خوشامد کی ‘انڈسٹری’ کے قلم مزدور

پاکستان میں شاعروں، ادیبوں کی طرف سے حکمرانوں کی خوشامد کی صنعت نے ایوب خان کے دور میں خاصی ترقی کی، اس موضوع پر گزشتہ چند سال سے مسالہ اکٹھا کررہا ہوں جو ہوتے ہوتے اتنا ہوگیا ہے کہ کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ اس مواد نے حیرت کے کئی در وا کیے، بڑے بڑوں کے بھرم ٹوٹے، آج میں نے دو معروف فکشن نگاروں اشفاق احمد اور ممتاز مفتی کے رشحات قلم کے بارے میں کچھ لکھنے کی ٹھانی ہے

Read more

بھٹو کی مقبولیت کے اسباب – ڈاکٹر مہدی حسن کی یادداشتیں

65ء کی جنگ کے دوران قوم کی قوت مزاحمت سے ڈاکٹر مبشر حسن بہت متاثر ہوئے۔ 66ء میں اپنے ہاں انہوں نے ماہانہ میٹنگ شروع کی، جس میں وکلاء، صحافی اور سیاستدان شریک ہوتے۔ میں بھی وہاں باقاعدگی سے جاتا۔ میں ان سے کہتا، آپ جس قسم کی باتیں کرتے ہیں یہ سب میں اسکول کالج کے زمانے میں ٹک شاپ میں کرتا تھا، اس سے مسائل حل نہیں ہوں گے، موجودہ پارٹیوں میں مسائل حل کرنے کی اہلیت نہیں،

Read more

انتظار حسین اور ریوتی سرن شرما کی دوستی

سکول میں انتظار حسین کے سنگی ساتھی اور بھی تھے لیکن ادھر سکول چھٹا ادھر دوستی تمام۔ بس ریوتی سرن شرما وہ اکلوتا ہم جماعت ٹھہرا جس سے دوستی سکول چھوڑنے کے بعد بھی قائم رہی۔ دونوں کے محلے قریب قریب تھے، اس لیے بھی برابر ربط رکھنا ممکن رہا اور یگانگت میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا۔ میٹرک کے بعد ریوتی کے والد نے آگے پڑھنے نہ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ بیٹے نے کاروبار اور زمینوں کو

Read more

سی ایم نعیم: اک ستارے میں ہے مکاں میرا

شہر میں اس دانش ور، نقاد، محقق اور مترجم کی موجودگی کی اطلاع ملی تو ملنے کی سبیل ڈھونڈنے لگے۔ تگ ودو کے بعد رابطہ ہوگیا۔ ان سے ملاقات، جس بھی جگہ پر ہوئی، بجلی کو غیر حاضر پایا۔ دیال سنگھ لائبریری میں ان سے ملنے پہنچے تو وہ اندھیرے میں داخلی دروازے سے آنے والی روشنی کی مدد سے لائبریری کارڈ کیٹلاگ دیکھتے پائے گئے۔ پنجاب پبلک لائبریری میں بھی دو ڈھائی دن وہ لوڈ شیڈنگ کے باوجود تندہی

Read more

آئی اے رحمان کے مطالعہ کی وسعت

مسعود اشعر صاحب نے اپنے کالم میں آئی اے رحمان صاحب کی اردو ادب پر گہری نظر کی بات کی جس کا اندازہ انھیں ایک ادبی فیسٹیول میں ان کا خطبہ سن کر ہوا۔ اتفاق کی بات ہے جس روز رحمان صاحب کی رحلت ہوئی، معروف نقاد ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب سے فون پر بات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ جب وہ مجلس ترقیٔ ادب کے ناظم تھے تو ایک دفعہ وہ ان کے دفتر تشریف لائے تھے۔ ان کی

Read more

کیا سنسر شپ سے بھٹو کا نام تاریخ سے مٹ گیا؟

پاکستان میں سنسر کی تاریخ ہماری قومی تاریخ جتنی ہی پرانی ہے۔ قائد اعظم کی تقریر اخبار میں سنسر کرنے کی کوشش ہوئی۔ فاطمہ جناح کی ریڈیو پر تقریر سنسر ہونے پر خاصا شور مچا۔ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ ماضی کی سیاسی شخصیات پر بات کریں تو ذوالفقار علی بھٹو سے زیادہ سنسر کی زد میں کوئی سیاست دان نہیں آیا۔ ضیا الحق کے لیے بھٹو کا نام چھیڑ بن گیا تھا، اس لیے ان کے

Read more

امجد اسلام امجد کا فلیمنگ روڈ

معروف شاعر اور ڈراما نگار امجد اسلام امجد سے میری آخری ملاقات جولائی 2022 میں ان کے گھر پر ہوئی۔ وہ بڑی دلچسپ گفتگو کرتے تھے اس لیے کوئی نشست کتنا ہی طول کھینچ جاتی بندہ بور نہیں ہوتا تھا۔ اس دن ان سے بات چیت زیادہ تر لاہور میں ان کے آبائی علاقے فلیمنگ روڈ کے بارے میں ہوئی جہاں 30 کی دہائی کے اوائل میں، سیالکوٹ سے ہجرت کے بعد ، ان کا خاندان آباد ہوا تھا۔ فلیمنگ

Read more

جنرل ضیا کی جعلی تلاوت اور بے نظیر بھٹو کی سادگی

ممتازسیاست دان اعتزاز احسن کسی زمانے میں کہا کرتے تھے کہ اس ملک میں دو فوجی ٹرکوں کی مدد سے اقتدار پر قبضہ ہوجاتا ہے۔ ایک ٹرک وزیراعظم ہاؤس روانہ ہوتا ہے، دوسرا پی ٹی وی کا رخ کرتا ہے اورملک میں مارشل لا لگ جاتا ہے۔ اس بیان سے ماضی میں پی ٹی وی کوحاصل سیاسی اہمیت کا پتا چلتا ہے ۔ اس ادارے کی تاریخ جب بھی لکھی گئی اس میں حکمرانوں کا ذکر ضرور آئے گا، جنھیں

Read more

بائیں بازو والوں نے تاریخ کو پڑھنے میں بار بار غلطی کی

ہمارے دوست محمود الحسن زندگی کی نعمتوں میں سے ایک ہیں۔ دو ٹوک سچ اور دوست نوازی کا ایسا امتزاج مشکل ہے۔ آج محبی ڈاکٹر وسیم رضا گردیزی (گورنمنٹ زمیندارہ کالج گجرات میں صدر شعبہ پنجابی زبان و ادب ہیں اور درویش کے یکے از دوستاں میں شمار ہوتے ہیں) کے حکم کی تعمیل میں ادھر ادھر کی گرد پھانک رہا تھا کہ محمود الحسن کی ایک شفقت ہاتھ آئی۔ فروری 2014۔ آٹھ برس بیت گئے۔ بیت گئے ہیں کئی

Read more

کالم منیر نیازی کے اور باتیں ان کے احباب کی

منیر نیازی نے حنیف رامے کے زیر ادارت رسالے ’نصرت‘ میں فروری 1961 سے اپریل 1964 تک وقفے وقفے سے منوچہر کے قلمی نام سے ادبی کالم لکھے جو دو کتابوں میں محفوظ ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر صدف بخاری نے انھیں ’باب گزری صحبتوں کا‘ کے عنوان سے 2014 میں کتابی صورت میں ترتیب دیا۔ ڈاکٹر سمیرا اعجاز کی مرتب کردہ ’’کلیاتِ نثرِ منیر نیازی‘‘(2017) میں بھی یہ کالم شامل ہیں۔ منیر نیازی کی یہ ادبی گپ شپ ’نصرت’ کے پرچوں

