امریکا نیا تماشا لگانے جا رہا ہے

افغانستان سے آ خری فوجی نکلنے کے بعد جو بائیڈن کی تقریر بنیادی طور پر ہزیمت اور شکست کو قابل قبول بنانے کا جواز فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب افغانستان میں ٹھہرنا قومی مفاد کے خلاف تھا۔ سوال یہ ہے کہ قومی مفاد تھا کیا۔ انہوں نے خود ہی تسلیم کیا کہ اسامہ کو تو وہ ایک دہائی پہلے ہی مزا چکھا چکے تھے۔ شاید وہ بھول گئے کہ اسامہ کو مزا چکھانے سے بہت پہلے وہ

Read more

آخر تھپڑ کیوں نہ پڑے؟

ایک نجی ٹی وی شو میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پیپلز پارٹی کے نو منتخب رکن اسمبلی جناب عبدالقادر مندوخیل کو غصے میں آ کر تھپڑ جڑ دیا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا سیاست میں وہی موٹو ہے جو ویوین رچرڈز کا کرکٹ میں : ”مارو اور مارتے چلے جاؤ“ ۔ یہ پالیسی مقبول عام پالیسی، ”مارو یا مر جاؤ“ کی زیادہ پر اعتماد شکل ہے۔ کسی نے ڈاکٹر صاحبہ کی اس پالیسی کو ایک تضمین کی شکل میں

Read more

کیا تصوف ایک ذہنی عیاشی ہے؟

فرسٹ لیڈی بشریٰ عمران صاحبہ نے صوفی یونیورسٹی کھولنے کی داغ بیل ڈالی ہے اور اب ڈاکٹرز، انجنیئرز، آئی ٹی سپیشلسٹ کی طرح صوفی بھی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوں گے۔ ہمارے ہاں جب عقلی دلائل ختم ہو جاتے ہیں تو پیچیدہ نفسیاتی الجھنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے زندگی کی تلخ حقیقتوں سے فرار ڈھونڈا جاتا ہے اور عموماً کسی ننگ دھڑنگ، تہی مایہ، رال ٹپکاتے بھک منگے کو بھی ہم مجذوب کہہ دیتے ہیں۔ صوفی بنیادی طور پر

Read more

حامد میر کے پاس لیمن ہو تو لیمنیڈ بناتا ہے

حامد میر کو خبر بریک کرنے کا جنون ہے اور وہ اس بات پر ملکہ رکھتے ہیں کہ خبر کیسے اچھالنی ہے۔ اگر وہ دھاتی تلواروں کے زمانے میں خبر رساں ہوتے تو یقیناً ان پیغام رساں لوگوں میں ہوتے جن کے سر قلم کر کے مخالف بادشاہ کو بر انگیختہ کیا جاتا تھا تا کہ وہ غصے اور جھنجھلاہٹ میں سامنے والے کی طاقت کا اندازہ کیے بغیر حملہ کرے۔ جو لوگ ان سے ملتے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ حامد میر ملاقات کے شروع میں بات ہی ایسے کرتے ہیں جیسے کوئی خبر بریک کر رہے ہوں مثلاً آپ نے کہا کہ میں نئیر علی دادا کے ٹی ہاؤس میں بیٹھا تھا کہ سوچا پرانے دوستوں سے مل لوں تو میر صاحب فوراً بولیں گے، ”نئیر علی دادا وہی جس پر کیس بن گیا تھا“ ۔

آپ حیران ہوں گے کہ ظاہر ہے کوئی بڑا کیس بن گیا اور آپ اتنے بے خبر کہ کچھ علم ہی نہیں۔ آپ کو پسپا ہوتے دیکھ کر وہ پھر کہیں گے، ”نہیں پتہ، نہیں پتہ ہاہاہا چلیں چھوڑیں“ اور اب آپ اگر صحافی ہیں تو کریدیں گے اور وہ مزا لیں گے حالانکہ بات بہت سادہ سی یہ ہو گی کہ نئیر علی دادا کی کمپنی پر کسی نے کیس کیا ہو گا کہ طے شدہ مدت میں عمارت نہیں بنی اور خرچ زیادہ ہو گیا۔

