بھارت کی فلم نگری میں ‘می ٹو’ کی گونج


بالی ووڈ فلم انڈسٹری میں اس وقت ‘می ٹو’ مہم کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ تنوشری دتہ کی جانب سے نانا پاٹیکر پر جنسی ہراسانی کے الزام کے بعد ایک بعد ایک ہدایتکار اور اداکار کے نام سامنے آ رہے ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر انڈسٹری کی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بالی وڈ نامور اداکار نانا پاٹیکر اور ہدایتکار وویک اگنی ہوتری پر اداکارہ تنوشری دتہ نے ، ہدایتکار وکاس بہل پر اداکارہ کنگنا رناوت نے، رجت کپور پر خاتون صحافی نے، کیلاش کھیر پر خاتون صحافی نے، اداکار الوک ناتھ پر ڈائریکٹر اور مصنف ونتا نندا نے، تانمے بھٹ اور گوریسمرن کھمبا پر اایک خاتون کی جانب سے جبکہ کامیڈین و اسکرین رائٹر ورون گروور، کامیڈین اتسوو چکرابرتی، بھارتی مصنف چیتن بھگت پر بھی جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں تاہم ان تمام افراد نے ہراسانی کے الزامات کو غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے اور قانونی کارروائی کا بھی اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب بالی ووڈ میں شروع ہونے والی اس ‘می ٹو مہم پرجہاں ایشوریہ رائے، سونم کپور، کاجول، پریانکا چوپڑا، شیلپا شیٹھی، ایوشمان کھرانہ، فرحان اختر، ڈمپل کپاڈیہ ،فریدہ پنٹو، تاپسی پنو،سمیت دیگر بالی ووڈ اسٹارز نے تنوشری دتہ کی حمایت کرتے ہوئے ہراسانی کے خلاف بولنے پر نہ صرف سراہا بلکہ ‘می ٹو مہم کو خوش آئند قرار دیا۔

وہیں تنوشری دتہ کے معاملے پر امیتابھ بچن، سلمان خان نے لا علمی کا اظہار کیا جبکہ اس معاملے پر راکھی ساونت، بھارتی سیاستدان راج ٹھاکرے ، بھارتی سیاسی پارٹی مہاراشٹرا نونیرم سینا کے عہدیدار نانا پاٹیکر کی حمایت میں سامنے آگئے ہیں۔ صرف یہی نہیں، بالی ووڈ اداکار شکتی کپور نے اس معاملے کو مذاق میں اڑاتے ہوئے خود کو آٹھ سال قبل بچہ قرار دے دیا۔

Facebook Comments HS