فیض فیسٹول میں فرسودہ نعرے

فیض فیسٹیول کا تیسرا اور آخری دن جاری ہے اور مجھے سب سے دلچسپ چیز کامریڈ فاروق طارق کے لگوائے ہوئے وہ نعرے تھے جو مدت ہوئی پرانے ہو چکے ہیں گو کہ میں کامریڈ فاروق طارق کا بڑا مداح ہوں اور ہمیشہ انہیں ایک شفیق استاد کی طرح پایا ہے۔ ”سرخ ہے سرخ ہے…

Read more

ٹرین میں آگ دہشت گردی تھی۔

کہتے ہیں جو بندہ نہر سے پار کھڑا ہو کر گالی بکے یا منہ پر جھوٹ بول دے اس کا اپ کچھ نہیں کر سکتے۔ رحمان ملک کے بارے مشہور تھا کہ کیلا کھا رہا ہو تو بتاتا سیب ہے۔ ملک صاحب کو شاید کیلے کا ذائقہ پسند تھا لیکن شکل اچھی نہیں لگتی ہو…

Read more

دھرنا تو کب کا اٹھ گیا

مولانا صاحب کا دھرنا شیطان کی آنت کی طرح لمبا ہی ہوتا جا رہا ہے لیکن دھرنے کا محض لمبا ہونا عوامی سطح پر کامیابی کی ضمانت نہیں گو کہ چند سکہ بند صحافی مولانا کا سیاست میں متعلق ہونا، شکست خوردگی کی ہزیمت سے نکلنا اور حصہ بقدر جثہ حاصل کرنا ہی کامیابی سمجھتے…

Read more

جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کیوں ہو گی؟

آپ کو یاد ہو گا کچھ ہفتے پہلے خان صاحب نے کے پی کے میں تقریر کرتے ہوئے بڑے اضطراب سے کہا تھا کہ ابھی ان کی حکومت کو بنے دس ماہ ہوئے ہیں پھر گرانے کی باتیں کیوں ہو رہی ہیں۔ میڈیا نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ شاید اپوزیشن کی طرف اشارہ ہے حالانکہ خان صاحب اپوزیشن کی بیان بازی کے ساتھ تو وہ سلوک کرتے ہیں جو بد زبان اور لڑاکا عورت غریب محلے داروں کے ساتھ کرتی ہے۔ خان صاحب کا ملتجیانہ انداز عوام یا اپوزیشن کے لئے نہیں ہوتا بلکہ بڑے صاحب کی طرف ہوتا ہے۔

Read more

نیب چئیرمین کب جائیں گے؟

میرے ایک استاد ہیں اظہر صاحب جو ہمیں انگریزی ادب ( ناول ) پڑھایا کرتے تھے۔ بہت ہی خوش مزاج اور بذلہ سنج آدمی ہیں۔ ایک دن بلی کی جنسی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمانے لگے کہ انہوں نے بلے اور بلی کو اتفاق سے دس گیارہ بار جنسی سرگرمی میں ملوث دیکھا ہے اس لئے ان کے کہے پر یقین کیا جائے۔ میں نے ترنت جواب دیا، ”حضور دس گیارہ بار اتفاق سے نہیں گھات لگا کر دیکھا ہو گا“۔

آپ میری بیمار ذہنیت سے اگر جذبز نہ ہوں تو بتاؤں کہ میں اتفاق سے دس گیارہ بار چیئرمین نیب کی اس خاتون سے گفتگو سن چکا ہوں جو ان کے لئے رسوائی کا باعث بنیں۔ میری دلچسپی ”ابرو و مہتاب“ سے زیادہ چیئرمین صاحب کی ”نازیبا“ گفتگو کی طرف تھی جسے نازیبا کہنا اس لئے غلط ہے کہ خاتون اسے نازیبا نہیں سمجھ رہی تھیں کیونکہ باہمی رضامندی سے ایسی گفتگو ایک معمول تھا۔ وڈیو بنانے کے پس پردہ محرک شاید چیئرمین صاحب کا دوسرے گلدستوں کی طرف نظر التفات تھا بہرحال خاتون کی بنائی ہوئی وڈیو کچھ دن پہلے کی گئی تقریر کا مزا ہی خراب کر دیا۔ ابھی تو چیئرمین صاحب نے پر پرزے نکالنے تھے اور قوم کی مسیحائی کا بیڑا اٹھانا تھا کہ پٹھو گول گرم ہو گیا ( اسے پنجاب میں کھیلے جانے والے ایک کھیل کا حوالہ ہی سمجھا جائے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں ) ۔

Read more

افطار پارٹی عوام کے ساتھ مذاق تھا !

