بائیں بازو کے خواب

میں اپنی زندگی میں پہلی بار جس بڑے آدمی سے ملا وہ عابد حسن منٹو ہیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں کا خانیوال میں ایک اکٹھ تھا اور سب لوگ ہمارے گھر چائے پینے آئے تھے۔ ، تارا یونین والے مرزا ابراہیم صاحب، حبیب جالب صاحب، جناب نعیم شاکر، سیف الملوک صاحب اور سی آر اسلم صاحب بھی تھے۔ منٹو صاحب کی آنکھوں سے ٹپکتی ذہانت، متانت اور باوقار انداز گفتگو نے مجھے بہت متاثر کیا اور یقین کیجیے مجھے پہلی بار اپنے سوشلسٹ ہونے پر فخر محسوس ہوا ورنہ سوشلسٹ ہونا تو گویا ایک کلنک تھا یعنی سکول ہو یا کرکٹ گراؤنڈ، ٹیوشن سنٹرز ہوں یا نئے دوستوں کی آزمائش ہر طرف ہم سے پہلے ہمارے افسانے گئے اور یہ سارے افسانے رسوائی کے تھے۔”تم لوگ جب مر جاتے ہو تو جنازہ ہوتا ہے؟ “، ”سب روزے رکھتے ہیں تو تم کیا کرتے ہو؟ “، ”جب دل دکھتا ہے تو کسے پکارتے ہو؟ “، ”اسلامیات کیسے پڑھ لیتے ہو“، ”انقلاب نے خود ہی آنا ہے تو تم اپنی عاقبت خراب کیوں کرتے ہو؟ “، ”شادیاں کرتے ہو یا ویسے ہی کام چلا لیتے ہو“، ”مذہب کے خانہ میں کیا لکھتے ہو؟ “، ”اپنے مردوں کو دفناتے ہو یا کچھ اور کرتے ہو“، ”نام مسلمانوں والا کیوں رکھا ہوا ہے؟ “، ”روس سے اتنی محبت ہے تو وہاں دفع کیوں نہیں ہو جاتے؟ “۔

Read more

کیا صرف مودی ننگا ہوا ہے ؟

جب سے جنگی جنون کی کالک برسنا شروع ہوئی ہے بہت سے ذی شعور جنگ کہ تباہی کاریوں سے متنبہ بھی کر رہے ہیں۔ ایسے میں خیالات میں ایک محشر برپا ہے اور نبض ہستی کچھ اس انداز سے چل رہی ہے گویا شب کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو۔ ولادی میر لینن بہت بڑا آدمی تھا اور صرف ایک بات پر کرینسکی کی قلابازی لگوا دی کہ وہ جرمنی کے ساتھ جنگ جاری نہیں رکھے گا جبکہ کرینسکی جنگ جاری رکھنا چاہتا تھا اور روسی عوام جنگ سے تنگ آئے ہوئے تھے۔لینن نے کیا اچھی بات کہی تھی کہ جنگیں بہت خوفناک ہوتی ہیں لیکن خوفناک حد تک منافع بخش بھی۔ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ بھارت میں اٹھتر فی صد لوگ جنگ چاہتے ہیں اور بائیس فیصد بالکل جنگ نہیں چاہتے اور وہ بائیس فی صد بھارت کی افواج ہیں گوکہ ان کا نیول چیف کہتا ہے کہ ہر لحاظ سے تیار ہے لیکن مجھے یقین ہے ان کی فضائیہ کے چیف نے بھی نندن کو بھیجنے سے پہلے یہی کہا ہو گا۔ ہم دونوں اتنے سیانے ضرور ہیں کہ جنگ نہیں کریں گے لیکن صرف جنگی جنون پیدا کر کے اور جنگ کی فضا بنا کر بھی بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