Read more

آغا حسن عسکری: صرف بڑے فلم ڈائریکٹر نہیں! سولہ برس پرانی یادیں

آغا حسن عسکری صاحب کے ساتھ سولہ برس بعد ملاقات ہوئی۔ جیو نیوز لاہور کی یادیں ( سولہ برس پہلے کی یادیں ) تازہ ہو گئیں۔ بہت گپیں لگیں۔ آغا صاحب تیسرے فلور پر میرے ساتھ بیٹھے تھے کہ عبد الرؤف صاحب سے چھپ چھپ کر شطرنج کھیلنے کے دن یاد آ گئے جب میں، شہباز صفدر اور آغا جی تیسرے فلور پر جو اس زمانے میں پرانے اخبار اور کاٹھ کباڑ رکھنے کی جگہ ہوتی تھی، گھنٹوں شطرنج کھیلتے۔ آغا جی فلم سے آئے تھے اور پرائیویٹ ٹی وی کے کلچر سے بہت واقف نہیں تھے لہذا بیٹھے بیٹھے سگریٹ نکال کر پینا شروع کر دیتے اور اب یہ ہماری طبیعت پر منحصر تھا کہ انہیں روکیں یا انتظامیہ کے کسی بندے کی نظر پڑنے دیں۔

Read more

انواسی ( ناول کا جائزہ )۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ محمد حفیظ خان کا ناول، ”انواسی“ اٹھارہ سو اکسٹھ میں دریائے ستلج پر تعمیر کیے گئے ایمپریس پل کی کہانی ہے جس میں برطانوی انتظامیہ اور ریلوے انجینیئرز کی پیشہ وارانہ رقابت، تین سو گھرانوں پر مشتمل مقامی آ بادی کے ساتھ ایک قبرستان سے ریلوے لائن گزارنے کا واقعہ اور اس واقعہ کے نتیجے میں نوجوانوں کا قتل، قبرستان سے اپنے آ باء کی ہڈیاں سمیٹنے کی مشروط اجازت، سات شہیدوں کی قبر وں کی برطانوی انتظامیہ کی جانب سے نئے قبرستان میں منتقلی اور سات شہیدوں کی شناخت گم ہونے کی وجہ سے چالیس درویشوں کی آ ہ و فغاں، آ ہ و فغاں کے نتیجے میں ہجوم کا بستی میں مولوی اللہ بخش کے گھر پر حملہ، حملے کے نتیجے میں مولوی صاحب کا بیہمانہ قتل، قتل کے نتیجے میں ان کی بیوہ پر بیٹے کی میلی آ نکھ، میلی آ نکھ کے نتیجے میں بیوہ کا مولوی صاحب کے بھائی سے عقد نکاح، اس عقد نکاح کے نتیجے میں مولوی اللہ رکھا کا کشتے کھا کر چل بسنا اور مولوی اللہ رکھا کی موت کا الزام ایک نوجوان پر لگنا۔

Read more

کماری والا ( ناول کا جائزہ )۔

ناول پڑھتے ہوئے میرے پیش نظر ہمیشہ کہانی ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں کچھ دانشور حضرات ناول لکھتے ہوئے اپنی تحقیق، فلسفہ اور نظریہ اس طرح پیش کرتے ہیں کہ کہانی مر جاتی ہے، اوٹ پٹانگ سے اخباری حقائق کہانی پر غالب آ جاتے ہیں اور یا دقیق فلسفیانہ بیان بازی۔ آپ صرف کہانی لکھیں اور آپ کا جو فلسفہ ہے وہ غیر شعوری طور پر قاری کے دل میں کہیں عود آئے گا۔ یہی کرافٹ کی خوبصورتی ہوتی ہے۔ کہانی کو تحقیقی مقالے سے بچا کر لکھنا چاہیے۔ فلسفہ جھاڑنے کے شوق میں کہانی بے ربط ہو جائے تو قاری بدمزہ ہو جاتا ہے۔ کہانی لکھنے کے بعد کتاب جائزہ میں یہ سمجھانا کی کہانی کیا تھی بجائے خود کہانی پر سمجھوتے کی دلیل ہے۔

