماء نے اپنے برادران وطن کے ساتھ مل کر آزادی کی جنگ لڑی اور ہزاروں نے جام شہادت نوش کیا اور بہت سارے پابند سلاسل اور نظر بند ہوئے۔ جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد مسلمانوں کی تحریک کو آپریٹیو اور نان کو آپریٹیو میں تقسیم ہوگئی۔ کوآپریٹو گروپ کی رہنمائی جناب سرسید صاحب نے کی۔ اس گروپ کے حوصلے اتنے پست ہوگئے کہ انہوں نے انگریزوں کو ہی اپنا تاحیات آقا تسلیم کیا۔ اور کامیابی حاصل کرنے کےلئے انگریزوں کی خوشنودی کسی بھی طریقے سے حاصل کرنا ایک اہم اصول قرار پایا۔
اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے مذہب کی من مانی تشریح کی گئی اور حدود سے تجاوز کیا گیا۔ اس کے علاوہ علاقائی تہزیب کے مقابلے میں مغربی تہزیب کو قبول کیا گیا اور اپنی تہزیب کا مذاق اڑایا گیا۔ سرسید صاحب نے مسلمانوں کی تعلیم کےلئے بلاشبہ کام کیا لیکن انہوں نے صرف اشرافیہ کی تعلیم پر سارا زور لگایا اور بدقسمتی سے عام غریب مسلمانوں کی تعلیم کے لئے کچھ نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے مسلم ایلیٹ وجود میں آئی اور ہم آج تک اس ایلیٹ کو برداشت کر رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں نان کوآپریٹو جماعت کی قیادت علمائے کرام نے کی۔ ان کے آگے ہندوستان کی مکمل آزادی تھی اس لئے وہ سخت ترین حالات میں بھی اپنے نظریے سے نہیں ہٹے۔
اپنے کالم میں جناب وجاہت مسعود صاحب نے لکھا ہے کہ 1906 میں مسلم لیگ بنی تو مسلمانوں کی جماعت ہوتے ہوئے ان مولویوں کو کیا ضرورت تھی اپنی علیحدہ جماعت بنانے کی۔ تو یہاں میں یہ عرض کرتا چلوں کہ برصغیر کے علماء مسلم لیگ بننے سے بہت پہلے سیاست کے مرد میدان تھے۔ اس لیے جب 1885 میں انڈین نیشنل کانگریس بنی تو مولانا رشید احمد گنگوہی نے مسلمانوں کے کانگریس میں شمولیت کے حق میں فتوی دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہندوؤں کے ساتھ دنیاوی کاموں میں شراکت داری جائز ہے۔ اس کے علاوہ تحریک ریشمی رومال اور دیگر تحریکات اگر سیاست نہیں تو اور کیا ہے۔ اور علماء کی علیگڑھ کی یہ مخالفت نظریاتی بنیادوں پر تھی کسی ذاتی عناد کی وجہ سے نہیں تھی۔ اس لئے جب علیگڑھ کے انقلابی عنصر نے شیخ الہند مولانا محمود الحسن کو اپنے ہاں دعوت دی تو انہوں نے اپنے خطبہ صدارت میں جو تاریخی کلمات لکھوائے وہ اپنی مثال آپ ہیں۔
آپ کی خراب طبیعت کی وجہ سے جب کچھ معتقدین نے آپ کو علی گڑھ جانے سے منع کا تو آپ نے فرمایا کہ اگر میرے جانے سے انگریز کو تکلیف ہوگی تو میں ضرور جاونگا۔ آپ کی طبیعت اس قدر خراب تھی کہ آپ خطبہ صدارت پڑھنے کے قابل نہیں تھے۔ اس لیے آپ نے مختصر سا خطبہ صدارت مولانا شبیر احمد عثمانی کو املا کرایا جو کہ انھوں نے پڑھ کر سنایا۔ آپ نے خطبہ صدارت میں کہا ”میں نے اس پیرانہ سالی اور علالت و نقاہت کی حالت میں آپ کی دعوت پر اس لئے لبیک کہا کہ میں اپنی گمشدہ متاع کو یہاں پانے کا امیدوار ہوں۔ اے نونہالان وطن جب میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غم خوار مدرسوں اور خانقاہوں میں کم اور سکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا اور ہم نے ہندوستان کے دو تاریخی مقامات (دیوبند اور علی گڑھ) کا رشتہ جوڑا۔ کچھ بعید نہیں کہ بہت سے نیک بزرگ میرے اس سفر پر نکتہ چینی کریں اور مچھ کو میرے مرحوم بزرگوں کے مسلک سے منحرف بتائیں لیکن اہل نظر سمجھتے ہیں کہ جس قدر میں بظاہر علی گڑھ کی طرف آیا ہوں اس سے کئی زیادہ علی گڑھ میری طرف آیا ہے ”
آخر میں موصوف کالم نگار صاحب نے موجودہ دور کے فرقہ وارانہ خیالات کے علماء اور طالبان کی مثال دی ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ ان آزادی پسند علماء کے آمین ہیں تو اس سلسلے میں دو مثالیں پیش کرتا چلوں۔ جب گاؤ کشی کےمسئلہ پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف ہوا تو لکھنو کے فرنگی محل کے مولانا عبدالحئنے جو ہندوستان کے علماء میں بڑی حیثیت رکھتے تھے نے تین دوسرے علماء کے ساتھ مل۔ کر مندرجہ ذیل فتویٰ دیا ” ہم مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ ہم دوسرے لوگوں کو تکلیف دینے سے بچیں۔ انسانوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا تشدد مناسب نہیں گاؤ کشی اسلام کے احکام۔ میں شامل نہیں اس لیے حالات کو دیکھتے ہوئے گائے کی قربانی ترک کرنا کوئی گناہ نہیں ہے اور اس سے قربانی میں کوئی خلل نہیں پڑتا“
دوسری مثال یہ ہے کہ ضلع بجنور کے ایک بزرگ جو فتوی پوچھے بغیر لقمہ نہیں توڑتے تھے نے گاندھی کیپ پہننی مسلمانوں کے لئے کیسی ہے کے بارے میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن کو خط لکھا تو آپ نے جواب لکھ کر بھیجا“ گاندھی ٹوپی چوں کہ ایک ایسی جماعت کا شعار ہے جو حریت طلب اور انگریزی حکومت کی شدید مخالف ہے اور اسی وجہ سے انگریز بھی اس کو دیکھ کر آگ بگولہ ہو جاتا ہے۔ اس بنا پر بندہ کے نزدیک گاندھی ٹوپی پہننا نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے لئے جائز ہے بلکہ باعث ثواب اور مستحسن ہے“
اس طرح کی اور ڈھیر ساری مثالوں سے برصغیر پاک وہند کی تاریخ بھری پڑی ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ تاریخ کو اس دور کے معروضی حقائق کو پیش نظر رکھ کر پیش کیا جائے تاکہ ہماری موجودہ نسل کا رشتہ ان بزرگوں سے جوڑا جائے اور یہ بغیر کسی تعصب کے کھلے دل کے ساتھ اپنی تاریخ کا مطالعہ کر سکیں۔

