تبدیلی والوں نے ڈکشنری تبدیل کر دی
گاؤں کا مولوی بڑے جوش سے بتا رہا تھا کہ بناؤ سنگھار، نت نئے فیشن کرنےاورسرخی پاؤڈرلگا نے والی عورتوں کا ٹھکانہ جہنم ہے ایک دیہانی نے کہا کہ وہ تو ٹھیک ہے لیکن آپ کی تواپنی بیوی یہ سب کرتی ہے؟ مولوی صاحب کا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اوربولے بھائی اس کی بات نہ کریں اس کوتویہ سب جچتا ہی بہت ہے۔
جھوٹ، بہروپ، ملمع کاری جسے عرف عام میں اب یوٹرن کہا جاتا ہے کی پالیسی پرعمل پیرا حکومت نے اپنے ابتدائی 60 دنوں میں ہی نقاب اتارپھینکا ہے اوراس مولوی کے مصداق یہ کہتے ہوئے ذرا شرم محسوس نہیں کررہی کہ ہماری بات نہ کریں ہمیں تویہ سب جچتا ہی بہت ہے۔
حکومت نے ابتدائی ایام کی نصف سنچری میں جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں ان میں ”لغت“ کوازسرنو مرتب کرنے کا کام سرفہرست ہے۔ ”غیراللہ کے سامنے سجدے کو اب بوسہ کہا جاتا ہے، ماضی میں حکمرانوں کا شاہانہ پروٹوکول اب سکیورٹی کہلاتا ہے، کچی آبادیوں کے مکین جن کی غربت ختم کرنے کے لئے ہم نکلے تھے آج کے قبضہ مافیا ہیں جنہیں نابود کیا جارہا ہےگزشتہ حکومتوں کی جس اقرباء پروری کی بدولت ادارے تباہ ہوئے وہ اب میرٹ ہے۔ ماضی میں قرض لینا بھیک مانگنے کے مترادف تھا لیکن اب اسے امدادی پیکیج کہا جاتا ہے قرض لینے سے ملکی وقارداؤ پر لگ جاتا تھا لیکن اب قرض یعنی امدادی پیکیج ملنے پر خوشی کے شادیانے بجاتے ہوئے ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کا رواج ہے
مہینے دو مہینے یا سو دن کی بات تو دور رہی یہاں تو پل میں تولہ پل میں ماشا والی صورتحال ہے۔ صرف دوہفتے قبل وزیرِ غیرمعمولی اطلاعات پوری قوم کو یہ عندیہ دے رہے تھے کہ سعودی عرب نے قرض کے لئے جوشرائط پیش کیں وہ کسی صورت قابل قبول نہیں پھردوہفتے بعد ہی انہی شرائط کی دوسری تشریح پیش کرتے ہوئے پوری قوم کومبارکباد دے رہے ہیں۔ دوہفتے میں ہی ملکی سالمیت کے لئے خطرہ بننے والا قرض حکومت کا کارنامہ کہلایا جانے لگا ہے۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ سی پیک کے تحت چین کی 56 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کو انتہائی مہنگا قرض قراردے کر بین ڈالنے والے سعودی عرب کے خالصتاً قرض پر خوشی کے شادیانے کیوں بجا رہے ہیں؟
پاکستان سعودی عرب کے مشترکہ اعلامیے سے یہ بات تو واضح ہے کہ سعودی عرب تین ارب ڈالر نقد پاکستان کو بینک میں رکھنے کے لئے دے گا جبکہ تین ارب ڈالرکا ادھار تیل بھی دے گا لیکن یہ بات سمجھ سے بالاترہے کہ ایک فریق سے امدادی پیکیج وصولنے کے بعد بھی غیرجانبدار رہنے والا پاکستان یمن کے معاملے پر ثالثی کا جو کردارادا کرے گا یہ تیل دینے کا معاملہ ہے یا تیل لینے کا؟
سقراطِ ثانی اوربقراطِ ثانی جوسڑکوں، گلی محلوں میں تقاریرکی پریکٹس کے دوران بھی دنوں میں ملکی معیشت کو پٹری پر چڑھا دینے کا دعویٰ دے مارتے تھے آج ملک کے کسی گلی محلے میں نظر ہی نہیں آتے، ملکی معیشت کو پٹری پرکیا چڑھاتے خود کانٹا بدل کرکسی اورلائن پر چل نکلے ہیں۔ اسد عمر جو گزشتہ پانچ سال سابقہ حکومت کی ہر معاشی پالیسی کو نقصِ عقل قراردے کر رد کرتے اور نشانہ بناتے رہے آج معاشی میدان میں مرقع جہل مشیروں کے ہجوم میں گھرے آنکھیں کان بند کیے کسی غیبی امداد کے منتظرہیں۔ پانچ سال تک عوام کو دعووں کی برسات میں بھگوئے رکھنے والے اب اپنے ووٹرزکو کڑی دھوپ کا مزہ چکھا رہے ہیں۔ تبدیلی کے ہزاروں دعووں کے جلو میں حکمران جماعت سابقہ حکمرانوں کے نقش قدم پرچل رہی ہے اوراردگرد دیکھنے سے گریزاں ہے مبادا کوئی آوازہ نہ کس دے۔
وہ وزیراعظم جس نے تین ماہ تک بیرون ملک کا دورہ نہیں کرنا تھا دوماہ میں دو دورے کرچکے ہیں اوراگلے ہفتے مزید دو دورے کرنے والے ہیں۔ جو سادگی کی باتیں کرتے تھے اب سکیورٹی کے نام پرشاہانہ پروٹوکول کی نئی مثالیں قائم کررہے ہیں۔ میں تویہ کہتا ہوں تحریک اںصاف کے حکومت میں آنے سے کچھ نہیں بدلا حتیٰ کہ ان کی اپنی سوچ تک نہیں بدلی وہ آج بھی خود کو اپوزیشن میں تصور کرتے ہیں اورہر بات پر ہر کسی کو ہدف تنقید بنانے والے خود کسی تنقید کا مدلل جواب دینےکی صلاحیت سےقطعی عاری ہیں ان کے پاس واحد ہتھیار دشنام طرازی ہے جس سے ایسی گولہ باری ہوتی ہے کہ الامان الحفیظ۔
ماضی میں جب وزیراعظم نوازشریف ڈھکے چھپے الفاظ میں سازشوں اورپس پردہ عناصرکا ذکرکرتے تھے تو وزیرِ غیرمعمولی اطلاعات روز پوچھتے تھے کہ کھل کرنام کیوں نہیں لیتے؟ آج انہی کی جماعت کے سربراہ وزیراعظم ہیں قوم سے خطاب میں باربارکہتے ہیں کہ این آراو نہیں ہونے دیں گے جب پوچھا جاتا ہے کہ کھل کر بتائیے کون این آراو لے رہا ہے کون دے رہا ہے؟ تو جواب ہے۔ ٹوں ں ں ں۔
خان صاحب! یہ مجھ جیسا ہرعام پاکستانی جانتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں واحد این آر او ایک غاصب، آمراور جرنیل حکمران پرویز مشرف نے اپنے اقتدارکےدوام کےلئے دیا تھا کیا آپ خود کوجنرل پرویز مشرف کی جگہ براجمان خیال کرتے ہیں یا اپنے اقتدار کو ویسے ہی حالات میں گھرا محسوس کرتے ہیں جو این آراوکی باتیں کرتے ہیں؟
خان صاحب! کرپشن، کرپٹ سیاستدان اوراحتساب کی باتیں ماضی میں بھی بہت ہوچکی ہیں اب باتیں نہیں عملی اقدامات چاہئیں۔ کہاں ہیں وہ دستاویزات سے بھرے ٹرک جو ثبوتوں کی صورت آپ کے پاس موجود تھے؟ کہاں گئے وہ بیرون ملک سے لائے گئے شواہد اورگواہان جن کی بدولت احتساب کے چیف کمشنرصاحب بہادرکو بھی خفت اٹھانی پڑ رہی ہے؟ آف شورکمپنیوں میں شامل دیگر چار سو سے زائد افراد کا کیا احتساب ہوا؟ متعدد آف شورکمپنیوں والے آپ کے آس پاس بیٹھے ہیں ان کے خلاف کیا کارروائی ہوگی اورکب ہوگی؟ آس پاس ہی کیا اپنے گھرمیں نظرڈالیں آپ کی بہن حلیمہ خان کا نام بھی دوبئی میں جائیدادیں بنانے والوں کی فہرست میں شامل ہے آپ ہی تو کہتے تھے کہ وزیراعظم کے گھروالوں میں سے کسی کا بیرون ملک بغیر کسی اورذریعہ معاش کے اتنا پھلتا پھولتا کاروبار ہو تو اسے استعفیٰ دے کرخود کو احتساب کے لئے پیش کردینا چاہیے اب کیا ارادے ہیں؟ دیں استعفیٰ؟ یا پھراس شعبدہ بازی کے لئے لغت میں کسی نئی اصطلاح کا اضافہ ہی کردیں۔