Read more

ن م راشد کی کہانیاں اور تمثیلیں

ہمارے ہاں ن م راشد نظم کے سب سے بڑے شاعر ہیں لیکن فخر الحق نوری اور ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے سوا کسی نے راشد صاحب پر خاطر خواہ کام نہیں کیا۔ میں کوئی نقاد تو نہیں لیکن ادب کا ادنیٰ سا طالب علم ہوں اور میں راشد صاحب کے تصور آدم نو وغیرہ پر بھی بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ایسی تنقید خالص ادب کے طلباء کے لئے ہوتی ہے۔ راشد صاحب کی فکری جہات اور کرافٹ کا لطف اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی شاعری کو گایا جائے، سنا جائے، محسوس کیا جائے اور اگر ہمت ہو تو پڑھا بھی جائے۔

اگر انہیں پڑھ کر جمالیاتی حظ اٹھانا آسان ہوتا یا ان کے نظام فکر کو گرفت میں لینا سہل ہوتا یا انہیں فیس بک پر درج کر کے اپنی جمالیاتی و شعوری بالیدگی کا ثبوت پیش کرنا آسان ہوتا تو فیض اور ناصر کی طرح دھڑا دھڑ نظموں کے ٹکڑے چسپاں ہو رہے ہوتے۔ انقلاب کے نعرے، محبت کی بازی، حسن کے قصیدے، ہجر و وصال کے گیت راشد کے ہاں روایتی انداز سے موجود نہیں اور نہ ہی ان کی شاعری کوئی سستا نشہ ہے کہ ہر للو بھٹیار چار مصرعے یاد کر کے اپنے تئیں ابوالکلام بن جائے گا۔

Read more

ویلنٹائنز ڈے پر کھونٹوں کی تلاش !

ویلنٹائنز ڈے آ رہا ہے اور جیسے فیض صاحب کہتے تھے، " دل عشاق کی خبر لینا / پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں" محبت کے مارے اظہار کے مختلف حربے اپنائیں گے۔ حربے اس لئے کہا کہ فقیہہ شہر مے کی اجازت کیا دے گا کہ چاندنی کو بھی حضرت حرام کہتے ہیں۔ ادھر…

Read more

گاؤدی اینکروں کے تو وارے نیارے ہیں!

خبرناک اپنی مقبولیت کی بلند ترین سطح پر ہے اور مجھ سمیت اس سے وابستہ ان لوگوں کی تنخواہوں میں کٹوتی ہو گئی ہے جو ایک خاص حد سے زیادہ تنخواہ لے رہے تھے۔ جو لوگ یہاں سے گئے وہ تنخواہوں کے دیر سے آنے کے باوجود جانا نہیں چاہتے تھے اور اس کی وجہ…

Read more

شمیم بھائی نے عمران خان کو کیا وارننگ دی؟

کوئی بھی بلاگ شروع کرنے سے پہلے سوچتا ہوں کہ اپنی یادوں کو کسی بڑے آدمی سے جوڑ دوں تا کہ چھاپنے والے پر یہ بوجھ نہ بنے کہ مجھ جیسے عام آدمی کی کہانیوں میں کوئی کیوں دلچسپی لے گا لیکن مجھے بڑے لوگ نظر ہی عام اور غیر معروف لوگوں میں آتے ہیں۔ اب تک زندگی کا سب سے بڑا اور سب سے خوبصورت حصہ ریلوے کی برٹ کالونی لاہور میں گزارا۔ یہاں کرکٹر محمد یوسف جو اس وقت یوسف یوحنا تھے بھولے شری کانت کے ہاتھوں پٹے کیونکہ ایک لاگت بازی کے میچ میں رن آؤٹ ہو گئے تھے جسے بھولا جی نے جان بوجھ کر رن آؤٹ ہونے پر محمول کیا لیکن بات صرف رن آؤٹ ہونے کی نہیں تھی۔

Read more

جب بابا حیدر زمان کا اکسایا ہوا ہجوم ہمیں مارنے پر تل گیا

بظاہر ٹی وی پروڈکشن ایک بے ضرر، دلچسپ اور آسان سا کام ہے لیکن بعض اوقات اس میں موت کو قریب سے دیکھنا پڑتا ہے۔ آپ پرسکون اور معمول کے مطابق گزرتی زندگی کو چھوڑ کر ایک دم آگ میں چھلانگ لگاتے ہیں اور جسمانی طور پر بچ بھی جائیں تو نفسیاتی طور پر ایک شدید اضطراب سے گزرتے ہیں۔ پچھلے دنوں جب میں اوورکوٹ پہن کر ریکارڈنگ میں بیٹھا ہوا تھا تو میرے ڈی او پی نوید حیات نے کہا کہ آپ وہ نہیں رہے جو آج سے پانچ سات سال پہلے تھے۔ اس ایک فقرے نے گویا یادوں کے دریچے کھول دیے۔