Read more

شمیم حنفی صاحب کی باتیں

آرتیگا۔ ای۔ گاست نے اپنے مضمون The Barbarism of Specialization میں سائنس دانوں کی ذہنی مشغولیتوں کا دائرہ تنگ ہونے پر بات کی ہے جن کے قدم مخصوص علمی دائرے سے باہر نہیں اٹھتے۔ اس مضمون کا اردو ترجمہ ڈاکٹر تحسین فراقی نے ”اختصاص کا وحشی پن“ کے عنوان سے کیا ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ اس وحشی پن نے سائنس ہی نہیں دوسرے شعبوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہے جس میں ادب شامل ہے۔ شمیم

Read more

زمان خان کی باتیں

(محمود الحسن نے 2011 میں روزنامہ ایکسپریس کے لئے زمان خان مرحوم سے یہ انٹرویو لیا تھا۔) وہ زندگی بھر عام آدمی کے حقوق کے لیے لڑتے رہے اور اب بھی اسی راستے پر رواں ہیں، بس اب ذرا انہوں نے پلیٹ فارم بدل لیا ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں بائیں بازو کی طلبہ سیاست کا حصہ بن کر کبھی تو ویت نام میں جاری جنگ کے خلاف آواز اٹھائی اور کبھی ایوب آمریت کے خلاف سرگرم عمل رہے۔ نیشنل

Read more

فواد چوہدری اور ججوں کی قابلیت

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے ججوں کی تعیناتی میں سنیارٹی نہیں قابلیت دیکھنی چاہیے. فواد چوہدری نے بدھ کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں ایک دو دن سے حیران ہوں کہ پاکستان بار کونسل اس بات پر ہڑتال پر چلی گئی کہ آپ نے سنیارٹی پر جج نہیں لگایا.’ ‘بھئی! سنیارٹی کیا ہوتی ہے، بندہ قابل ہونا چاہیے. اگر آپ اہل ہیں تو آپ کو اوپر جانا چاہیے

Read more

ڈاکٹر محمد ضیا الحق صوفی اور ڈاکٹر خورشید رضوی

فکری افلاس کے شکار اس معاشرے کو تو جانے دیجیے، وہ اگر علمی اعتبار سے درخشاں عہد میں زیست کر رہے ہوتے، تو بھی اپنی علمیت کی بنیاد پر دوسروں سے ممتاز نظر آتے۔ گئے وقتوں میں لاہور میں کئی ایسی باوقار علمی ہستیاں موجود رہی ہیں، کہ اہل علم بھی جب کسی علمی مسئلے پر الجھن محسوس کرتے تو اپنی تشفی کے لیے ان سے بے تامل رجوع کرتے۔ اب مگر ایسا نہیں۔ اگر کسی علمی و ادبی گتھی

Read more

مسعود اشعر کی کچھ یادیں

1953 میں تحریک ختم نبوت لاہور میں زوروں پر تھی۔ حالات اس قدر بگڑے کہ شہر میں مارشل لا لگاتے ہی بنی اور ساتھ کرفیو بھی لگ گیا۔ جنرل اعظم خان مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوئے۔ میں اس زمانے میں میکلوڈ روڈ پر رہتا تھا۔ ایک دن شام کو میں سائیکل پر نسبت روڈ پر واقع لکشمی بلڈنگ کے پاس پہنچا تو فوجی چوکی پر مجھے فوجی افسر نے پکڑلیا۔ اس وقت گولیاں چلنے کی آواز آ رہی تھی۔ فوجی

Read more

محمد سلیم الرحمٰن: کرکٹ سے محبت کے 76 برس اور وزڈن سے تعلق

ممتاز ادیب محمد سلیم الرحمٰن کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا ادب ہے۔ گزرے ساٹھ برسوں میں مختلف اصنافِ ادب کو باثروت بنایا۔ ادب سے ہٹ کر دیگر کئی علوم میں انھیں گہری دلچسپی ہے۔ انگریزی میں ایسے افراد کو Polymath اور اردو میں جامع العلوم کہا جاتا ہے۔ علم و ادب کی دنیا سے باہر بھی ان کی توجہ کا میدان خاصا وسیع ہے جس میں کرکٹ بھی شامل ہے۔ اس کھیل سے ان کے اُس دیرینہ اور پختہ تعلق

Read more

انتظار حسین کے نام آصف فرخی کا یادگارخط

1980 میں آصف فرخی صاحب لاہور آئے تو انتظار صاحب نے انھیں اپنی کتاب ’آخری آدمی ‘دی جو انھوں نے ٹرین میں پڑھ ڈالی ۔ کراچی پہنچتے ہی مصنف کو خط کے ذریعے اپنے تاثرات سے آگاہ کیا،جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بیس برس کی عمر میں گہری ادبی سوجھ بوجھ رکھتے تھے۔ ’آخری آدمی ‘انتظار صاحب کے فنی سفر کا اہم پڑاﺅ ہے اور اس کے افسانوں کی تفہیم میں تو پکی عمر کے نقادبھی ٹھوکر کھاجاتے

Read more

ہمارے ڈاکٹر ساجد علی کون ہیں؟

ڈاکٹر ساجد علی خود کو پیدائشی استدلال پسند کہتے ہیں۔ بچپن دیہات میں بسر ہوا جو توہم کا کارخانہ تھا مگر وہ توہمات پر یقین کرنے میں متامل رہتے تھے۔ والدین نے جالندھر سے ہجرت کر کے گوجرہ کو مسکن بنایا، یہیں وہ 1951 میں پیدا ہوئے۔ تین برس بعد گوجرہ سے پانچ میل دور گاؤں میں زمین الاٹ ہو گئی تو خاندان وہاں منتقل ہو گیا۔ میٹرک تک کے تعلیمی مدارج گاؤں میں رہ کر طے کیے۔ بچپن میں

Read more

پیپلز پارٹی اور بھٹو صاحب: آئی اے رحمان کے مشاہدات

آئی اے رحمان ممتاز صحافی اور دانش ور ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے ان کی توانا آواز کئی عشروں سے گونج رہی ہے جس کے بانکپن میں مرور زمانہ سے کمی نہیں آئی۔ لکھنے کے ہنر میں طاق، تجزیہ میں مشاق۔ موضوع کیسا بھی دقیق ہو اسے پانی کر دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو بنتے دیکھا اور اس زمانے کا مشاہدہ بھی کیا جب ذوالفقار علی بھٹو کے پاؤں تلے سے زمین کھینچی جارہی تھی۔ بھٹو کے سیاسی اتار چڑھاؤ

Read more

توہین نسواں اور امت کی روایت

کراچی کے اخبار ’ امت‘ نے عورت مارچ کرنے والی خواتین کو رنڈیاں کہا۔ اس اخبار سے اس سے زیادہ کی توقع کی جا سکتی ہے، کم کی نہیں۔ خواتین کو دی گئی اس غلیظ گالی سے اردو صحافت کی ’’روشن‘‘ تاریخ کے بہت سے واقعات میرے ذہن میں آئے۔ ’امت ‘اخبار اور اس کا ایڈیٹر کس شمار قطار میں ہیں۔ خواتین کی تضحیک کے معاملے میں بڑے بڑے جید صحافیوں کا نام آتا ہے۔ واقعات کے طومار میں سے

