احمد جاوید روشنی کا ایک مینار ہیں
ایک بار پینٹنگ بن گئی تو سمجھیں آپ نے اس کہانی کے سرے پکڑ لیے جو غالب نے لفظوں سے بنی تھی۔ وہ اپنے ایک دوست کا گھر بنوانا چاہتے تھے اور وہ دوست غالباً اکاؤنٹس سے متعلق تھا۔ شاید ایک بیوروکریٹ ہیں۔ احمد جاوید صاحب نو برس خود ایک کنسٹرکشن کمپنی میں کام کرتے رہے ہیں لہذا اچھی طرح ان معاملات کو سمجھتے ہیں۔ خیر میں نے اپنے ایک دوست سے کہا کہ وہ گھر بنا دیں۔ گھر تو بن گیا لیکن معاملات کچھ بگڑ گئے اور یہاں تک بگڑے کہ مجھے بیچ میں آنا پڑا۔
سمجھ آئی کہ میرے دوست کا قصور ہے۔ جس کا مکان تھا نقصان کی تلافی کا خواہاں تھا۔ میرے دوست کے پاس پیسے نہیں تھے اور وہ صاحب ایک دن اپنے کسی پولیس والے دوست جو کہ ایس پی تھے، ساتھ لے کر میرے دوست کی دکان پر آ گئے۔ معاملات طے پا گئے۔ میں نے باتوں باتوں میں اس واقعہ کا ذکر کیا تو جاوید صاحب بہت مضطرب ہوئے اور فوراً یہ کہہ کر معاملہ ختم کیا کہ کسی کی عزت نفس سے زیادہ کسی چیز کی اہمیت نہیں اور یہ کہ باوردی پولیس آفیسر کو ٹھیکیدار ( میرا دوست ) کے پاس نہیں لے جانا چاہیے تھا۔
ان صاحب نے فوراً مجھ سے اور عمران صاحب ( ٹھیکیدار ) سے معافی مانگی۔ جاوید صاحب کا کہنا کہ کی جو نقصان برداشت کرنے کی سکت ہو اسے برداشت کرنا چاہیے۔ جاوید صاحب کھانے کھلانے کے بہت شوقین ہیں اور ہمیشہ یہ پوچھتے ہیں کہ مہنگا کھانا کہاں سے ملے گا۔ ہمیشہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ بہت خوش خوراک ہیں لیکن ان کی صحت اس کی اجازت نہیں دیتی۔ پان کھانے کے بہت شوقین ہیں اور اگر ان کے لیے کوئی مہنگا تحفہ لے جائے تو ناراض ہو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تحفہ بس ایسا ہو کہ محبت کا اظہار لگے نا کہ امارت کا۔ عموماً وہ پان کا تحفہ بہت پسند کرتے ہیں۔ پان چھوڑنے کی بہت کوشش کرتے ہیں لیکن بے سود۔ کسی نووارد کو محفل کے موافق بنانے میں کمال رکھتے ہیں۔ ایک بار دہلی پریس کلب سے وہاں کے سیکرٹری جنرل تشریف لائے اور محفل ہمارے واپڈا ٹاؤن والے گھر پر جمی ہوئی تھی۔ انہوں نے چھوٹتے ہی پاک بھارت تعلقات اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈرانا شروع کر دیا کہ شاید پاکستان میں انتخابات ( 2008 کے انتخابات ہونے والے تھے ) نہ ہو سکیں اور کچھ قتل و غارتگری وغیرہ ہو جائے۔
پوری بات غور سے سننے کے بعد احمد جاوید صاحب انہی تقریباً ٹوکتے ہوئے بولے، ”بھائی! چھوڑیں قتل وتل کو یہ بتائیں کہ دہلی میں اچھی مٹھائی کہاں سے ملتی ہے؟ “ سیکرٹری جنرل صاحب کو ایک لمحہ کے لیے جھٹکا لگا لیکن انہوں نے قہقہہ لگا کر خود کو سنبھالا اور پھر بات دہلی کے بازاروں سے ہوتے ہوئے یاروں اور بہاروں تک جا پہنچی۔
ایک دن اچانک دروازے پر گھنٹی بجی اور کیا دیکھتا ہوں کہ جاوید صاحب کھرے ہیں۔ کہانی لگے کہ، ”سعید اختر ابراہیم صاحب کسی مشکل میں ہیں؟ “ میں نے بتایا کہ میں ان سے رابطے میں نہیں ہوں لیکن وہ ماشا اللہ اچھے ہی ہوں گے۔ کچھ تشویش کے بعد جاوید صاحب بولے، ”وہ آپ کے دوست ہیں۔ مشکل میں ہیں۔ میں کچھ کر سکتا ہوں ان کے لیے تو مجھے بتائیے گا“۔ ایسا اکثر ہوتا تھا اور اب بھی ہوتا ہے کہ اچانک ان کا فون آ جاتا ہے اور وہ کسی ایسے دوست کے بارے پوچھنا شروع کر دیتے ہیں جس سے میں بالکل رابطے میں نہیں ہوتا۔ میں ان کی اس تشویش کو کبھی سمجھ نہیں سکا۔
ایک دن میں گردے بیچنے والے کچھ ایجنٹوں پر ڈاکیومنٹری بنا رہا تھا کہ احمد صاحب کے ساتھ محفل جمی۔ میں نے بتایا کہ کس طرح لوگ بے دردی سے دوسروں کے گردے بیچ دیتے ہیں۔ کہنے لگے، ”بھائی وہ گردے بیچتے ہیں اور آپ ( میڈیا) لوگوں کے دماغ بیچ دیتے ہیں۔ اشارہ شہزاد احمد کی اس خاموش تحریک کی طرف تھا کہ انٹیلیکچولز کو بھی پیسے ملنے چاہییں پروگرامز میں شرکت کرنے کے“۔ میں نے جب ناول، ”کئی چاند تھے سر آسماں“ ختم کیا تو انہوں نے کہا کہ زیب النسا بیگم کے کردار کی بجائے مرزا غالب جیسی کوئی تہہ در تہہ شخصیت مرکزی کردار ہونا چاہیے تھا۔
ایک دن ہمارے ایک دوست کچھ شراب وغیرہ پی کر آ گئے اور بس خاموش بیٹھے رہے۔ احمد صاحب کو کسی کا لاتعلق ہو کر بیٹھنا بہت تکلیف پہنچاتا تھا اور وہ میرے دوست کو اس حالت میں دوبارہ دیکھنا بھی نہیں چاہتے تھے۔ سمجھانا فرض سمجھتے تھے اور موقع نہیں مل رہا تھا کہ محفل تمام ہو گئی۔ اٹھتے ہوئے پوچھا، ”بھائی آپ آج بولے کیوں نہیں؟ “۔ میرا دوست بولا، ”جناب سوچا اپنی جہالت کو محدود ہی رکھوں“، جاوید صاحب حاضر جواب آدمی ہیں۔ فوراً بولے، ”واہ! یعنی آپ نے لامحدود کو محدود کرنے کی ٹھان لی؟ “۔ احمد جاوید صاحب میں داغ کی شاعری جیسی شگفتگی، مرزا غالب جیسی برجستگی، میر جیسی آہستگی اور مصحفی جیسی شائستگی ہے۔