Read more

صدر ٹرمپ دوبارہ منتخب کیوں ہوں گے؟

تین نومبر امریکہ میں الیکشن کا دن ہے اور بائیڈن نمبر گیم میں آگے ہیں لیکن امریکی صدارتی انتخاب میں نمبر گیم پلٹتے دیر نہیں لگتی۔ نمبر گیم کے علاوہ تمام اشارے ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کی طرف جا رہے ہیں اور اگر ٹرمپ دوبارہ صدر نہ بن سکے تو مجھے حیرت ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ امریکیوں نے کووڈ کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں وہ کیا اشارے ہیں جو ٹرمپ کو دوبارہ مسلط کریں گے۔

مجھے 2011 میں ایک ایکسچینج پروگرام پر امریکہ جانے کا اتفاق ہوا اور اس پروگرام نے ( International Visitors Leadership Program) پورا امریکہ گھومنے کا شاندار موقع دیا۔ لیری موڈی نے جو کہ ہمارے پروگرام انچارج تھے پہلے ہی دن بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ، ”امریکیوں سے مذاق نہ کرنا کیونکہ یہ ہر بات کو فیس ویلیو کرلیتے ہیں اور آپ کا مذاق سمجھ ہی نہیں پائیں گے“ ۔ دوسری طرف ہم تین بندے ( اب میں لڑکے نہیں لکھتا ) اور دو لڑکیاں ( عورتیں ہمیشہ لڑکیاں ہی رہتی ہیں ) تھے جو ملتے ہی ہلکا پھلکا مذاق شروع کر چکے تھے۔ یاد رہے کہ ہم پہلی بار امریکہ میں ہی ملے تھے۔

Read more

وسیب کبھی صوبہ نہیں بن سکتا

پچھلے دنوں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی باتیں چلتی رہیں۔ ٹی وی اور ٹوئٹر ٹائیکونز بھی بڑے گرم رہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ بننا چاہیے لیکن بنے گا نہیں کیونکہ جب بھی جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی بات ہو گی سیاسی اشرافیہ کو اپنی دلی لٹتی محسوس ہو گی۔ جنوبی پنجاب کی سیاسی اشرافیہ مرکزی پنجاب کی لیڈر شپ کی دست نگر ہے۔ وہ اپنی چھوٹے چھوٹے سیاسی مفادات کی خاطر لیڈر کے تلوے چاٹتے رہتے ہیں اسی لئے

Read more

اے میرے دل کہیں اور چل گاتے امان اللہ چلا گیا

میرا جسم میری مرضی میں ایسا الجھے کہ امان اللّٰہ پر لکھنے میں دیر ہو گئی۔ ہم سب کی ادارتی ٹیم نے عورت مارچ سے متعلق میری مغلظات کو جگہ نہ دے کر روشن خیالی کا مظاہرہ کیا۔ ن م لطیفی یاد آ تے ہیں کہ ، ”وابستہ میری یاد سے کچھ تلخیاں بھی تھیں / اچھا کیا کو مجھ کو فراموش کر دیا“۔ خیر امان اللّٰہ خان کے کامیڈی کنگ ہونے میں تو کوئی دو رائے نہیں لہزا ان

Read more

اللہ عورت مارچ پر عورت کو بچائے

عورت مارچ ہونے والا ہے اور عورتیں پھر سڑکوں پر اپنا حق مانگنے نکل رہی ہیں۔ دراصل عورت کا استیصال ہوتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم بحیثیت معاشرتی عورت کے حقوق ادا نہیں کرتے۔ عورت اپنے فیصلوں میں قطعاً خودمختار نہیں حتیٰ کہ بنیادی انسانی فیصلوں میں بھی نہیں لیکن عورت کا استیصال ایک طبقے کے استیصال سے مملو ہے اور وہ ہے محنت کش طبقہ۔ محنت کش خواتین یا متوسط طبقہ کی خواتین جنسی، جذباتی