صوبہ ہزارہ کی تحریک زوروں پر تھی اور لوگ سڑکوں پر اپنا صوبہ مانگ رہے تھے جبکہ زرداری اور نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کرنے کے بدلے سرحد کو خیبر پختونخوا نام دے رہے تھے یعنی کھلم کھلا دھاندلی ہو رہی تھی ہزارہ والوں خلاف۔ بابا حیدر زمان جو ہمیشہ نواز شریف کے خلاف الیکشن ہارتا تھا ہزارہ والوں کا ہیرو بنا ہوا تھا۔ عبدالرؤف صاحب ( ہمارے استاد، باس اور پچاس منٹ کے اینکر) نے کہا کہ ہزارہ جا کر پروگرام کرتے ہیں۔

Read more

عورت، آئیڈیل اور بھیڈو

ہماری کالونی میں ایک نعیم بھیڈو صاحب رہا کرتے تھے۔ ذرا قد کاٹھ نکالا تو سوچا کسی پر عاشق ہوا جائے۔ ساتھ والے بنگلے میں ایک دوشیزہ رہتی تھیں جن کا نخرہ آسمان پر تھا اور ہونا بھی چاہیے تھا کیونکہ کسی نے انہیں بہت خوبصورت اور سنگدل ہونے کا احساس دلایا ہوا تھا۔ نعیم بھیڈو صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ انہیں پروپوز کر دیا۔ خاتون سنگدل ہونے کے ساتھ ساتھ سمجھدار بھی تھیں۔ انہوں نے سوچا اگر فتراک میں ایک اور نخچیر کا اضافہ ہو جائے تو کیا برا ہے۔ جو سب سے اچھا ”پیس“ ہو گا ان کے لیے حلف وفاداری اٹھا لیں گی۔ بس جھٹ سے کہہ دیا، ”نعیم تم سی ایس ایس کر لو پھر میں تمہاری ہو سکتی ہوں“۔

بھیڈو صاحب جو کہ انڈر میٹرک تھے اور کتاب پڑھتے ان کی آنکھوں میں پانی آجاتا کہا کرتے، ”اللہ ایک بار جیون ملا اور وہ بھی آنکھیں کالی کرنے میں ضائع ہو جائے گا۔ وہ کیسے خوش قسمت ہیں جو منہ کالا کر لیتے ہیں لیکن وقت ضائع نہیں کرتے“ بھاگم بھاگ ہمارے پاس آئے۔ انہیں بتایا گیا کہ بھائی بہت سی چیزیں ازبر کرنی پڑتی ہیں، وقت دینا پڑتا ہے۔ ڈنگر کر ساتھ ڈنگر ہونا پڑتا ہے۔ ہمارے ایک دوست کا خیال تھا کہ ڈنگروں کا امتحان ہی ایسے ہوسکتا ہے۔ سوچنے سمجھنے والوں کا نہیں۔ خیر نعیم بھیڈو چلا گیا۔
خاتون نے جب اسے چپ دیکھا تو ایک دن بلا کر پوچھا، ”تمہارا جذبہ کیا ہوا؟ “۔ بھیڈو بولا اگر سول سرونٹ بن گیا تو تم ہی رہ گئی ہو شادی کرنے کے لیے۔ بھیڈو صاحب چاہتے تھے کہ ان میں چھپا گوہر شادی سے پہلا تلاش کیا جائے اور ایسے ہی گوہر تلاش کرنے کے مواقع انہیں دیے جائیں تاکہ ایک دوسرے کو سمجھنے میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔ چاہے گوہر مٹی ہو جائے۔

Read more

میرا ایمان خراب نہ کر یار !