Read more

محمد سلیم الرحمان اور شیخ صلاح الدین میں دوستی

ممتاز ادیب محمد سلیم الرحمان صاحب نے بہت سے لوگوں کے علمی و ادبی سفر میں معاونت کی۔ انھیں آگے بڑھنے کا رستہ دکھایا۔ ان سے تعلق استوار ہونے کے بعد مجھے اس بات کا تجسس رہا کہ 1952میں علی گڑھ سے لاہور آنے کے بعد، میدانِ ادب میں کوئی ایسی ہستی ضرور رہی ہوگی، جس نے ان کا بھی ہاتھ تھاما ہو گا۔ ادبی دنیا میں قدم جمانے میں مدد کی ہوگی۔ آخر ایک دن مجھے اس سوال کا

Read more

زاہد ڈار کی نظم ‘ایک ویران گاؤں میں’

زاہد ڈار کی نظم ’ایک ویران گاﺅں میں‘ پہلے بھی پڑھ رکھی تھی لیکن کچھ عرصہ پہلے احمد مشتاق صاحب نے اس کا پس منظر بتایا تو اس کی معنویت اور طرح سے اجاگر ہوئی۔ 1965 کی جنگ ختم ہونے کے بعد زاہد ڈار نے احمد مشتاق، محمد سلیم الرحمان اور ریاض احمد کے ساتھ ایک سرحدی گاﺅں کو وزٹ کیا، جس کے بعد یہ نظم تخلیق ہوئی اور ’سویرا’ میں چھپی۔ احمد مشتاق اور محمد سلیم الرحمان کو یہ

Read more

سبط حسن، شاکر علی اور انتظار حسین کی نستعلیق باتیں

کسی نظریے سے جذباتی وابستگی کے باوجود مخالف نقطۂ نظرکے حامل کسی شخص سے دوستی اور اس کے اعتراضات پر شائستگی سے جواب دینے کی ہمارے یہاں جو روایت موجود رہی،اسے لگتا ہے اب گھن لگ چکا ہے۔ بات بات پر آپے سے باہر ہونا، اگلے کی بات سنے سمجھے بغیر اسے ملامت کرنا ہمارا وتیرہ بن چکا ہے۔ اس تیرہ وتار ماحول میں سبط حسن کی بہت یاد آتی ہے جن کی شخصیت رواداری کی اجلی علامت ہے۔وہ فکری

Read more

منٹو، کرکٹ اور حنیف محمد

سعادت حسن منٹو کا ذکر کرکٹ کی کتاب میں پڑھ کر تھوڑی حیرت ہوئی اور وہ بھی اس کتاب میں، جسے معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو نے اپنے ایک سروے میں کرکٹ پر لکھی گئیں، بہترین کتابوں میں دوسرا نمبر دیا تھا ۔یہ بھارتی تاریخ دان رام چندر گوہا کی کتاب ’’A Corner of a Foreign Field ‘‘ ہے جس میں نہایت عمدگی سے برصغیر میں کرکٹ کے ارتقاء اور ترقی کا قصہ بیان ہوا ہے۔ اس قابل قدر

Read more

بڈھا گوریو: بالزاک کے عظیم ناول کا اردو ترجمہ

یہ ناول انسان کے ایثار، بے حسی، شقاوت، تام جھام اور زندگی کی دوڑ میں ہر قیمت پر آگے بڑھنے کے لیے اختیار کردہ حیلوں کی داستان ہے۔ ناول کا مرکزی کردار بڈھا گوریو ہے جس نے خود کو دو بیٹیوں کی خوشی اور آسائش کے لیے وقف کردیا ہے۔ یہ التفات کا وہ روایتی تعلق نہیں جو عام طور سے باپ کا بیٹی سے ہوتا ہے بلکہ اسے آپ مجنونانہ اور بعض صورتوں میں مبالغانہ بھی کہہ سکتے ہیں۔

Read more

اداکار عرفان خان کا ادبی ذوق اور شمس الرحمٰن فاروقی

بالی وڈ کے نامور اداکار عرفان خان کو اردو کے ممتاز ادیب شمس الرحمٰن فاروقی کا ناول ’’ کئی چاند تھے سر آسماں ‘‘بہت پسند ہے۔ انھوں نے چند سال پہلے یہ ناول نریش ندیم کے قلم سے ہونے والے ہندی ترجمہ میں پڑھا اور یہ ناول انہیں اس قدر بھایا کہ مصنف سے ملنے کی خواہش ہوئی، انھیں فون کیا جو شمس الرحمٰن فاروقی نے نمبر نامعلوم ہونے کی وجہ سے اٹھایا نہیں۔ اس کے بعد عرفان خان کے

Read more

کئی چاند تھے سر آسماں : شمس الرحمٰن فاروقی سے ایک گفتگو

ممتاز ادیب اور نقاد شمس الرحمٰن فاروقی سے 2010 اور 2015 میں لاہور میں تفصیلی انٹرویو کرنے کا موقع ملا، جن میں ان کے معرکہ آرا ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ کے بارے میں جو گفتگو ہوئی، اسے یکجا کر کے پیش کرنے کا خیال، بک کارنر جہلم کی طرف سے، اس ناول کے تازہ اور دیدہ زیب ایڈیشن کی اشاعت سے آیا۔ انٹرویوز سے سوالات حذف کر کے جوابات اس انداز میں ترتیب دیے ہیں کہ ’کئی چاند

Read more

باتیں قاضی جاوید کی

پاکستان کے ممتاز فلسفی، ادیب اور مترجم قاضی جاوید  14 نومبر  2020کو انتقال کر گئے۔  زیر نظر انٹرویو چند برس قبل لیا گیا تھا۔ سابق گورنر جنرل پاکستان، ملک غلام محمد کی برائیاں تو ہم سنتے اور پڑھتے ہی رہتے ہیں۔ کیا مضائقہ ہے، آج اگر ان کے ایک نیک کام کا ذکر ہو جائے، جس کا جیتا جاگتا ثبوت لاہور میں ادارہ ثقافت اسلامیہ کی صورت میں موجود ہے، اس کے قائم ہونے میں ان کا رسوخ کام آیا

Read more

وزیر خانم کے صنم تراش شمس الرحمٰن فاروقی سے ایک مصاحبہ

ممتاز ادیب اور نقاد شمس الرحمٰن فاروقی سے 2010 اور 2015 میں لاہور میں تفصیلی انٹرویو کرنے کا موقع ملا، جن میں ان کے معرکہ آرا ناول ‘کئی چاند تھے سر آسماں’ کے بارے میں جو گفتگو ہوئی، اسے یکجا کر کے پیش کرنے کا خیال، بک کارنر جہلم کی طرف سے، اس ناول کے تازہ اور دیدہ زیب ایڈیشن کی اشاعت سے آیا۔ انٹرویوز سے سوالات حذف کر کے جوابات اس انداز میں ترتیب دیے ہیں کہ ‘کئی چاند

Read more

سات اکتوبر: خراب حالات میں ملک بچانے کا واحد راستہ؟

وطن عزیز میں وزیر اعظم کو منصب سے ہٹانے کے مختلف پیٹرن رائج ہیں، تین تو صرف نواز شریف کے حوالے سے متعارف ہوگئے ہیں۔ ایک بار صدر نے ان کو عہدے سے ہٹایا ۔ دوسری دفعہ آرمی چیف نے۔ تیسری بارسپریم کورٹ نے نااہل قرار دے دیا۔ باقی وزرائے اعظم کے منصب سے الگ ہونے کا قصہ پھر سہی، اس وقت آپ کو متحدہ پاکستان کے آخری وزیر اعظم ملک فیروز خان نون کی اقتدار سے رخصتی کی داستان سناتے ہیں۔ صدر پاکستان سکندر مرزا نے آئین کی تنسیخ کے بعد وزیر اعظم کو خط لکھا ، جس میں انھیں عہدے سے ہٹانے کی چتاونی تھی، اس تاریخی خط کو مرزا کا اے ڈی سی رات گیارہ بجے بنفس نفیس فیروز خان نون کو پہنچانے گیا تو وہ سو رہے تھے ، کام ضروری تھا سو ان کو ’غفلت‘ کی نیند سے جگایا۔ خط ڈلیور کرکے نامہ بر رفوچکر ہونے کو تھا، نون نے کہا ، ذرا رکئے ، ممکن ہے جواب کی ضرورت ہو تو اس نے یہ کہہ کر لاجواب کردیا ’’ سر جواب نہیں چاہیے۔

