کیا میڈیا انڈسٹری کو بند کیا جا سکتا ہے؟


میڈیا انڈسٹری ملکی تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار ہے۔ اداروں کی بندش، تنخواہوں میں کٹوتی، برطرفیوں کے اقدامات معمول بن چکے ہیں۔ یوں تو بحران نے پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے لیکن بعض چیزیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی جارہی ہیں۔ کسی کے ذہن میں ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ آزاد میڈیا اس وقت سب سے بڑا ٹارگٹ ہے۔ اہل سیاست کو منظر سے غائب کرنا تو ممکن نہ تھا تاہم فی الوقت بڑی حد تک کارنر کیا جا چکا ہے۔ اہل عدالت کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔ آخری رکاوٹ میڈیا ہے جسے بلڈوز کرنے کا عمل پوری قوت سے جاری ہے۔ خوف، لالچ یا مصلحت پسندی کے تحت بات نہ کی جائے تو ایک الگ امر ہے ورنہ جو کچھ ہورہا ہے اور ہوتا آرہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

آزاد میڈیا کا باقاعدہ گھیراﺅ 2014ء کے دھرنوں کے دوران ہی شروع ہو گیا تھا۔ اس وقت سے شروع کیے گئے تجربات کی روشنی میں سیکھا گیا کہ میڈیا اداروں کوآپس میں کس طرح تقسیم کیا جا سکتا ہے؟۔ مالکان اور ملازمین کی تنظیموں میں گروپ بندی کا طریقہ کیا ہے؟۔ اداروں کو سبق سکھانے کیلئے محض اخبارات کی ترسیل بزور قوت روکنا یا نجی ٹی وی چینلز کی نشریات بند کرانے کے لیے کیبل آپریٹروں کو دھمکانا ہی کافی نہیں، یقینا اندر کے لوگوں نے ہی بتایا ہو گا کہ سب سے موثر ہتھیار یہ ہے کہ اداروں کو ملنے والی (آکسیجن) یعنی مالی وسائل کی فراہمی ہی روک دی جائے تو خودبخود زمین بوس ہو جائیں گے۔

2014ء کے بعد سے اب تک کئی بار اس کی مشق کی جا چکی ہے۔ سب سے بڑے میڈیا گروپ کو ٹارگٹ کرتے ہوئے دیگر تمام ہتھکنڈوں کے ساتھ اسے اپنی سو فیصدرضا مندی سے بزنس دینے والوں کو بھی دھمکا کر روک دیا گیا۔ اس وقت جو لوگ ایک یا دو تین اداروں کو نشان عبرت بنانے کی کوششوں پر تالیاں بجا رہے تھے اب ان میں سے کئی ایک اپنا سر پیٹ رہے ہیں کیونکہ اب تو نہ صرف سرکاری اشتہارات بند ہو رہے ہیں بلکہ کاروباری طبقہ بھی کساد بازاری کے باعث بزنس دینے سے معذور ہے۔ ریاستی عہدیداروں کی چیرہ دستیوں کے خلاف مہذب انداز میں گفتگو کرنے والے تمام صحافیوں کو جسمانی خطرات تو ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ اب نوکریوں سے فراغت کا بھی سامنا ہے۔ آگے کیا ہو گا اللہ ہی جانے مگر آثار اچھے نظر نہیں آرہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نہ جانے کس لہر میں اعلان کر بیٹھے کہ حکومت کی پالیسی ہے کہ میڈیا میں نیوز کو نیچے لایا جائے اور انٹرٹینمنٹ کو اوپر اٹھایا جائے۔

نیوز کو نیچے لانے والی بات تب ہی ممکن ہے جب چینل اور اخبارات کم سے کم ہو جائیں یا پھر خود کو ڈراموں، گانو ں، فلموں تک محدود کر لیں۔ میڈیا انڈسٹری پر بحران آیا تو مالکان بھاگے بھاگے وزیراعظم صاحب کے پاس جا پہنچے۔ جب انہیں بتایا گیا کہ اب تو حالت یہ ہو گئی ہے کہ کارکنوں کو تنخواہیں دینا ہی ممکن نہیں رہا تو عمران احمد نیازی نے کمال بے نیازی سے فرمایا کہ آپ صحافیوں کی تنخواہیں ہی کم کر دیں، کچھ انتہائی فرمانبردار اداروں نے فوری طور پر اس ’اعلیٰ‘ تجویز پر عمل درآمد شروع کر دیاہے۔ جو نہیں کر پارہے وہ سوچ میںپڑے ہوئے ہیں ، ایک لابی ہے جو اس کوشش میں جتی ہوئی ہے کہ اس نازک مرحلے پر ملازمین اور کارکن ایک دوسرے کے خلاف ہو کر نبرد آزما ہو جائیں، یقینا بعض کھرب پتی مالکان نے کارکنوں کے حوالے سے بہت کم ظرفی، چھوٹے دل کا مظاہرہ کیا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ کوئی خواہ کتنا ہی مالدار کیوں نہ ہو جائے ،ایک سے زیادہ کاروبار ہی کیوں نہ کرتا ہو ، کسی ایک بزنس میں خسارہ ہونے پر زیادہ دیر تک اپنے دوسرے منافع بخش اداروں سے رقوم نکال کر منتقل نہیں کرتا۔ میڈیا کارکنوں سمیت صحافیوں، مالکان کو بھی نظر آرہا ہے کہ یہ بحران جلد ٹلنے والا نہیں۔