نظریہ کیسا اچھا لفظ ہے لیکن سنتے ہی دماغ میں غلاظت کا ڈھیر امڈ آتا ہے۔ نظریہ کا مطلب تو ظاہر ہے زندگی سے متعلق ایک خاص زاویہ نظر ہوتا ہے لیکن ہمارے سکول میں شکور محمد عاصی صاحب ( اللہ انہیں جنت اور غلمان نصیب کرے ) چھوٹے بچوں کے ساتھ بد فعلی کے لیے مشہور تھے۔ ہو سکتا ہے آج کل کچھ دانشور حضرات اس سرگرمی کو بد فعلی کہنے پر اعتراض کریں اور اپنا بھونڈا سا لبرل ازم گھسیڑیں لیکن بہر حال عاصی صاحب اردو اور مطالعہ پاکستان پڑھاتے تھے لہذا یہ امیج کسی طرح لفظ نظریہ کے ساتھ جڑ گیا۔

اسی طرح لفظ ایمان اپنے معانی کے بر خلاف ہمارے دوست باجوہ صاحب کا تنا ہوا چہرہ، ابلتی آنکھیں اور چوڑے چوڑے دانت سامنے لے آتا ہے۔ میں حسن کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا چاہے وہ کوئی تصویر ہو یا مجسمہ، تحریر ہو یا ”مصورہ“ اور عموماً میں ہی غافل دوستوں کو سڑک پر چلتے، کلاس میں آتے، بس سے اترتے، سیڑھیاں چڑھتے حسن کی طرف توجہ دلاتا۔ سب لوگ بڑے خضوع و خشوع سے متوجہ ہوتے سوائے باجوہ صاحب کے جو مجھے تقریباً پیٹنے والے ہوتے بل کہ ایک دو بار تو مجھے ان سے ٹھڈا پڑا بھی۔ ایسا نہیں تھا کہ باجوہ صاحب حسن پرست نہیں تھے لیکن انہیں اپنا ایمان خراب ہونے کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔ وہ یہی کہتے رہتے کہ، ”اوئے میرا ایمان خراب نہ کرو، ایمان خراب نہ کرو“۔ بس کسی ناہنجار نے کہہ دیا، ”باجوہ صاحب! آپ نے ایمان پتلون میں رکھا ہوا ہے؟ “

Read more

!سرائیکی صوبہ نہیں بن سکتا، مینا کہیں زیادہ مقبول ہے

میں ایک ڈاکیومنٹری بنانے کے سلسلے میں ایک بار ڈی جی خان گیا اور وہاں کے ایک درمیانے درجے کے زمیندار میاں صاحب کا مہان بنا۔ میاں صاحب سرائیکی اور اردو ادب سے بہت شغف رکھتے تھے اور ہر بات کو زبردستی فلسفہ کا رنگ دینے کی کوشش کرتے گو کہ انہیں فلسفہ کی ذرا شد بد نہیں تھے۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ہی ہوتا ہے جو جتنی احمقانہ بات کرے اسے اتنا ہی بڑا فلسفی کہہ کر یہ اقرار کر لیا جاتا ہے ہم اس کی یاوہ گوئی کے سامنے ہتھیار پھینک رہے ہیں۔

دوسری بات بزرگوار میں یہ تھی کہ اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق کے باوجود غریب معتقدوں کو غیر شعوری طور پر یہ احساس دلاتے رہتے تھے کہ وہ سب پنجابی استعمار کے غلام ہیں اور ان کے دکھ اسی استعمار کی وجہ سے ہیں مثلاً کسی نے محفل سے اٹھنے کی کوشش کی تو میاں صاحب بولے، ”کدھاں ویندے ہے جے؟ “ اور وہ صاحب بولے، ”چھوٹی دھی بھکی ہو سی۔ گھر کے شے کو نا۔ ویندا پیاں“ اور میاں صاحب نے ایک دلدوز چیخ نما انداز میں کہا ”ہائے اساں قیدی تخت لہور دے“ اور سب کے دل شدت غم سے ڈوبنے لگے ۔

Read more