Read more

شفیق الرحمٰن اور کرکٹ

شفیق الرحمٰن اردو کے ممتازمزاح نگار ہیں، تحریر میں شگفتگی کسے کہتے ہیں ، یہ جاننا ہو تو ان کی کتابیں پڑھنی چاہییں۔ مایہ ناز فکشن نگار نیر مسعود نے اپنے والد اور معروف محقق سید مسعود حسن رضوی ادیب کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ اپنے موضوع سے باہر کی چیزوں سے اعتنا نہ کرتے ، ایک دفعہ مولوی اختر علی تلہری نے ان سے بہتیرا کہا کہ ابن صفی کی جاسوسی دنیا کا کم سے کم ایک

Read more

دو ٹکڑے ہوتا پاکستان اور یحییٰ خان کی سیاسی انجینرنگ

1970کے الیکشن سے پہلے میجر جنرل غلام عمر کی سربراہی میں نیشنل سکیورٹی سیل بنا جس نے صدر یحییٰ خان کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹس کی بنیاد پر تجزیہ کرکے سیاسی صورت حال کا جائزہ پیش کرنا تھا۔ اس سیل نے اپنے ذمے کام مکمل کر کے صدر کو جو رپورٹ پیش کی اس میں بتایا گیا کہ 33 چھوٹی بڑی پارٹیوں میں ووٹ اس طرح تقسیم ہوں گے کہ کوئی ایک پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں

Read more

نریندر مودی کا بھارت: اس سیل جنوں پر غور و فکر کی ضرورت ہے

نریندر مودی کے ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے ڈانڈے تقسیم سے ملانے کے بجائے اس کے اسباب 73 سالہ جمہوری تاریخ میں تلاش کرنے چاہییں۔ ہماری جمہوری و آئینی تاریخ سب کے سامنے ہے، جس کا خلاصہ چار مارشل لا ہیں۔ اس وقت بھی ہم جو سیاسی نظام دیکھ رہے ہیں، وہ اور کچھ ہو تو ہو، جمہوریت نہیں ہے۔ ہندوستان جمہوری و آئینی اعتبار سے ہم سے بہت آگے رہا ہے۔ ہم نے آئین بنانے

Read more

محمد کاظم …. علم کی بات، کل کی بات، ہوئی

میں نے کاظم صاحب جیسے عالم آدمی سے تعلق کو ہمیشہ اپنی کسی نیکی کا انعام جانا۔ میرا ان سے ملنا اس زمانے میں رہا جب ان کی زندگی کا سورج اتار کی جانب گامزن تھا۔ ساڑھے چار برس میں ان سے ملاقات زیادہ تر ان کے گھرمیں رہی لیکن کبھی کبھار وہ لاہور میں کتابوں کی مشہور دکان ”ریڈنگز“ پر آتے تو بھی ان سے ملنا ہو جاتا۔ ان سے تعارف اس انٹرویو کے ذریعے سے ہوا جو میں نے ایکسپریس سنڈے میگزین کے لیے کیا۔ اس دور کے ہمارے میگزین انچارج عامرہاشم خاکوانی اورمیرا، دونوں ہی کا خیال تھا کہ ایک تو صاحبان علم کو انٹرویو کیا جائے اوران میں سے بھی ترجیحاً وہ حضرات ہمارا ہدف ہونا چاہییں جوگوشہ نشین ہیں۔

Read more

جب مہاتما گاندھی نے مولانا آزاد کی مخالفت کی

نامور ہندوستانی صحافی سعید نقوی کی کتابBeing the Other: The Muslim in India میں بہت سی چشم کشا باتیں ہیں۔ سر دست ہم صرف گاندھی جی کے جواہر لعل نہروکے نام ایک خط کا ذکر کریں گے۔ یہ خط مولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میں ہے، اوراس میں وہ بات ہے جو ہم نے کبھی سنی نہ پڑھی۔ 24 جولائی 1947 کو تحریر کردہ خط میں گاندھی جی، نہرو سے کہہ رہے ہیں کہ ابوالکلام آزاد کو آزاد ہندوستان کی

Read more

یاور حیات سے ایک یادگار ملاقات

صحافی کی حیثیت سے آپ کا ایسے لوگوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے جو انٹرویو دینے کے سرے سے قائل ہی نہیں ہوتے، یاورحیات بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھے۔ چار پانچ برس پہلے کی بات ہے، ہم نے ایوب خاور سے جن سے ان کا قریبی تعلق تھا، انٹرویو کی سفارش بھی کرائی مگر وہ نہ مانے البتہ یہ ضرور کہا کہ ویسے ملنا ہو تو میرے دروازے کھلے ہیں۔ یاور حیات کے انکار سے مایوسی تو ہوئی لیکن

Read more

باتیں ظفر اقبال مرزا کی… ہم نے زم کو دیکھا تھا

بچپن میں صبح سویرے اٹھتے اور گھر کے باہر بیٹھ کر بیتابی سے اخبار کا انتظار کرتے۔ انھیں اس عالمِ شوق میں دیکھ کر محلے کی ایک پاگل سی خاتون ان سے اکثر کہتی، ”پتر توں وڈا ہو کے اخباراں دا ڈاکٹر بنیں گا“ (بیٹا تم بڑے ہو کر اخباروں کے ڈاکٹر (مراد ایڈیٹر) بنو گے ) اس وقت تو انھوں نے اس بات کو مجذوب کی بڑ ہی جانا لیکن ایک مدت بعد جب ایڈیٹر بنے تو انھیں وہ

Read more

عدیلہ سلیمان اور آرٹ دشمنی کی روایت

کراچی میں ’ کِلنگ فیلڈ آف کراچی ‘کے عنوان سے آرٹسٹ عدیلہ سلیمان کی نمائش پر ریاستی اداروں کے ردعمل سے اس بات کا اعادہ ہوا کہ ہم آرٹ دشمن ہیں۔ اس واقعے کے بارے میں مضامین رقم ہو رہے ہیں، احتجاج کیا جا رہا ہے اور ہمیں ممتاز مصور صادقین کی یاد آرہی ہے جن کی تصویروں کو فحش قرار دے کر حملہ کیا گیا تھا۔ یہ سنہ 1976 کی بات ہے۔ اس ثقافتی سانحے کی ہماری تاریخ میں

Read more

کشمیر کا مسئلہ کیسے پیدا ہوا؟ 

2016 میں ممتاز اور سرد و گرم چشیدہ ہندوستانی صحافی، سعید نقوی کی کتاب Being the Other: The Muslim in India شائع ہوئی، جس میں انھوں نے آزادی کے بعد انڈین مسلمانوں پر جو بیتی، اسے معروضی اور موثر پیرائے میں بیان کیا۔ مصنف نے ذاتی مشاہدات بیان کیے، مدلل انداز میں تجزیہ کیا اور مستند حوالوں سے اپنا نقطہ نظر سامنے لائے۔  کتاب میں ایک باب ”کشمیرکا مسئلہ کیسے پیدا ہوا؟ “ کے عنوان سے ہے، جس میں انھوں

