تارکین وطن کے خواب


جب میں نے اسلام آباد شفٹ ہونے کا سوچا تو یہاں پر میں نے مکانوں کی تلاش شروع کی۔ خوش قسمتی سے چند ہی گھروں کو دیکھنے کے بعد مجھے ایک شریف سے آدمی مل گئے جو اپنا ایک پورشن کرایے پہ دینا چاہتے تھے۔ میں ان سے ملا اور باتوں ہی باتوں میں ان سے پوچھا کہ وہ کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ وہ ہیوسٹن امریکہ میں رہتے ہیں اور کبھی کبھار پاکستان آتے جاتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ایک مہینہ یہاں رہتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔ میرے مزید کریدنے پہ انہوں نے بتایا کہا اس دفعہ ایک خاص مقصد یعنی 2018 کے الیکشن کے لئے پاکستان آے تھے تا کہ اپنا ووٹ ڈال سکیں۔ ووٹ کے بارے میں وہ روایتی سیاستدانوں کو نہیں آزمانا چاہتے تھے بل کہ اس دفعہ وہ سپیشلی تحریک انصاف کو ووٹ دینے آئے تھے۔ خیر کچھ دنوں کے بعد میں ایک کرائے دار کی حیثیت سے منتقل ہو گیا۔

یہ صاحب غیر شادی شدہ ہیں اور امریکیوں کی طرح اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ صبح ہی صبح گھر کی گھنٹی بجتی ہے۔ پتا چلا کہ کباڑ اٹھانے والے بچے روزانہ آتے ہیں جن کو اس گھر سے کھانا ملتا ہے۔ خود ہی اپنا سودا سلف لے کے آتے ہیں اور گھر کا گند بھی خود ہی کہیں پھینک کے آتے ہیں۔ عاشورے میں اپنی گاڑی میں پانی کی بوتلیں بھر کر شاید عزاداروں کے لئے لے گئے تھے۔ غرض اسی طرح کے کاموں میں اپنے آپ کو مصروف رکھتے ہیں۔

الیکشن بھی ہو گیا۔ ان کی پارٹی کامیاب بھی ہو گئی اور کم و بیش دو مہینے سے اوپر بھی گزر گئے۔ یہ صاحب اب بھی اپنی روٹین وہی رکھتے ہیں۔ قریب قریب تین مہینے ہو گیئے ہیں لیکن ابھی تک واپس نہیں گئے۔ شاید اپنی آنکھوں سے ہی نئے پاکستان کو ابھرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

آج صبح مجھے اپنے ملازم ک ہاتھوں ایک کاغذ بھجوایا۔ کھولنے پر پتا چلا کہ ”نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم“ کا فارم تھا۔ میں مسکرایا اور ملازم کے جانے کے بعد وہ فارم ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ میں اپنے مالک مکان کو یہ نہیں بتانا چاہتا کہ ایک زمانے میں میں بھی تحریک انصاف کا کا رکن تھا اور سمجھتا تھا ک یہی لوگ انقلاب لے کے آئیں گے۔ بلا شبہ لگتا یہی تھا کہ عمران خان صاحب کی زندگی کا مقصد ہی اس ملک کو ٹھیک کرنا تھا۔ اس وقت وہ لیڈر لگتا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ اس کا مقصد صرف وزیر اعظم بننا رہ گیا۔

تب وہ لیڈری سے اتر کر سیاستدان بن گیا۔ کیوں کہ اس کو اس بات کا ادراک نہ رہا کہ بندے نے اگر تبدیلی لانی ہو تو وہ کرسی کا محتاج نہیں ہوتا۔ تبدیلی لانے والے کو پتہ ہوتا ہیں کہ تبدیلی ایک دن میں نہیں آتی بلکہ آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ ساتھ آتی ہے۔ جدو جہد جاری رکھنی پڑتی ہے۔ کرسی کا غلام نہیں بننا پڑتا۔ یہی وجہ ہے کہ مارٹن لوتھر کنگ جیسوں نے کرسی کا پیچھا نہیں کیا۔ اسی لئے امریکا میں صدور تو بہت گزرے لیکن جو عزت مارٹن لوتھر کنگ کو ملی، شاید ہی کسی کو ملی ہو۔

وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ میں اور مایوس ہو گیا۔ جب اس نے اس ملک کو پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تو مجھے ایسے لگا جیسے وہ جنّت بنانا چاہتا ہو۔ لیکن دنیا میں جنّت صرف ایک شخص نے بنائی تھی اور وہ بھی اپنی جنّت دیکھ نہ پایا تھا۔

میں اپنے مالک مکان کو یہ باتیں نہیں بتانا چاہتا۔ کیوں کہ وہ میرا یقین نہیں کرے گا۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ اس کے خواب ایک دن ٹوٹیں گے۔ اور جب بھی یہ ہو گا تو اس سے زیادہ دکھ مجھے ہو گا۔ مجھے ڈر ہے یہ سادہ لوح شخص دو بارہ امریکا واپس لو ٹ جائے گا۔ اور شاید پھر کبھی ووٹ دینے کے لئے ٹکٹ خرچ کر کے نہ آئے۔

Facebook Comments HS