ماسٹر عبدالعزیز : لٹل ماسٹر (حنیف محمد) کے بڑے استاد

1947 میں جونا گڑھ سے ایک خاندان کراچی آن بسا۔ ہجرت سے پہلے ان کے یہاں خوش حالی کا دور دورہ تھا لیکن نئے ملک میں معاشی دشواریوں نے گھیر لیا۔ خاندان کے سربراہ شیخ اسماعیل 1949 میں کینسر سے انتقال کر گئے تو بچوں کی تربیت اور دیکھ ریکھ کی ذمہ داری خاتون خانہ…

Read more

رماکانت اچریکر: جس نے سچن کو ٹنڈولکر بنایا

(یادگار تصاویر کی گیلری تحریر کے آخر میں ملاحظہ کریں) سچن ٹنڈولکر کے عظیم کرکٹر بننے کی بنیاد اس دن پڑی جب وہ رماکانت اچریکر کے شاگرد ہوئے۔ اس وقت ٹنڈولکر کی عمر گیارہ برس تھی۔ ان کے بھائی اجیت ٹنڈولکر انھیں بمبئی کے اس گرو کے پاس لے کر گئے تاکہ وہ ٹینس کے…

Read more

لاہور کے حلقہ 3 میں ڈاکٹر جاوید اقبال اور ذوالفقار علی بھٹو میں انتخابی معرکہ

1970 کے الیکشن میں لاہور سے قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں ذوالفقار علی بھٹو کا مقابلہ علامہ اقبال کے بیٹے ڈاکٹر جاوید اقبال سے تھا۔ فرزند اقبال کے سب سے بڑے سپورٹر آغا شورش کاشمیری تھے جو جلسوں کا اہتمام بھی کرتے۔ مجید نظامی بھی ان کی حمایت میں پیش پیش تھے۔ جماعت اسلامی…

Read more

غلام اسحاق خان اور ان کے داماد

عظیم لیگ اسپنر عبدالقادرکا بیٹا ستمبر 2013 میں جوا کھیلنے کے الزام میں گرفتارہوا ۔ اس بارے میں ٹی وی چینلوں پرجب ان سے پوچھا گیا تو انھوں نے صاف طور سے مان لیا کہ ’ ہاں! میرا بیٹا جوا کھیلتا ہے، جس پر مجھے شرم آتی ہے، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی…

Read more

منٹو، میڈم نورجہاں اور پران

پران کی پہلی فلم’’یملاجٹ‘‘میں نورجہاں نے بھی کام کیا۔ وہ اس زمانے میں چائیلڈ اسٹارتھیں اور بے بی نورجہاں کے نام سے جانی جاتی تھیں۔ ’’یملا جٹ‘‘ میں پران ولن بنے۔ نورجہاں نے ہیروین کی سہیلی کا کردار کیا۔ فلم ’’خاندان‘‘ میں وہ پران کی ہیروین بنیں۔ 12 مارچ 1942ء کو لاہور کے ریگل سینما…

Read more

غلام عباس کا افسانہ بامبے والا

ان دنوں بعض دوست ادب سے پاکستانی معاشرے کے حسب حال حوالے ڈھونڈ ڈھونڈ کراپنی تحریروں میں پرو رہے ہیں۔ ان کی کاوشوں سے متاثر ہوکر مجھے بھی اس کار خیر میں حصہ ڈالنے کی سوجھی اور اس سلسلے میں غلام عباس کا افسانہ ’’بامبے والا‘‘ یاد آیا۔ اس سے پاکستانی معاشرے کی اس عام…

Read more

پتنگ بازی اور آتش بازی …. انتظار حسین کا اداریہ

 1963ء کا برس تھا۔ محترم انتظار حسین ادبی جریدے 'ادب لطیف" کے مدیر تھے۔ پچپن برس قبل بھی ہمارے ملک میں وہی بحثیں ہو رہی ہیں جنہوں نے آج بھی قوم کا قافیہ تنگ کر رکھا ہے۔ کچھ مذہب پسند تھے کہ عقیدوں کو خالص کرنے کی جستجو میں شب برات کی آتش بازی پر…

Read more

انیس ہارون نے فہمیدہ ریاض کے بارے میں کیا لکھا؟

پاکستان میں انسانی حقوق کی تحریک کی معروف رہنما انیس ہارون کی آپ بیتی ’’ کب مہکے گی فصل گل ‘‘ کچھ عرصہ قبل پڑھی تو اچھی لگی۔فہمیدہ ریاض کی موت نے اس کتاب کی پھر سے یاد دلائی کہ اس میں فہمیدہ ریاض کا ذکرِ خیر مصنفہ نے یوں کیا ہے جیسے کوئی دوست…

Read more

لکھن ہاری الطاف فاطمہ شفق کی مسافرت میں ۔۔۔۔ اب سورج دستک دے

ممتاز فکشن نگار اور مترجم الطاف فاطمہ صاحبہ سے گزشتہ دنوں ملاقات ہوئی۔ ان کی صحت اچھی نہیں ہے۔ پہلے سے مضمحل قویٰ اور بھی مضمحل لگے۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ۔ انھیں دیکھ کر پتا چلتا ہے کہ بڑھاپے کی تباہ کاریاں کیا ہوتی ہیں۔ مجرد ہونے پر اس عمر میں اور بھی زیادہ کشٹ کاٹنا…

Read more

بجنگ آمد: اردو مزاح کی بے نظیر کتاب

نامور ادیب مستنصر حسین تارڑ سے جب بھی ملاقات ہو، کتابوں پر بات ضرور ہوتی ہے۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ حالیہ عرصہ میں انھوں نے کون سی کتابیں پڑھی ہیں اور کون سی زیر مطالعہ ہیں۔ کتابوں کے بارے میں ان سے کچھ ذکر ہم بھی کرتے ہیں۔ گاہے کتابوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے۔ بزرگ ادیبوں میں ان جیسا پرشوق قاری ہم نے کم ہی دیکھا۔ انگریزی اردو ہر دو زبانوں کی اچھی کتابوں کی چیٹک میں رہتے ہیں۔ مطالعہ کا ایک رنگ یہ بھی ہے کہ اپنی کسی پسندیدہ کتاب کو دوبارہ پڑھا جائے۔

چند دن پہلے ان سے ملنا ہوا تو معلوم ہوا کہ اگلے روز ہی انھوں نے کرنل محمد خان کی ”بجنگ آمد“ ختم کی ہے۔ یہ کتاب وہ کئی دفعہ پڑھ چکے لیکن ان کا کہنا تھا کہ اب کی بار بھی پہلے کی طرح لطف آیا۔ وہ اسے اردو میں شگفتہ ادب کی سب سے بڑی کتاب جانتے ہیں۔ ان کے بقول ”بجنگ آمد اردو ادب کا ایک ایسا شاہکار ہے کہ اس کے سامنے مزاح کی دیگر کائنات ماند پڑ جاتی ہے“ اتفاق کی بات ہے کہ مستنصر حسین تارڑ سے نشست کے دو تین روز بعد کسی مضمون کی تلاش میں ”سویرا“ کی فائل دیکھنی پڑی تو 1968 کے ”سویرا“ میں محمد سلیم الرحمٰن کا ”بجنگ آمد“ پر تبصرہ نظر سے گزرا۔

Read more