Read more

پرانی انارکلی میں ناصر کاظمی کا گھر

شہر لاہور تیری رونقیں دائم آباد تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو ناصر کاظمی ہجرت کے بعد لاہور آئے تو ان کے خاندان کو سر چھپانے کے لیے پرانی انارکلی میں ٹھکانہ ملا۔ یہ لوگ جہاں سے آئے تھے وہاں ثروت ہی ثروت تھی لیکن نئی سرزمین پر نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ناصر کی عمر اس وقت 22 برس تھی۔ ان کے والد انبالہ چھوڑنا نہ چاہتے تھے لیکن بیٹے کی چشم بصیرت آنے والے

Read more

جنرل ایوب خان اور جسٹس منیر نے شکار کھیلا

محترم سہیل وڑائچ نے اپنے نیم علامتی کالم ’’شیر اور شکاری‘‘ میں شکار کے شوقین چند بڑوں کا ذکر کیا ہے۔ اس سلسلے کی ایک مثال ہماری طرف سے حاضر ہے۔ پاکستانی عدلیہ میں نظریہ ضرورت کے بانی مبانی چیف جسٹس فیڈرل کورٹ جسٹس منیر کو بھی شکار کا شوق تھا، موصوف بااثر شخصیات کے ساتھ تیتر کا شکار کھیلتے تھے۔ ان کے ایوب خان کے ساتھ شکار کھیلنے کے عینی شاہد، مختار مسعود بھی تھے، جنھوں نے اپنی کتاب’’

Read more

عالمی سرمائے کا شکنجہ اور غریب ممالک

کارپوریٹ عالمگیریت اس قدر مہیب ہے کہ ہما شما کا تو ذکر ہی کیا اس نے بڑے بڑے لیڈروں کو پسپائی پر مجبور کیا۔ وہ سیاست دان جو ملکی سطح پر چھوٹے چھوٹے سمجھوتوں پر مجبور ہو، اس سے یہ توقع ہی عبث ہے کہ وہ طاقت ور عالمی مالیاتی ادارے( آئی ایم ایف) کی اعانت کے بغیر معیشت چلا سکے گا۔ اس لیے اپوزیشن میں رہ کر اس طرح کی باتیں آسان ہیں کہ ’خود کشی کرلوں گا، آئی

Read more

سلیم الزماں صدیقی، رلکے اور عمر بڑھانے کا نسخہ

دوتین ہفتے پہلے ممتاز سائنس دان سلیم الزماں صدیقی کے بارے میں علیم احمد کی تحریر عزیز دوست رفاقت حیات نے فیس بک پر شیئر کی جس کاعنوان تھا: ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی پر ڈراما نہیں بن سکتا! اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: ’’ کیا مشہور پاکستانی سائنسدان ،پروفیسر ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کی زندگی پر ڈراما نہیں بن سکتا؟‘‘ یہ سوال گذشتہ دنوں کراچی ادبی میلے(کے ایل ایف )میں ’’ پاکستانی ڈرامے کا عروج وزوال ‘‘ کے عنوان

Read more

ماسٹر عبدالعزیز : لٹل ماسٹر (حنیف محمد) کے بڑے استاد

1947 میں جونا گڑھ سے ایک خاندان کراچی آن بسا۔ ہجرت سے پہلے ان کے یہاں خوش حالی کا دور دورہ تھا لیکن نئے ملک میں معاشی دشواریوں نے گھیر لیا۔ خاندان کے سربراہ شیخ اسماعیل 1949 میں کینسر سے انتقال کر گئے تو بچوں کی تربیت اور دیکھ ریکھ کی ذمہ داری خاتون خانہ امیر بی پر آ گئی۔ اس باہمت عورت نے بیٹوں کو پائوں پر کھڑے ہونے میں بڑی مدد دی۔ کرکٹ اس خاندان کے خون میں

Read more

رماکانت اچریکر: جس نے سچن کو ٹنڈولکر بنایا

(یادگار تصاویر کی گیلری تحریر کے آخر میں ملاحظہ کریں) سچن ٹنڈولکر کے عظیم کرکٹر بننے کی بنیاد اس دن پڑی جب وہ رماکانت اچریکر کے شاگرد ہوئے۔ اس وقت ٹنڈولکر کی عمر گیارہ برس تھی۔ ان کے بھائی اجیت ٹنڈولکر انھیں بمبئی کے اس گرو کے پاس لے کر گئے تاکہ وہ ٹینس کے بجائے کرکٹ بال سے کھیلنے کا آغاز کرسکیں۔ انھوں نے نیٹ میں پہلی دفعہ بیٹنگ کی تو اچریکر متاثر نہ ہوئے۔ اجیت سے کہا، ابھی

Read more

غلام اسحاق خان اور ان کے داماد

عظیم لیگ اسپنر عبدالقادرکا بیٹا ستمبر 2013 میں جوا کھیلنے کے الزام میں گرفتارہوا ۔ اس بارے میں ٹی وی چینلوں پرجب ان سے پوچھا گیا تو انھوں نے صاف طور سے مان لیا کہ ’ ہاں! میرا بیٹا جوا کھیلتا ہے، جس پر مجھے شرم آتی ہے، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔‘ بیٹے کی غلط کاری بغیرحیل وحجت تسلیم کرلینا بڑے دل گردے کا کام ہے۔قران پاک میں مال ودولت کے ساتھ ساتھ اولاد کو

Read more

غلام عباس کا افسانہ بامبے والا

ان دنوں بعض دوست ادب سے پاکستانی معاشرے کے حسب حال حوالے ڈھونڈ ڈھونڈ کراپنی تحریروں میں پرو رہے ہیں۔ ان کی کاوشوں سے متاثر ہوکر مجھے بھی اس کار خیر میں حصہ ڈالنے کی سوجھی اور اس سلسلے میں غلام عباس کا افسانہ ’’بامبے والا‘‘ یاد آیا۔ اس سے پاکستانی معاشرے کی اس عام روش پر روشنی پڑتی ہے جس میں کسی ناپسندیدہ فرد کو زیر کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جایا جاتا ہے۔ یہ عمل انفرادی

Read more

پتنگ بازی اور آتش بازی …. انتظار حسین کا اداریہ

 1963ء کا برس تھا۔ محترم انتظار حسین ادبی جریدے ‘ادب لطیف” کے مدیر تھے۔ پچپن برس قبل بھی ہمارے ملک میں وہی بحثیں ہو رہی ہیں جنہوں نے آج بھی قوم کا قافیہ تنگ کر رکھا ہے۔ کچھ مذہب پسند تھے کہ عقیدوں کو خالص کرنے کی جستجو میں شب برات کی آتش بازی پر معترض تھے۔ کچھ جدیدیت پسند تھے کہ فروری کے آسمان پر اڑتی بسنت کی پتنگ کو قدامت کا نشان جانتے تھے۔ انتظار حسین نے فروری

Read more

انیس ہارون نے فہمیدہ ریاض کے بارے میں کیا لکھا؟

پاکستان میں انسانی حقوق کی تحریک کی معروف رہنما انیس ہارون کی آپ بیتی ’’ کب مہکے گی فصل گل ‘‘ کچھ عرصہ قبل پڑھی تو اچھی لگی۔فہمیدہ ریاض کی موت نے اس کتاب کی پھر سے یاد دلائی کہ اس میں فہمیدہ ریاض کا ذکرِ خیر مصنفہ نے یوں کیا ہے جیسے کوئی دوست کسی دوست کا کرتا ہے۔ یعنی بڑی محبت سے۔ اس کتاب کے شروع میں فہمیدہ کا مضمون ہے جس کے عنوان سے دونوں کے تعلق

Read more

لکھن ہاری الطاف فاطمہ شفق کی مسافرت میں ۔۔۔۔ اب سورج دستک دے

ممتاز فکشن نگار اور مترجم الطاف فاطمہ صاحبہ سے گزشتہ دنوں ملاقات ہوئی۔ ان کی صحت اچھی نہیں ہے۔ پہلے سے مضمحل قویٰ اور بھی مضمحل لگے۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ۔ انھیں دیکھ کر پتا چلتا ہے کہ بڑھاپے کی تباہ کاریاں کیا ہوتی ہیں۔ مجرد ہونے پر اس عمر میں اور بھی زیادہ کشٹ کاٹنا پڑتا ہے۔ رگ وپے میں خودداری کوٹ کوٹ کر بھری ہے اس لیے گمان ہے کہ وہ عزیز از جان بھانجے بھتیجوں کے یہاں جانے

Read more

بجنگ آمد: اردو مزاح کی بے نظیر کتاب

نامور ادیب مستنصر حسین تارڑ سے جب بھی ملاقات ہو، کتابوں پر بات ضرور ہوتی ہے۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ حالیہ عرصہ میں انھوں نے کون سی کتابیں پڑھی ہیں اور کون سی زیر مطالعہ ہیں۔ کتابوں کے بارے میں ان سے کچھ ذکر ہم بھی کرتے ہیں۔ گاہے کتابوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے۔ بزرگ ادیبوں میں ان جیسا پرشوق قاری ہم نے کم ہی دیکھا۔ انگریزی اردو ہر دو زبانوں کی اچھی کتابوں کی چیٹک میں رہتے ہیں۔ مطالعہ کا ایک رنگ یہ بھی ہے کہ اپنی کسی پسندیدہ کتاب کو دوبارہ پڑھا جائے۔

چند دن پہلے ان سے ملنا ہوا تو معلوم ہوا کہ اگلے روز ہی انھوں نے کرنل محمد خان کی ”بجنگ آمد“ ختم کی ہے۔ یہ کتاب وہ کئی دفعہ پڑھ چکے لیکن ان کا کہنا تھا کہ اب کی بار بھی پہلے کی طرح لطف آیا۔ وہ اسے اردو میں شگفتہ ادب کی سب سے بڑی کتاب جانتے ہیں۔ ان کے بقول ”بجنگ آمد اردو ادب کا ایک ایسا شاہکار ہے کہ اس کے سامنے مزاح کی دیگر کائنات ماند پڑ جاتی ہے“ اتفاق کی بات ہے کہ مستنصر حسین تارڑ سے نشست کے دو تین روز بعد کسی مضمون کی تلاش میں ”سویرا“ کی فائل دیکھنی پڑی تو 1968 کے ”سویرا“ میں محمد سلیم الرحمٰن کا ”بجنگ آمد“ پر تبصرہ نظر سے گزرا۔

Read more

حسین نقی سے باتیں (3)

بھٹو کے ساتھ جو ہوا ان کا مقسوم تھا مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع ہونے پر بھٹونے کہا کہ شکر ہے! پاکستان بچ گیا۔ فلیٹزہوٹل میں پریس کانفرنس کرنے آئے تو میں نے کہا کہ ’آپ نے تاریخ پڑھی ہے اورآپ سے بہترکوئی نہیں جانتا کہ پاکستان نہیں بچا۔ اس پر بولے: نہیں نہیں ہم کو حکومت دے دی جائے تو معاملات سدھار دیں گے۔ میں بولا” حکومت بنانا آپ کا حق ہی نہیں، اس لیے آپ کو کیوں

Read more

حسین نقی سے باتیں (1)

ممتاز ادیب مشتاق احمد یوسفی لکھتے ہیں:” سیاست کی کثافت اور polarizationکی مخرب اقدار کشش سے کتنے صحافی اور کالم نویس ہیں جو خود کو بچا سکے ہیں، ان حالات میں حکومتیں اگر Fourth estateکواپنا زرخرید ترجمان و تابع فرمان بنانا چاہیں توتعجب نہیں ہونا چاہیے۔ صحافی ہو یا سیاست دان، جج ہویا بینکراور بیوروکریٹ… یہ سب اسی ترکیب سے ”پکڑائی“دیتے ہیں، جس طرح بعض علاقوں میں بندر پکڑے جاتے ہیں۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ ناریل میں اتنا سوراخ

Read more

حسین نقی سے باتیں (2)

حسین نقی ایسی صحافت اور صحافیوں کے ناقد ہیں، جو حکومتیں گرانے کے لیے Campaigner بن جائیں۔ اس بابت وہ دو ٹوک بات کرتے ہیں۔ ”ایک میڈیا گروپ کہتا رہا کہ ہم فیصلہ کریں گے کہ حکومت رہے گی یا نہیں۔ تین سال وہ حکومت گرانے میں لگے رہے، اور جس حکومت کے خلاف تھے، وہ سب سے زیادہ عرصہ نکال گئی۔ صحافت سے وابستہ ایک شاہین پیپلز پارٹی حکومت کے بارے میں Partisan سے بڑھ کر باقاعدہ Campaigner بن

Read more

ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتری کے لیے ماجد خان کی تجاویز

پاکستان میں حکومت تبدیل ہو تو کرکٹ بورڈ کا چئیرمین بھی نیا آتا ہے، جو اپنے فہم کے مطابق پالیسیاں بناتا ہے۔ ماضی اور حال میں بڑا فرق عظیم کرکٹرعمران خان کے وزیر اعظم بننے سے پیدا ہوا ہے، اس لیے سابق حکمرانوں کی بہ نسبت ان کے ذہن میں پاکستان کرکٹ کو ترقی دینے کا پورا خاکہ موجود ہے، جس پر وہ عمل کرانا چاہتے ہیں ۔ وہ پاکستان میں رائج ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام پر تنقید کرتے رہے

Read more

کرشن چندر علامہ اقبال کی شاعری پر پی ایچ ڈی کرنا چاہتے تھے

کرشن چندر کو علامہ اقبال کی شاعری بہت پسند تھی ، ایف سی کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد والد کی خواہش پر بادل نخواستہ کرشن چندر نے پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی تو کر لیا مگر وکالت کرنے پر ان کی طبیعت مائل نہ ہوئی تو انھیں علامہ اقبال کی شاعری پر ڈاکٹریٹ کا خیال سوجھا جس کو پنجاب یونیورسٹی نے پذیرائی نہ بخشی۔ یاد رہے کہ فیض احمد فیض جس زمانے میں ایم اے اوکالج امرتسرمیں

Read more

جینے کا قرینہ

  مختار صدیقی عمدہ شاعر تھے۔ مختلف علوم میں درک رکھتے تھے۔ موسیقی سے بھی گہرا شغف تھا۔ ان کی پہلودار علمی شخصیت کا ایک حوالہ ترجمہ نگاری ہے۔ چینی مصنف ڈاکٹر لین یو تانگ کی کتاب The Importance Of Living کا ترجمہ انھوں نے ’’ جینے کی اہمیت ‘‘ کے نام سے کیا۔ اس کتاب نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا ، ایک اہم نام ممتاز نقاد ڈاکٹر ناصر عباس نیر کا ہے جن کا کہنا ہے کہ

Read more

لاہور کا عاشق اور ناچ گرل کی تاریخ لکھنے والا: پران نیول انتقال کر گئے

 ’’لاہور کا ذکر تو کجا، اس کافر ادا شہر کے بارے میں سوچتا بھی ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔‘‘ (کرشن چندر) لاہور کی فضا میں کچھ ایسی تاثیر ضرور ہے کہ جو یہاں رہ لیا، پھر وہ کہیں چلا جائے، اس کا معاملہ کرشن چندرسے مختلف نہ ہوگا۔ یہ کوئی شہر تھوڑی ہے، ایک کیفیت ہے، جس کسی پر طاری ہو جائے، پھر اترتی نہیں۔ لاہورکو ہر دور میں ایسے غیر سرکاری وقائع نگار میسر آتے رہے، جنھوں نے

Read more

“اداس نسلیں” کی کہانی

عبداللہ حسین کے ناول ’’اداس نسلیں‘‘ کی اشاعت کو پچپن برس ہو گئے ۔اس عرصے میں یہ ناول ادبی منظرنامے کا مستقل حصہ رہا۔ تین نسلوں کے قارئین نے اس ناول کو ذوق وشوق سے پڑھا ، اس قدر پذیرائی اردو کے بہت کم ناولوں کے حصے میں آئی۔ اس ناول کی خاص بات یہ ہے کہ قارئین سے ہٹ کرادب کا گہرا فہم رکھنے والوں نے بھی اسے بیحد سراہا۔ اشاعت سے قبل جن تین اصحاب نے پڑھ کر

Read more

جنرل الیکشن نہیں ہارا کرتے

فرزندِ اقبال، ڈاکٹر جاوید اقبال کو ہم سے رخصت ہوئے قریب تین برس بیت گئے۔ مرحوم سے کئی بار ملنے اور ان کی تقاریر سننے کا اتفاق ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نہایت نفیس انسان تھے۔ ایک سچے دانشور۔ ان کی علمی حیثیت مسلمہ ہے۔ علامہ اقبال کی بہت عمدہ سوانح عمری، زندہ رود،کے عنوان سے لکھی۔ ان کی کتاب، اپنا گریباں چاک، میرے خیال میں اردو کی بہترین آپ بیتیوں میں سے ایک ہے، جس میں انھوں نے اپنے بارے میں

Read more

انسانی تماشا: ولیم سرویان کے ناول کا اردو ترجمہ

شفیق الرحمٰن مزاح نگار کی حیثیت سے مجھے بہت پسند ہیں، لیکن انھیں دل سے چاہنے کی ایک وجہ امریکا سے تعلق رکھنے والے نامور فکشن نگار ولیم سرویاں(81 19۔ 1908)کے ناول، ” ہیومن کامیڈی ‘‘کا ان کے قلم سے ہونے والا ترجمہ ہے۔ میرے لیے یہ کتاب ایسی کتابوں میں شامل ہے جن کی طرف بقول ولیم فاکنر بندہ اس طرح رجوع کرتا ہے جیسے کوئی پرانے دوستوں کی طرف رجوع کرے۔ ” انسانی تماشا ‘‘پہلی دفعہ 1956میں مکتبہ

Read more

مقصود احمد کے ننانوے رنز اور لاہور جم خانہ کی دھوپ

لاہور میں کرکٹ سے متعلق بہت سے یادگار واقعات ہوئے، جن میں سے بہت سوں نے شائقین کرکٹ کو خوشی سے نہال کر دیا، تو چند ایک ایسے تھے، جو انھیں اداس کر گئے۔ لاہوریوں کو کرکٹ کے ضمن میں سب سے پہلے 1955ء میں مقصود احمد کے انڈیا کے خلاف 99 پرآؤٹ ہونے نے سوگوار کیا اور اہل لاہور پر کیا موقوف، پورے پاکستان میں اس کا غم منایا گیا۔ اس بات کا چرچا اس زمانے کے اخبارات میں

Read more

دیانت دار عمران خان کی ایک تصویر

ْغلطی کس سے نہیں ہوتی۔ اصل بات اسے تسلیم کرنا اور اس سے سبق سیکھنا ہوتا ہے۔ ایسا اسی صورت ممکن ہے، جب آپ اپنی غلطی مان لیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپرراشد لطیف اپنی ہٹ کے پکے ہیں۔ 13 برس پہلے ان سے ایک غلطی ہوئی،جس سے پاکستان اوران کی بدنامی ہوئی۔ اس وقت انھوں نے اپنے کئے کی سزا کاٹ لی تھی لیکن اپنے عمل پرشرمساری انھیں تب تھی نہ اب۔ 2003 بنگلہ دیش

Read more

انتظار حسین کی دانست میں

ممتاز ادیب شمس الرحمٰن فاروقی نے انتظارحسین کی کتاب”علامتوں کا زوال“ پر مضمون میں لکھا ”انتظارحسین کی تنقید اسی لیے قیمتی ہے کہ وہ جگہ جگہ ایسی insights سے بھری ہوئی ہے جن پر پورے پورے مضامین نثار ہو سکتے ہیں۔“ نامور شاعر ظفر اقبال کی ” آب رواں“ پر اپنی تحریر میں رائے دی: ”انتظار حسین کا ذکر میں نے اس لیے کیا کہ ان سے اچھا قاری کم ہی آج کے زمانے میں کسی کو میسر آئے گا۔

Read more

ایرک فرام، صحت مند معاشرے اور محبت کے بارے میں۔۔۔

ایرک فرام کی کتاب The Sane Society کا ’’صحت مند معاشرہ‘‘ کے نام سے اردو میں ممتاز دانش ور قاضی جاوید نے ترجمہ کیا تھا جو 27 سال پہلے شائع ہوا۔ برسوں پہلے یہ کتاب پڑھی تو مجھے پسند آئی۔ چند دن پہلے کتابوں کو ازسرنو ترتیب دیتے ہوئے یہ کتاب نظر آئی تو اسے دوبارہ پڑھنے کا ارادہ کیا۔ اب جو اس کا مطالعہ کیا تو اس کی معنویت نئے طور پر ظاہر ہوئی جس کا زیادہ تر اطلاق

Read more

اداکارہ شبنم کو کس نے انصاف دلوایا؟

1959 میں ایوب خان پاک جمہوریت ٹرین پر مشرقی پاکستان کے دورے پر گئے تو شاعروں ادیبوں کو بھی اپنے ساتھ لے لیا۔ اس سفر کے مسحور کن مناظر ممتاز مفتی نے ’’لیل ونہار‘‘ کے ایک پرچے میں بیان کرکے خوب خوشامد کی تھی۔ اور بھی ادیبوں نے اس سفر کے مشاہدات اپنے اپنے رنگ میں لکھے، لیکن سب سے چوکھا رنگ ممتازمفتی کی تحریر کا ہی تھا۔ اس دورے میں بنگالی شاعر کوی جسیم الدین مغربی پاکستان سے آئے

Read more

ارون دھتی رائے کا ناول اور کشمیریوں کا المیہ

کسی عالم کی صحبت میں بیٹھ کر بندۂ خاکی کو علم کی مد میں جو کچھ ملتا ہے، بہت سی کتابیں اس کا بدل نہیں ہوسکتیں۔ محمد سلیم الرحمٰن ایک ایسے ہی عالم ہیں۔یہ خوبئ قسمت پرنازکی جا ہے کہ ان سے ہماری گاہے کی ملاقات نہیں بلکہ آئے روز کا ملنا ہے۔ ان کے پاس جو بھی جاتا ہے ، خالی ہاتھ نہیں لوٹتا ،دولتِ علم سمیٹ کر اٹھتا ہے۔ کتاب ان کی زندگی کا محور ہے، ان کے

Read more

نواز شریف کا نورانی چہرہ اور شیخ رشید

پاکستانی سیاست میں ایک تو شیخ رشید کا خوش بیانی میں ثانی نہیں، دوسرے بے بنیاد دعوے کرنے میں ان کے کوئی پاسنگ بھی نہیں۔ تھوک کے حساب سے ان کی سیاسی پیش گوئیاں غلط ثابت ہوچکی ہیں مگر پھر بھی دھڑلے سے سیاسی اجتماعات اور ٹی وی پر الٹی سیدھی ہانکتے رہتے ہیں۔ وہ نیوز چینلوں اور اینکروں کی محبوب شخصیت ہیں۔ پروگراموں میں اپنے ساتھ کسی کا وجود گوارا نہیں کرتے اور تانگہ پارٹی کا سربراہ ہونے کے

Read more

سہروردی: پاکستان کا پہلا غدار وزیر اعظم؟

سیاسی حریف کو غدار اور ایجنٹ قرار دینے کی قبیح سیاسی روایت کی داغ بیل لیاقت علی خان نے ڈالی۔ قیام پاکستان کے بعد بحیثیت وزیر اعظم انھوں نے حسین شہید سہروردی کو غدار اور ہندوستانی ایجنٹ کہا۔ ان کے بقول ’’وہ اس قسم کی باتوں کا پرچار کر کے کس کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں؟ بے شک ہمارے دشمنوں نے یہ کتے ہمارے خلاف بھونکنے کے لیے چھوڑ رکھے ہیں۔ یہ لوگ غدار وطن ہیں۔ جھوٹے اور منافق ہیں۔

Read more

الحمرا کے افسانے

 ممتازادیب غلام عباس نے 1930ءمیں امریکی لکھاری واشنگٹن ارونگ کی کتاب “Tales of the Alhambra”کا آزاد ترجمہ ”الحمرا کے افسانے “کے عنوان سے کیا، تو اسے بے حد پذیرائی ملی، اور یہ کتاب اس عہد کی مقبول کتاب بن گئی۔ اسے پڑھنے والوں نے جس طرح یاد رکھا، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ کتاب کے قارئین میں ایسے بھی تھے، جنھوں نے آگے چل کر ادب میں اونچا رتبہ پایا اور یہ ان کے ناسٹلجیا کا حصہ ٹھہری۔ ان

Read more

قائد اعظم ایوب خان کے عزائم جانتے تھے

قائد اعظم گہری سیاسی بصیرت رکھتے تھے، ایوب خان نے مارشل لا کا گل تو ان کے انتقال کے دس برس بعد کھلایا لیکن قائد اعظم قیام پاکستان کے بعد جان گئے تھے کہ یہ فوجی افسر سیاست کے پرائے پھٹے میں بہت ٹانگ اڑاتا ہے۔ سردار عبدالرب نشتر نے ایوب خان کے بارے میں ایک فائل قائد اعظم کو بھجوائی تو ساتھ نوٹ میں لکھا کہ ایوب خان مہاجرین کی بحالی اور ریلیف کے بجائے سیاست میں دلچسپی لیتا

Read more

منٹو کی اداکاری، فلائٹ لیفٹینٹ کرپارام اور ایٹم بم کی دھمکی

سعادت حسن منٹو نے فلموں کا اسکرپٹ لکھا۔ مکالمے سپرد قلم کئے۔ فلمی پرچوں سے جڑے رہے۔ نامورفلمی ستاروں سے دوستانہ رہا۔ پری چہرہ نسیم، نرگس، شیام، اشوک کمار، کے کے(کلونت کور)، نورجہاں، ستارہ، پراسرارنینا اور پارو دیوی کے زبردست خاکے لکھے، جو ” گنجے فرشتے “اور” لاﺅڈ اسپیکر“ میں شامل ہیں۔ قلم کار کی حیثیت سے فلمی دنیا سے منٹوکے تعلق پر کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ منٹو کا ایک فلم کی حد تک ہی سہی، اداکاری سے بھی

Read more

پرویز مشرف کے حقیقی اور فلرٹ وزیر اعظم

جنرل پرویز مشرف بڑے دیالو ڈکٹیٹر تھے۔ اپنے عہد میں انھوں نے کئی لوگوں کووزارت عظمیٰ کا سبز باغ دکھایا۔ ہم صرف ان آفرز کا ذکر کریں گے جو ہماری معلومات کی حد تک ریکارڈ پر آچکی ہیں۔ نامور صحافی حامد میر نے گزشتہ ماہ اپنے کالم میں لکھا کہ 12اکتوبر 1999 کو پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد اسمبلیاں برخاست نہیں کیں اور شہباز شریف کو بڑے بھیا کی جگہ لینے کا دانہ ڈالا۔

Read more

ضیا محی الدین اور کرکٹ

عظیم کرکٹ لکھاری سی ایل آر جیمز نے لکھا ہے What do they know of cricket who only know cricket? اس مقولے میں وہ اشارہ کر رہے ہیں اس پھیلاؤ کی طرف جو کرکٹ کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے واسطے لازم ہے۔ پاکستان میں ضیا محی الدین کے سوا اور کون ہوگا جو کرکٹ کا رسیا ہو اور اس سے باہر کے میدانوں سے متعلق بھی ان کے جتنا جانتا ہو۔ تقسیم سے پہلے اور بعد کی کرکٹ کا

Read more

معاشرتی دباؤ نہ ہوتا تو سیکس کے بارے میں زیادہ لکھتا: مستنصر حسین تارڑ

ممتاز ادیب مستنصر حسین تارڑ سے ہم نے ایک ملاقات میں چند سوالات کئے جن کے انہوں نے جامع جوابات دیے۔ وہ اپنا نقطہ نظر صراحت سے بیان کرتے ہیں، جس میں سب کو راضی رکھنے کی پالیسی کارفرما نہیں ہوتی، اس لیے اختلاف کے پہلو بھی نکلتے ہیں۔ امید ہے ان کی باتیں پڑھنے والوں کو پسند آئیں گی۔ ٭٭٭   ٭٭٭ نثر اور شاعری ،دونوں میں کس کی قوت زیادہ ہے؟ شاعری اپنے آپ کو commit نہیں کرتی اور

Read more

ایوب خان کے جرنیل اور بیگم ناہید مرزا کی بلیاں

اسکندر مرزا نے فیروز خان نون کی اقتدار سے چھٹی کروا کر ایوب خان کی مدد سے ملک پر قبضہ تو کر لیا لیکن اس کے بعد وہ بمشکل بیس دن ہی صدر رہ سکے اور ان کا مطلق العنان حاکم کے طور پر حکمرانی کا منصوبہ پٹ گیا۔ سیاست میں مکافات عمل نام کی کوئی چیز اگر ہوتی ہے تو مرزا جتنی جلدی قدرت کے اس انتقام کا نشانہ بنے اس کی مثال ہماری تاریخ میں نہیں ملے گی۔

Read more

جدن بائی، منٹو اور نرگس

برصغیر کی فلم انڈسٹری میں اُردو ادب اور اس زبان کے ادیبوں سے جس قدر گہرا تعلق جدن بائی کا رہا، شاید ہی کسی اور کا رہا ہو۔ نامور لکھنے والوں نے جس محبت سے اس خاتون کا ذکر اپنی تحریروں میں کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جدن بائی پڑھنے کی کس قدر رسیا تھیں۔ جدن بائی کی اُردو ادب سے لگاوٹ کا ذکر سب سے پہلے منٹو صاحب کی کتاب ’’ گنجے فرشتے‘‘ سے ملاحظہ ہو:

Read more