Read more

میں نے بدھا کا مجسمہ نہیں چرایا

گلگت بلتستان سے واپسی پر سوچا کہ بچوں کو ٹیکسلا کا عجائب گھر دکھایا جائے تاکہ قدیم تہذیب سے آ گاہی ہو۔ ٹیکسلا پہنچے تو میوزیم کے ایک حصے میں کام ہو رہا تھا اور دوسرے حصہ سیاحوں کے لئے کھلا تھا۔ طرح طرح کے نوادرات موجود تھے اور خاص طور پر گوتم بدھا کے مجسمے تو بہت زیادہ تھے۔ قرات العین حیدر کے آ گ کا دریا نے ایسا سحر طاری کیے رکھا ہے کہ بدھا کے بارے سوچتے ہوئے پہلا خیال گوتم نیلمبر اور ہری شنکر کی طرف جاتا ہے۔ ٹیکسلا میوزیم دیکھ کر قدرے مایوسی ہوئی کیونکہ آپ چھوٹے موٹے مجسمے ہی دیکھ سکتے ہیں گو کہ میوزیم میں جا کر تو تاریخ سے سرشار ہو جانا چاہیے۔ علم و آ گہی، تہذیب و تمدن، کردار و کمال یوں سامنے آ نے چاہییں کہ کس ٹائم مشین کی طرح میوزیم کئی صدیوں کا تجربہ کروا دے۔

Read more

قلندرز جان بوجھ کر ہارتے ہیں

آج کل پی ایس ایل کا جوش ہے اور پہلی بار سارے میچز پاکستان میں ہو رہے ہیں۔ عمران۔ خان کہا کرتے تھے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں مقابلہ بازی کا رحجان اور پروفیشنل ازم اسی صورت میں فروغ پا سکتا ہے کہ اداروں کی بجائے شہروں کے مقابلے ہوں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ اپنے شہریوں کی ٹیموں کو سپورٹ کر رہے ہیں اور بڑے جذباتی ہیں۔ کچھ میرے جیسے کرکٹ شائق ہیں جو کرکٹ کو کھیل سمجھ کر

Read more

ڈاکٹر لال خان ! سرخ سلام کامریڈ

ڈاکٹر لال خان سے پہلی ملاقات بیس برس پہلے اپنے دوست کامریڈ ممتاز نواز مستوئی کے توسط سے ہوئی۔ تب سے ان کی وفات تک ان سے سیکھنے کا موقع ملا اور جب انہیں اپروچ کیا انتہائی شفقت فرمائی۔ ڈاکٹر صاحب مزاجاً ایک شرمیلے آ دمی تھے اور جب کبھی پروگرام میں تشریف لاتے تو بے چین سے ہوتے، دوسروں کی بات غور سے سنتے لیکن تاثر یہ ملتا جیسے جلدی میں ہوں کیونکہ اثبات میں سر ہلاتے رہتے اور

Read more

سنا ہے ایک اور صحافی مر گیا !

فصیح الدین دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے۔ انگریزی ادب کی کلاس میں میری ایک بہت ہی قابل احترام کلاس فیلو خاتون کے بھائی تھے اور بڑے بھائیوں جیسے تھے۔ یہ انیسو ستانوے کی بات ہے وہ بڑے وجیہ، سنجیدہ اور مہذب آدمی تھے۔ ان کی وفات پر جو کچھ لکھا گیا اور جن جن حلقوں سے لکھا گیا وہ اتنا معتبر ہے کہ فصیح کی شخصیت دنیا سے جانے کے بعد زیادہ کھل کر سامنے آئی ہے۔

Read more

دیوتا جنازوں پر نہیں جاتے

پچھلے دنوں جناب نعیم الحق صاحب کے انتقال پر جب خان صاحب کسی وجہ سے نمازجنازہ میں شریک نہیں ہو سکے تو سوشل میڈیا پر بہت واویلا ہوا۔ بڑے سیاستدان تو جنازوں میں جانے کا موقع ڈھونڈتے ہیں لیکن عموماً بڑے لوگ کنی کترا جاتے ہیں کیونکہ ہم نے انہیں دیوتا کا درجہ دے دیا ہوتا ہے۔ دیوتا پر چڑھاوے تو چڑھائے جا سکتے ہیں لیکن انہیں جنازوں میں گھسیٹا نہیں جا سکتا۔ میں نے اپنا مافی الضمیر اس نثری

