مسائل اور ان کا واحد حل


دنیا میں چند ایسے مسائل موجود ہیں جنہیں تقریباً تمام تعلیم یافتہ لوگ مسائل تسلیم کرتے ہیں۔ پھر ان میں سے کئی مسائل ایسے ہیں جنہیں ختم کرنے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن بہت سے مسائل ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں بڑے پیمانے پر کچھ نہیں ہو رہا۔

پانی کی قلت، غذا کی قلت، اوور پاپولیشن، آلودگی، گلوبل وارمنگ اور اس طرح کے کئی مسائل پچھلی کئی دہائیوں سے لوگوں کو پریشانکیے ہوئے ہیں۔ لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پانی و غذا کی قلت اور اوور پاپولیشن درحقیقت مصنوعی مسائل ہیں۔ دنیا میں انسان کی ضرورت سے کئی زیادہ غذا، پانی اور رہنے کے لئے زمین موجودہے بس ان کی تقسیم صحیح نہیں۔ کئی جگہیں ایسی ہیں جہاں لوگ کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں اور وہاں وسائل کم پڑ رہے ہیں اور کئی جگہیں ایسی ہیں جہاں وسائل کی بھرمار ہے لیکن انہیں کوئی استعمال نہیں کر رہا۔

اسکی وجہ کیا ہے؟ کیوں لوگ ایسی جگہ چلے آتے ہیں جہاں وسائل کم ہوتے ہیں؟ وجہ ہے اربنائیزیشن۔ ۔ جہاں ذرا سی ترقی ہوتی ہے انسان بہتر زندگی کے لئے وہاں کا رخ کرتا ہے اور جہاں زیادہ ترقی ہوتی ہے زیادہ لوگ وہاں بہتر زندگی کے لئے پہنچ جاتے ہیں اور اسی وجہ سے یہ مسائل جنم لیتے ہیں۔

اب بات کرتے ہیں ایسے مسائل کی جو مصنوعی نہیں بلکہ واقعی دنیا کے لئے بڑا خطرہ ہیں جیسے کہ آلودگی اور گلوبل وارمنگ۔ مسائل الگ پر وجہ وہی اربنائیزیشن۔ گاڑیاں، فیکٹریاں، انڈسٹریاں ہر طرف اس جدید دور نے آلودگی پھیلا رکھی ہے اور اسے کم کرنے والی درختوں کو بھی اربن سوسائٹی نے ہی کم کیا ہے۔ لیکن ایسا کیوں؟ کیا یہ سب مسائل ان کے لئے نہیں جو یہ مسائل پیدا کر رہے ہیں؟

نہیں! جو بھی ایک عام آدمی کے لئے مسئلہ ہے وہ ان لوگوں کے لئے ایک موقع ہے۔ ایک جگہ جمع ہونے سے صاف پانی کی قلت ہو رہی ہے! نو پرابلم ہم نے آپ لئے آر او پلانٹ بنا دیا ہے اس سے گندا پانی صاف ہو جاتا ہے۔

درختوں کی کٹائی سے گرمی بڑھ رہی ہے! یہ لیجیے اے سی۔ مینیوفیکچرڈ فوڈ کھانے سے بیماریاں ہو رہی ہیں! یہ لیجیے مہنگا علاج اور دوائیاں۔ اب تو بات ہیں تک آ پہنچی ہے کہ ہوا کو آلودہ کرنے کے بعد یہ لوگ تازہ ہوا بھی بیچنے لگے ہیں۔

لوگ پہلے بھی آئے ہیں جو اس نظام کے خلاف اٹھے اور بڑی حد تک اسے ختم بھی کیا لیکن یہ نظام پھر اپنی بھرپور طاقت میں آ چکا ہے اور اسے ختم کرنا بہت مشکل ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ اگر اس بار کسی نے اسے ختم کیا تو پھر یہ دوبارہ نہیں اٹھے گا لیکن اگر اس کے خلاف کچھ نہ کیا گیا تو یہ دنیا نہیں بچے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

شایان نذیر لغاری کی دیگر تحریریں
شایان نذیر لغاری کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں