پردیس میں مردوں کے ہاتھوں عورتوں پر گھریلو تشدد
گھریلو تشدد کی صورت میں مدد نہ لینے کے عوامل:
ان ملاقاتوں سے اندازہ یہ ہوتا ہے کہ کئی عوامل ہیں کہ جو مہاجرین عورتوں کی مدد کے حصول میں آڑے آتے ہیں۔ مثلا طلاق سے متعلق تہمت، غیر ممالک کے نظام سے کم فہمی، تنہائی اور عورتوں کی تعلیم اور معاشی انحصار۔ آئیے ذرا تفصیل سے نظر ڈالیں ان عوامل پر
1۔ اپنے زندگی کے ساتھی کے مقابلہ میں میزبان ثقافت اور زبان سے کم آشنائی۔
2۔ نئے ملک میں معاشی اور سماجی وسائل کی کمی۔
3۔ روایتی قدریں کہ جن میں مرد کو سماجی بالادستی حاصل ہے۔
4۔ سماجی تنہائی جب مہاجرین معاشرے سے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔
5۔ ملکی قوانین سے ناواقفیت۔
6۔ شوہروں پر مکمل اقتصادی انحصاری اور بے بسی کا خوف۔
7۔ ملک سے باہر بھیج دیے جانے اور بچوں کے چھن جانے کا خدشہ۔
8۔ پولیس اور قانونی اداروں کا عورتوں سے بے حسی کا رویہ اور گھریلو تشدد کو ”ذاتی معاملہ“ کہہ کر سنجیدگی سے نہ لینا۔
9۔ گھر کی بات ”باہر“ جانے کا خوف یا راز کمیونٹی میں کھل جانے کا خوف۔
10۔ مذہباً اور روایتاً مرد کی بالادستی کا خوف، کے علاوہ عموماً عورتیں شادی کے بعد شوہر کے سماجی رتبہ کی بنیاد پر اس ملک میں داخل ہوتی ہیں۔
گھریلو تشدد کے نتائج:
1۔ زندگی کے ساتھی یا شوہر کے تشدد کا اثر صحت پہ جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی لحاظ سے منفی پڑتا ہے۔ مثلا خود کشی، قتل کی وارداتیں، جان لیوا یا غیر جان لیوا چوٹیں، جنسی بیماریاں، حمل، ذہنی بیماریاں جیسے ڈیپریشن، او سی ڈی، ذہنی دباؤ، خوف، نشہ آور ادویات کا استعمال اور شراب نوشی وغیرہ شامل ہیں۔
2۔ امریکہ میں تقریبا ایک کڑور بچے سالانہ کی شرح سے گھریلو تشدد سے کسی نہ کسی طور پر متاثر ہوتے ہیں اور اس کے باعث صحت اور رویے کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ مثلا وزن کا مسئلہ، بے خوابی، غذا میں اعتدالی اور اسکول میں تعلیم سے متعلق مسائل۔ اور بحیثیت مجموعی منفی رویے کے علاوہ پوسٹ ٹرامیٹک ڈس آرڈر کا خدشہ۔
ان جھگڑوں کی مالی اور سماجی قیمت بھی ہوتی ہے۔ مثلا کام پر نہ جانے کی صورت میں حاضری اور کام کے گھنٹوں میں کمی اور خاندان کی آگائی کا ٹوٹنا یہ تمام نتائج اتنے دور رس ہیں کہ فوری اقدامات ہی واحد حل آتا ہے۔
آخر کیا کیا جائے؟ :
خاندانی تشدد کا شکار خواتین کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
1۔ برے حالات میں گھری خواتین کونسیلنگ، جو کرائس کے حالات گزرنے کے بعد بھی جاری رہے۔
2۔ عارضی پناہ گاہوں (بچوں اور عورتوں کے لئے ) کا قیام۔
3۔ تعلیمی اقدامات بہ ملک کی عدلیہ کے متعلق تعلیم اور آگہی جو مستقبل میں تشدد کو روک سکتا ہے۔
4۔ براہ راست قانونی خدمات یا ریفرل اور دوسری خدمات کا مہیا کرنا۔