Read more

موٹیویشنل سپیکرز کو بولنے دیں ۔ زندگی سے سیکھیں ۔

رانا ذیشان حیدر صاحب خبرناک کے محقق ہیں اور کبھی کبھار ہم سب کے لئے بھی لکھتے بھی ہیں۔ میری گزارش ہے کہ ان کی عمر کا شمار مہ و سال سے نہیں بلکہ گرمئی جذبات سے ہونا چاہیے اور اس اعتبار سے ان کی عمر داستان امیر حمزہ والے امیر حمزہ کے برابر ہے۔ میں نے داستان کا حوالہ اس لئے دیا مبادا جماعت الدوتہ والے امیر حمزہ کا خیال کوند آئے۔ جناب ان معدودے چند لوگوں میں سے

Read more

سرخ پھریرے أٹھانے آسان اور نبھانے مشکل ہیں

سرخ پھریروں اور کامریڈ چی گویرا کی تصاویر سے مزین مارچ نے میڈیا پر ایک کھلبلی سی مچا دی ہے اور یہ طوفاں جھوم کر فیض فیسٹیول سے أٹھے ہیں۔ میرا بھائی یاسر حسین کہا کرتا ہے کہ میں نے جس کسی کو تنقید کا نشانہ بنایا اسے ہمیشہ عزت ملی اور مجھے ہمیشہ شرمندہ ہونا پڑا اور جس کے ساتھ میں کھڑا ہوا اس کا جاگتا نصیب بھی سو گیا۔ کھولیں دکان کفن کی تو لوگ مرنا چھوڑ دیں

Read more

فیض فیسٹول میں فرسودہ نعرے

فیض فیسٹیول کا تیسرا اور آخری دن جاری ہے اور مجھے سب سے دلچسپ چیز کامریڈ فاروق طارق کے لگوائے ہوئے وہ نعرے تھے جو مدت ہوئی پرانے ہو چکے ہیں گو کہ میں کامریڈ فاروق طارق کا بڑا مداح ہوں اور ہمیشہ انہیں ایک شفیق استاد کی طرح پایا ہے۔ ”سرخ ہے سرخ ہے ایشیاء سرخ ہے“ یا پھر ”فیض تیرا خواب ادھورا مل کر ہم سب کریں گے پورا“۔ پہلی بات تو یہ کہ ایشیاء کسی انصاف اور

Read more

ٹرین میں آگ دہشت گردی تھی۔

کہتے ہیں جو بندہ نہر سے پار کھڑا ہو کر گالی بکے یا منہ پر جھوٹ بول دے اس کا اپ کچھ نہیں کر سکتے۔ رحمان ملک کے بارے مشہور تھا کہ کیلا کھا رہا ہو تو بتاتا سیب ہے۔ ملک صاحب کو شاید کیلے کا ذائقہ پسند تھا لیکن شکل اچھی نہیں لگتی ہو گی یا پھر سماچی مرتبہ کیلے کھانے سے کم نظر آتا ہو گا۔ خیر مجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ جو لوگ جھوٹ نہیں بولتے

Read more

دھرنا تو کب کا اٹھ گیا

مولانا صاحب کا دھرنا شیطان کی آنت کی طرح لمبا ہی ہوتا جا رہا ہے لیکن دھرنے کا محض لمبا ہونا عوامی سطح پر کامیابی کی ضمانت نہیں گو کہ چند سکہ بند صحافی مولانا کا سیاست میں متعلق ہونا، شکست خوردگی کی ہزیمت سے نکلنا اور حصہ بقدر جثہ حاصل کرنا ہی کامیابی سمجھتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر قیامتی صاحب تو کہہ رہے تھے کہ مولانا اسلام آباد نہ بھی پہنچے تو استعفا دینا پڑے گا حالانکہ مولانا کے دھرنے

Read more

جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کیوں ہو گی؟

آپ کو یاد ہو گا کچھ ہفتے پہلے خان صاحب نے کے پی کے میں تقریر کرتے ہوئے بڑے اضطراب سے کہا تھا کہ ابھی ان کی حکومت کو بنے دس ماہ ہوئے ہیں پھر گرانے کی باتیں کیوں ہو رہی ہیں۔ میڈیا نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ شاید اپوزیشن کی طرف اشارہ ہے حالانکہ خان صاحب اپوزیشن کی بیان بازی کے ساتھ تو وہ سلوک کرتے ہیں جو بد زبان اور لڑاکا عورت غریب محلے داروں کے ساتھ کرتی ہے۔ خان صاحب کا ملتجیانہ انداز عوام یا اپوزیشن کے لئے نہیں ہوتا بلکہ بڑے صاحب کی طرف ہوتا ہے۔

