معیشت کے ساتھ سیاسی کھلواڑ بند کیا جائے
پاکستان کے وزیر اعظم نے صحافی جمال خشوگی کے استنبول میں قتل کے معاملہ میں پھنسے ہوئے سعودی عرب کو سنگین بحران میں سفارتی مدد فراہم کی ہے۔ اب وہ سعودی پیکج کو ملک کے مسائل کا حتمی حل قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی صورت میں غریب عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ لیکن یہ بتانے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ بہت ہی عزیز دوست ملکوں سے لئے گئے قرضوں کی کون سی اور کتنی سیاسی اور سفارتی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ پاکستان کو اپنی جغرافیائی صورت حال اور مسلم دنیا میں اہمیت کی بنا پر سعودی عرب یا کسی بھی ملک سے معاملات کرتے ہوئے ایران اور ترکی کے ساتھ وابستہ پاکستان کے مفادات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔
پاکستانی وزیر اعظم کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ سعودی عرب ہی کو موجودہ بحران میں پاکستان کی ضرورت تھی جس کی بنا پر عمران خان کو شاہ سلمان نے خصوصی دعوت پر ریاض آنے کی دعوت دی۔ یہی عمران خان ایک ماہ پہلے خالی ہاتھ سعودی عرب کے دورہ سے لوٹے تھے۔ اس لئے اگر جمال خشوگی کے معاملہ میں حکومت پاکستان کوئی اصولی مؤقف اختیار کرنے کا حوصلہ نہیں بھی کرتی تو اسے یہ بھولنے کا بھی حق حاصل نہیں کہ سعودی عرب نے ایک سال کے اقتصادی ریلیف کی کیا قیمت وصول کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں اپوزیشن پر برسنے کی بجائے یہ بتانا چاہئے کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ کی باقی جزیات کیا ہیں۔ عمران خان شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے مزید کون سی سفارتی اور سیاسی مراعات کا وعدہ کر کے آئے ہیں۔
عمران خان نے اس تقریر میں یمن میں سعودی عرب کی مسلط کردہ جنگ میں ثالثی کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ کوئی ثالث اسی وقت کردار ادا کرسکتا ہے جب دونوں فریق کسی معاملہ میں اس قسم کے تعاون کی درخواست کریں۔ یمن کی جنگ میں پھنسےہونے کے باوجود سعودی عرب نے ابھی تک پاکستان سے اس مسئلہ میں ثالثی کی درخواست نہیں کی۔ نہ جانے پاکستانی لیڈروں کو یہ غلط فہمی کیوں ہوجاتی ہے کہ وہ ملت اسلامیہ کا نعرہ لگائیں گے اور سعودی حکمرانوں کے دل پسیج جائیں گے۔
پاکستانی وزیر اعظم کو خبر ہونی چاہئے کہ سعودی عرب نے پاکستان سے یمن جنگ میں عملی فوجی مدد دینے کا مطالبہ کیا تھا اور سابقہ قومی اسمبلی نے اس خواہش کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔ ابھی تک سعودی عرب کی اس پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ پھر پاکستان کس بنیاد پر یمن جنگ ختم کروانے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس قسم کی کوشش سابق وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے ایران کے ساتھ سعودی عرب کا تنازعہ حل کروانے کے لئے بھی کی تھی لیکن انہیں منہ کی کھانا پڑی تھی۔ بہتر ہو گا کہ عمران خان ماضی کی غلطیاں دہرانے کی بجائے ان سے سبق سیکھنے کی کوشش کریں۔
وزیر اعظم سعودی عرب سے چھ ارب ڈالر کا وقتی ریلیف پیکج لے کر آئے ہیں اور اتنی ہی مالیت کی امداد آئی ایم ایف سے لینے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی موجودہ شرح کے حساب سے یہ امداد ملنے کے بعد پاکستان کے اس قرض میں مزید پونے دو سو ارب روپے کا اضافہ ہوجائے گا جس کی مقدار عمران خان نے 30000 ارب روپے بتائی ہے۔ اس کے باوجود وہ عوام کو مشکل مالی فیصلوں اور صورت حال کے لئے تیار کرنے کی بجائے یہ دعویٰ کرنے پر اصرار کیا جارہا ہے کہ جلد ہی وہ وقت آنے والا ہے جب پاکستان دوسرے ملکوں کو قرض دینے لگے گا۔ ایک طرف ڈیفالٹ ہونے کی باتیں اور دوسری طرف اس قسم کے بے بنیاد دعوے، مقبولیت پسندی کی یہ سیاست ملکی معیشت کے لئے سخت نقصان دہ ثابت ہوگی۔
وزیر اعظم بدعنوان لیڈروں کو جیلوں میں ڈالنے کے جوش میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ اس ملک میں کرپشن کے خلاف کام کرنے کے لئے احتساب بیورو قائم ہے اور عدالتیں ان امور پر فیصلے کرنے کی مجاز ہیں۔ اگر یہ ملک قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہے تو عمران خان کو یہ بھی جاننا چاہئے کہ وہ جن سیاسی لیڈروں کو اپنا حریف سمجھ کر انہیں کرپشن کا بادشاہ یا چور قرار دیتے ہیں ، ان میں سے ابھی تک کسی کو کسی عدالت سے ایسے کسی الزام میں سزا نہیں دلوائی جا سکی۔ وزیر اعظم اگر سیاسی حساب برابر کرنے کے لئے احتساب اور عدل کے معاملات خود اپنے ہاتھوں میں لینے کا شوق رکھتے ہیں تو وہ اسی نظام کو تہ و بالا کرنے کا سبب بنیں گے جس کے سہارے وہ وزیراعظم منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یوں بھی بدعنوانی کے خلاف سیاست کرنے سے عمران خان یا تحریک انصاف کو ہی فائدہ ہوگا۔ ملکی معیشت ان نعروں سے بہتر ہونے کی بجائے دباؤ کا شکار رہے گی۔

