برصغیر کے علماء اور سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دن پہلے جناب وجاھت مسعود صاحب کا ایک کالم ”عوامی سیاست کے خیمے میں ملا کا اونٹ کیسے داخل ہوا“ نظر سے گزرا۔ کالم کا لب لباب یہ ہے کہ برصغیر میں انگریزوں کی علمی، تکنیکی اور انتظامی برتری نے مذہبی پیشواؤں کے علمی تبحر، سیاسی بصیرت اور انتظامی اہلیت کا پول کھول دیا اور ان کے مفادات تہ وبالا کردیئے۔ نیز نئے مسائل کے حل کی اہلیت نہ رکھنے کی وجہ سے عوام کے ذہنوں پر مذہبی پیشواؤں کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی۔ اس کے علاوہ وہ مزید اپنے کالم میں کہتے ہیں کہ مسلم لیگ کے ہوتے ہوئے علماء نے اپنی سیاسی جماعتیں اس لیے بنائیں کہ ان کو انگریزی دان طبقے کی قیادت قبول نہیں تھی۔

کالم پڑھنے کے بعد ان علماء کرام پر بڑا غصہ آیا کہ ایک تو ان کا اور کوئی کام نہیں تھا فساد پھیلانے کے علاوہ۔ پھر سوچا کہ کالم میں سائنس اور جدید علوم کی بات ہوئی ہے۔ اس لیے کسی بھی بات کو من وعن تسلیم کرنے سے پہلے ایک سائنس کے طالب علم ہوتے ہوئے تھوڑی بہت تحقیق کرنی چاہیے۔ تاریخ کے صفحات الٹائے تو موضوع کے برعکس کچھ انکشافات ہوئے جن کو یہاں بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

انگریز کی آمد کے بعد ان کے خلاف جو پہلی آواز اٹھی وہ کسی انگریزی دان کی نہیں تھی بلکہ برصغیر پاک و ہند کے سب سے معتبر مذہبی خانوادے کی طرف سے تھی۔ اور وہ آواز حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (جو کہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے فرزند ارجمند تھے) کی تھی۔ انھوں نے 1803 میں انگریز حکومت کے خلاف فتویٰ دارالحرب دیا۔ جس نے نہ صرف ملک کی سیاسی حیثیت کا فیصلہ کردیا بلکہ تحریک آزادی کا جواز پیدا کر دیا۔ حالانکہ اس دور میں مسلمانوں کو نماز باجماعت اور باقی مذہبی شعائر ادا کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی لیکن زمام اقتدار بدیشی طاقت کے ہاتھ میں چلا گیا تھا۔ اس لیے باشندگان وطن کے لیے دو راستے بتائے گئے۔ کہ یا تو ملک سے ہجرت کر جائیں اور یا پھر آزادی کی جنگ لڑنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

ظاہر ہے کہ بحیثیت مجموعی ہجرت ہو نہیں سکتی تھی اور دوسری بات یہ کہ جو لوگ دیگر مزاہب سے مسلمان ہوئے ان کا خمیر اسی مٹی سے تھا اس لیے ان کے لئے یہ وطن چھوڑنا ناممکنات میں سے تھا اور جو لوگ وسطی ایشیا سے یہاں آکر آباد ہوگئے تھے انھوں نے ہندوستان کو اپنا وطن بنا لیا تھا، شادیاں یہیں سے کیں تھیں اور اپنے علاقوں میں ان کی کوئی جان پہچان نہیں تھی اس لیے وہ بھی اس دھرتی کو چھوڑ کر نہیں تھے جاسکتے۔ اس لیے مقصود دوسری صورت تھی۔ یہ اعلان عمومی تھا لیکن اسے فتویٰ کی شکل اس لئے دی گئی کیوں کہ اقتدار مسلمانوں کے ہاتھوں سے چھینا گیا تھا۔ اسی فتویٰ کے بارے میں ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر نے اپنی کتاب ہمارے ہندوستانی مسلمان میں لکھا ہے ”علماء میں جو لوگ زیادہ زیرک تھے انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی حیثیت میں آنے والے تغیر کو کافی پہلے بھانپ لیا تھا اور یہ تغیر اب ایک حقیقت بن جکا ہے“