5۔ تعاون، مدد اور قانونی پشت پناہی فراہم کرنا تاکہ تشدد کے شکار افراد اپنے ہنر میں یکتا ہو سکیں۔ جو ان کو تحفظ اور ملازمت کے حصول کا ذریعہ دے سکیں۔
6۔ مکان، خوراک، معاشی ذرائع اور ذہنی صحت کے اداروں کی خدمات مہیا کی جائیں۔
7۔ تشدد کے شکار افراد کو قائل کرنا کہ اگر انہوں نے تشدد کرنے والے کے خلاف کچھ کہا تو انہیں مکمل رازداری اور اعتماد مہیا کیا جائے گا۔
8۔ ہم زبان ورکرز یا والنٹئیرز مہیا کیے جائیں تاکہ وہ با آسانی دل کی بات کہہ سکیں۔
9۔ امیگریشن افسران کا دوسری ثقافتوں کے لئے حساس رویہ ہو۔ اس کے لیے ان کی تربیت ضروری ہے۔
10۔ پالیسی بنانے والوں کو اس بات پہ قائل کیا جائے کہ یہ خواتین دوسرے ممالک میں جانے سے پہلے اپنے ملک میں ہی نئی ملک میں اپنے حقوق کے بارے میں تربیتی کورس لیں۔ اور ضروری ہے کہ مردوں کا پس منظر نہ صرف ان کے اپنے ملک بلکہ نارتھ امریکہ میں بھی چیک ہو۔
11۔ جنوبی ایشیا کی کمیونٹی میں مذہبی رہنماؤں کا کردار اہمیت رکھتا ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ امام، پنڈت یا دوسرے مذہبی رہنما اس قسم کے تشدد کے خلاف اپنی تقاریر میں آواز اٹھائیں۔
واوا (VAWA) ایکٹ:
یہ ملکی قانون دراصل (Violence Against Women Act) کہلاتا ہے۔ جو مہاجر خواتین کی حفاظت کے لئے بہت اہم ہے۔ پہلی بار 1994 میں نافذ ہونے والے اس قانون نے پناہ گزین مہاجرین، معذور خواتین اور بچوں کو تشدد کے خلاف حفاظت دینے کے اہم پروگرام جاری کیے ہیں۔
اگر آپ سمجھتی ہیں کہ آپ یا آپ سے متعلق کوئی فرد خاندانی تشدد کا شکار ہے۔ تو اپنی مدد آپ کے اصول پر 911 یا نیشنل ڈومیسٹک وائلنس، ہاٹ لائن ( 1800799 safe) یا ( 18007893234 ) پر رجوع کریں۔
اگر شوہر کی زیادتیوں سے بچ کر نکلنے کا سوچ رہی ہیں تو کسی محفوظ مقام مثلا دوست یا رشتہ دار کے گھر یا کسی مقامی پناہ گاہ میں جائیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے شوہر کو اس جگہ کا علم نہ ہو۔ یہ پناہ گاہیں مفت ہیں۔ اور بلاتفریق ضرورت مندوں کو مدد فراہم کرتی ہیں۔ چاہے آپ کی حیثیت غیر قانونی ہی کیوں نہ ہو۔ بچوں کے حقوق کے لیے وکیل کا انتظام بھی پناہ گاہیں مفت کر سکتی ہیں۔
امریکہ کی مختلف ریاستوں میں جنوب ایشین کمیونٹیز کے لئے ایجنسیاں کام کر رہی ہیں۔ مثلا مشی گن ایشین انڈین فیملی سروسز، مسلم فیملی سروسز، میری لینڈ میں آشا، نیویارک / نیو جرسی میں سکھی، کیلی فورنیا میں آسرا وغیرہ وغیرہ۔
گورنمنٹ کی ویب سائیٹ جو اس سلسلے میں معاون ہے وہ حسب ذیل ہے۔
http://ww.nifvi.org/immigrantsrefugees.html
یاد رکھیے کہ کسی شخص کی نفرت اور تشدد کی قیمت محض اس وقت ادا ہوتی ہے جب آپ اپنی ذات کی نفی کرتے ہیں حالانکہ روشنی اور ترقی کی جانب قدم بڑھانے سے پہلے ضروری ہے کہ خود اپنی ذات کو تلاش کیا جائے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے سے محبت اور عزت کی جائے۔
۔