سعادت حسن منٹو تو عصمت چغتائی کو بہت بولڈ موضوعات پر دبنگ ہو کر لکھنے کی وجہ سے بڑی "پاٹے خان" ٹائپ خاتون سمجھتا تھا لیکن ایک دن جب افسانہ "لحاف" کی آخری لائن پر بات کرنے کی کوشش کی تو عصمت شرما گئیں اور منٹو نے یکلخت کہا، " یہ بھی سالی عورت نکلی"۔اتوار…

Read more

لوگ سڑکوں پر کیوں نہیں آئیں گے؟

فیصل واڈا نے جب یہ کہا کہ لوگ پٹرول دو سو روپے لیٹر بھی خریدیں گے تو وہ شاید یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ عمران خان کی محبت میں لوگ اتنا مہنگا پٹرول بھی خریدیں گے اور اف تک بھی نہیں کریں گے لیکن وہ نادانستہ طور پر قوم کو ایک بہت بڑا طعنہ…

Read more

خاموشی کا اضطراب : داسو سے چلاس تک

مجھے لگتا ہے اس بار کے کے ایچ ( شاہراہ قراقرم) سے گلگت بلتستان جانا پڑے گا یعنی بشام سے ہوتے ہوئے داسو، چلاس، جگلوٹ اور استور۔ داسو سے چلاس تک بہت صبر آزما سفر ہوتا ہے گوکہ ہم ( میں اور بیوی بچے ) عموماً بابو سر سے ہی جاتے ہیں لیکن اس بار لگتا ہے بابو سر پاس کھلا نہیں ہو گا۔ ویسے تو داسو سے چلاس تک ایسے ایسے مناظر ہیں کہ آپ کبھی حسن سے خیرہ ہوتے ہیں اور کبھی مرعوب، کبھی جذب و مستی کی کیفیت ہوتی ہے تو کبھی رشک و فخر کی۔ آپ ہیں، ہمالیہ کے چٹیل پہاڑ اور ان سنگلاخ پہاڑوں سے بہتے ہزاروں جھرنے۔

میرے لئے اس سفر میں دو چیزیں بہت پر کشش ہیں : دریائے سندھ کا کردار اور خاموشی کا اظہار۔ خاموشی ایک کردار ہی بن جاتی ہے جو ہمزاد کی طرح آپ کے ہمرکاب ہے۔ میں نے گلگت بلتستان کے سفر میں خاموشی کو ہر رنگ، ہر مزاج اور ہر کیفیت میں محسوس کیا ہے۔ دریائے سندھ کا شور اور ہمالیہ کے پہاڑوں میں چیختی خاموشی۔ داسو سے سمر نالے تک خاموشی ایسے سناٹے کا سایہ ہے جو سراسیمگی طاری کر دیتا ہے۔

Read more

“جیو” کہتا ہے، جیو یا مرو ہمیں کیا ؟

میں یہ سب اپنی اخلاقی برآت کے لئے لکھنا چاہتا ہوں تاکہ کل اس ادارے پر تنقید کرنی پڑے تو کوئی یہ نہ کہے کہ دیکھا جب تک وہاں تھے، ان کا دم بھرتے تھے اور آج انہی کو کوسنے دے رہے ہیں جنہوں نے پندرہ برس (میں نے جیو نیوز دو ہزار چار میں…

Read more

کارل مارکس اور بیماری کی تشخیص

جنوبی پنجاب کے متوسط درجے کا ایک گھر جہاں تازہ قلعی کی خوشبو ایک بوڑھی عورت کے غمزدہ نقوش، دانائی سے بھری آ نکھوں والے ایک دانشور کی تصویر اور لوہے کی تپائی پر پڑا خط کمرے کی بے سکون خاموشی میں مسلسل اضطراب پیدا کر رہے ہیں۔ اس بوڑھی عورت کے بیٹے کے لیے…

Read more