جنرل مشرف کے دور میں امریکہ اور یورپ کے آشیرباد سے پاکستان میں فروغ پانے والی میڈیا انڈسٹری کو آج بقا کے خطرات لاحق ہیں۔ اپنے اس سفر میں میڈیا ہاﺅسز نے بہت عمدہ صحافت بھی کی اور انتہائی گھٹیا طریقے سے استعمال بھی ہوئے۔ اینکروں کے نام پر انتہائی قابل اور سلجھے ہوئے صحافیوں نے قوم کی رہنمائی کی تو جاہل، بدتمیز اور اوچھے قسم کے کئی اداکار بھی اینکر بن کر کود پڑے۔ یہ بات راز نہیں کہ مخصوص ایجنڈے پر کام کرنے والے اینکروں کی نوکریوں کا اہتمام بھی باہر بیٹھے لوگ کرتے رہے، سیاسی مخالفین کو گالیاں دینے کے عوض اتنے بھاری معاوضے سے نوازا گیا کہ اس رقم سے پورے دفتر کی تنخواہیں نکل سکتی تھیں۔ اس ڈرٹی ریس میں کبھی باہر سے مالی امداد آتی رہی اور کبھی رک جاتی رہی۔ قوم کے مزاج پر ایسے پروگراموں کا جو اثر پڑا وہ ایک مکمل موضوع ہے لیکن ایسی بھاری تنخواہوں کے باعث کئی ایک ادارے وقت سے پہلے ہی ڈانواںڈول ہو گئے۔ ایسے میڈیا ہاﺅسز بھی قائم کیے گئے جن کے مالی معاملات پوری طرح سے مشکوک تھے۔ چند ایک کو سرمایہ فراہم کر کے کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایسے اداروں کا ڈوبنا یقینی تھا۔ اچھی تنخواہوں کے چکر میں بڑے بڑے صحافی وہاں جا کر خوار ہو گئے۔ ایسے چندے سے چلنے والے اداروں کا پراجیکٹ تباہ کن ہی ثابت ہوتا ہے۔اس دوران اصل صحافی محض حق حلال کی ماہانہ تنخواہ کے لیے دن رات کولہو کے بیل کی مانند کام کرتے رہے۔

صحافتی تنظیموں کی گروپنگ اور اپنے فرائض سے دلچسپی کا یہ عالم رہا کہ زیادہ تر اداروں میں اصل صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو اپائٹنمٹ لیٹر تک جاری نہ ہو سکے۔اصل صحافیوں میں سے جب ،جس کو چاہا نوکری سے نکال دیا گیا۔بڑے بڑے عہدے پر فائز صحافی کی ملازمت بھی اتنی کچی رہی کہ جیسے کسی ورک چارج نائب قاصد کی،کنٹریکٹ سسٹم کے نام پر پڑھے لکھے صحافیوں اور میڈیا ورکر ز کا خون نچوڑا گیا۔آزادی صحافت محض مالکان کے مفادات کو تحفظ دینے کا نام رہ گیا۔دیگر کاروباری شعبوں سے تعلق رکھنے والے سیٹھ لوگ بھی انڈسٹری میں گھس آئے۔یقینا ان میں کئی ایک کے ادارے منافع میں نہیں تھے مگر انہوں نے میڈیا کی آڑ لے کر اپنے دیگر کاروباری مفادات کا خوب تحفظ کیااور ہر طرح کے وسائل پر ہاتھ صاف کرتے رہے۔اس طرح ریاست کو اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ ایسے کسی بھی میڈیا ہاﺅس میں پالیسی کا فیصلہ تو مالک نے ہی کرنا ہے اور اس کے مفادات ہی الگ قسم کے ہیں۔ سرکاری اشتہارات کی جائز تقسیم ایسے کسی ادارے کا سرے سے مسئلہ نہیں جو،جو صاحبان ایجنڈا میں شامل ہوتا گیا، اس کے درجات بلند ہوتے گئے۔

آج جو مالکان مزے لے رہے ہیں اور جو اینکر و صحافی غیر معمولی مراعات حاصل کررہے ہیں ان سب کی فہرست تیار کر کے نظر دوڑائیں تو پتہ چلے گا کہ ان کے معاملات صحافت سے کہیں ہٹ کر ایجنڈے کے تحت ہیں۔حالیہ بحران اصل صحافت اور صحافی اداروں کے لیے کڑا امتحان بن کر سامنے آیا ہے۔کوشش ہے کہ صرف پی ٹی وی اور اس کی پالیسی پر چلنے والے چند ایک میڈیا ہاﺅس زندہ رہ جائیں۔ ’وسیع تر قومی مفاد‘ کے خلاف چلنے والی خبروں کا سر ے سے کہیں ذکر ہی نہ ہو ۔نیوز نیچے اور انٹر ٹینمنٹ اوپر کر کے اداروں کی بندش کا منصوبہ تو خیر کیا پورا ہوگا؟ہاں مگر جھٹکے ابھی بہت دیر تک لگیں گے۔میڈیا مالکان اور کارکن صحافی پوری طرح سے ایک دوسرے پر اعتماد کرسکتے ہیں نہ ہی آپس میں شدید مخالفت کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مالکان کومالکان اورکارکن صحافیوں کو اپنے ساتھیوں پر اعتبار نہیں۔اصل کھیل کو سمجھتے ہوئے ٹارگٹ ناکام بنانا ہی واحد راستہ ہے۔ کم از کم نکات پر اتحاد ہونا چاہیے ورنہ میدان میں کھڑے رہنے کی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔منصوبہ ساز کوئی مافوق الفطرت مخلوق نہیں ،ان کے کئی منصوبے پہلے بھی ناکام ہوچکے ہیں ہم جیسے عاجز قلمکاروں کی کامیابی اسی میں ہے کہ میدان نہ چھوڑیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ میدان میں قدم جمائے رکھنا بھی ہر گز آسان نہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔جلد بہتری کے اسباب پیدا فرمائے ۔(آمین)

Facebook Comments HS