جینے کا قرینہ
محبت کے دائمی ہونے سے متعلق اس نے ایک ہسپانوی کسان خاتون کی مثال دی ہے جس نے اسے بتایا :
’’مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں۔ سچ ہے میری زندگی میں تکلیفیں آئیں۔ بیس برس کی عمر میں مجھے ایک نوجوان سے محبت ہوگئی۔وہ بھی مجھے چاہتا تھا ، اور ہم نے شادی کرلی ۔ چند ہفتوں میں اس کا انتقال ہوگیا، لیکن میں سمجھتی ہوں مجھے اپنے حصے کی مسرتیں مل چکی تھیں چنانچہ میں نے زندگی کے پچاس برس اسی کی یاد میں گزار دیےہیں۔‘‘
کام کے بارے میں کتاب میں بڑی پتے کی باتیں ہیں۔ وہ تجویز کرتا ہے کہ کام بڑا ہو تو اسے حصوں میں بانٹ لیں۔ اس سے ہر حصے پر توجہ مرکوز ہوگی اور دوسرے حصوں سے بے نیاز ہوکر کام یکسوئی سے ہوسکے گا۔وہ کہتا ہے کہ کسی ملک کی تاریخ لکھنا بہت مشکل نظر آتا ہے لیکن اسے مختلف ادوار میں تقسیم کرلیں اور اس حصے سے آغاز کریں جس کی بابت آپ کی معلومات سب سے زیادہ ہیں، اس طرح اپنی پیش رفت بڑھاتے جائیں۔ اس نے لکھا کہ مصروفیت کا شکوہ کرنے والے کبھی خود سے پوچھیں کہ کیا وہ دن میں سات آٹھ گھنٹے کام کرتے ہیں؟اگر وہ اتنی دیر کام کرلیں تو زندگی میں بہت سا کام کرلیں گے۔
مختار مسعود نے’’ آواز دوست ‘‘ میں ممتاز تاریخ دان ٹائن بی کے بارے میں بتایا ہے کہ اس نے دنیاوی کاموں میں انتہائی مصروف رہنے والوں کے علمی کاموں کا ذکر کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس کی فہرست میں شامل کئی ناموں سے واقف نہیں اور ان کے بارے میں فقط اتنا جانتے ہیں کہ ’’ وہ بھر پور عملی زندگی بسر کرنے کے باوجود بھاری بھرکم علمی کام بھی کر گئے ہیں۔ کم فرصتی کا رونا رونے والوں کے لیے اس فہرست سے بڑھ کر کوئی اور تازیانہ کیا ہوگا۔‘‘
موروا وقت برباد کرنے والوں سے دور رہنے پر زور دیتا ہے، اس کے خیال میں یہ لوگ بڑے ظالم ہوتے ہیں ، ان سے وہ کسی رو رعایت کا قائل نہیں، ایسوں سے حسن سلوک کو وہ خود سے دشمنی قرار دیتا ہے۔ وہ گوئٹے کی مثال دیتا ہے جسے بلا اطلاع منہ اٹھائے چلے آنے والے ایک آنکھ نہ بھاتے ۔ ہمارے یہاں عربی کے عالم اوراردو کے ادیب محمد کاظم نےسرکاری ملازمت کی مصروفیت کے باوجود بہت سا علمی کام کیا، جس کی وجہ کام کرنے سے متعلق ان کا ڈسپلن تھا، ڈاکٹر خورشید رضوی نے لکھا ہے ’’ لوگوں کے بیشتر مطالبات کے جواب میں ان کے پاس ایک مختصر مگر مضبوط لفظ تھا ’’ نہیں ‘‘ جسے وہ عربی تعبیر کے مطابق ’’لا المریحۃ ‘‘ کہا کرتے تھے ، یعنی ’’ ایک نا، سو سکھ۔‘‘
کتاب میں بتایا گیاہے کہ نامور فلسفی ڈیکارٹ سچائی تک پہنچنے کے لیے عجلت اور تعصب سے احتراز پر زور دیتا ہے۔ یہ بات پڑھ کر پاکستانی معاشرہ کا خیال آتا ہے جہاں عجلت اور تعصب عام ہے۔ہر آدمی لگتا ہے جلدی میں ہے، سڑک پر گاڑی چلانے والے سے لے کر،کسی پیشہ میں مقام حاصل کے لیے خواہاں تک ، سب جلد از جلد منزل تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ تعجیل کی ایک وجہ موروا لوگوں میں خود پسندی کو قرار دیتا ہے، جن کے لیے یہ کہنا شرمندگی کا باعث ہے کہ وہ فلاں چیز سے متعلق نہیں جانتے، اور ان کے لیے یہ کہنا کہ وہ تحقیق کے بعد ہی کچھ بتا سکیں گے، نری بے عزتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس وجہ سے لوگ کسی معاملے سے نابلد ہونے کے باوجود اپنی رائے وثوق سے دیتے ہیں۔ وہ عام گفتگو کا معیار اونچا اور اس کی اہمیت بڑھانے کے لیے چار لفظی اس جملے کا استعمال ضروری سمجھتا ہے ’’ بھئی مجھے معلوم نہیں۔ ‘‘یا پھر وہ شاہ لوئی چہار دہم کا یہ جملہ کہ ’’ اچھا دیکھوں گا‘‘کو کارآمد جانتا ہے۔ یہ پڑھ کر ہمیں ممتاز فکشن نگار اسد محمد خان کا ایک مضمون یاد آیا جس میں انھوں نے لکھا کہ جون ایلیا نے ان سے کہا کہ لفظ یقین احتیاط سے برتا کرو،اور لفظ شاید کو کثرت سے استعمال کیا کرو ۔ جون ایلیا کہتے’’ بھائی سن! یہ لفظ شاید جو ہے ، یہ ایک مہذب لفظ ہے۔ اس میں یقین کی دھونس دھڑی اور تلنگا پن نہیں ہوتا ۔ اشتباہ کا انکسار اور بھلمنسی ہوتی ہے۔‘‘
عجلت کے بعد تعصب کی بات آتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے یہاں بھی پاکستانی معاشرے کا ذکر ہو رہا ہے۔
’’ عجلت ہی ہماری غلطیوں کی واحد وجہ نہیں۔ ایک وجہ تعصب بھی ہے، ہم بندھی ٹکی رائے کے ساتھ معاملات پر غور کرتے ہیں۔ اور یہ رائے خاندان اور سماج کی تشکیل کردہ ہوتی ہے۔ ہماری افتاد طبع ، ہماری میراث اور ہماری تعلیم پہلے سے ہمارے خیالات کو ایک خاص شکل دے چکی ہوتی ہے۔ سماج کا فرد کی رائے پر کتنا اثر ہوتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ آپ سماج کے خیالات کے مطابق مختلف لیڈروں اور پبلک شخصیتوں سے کبھی نفرت کرتے ہیں، کبھی انھیں اچھا سمجھنے لگتے ہیں ۔ اس ساری نفرت اور رغبت کی بنیاد محض اخباری مضامین پر ہوتی ہے۔ اور آپ کی یہ نفرت اور رغبت نیک نیتی پر ضرور مبنی ہوتی ہے، مگر عقل پر مبنی نہیں ہوتی۔‘‘
موروا کا کہنا ہے کہ مال ودولت کی ہوس یا کامیابی کی حرص ہمیشہ انسانوں کو ناشاد رکھتی ہے کیونکہ اس وجہ سے انسان کو دوسروں کا محتاج ہونا پڑتا ہے۔ اس کے مطابق ، عہدوں کا جویا بہت غیر محفوظ ہوتا ہے، اسے ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ اس کا کوئی عمل کسی کو ناراض نہ کردے۔اس کی دانست میں لالچ اور جاہ طلبی کی وجہ سے ہم اپنے بھائی بندوں سے جھگڑتے ہیں۔ وہ مشورہ دیتا ہے کہ وہ حادثات جو ابھی وقوع پذیر نہیں ہوئے ان کے اندیشے میں دبلا ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی موجود و میسر کے چھن جانے کا خوف ہونا چاہیے۔
مصنف کےنزدیک، بڑھاپے کی سب سے بڑی لعنت تنہائی اور اکیلا پن ہے۔بڑھاپے میں بہترین ساتھی کون ہوسکتے ہیں ،اس بابت وہ کہتا ہے ’’ عظیم ادبا، انسان کے لافانی رفیق ہوتے ہیں، جن کی رفاقت ہماری پیری کو اسی طرح منور کرسکتی ہے جس طرح انھوں نے ہمیں کمسنی کے ایام میں مسحور کیا تھا ۔ اس طرح موسیقی بھی یار وفادار ثابت ہوتی ہے جن لوگوں کا انسان سے اعتماد اٹھ گیا ہو، موسیقی انھیں بھی اپنی طلسماتی دنیا میں پناہ دیتی ہے۔ ‘‘
آخر میں کتاب میں شامل دو اقوال :
’’ ٹھیک کام کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم ٹھیک طریقے پر سوچیں‘‘
’’ جو کوئی تمنا کرتا ہے لیکن عمل سے عاری رہتا ہے ، وہ خرابی پھیلاتا ہے! ‘‘