انگریزی زبان اور مغربی تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے بھی حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی نے حمایت کی۔ لیکن کمپنی کی حکومت نے ابتداء میں عیسائی مشنریوں کے ذریعے ہندو اور مسلمانوں کے عقائد پر حملے کرنے شروع کر دیے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ تعلیم کے ذریعے نئی نسل میں فکری انتشار پیدا کیا جائے

اسی سلسلے میں مسٹر آرنلڈ گرانٹ ڈائریکٹر کمپنی نے 1793 میں ایک رسالہ لکھنا شروع کیا۔ جس میں وہ لکھتے ہیں ”یہ بالکل انگلستان کے اختیار ہیں ہے کہ وہ ہندوؤں کو بتدریج ہماری زبان سکھائے اور بعد میں اسی کے ذریعے ہمارے مذہب، فلسفہ اور فنون کی تعلیم دے۔ یہ تعلیم خاموشی سے تمام غلط باتوں کی عمارت کی بیخ کنی کرکے بالآخر اسے گرا دے گی“ (تاریخ تعلیم از میجر باسو) دوسری اہم وجہ اپنے نظام کو چلانے کے لئے کلرک اور ملازم بھرتی کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دیسی ملازمین کی تنخواہیں ایک ادنی انگریز ملازم کے مقابلے میں بہت کم تھیں۔ اور جب ان کا یہ مقصد پورا ہوگیا تو حکومت انگلش ہائر ایجوکیشن کے خلاف تدبیریں کرنے لگی۔

اسی وجہ سے سرسید احمد خان( جو کہ انگریزی تعلیم اور تہذیب کے بہت بڑے دلدادہ تھے) کو بھی 1886 میں لکھنا پڑا ”ایک زمانہ تھا کہ ہمارے ملک کے حکمران اس بات کے خواہش مند تھے کہ ہندوستان کے رہنے والے انگریزی زبان اور انگریزی علوم و فنون سیکھنے پر آمادہ ہوں اور اب یہ زمانہ آگیا کہ اس کے خلاف خفیہ اور اعلانیہ تدبیریں ہوتی ہیں اس پالیسی کی وجوہ خواہ جو بھی ہوں لیکن ہندوستانی یہ سمجھتے ہیں کہ انگریزوں اور تمام مشنریوں کو یقین تھا کہ انگریزی زبان سے تمام ہندوستان یا اس کا بڑا حصہ عیسائی ہوجائے گا اور دوسری وجہ گورنمنٹ کو اپنے دفاتر چلانے کے لئے انگریزی خوانوں کی ضرورت تھی“ (مسلمانو کا روشن مستقبل از سید طفیل منگلوری علیگ)

دارالعلوم دیوبند کے بانی حضرت مولانا قاسم نانوتوی کو علوم جدیدہ کے حاصل کرنے سے کوئی اختلاف نہیں تھا بلکہ وہ ان کے حامی اور موید تھے۔ البتہ یہ ضرور چاہتے تھے کہ مسلمان علوم جدیدہ اس وقت سیکھیں اور پڑھیں جب کہ ان کی ذہنی اور دماغی تربیت، اسلامی طرز فکر (ideology) کے مطابق ہوچکی ہو۔ اس لیے دارالعلوم دیوبند کے پہلے جلسہ تقسیم اسناد ودستار بندی کے موقع پر مولانا نے جو تقریر کی اس میں واضح طور پر علوم جدیدہ کی حمایت کی مگر ان کی تحصیل کی شرط کے اوپر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا ” اگر طلباء مدرسہ ہذا مدارس سرکاری میں جاکر علوم جدیدہ کو حاصل کریں تو ان کے کمال میں یہ بات زیادہ موید ہوگی۔ کاش گورنمنٹ ہند بھی طلباء کے لئے داخلہ کی قید عمر کو اڑا دے۔ تاکہ رفاہ عام رہے اور سرکار کو بھی معلوم ہو کہ استعداد کسے کہتے ہیں“

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •