ڈالر کی اونچی اڑان، روپیہ اور عوام کی نکال دی جان
کراچی شہر کا موسم تو گرم تھا ہی مگر گزشتہ چند دنوں سے کراچی کا سیاسی موسم بھی گرم ہو گیا ہے۔ گرمی نے جہاں لوگوں کا جینا دُو بھر کر دیا ہے، وہیں کراچی کے سیاسی موسم نے غریب عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔ غریب عوام کو اوپر لانے والی حکومتی دعوے دار، آج اپنی غیر ذمہ دارانہ رویے اور غیر مناسب پالیسیوں کی وجہ سے غریب عوام سے دو وقت کی روٹی بھی، ان کی پہنچ سے دور کرتی جا رہی ہے۔
پچاس دنوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں، کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، گیس کی قیمتیں چھت پھاڑتے ہوئے بڑھ گئی ہیں۔ ڈالر ایک ہی رات میں 9 روپے سے زائد بڑھ گیا اور یہاں ڈالر بڑھا اور وہاں ہمارے ملکی قرضے کئی ارب ڈالر بھی بڑھ گئے۔ اب ڈالر 132 سے 136 کے درمیان ہے اور اگلے نوے دن ایسا ہی رہے گا۔
آج ڈالر کی اونچی اڑان اور اس کے نتیجے میں مہنگائی کے طوفان سے ہر فرد پریشان ہے۔ کوئی اسے کرپٹ حکمران کی نا اہلی قرار دے رہا ہے، تو کسی کے نزدیک یہ عالمی سازش کا ایک اور نیا وار ہے؛ لیکن شاید یہ عشروں پہلے ہماری اپنی کوتاہیوں کا وہ ثمر بھی ہے، جو آج نہ صرف ہم پر بلکہ ہماری آنے والی نسلوں تک کے کاندھوں پر نہ ختم ہونے والا بوجھ پہلے سے تیار ہے۔
ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ ڈالر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمت پاکستانی معیشت کے استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اگر فوری طور پر ڈالر کی قیمت کو کنٹرول نہ کیا گیا، تو آنے والے دنوں میں ملک میں مہنگائی کا نیا سیلاب آنے کا خطرہ ہے۔ اگر ڈالر کی قیمت کم نہ ہوئی توغذائی اشیا سمیت تمام در آمدی مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔ غریب عوام کو ریلیف دینے کے دعوے دار بتائیں، کہ غریب عوام کیا کھائیں؟ کہاں سے اپنے اور اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی عزت کی کمائی سے پورا کریں؟
ڈالر کی دن بہ دن بڑھتی ہوئی قیمت سے نہ صرف روز مرہ کی خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی نا قابلِ برداشت اضافہ ہو گیا ہے۔ اب چند ہزار روپے کمانے والا طبقہ اپنی آدھی سے زیادہ کمائی ان بسوں اورچنگچیوں کے کرائے بھاڑے میں نکال دے تو گھر اور بچوں کی بنیادی ضروریات زندگی کہاں سے پورا کر پائے گا! مہنگائی میں تو دن دُگنی رات چوگنی اضافہ ہو رہا ہے، لیکن عوام کی ماہانہ آمدنی میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا، تو گویا عوام روز بروز قرضوں میں ڈوبتے جا رہے ہیں۔ غربت کی لائن سے نیچے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
ڈالر اور پیٹرول اور سی این جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے چھوٹی سے چھوٹی جیسے کہ روٹی، آٹا، دال، چاول وغیرہ سے لے کر بڑی چیزیں تک ٹھیک ٹھاک مہنگی ہو گئی ہیں۔ یہ عوام کے استعمال کی چیزیں ہیں۔ یہ اگر مہنگی ہیں تو عام آدمی تکلیف میں ہے۔ اگر عام آدمی تکلیف میں ہے تو یہ حکومت کیسے زیادہ دیر چلے گی؟
ڈالر کی بڑھتی ہوئی اڑان نے روپے کی جیسے جان ہی نکال دی ہے، نہ صرف پاکستانی کرنسی کی بلکہ پاکستانی غریب عوام کی تو نیندیں حرام ہو گئی ہیں۔ کرپٹ حکمرانوں سے نجات دلانے کے دعوے دار، تبدیلی کا نعرہ لگانے والی پارٹی نے، تو آتے ہی ایسی چونکا دینے والی تبدیلی لائی ہے، کہ ڈالر کی اونچی اڑان، چا سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، اور سی این جی پہلی بار سینچری بنا کے 104 کی قیمت پہ ہے۔ پاکستان کے عوام خود بے ساختہ کہنے پہ مجبور ہو گئے ہیں، کہ ”تبدیلی آئی رے، تبدیلی آئی رے‘‘۔