Read more

نیب چئیرمین کب جائیں گے؟

میرے ایک استاد ہیں اظہر صاحب جو ہمیں انگریزی ادب ( ناول ) پڑھایا کرتے تھے۔ بہت ہی خوش مزاج اور بذلہ سنج آدمی ہیں۔ ایک دن بلی کی جنسی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمانے لگے کہ انہوں نے بلے اور بلی کو اتفاق سے دس گیارہ بار جنسی سرگرمی میں ملوث دیکھا ہے اس لئے ان کے کہے پر یقین کیا جائے۔ میں نے ترنت جواب دیا، ”حضور دس گیارہ بار اتفاق سے نہیں گھات لگا کر دیکھا ہو گا“۔

آپ میری بیمار ذہنیت سے اگر جذبز نہ ہوں تو بتاؤں کہ میں اتفاق سے دس گیارہ بار چیئرمین نیب کی اس خاتون سے گفتگو سن چکا ہوں جو ان کے لئے رسوائی کا باعث بنیں۔ میری دلچسپی ”ابرو و مہتاب“ سے زیادہ چیئرمین صاحب کی ”نازیبا“ گفتگو کی طرف تھی جسے نازیبا کہنا اس لئے غلط ہے کہ خاتون اسے نازیبا نہیں سمجھ رہی تھیں کیونکہ باہمی رضامندی سے ایسی گفتگو ایک معمول تھا۔ وڈیو بنانے کے پس پردہ محرک شاید چیئرمین صاحب کا دوسرے گلدستوں کی طرف نظر التفات تھا بہرحال خاتون کی بنائی ہوئی وڈیو کچھ دن پہلے کی گئی تقریر کا مزا ہی خراب کر دیا۔ ابھی تو چیئرمین صاحب نے پر پرزے نکالنے تھے اور قوم کی مسیحائی کا بیڑا اٹھانا تھا کہ پٹھو گول گرم ہو گیا ( اسے پنجاب میں کھیلے جانے والے ایک کھیل کا حوالہ ہی سمجھا جائے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں ) ۔

Read more

افطار پارٹی عوام کے ساتھ مذاق تھا !

سعادت حسن منٹو تو عصمت چغتائی کو بہت بولڈ موضوعات پر دبنگ ہو کر لکھنے کی وجہ سے بڑی "پاٹے خان” ٹائپ خاتون سمجھتا تھا لیکن ایک دن جب افسانہ "لحاف” کی آخری لائن پر بات کرنے کی کوشش کی تو عصمت شرما گئیں اور منٹو نے یکلخت کہا، ” یہ بھی سالی عورت نکلی”۔اتوار کے افطار ڈنر پر یہی کہنا پڑے گا کہ، "یہ بھی سالی (تمام سالیوں سے معذرت کے ساتھ) ایک پارٹی نکلی”۔ کھایا پیا کچھ نہیں

Read more

لوگ سڑکوں پر کیوں نہیں آئیں گے؟

فیصل واڈا نے جب یہ کہا کہ لوگ پٹرول دو سو روپے لیٹر بھی خریدیں گے تو وہ شاید یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ عمران خان کی محبت میں لوگ اتنا مہنگا پٹرول بھی خریدیں گے اور اف تک بھی نہیں کریں گے لیکن وہ نادانستہ طور پر قوم کو ایک بہت بڑا طعنہ دے گئے کہ لوگ مہنگائی کے جوتے کھاتے رہیں گے، روتے رہیں گے، کوسنے دیتے رہیں گے، رشوت اور چور بازاری بڑھا دیں گے، ایک

Read more

خاموشی کا اضطراب : داسو سے چلاس تک

مجھے لگتا ہے اس بار کے کے ایچ ( شاہراہ قراقرم) سے گلگت بلتستان جانا پڑے گا یعنی بشام سے ہوتے ہوئے داسو، چلاس، جگلوٹ اور استور۔ داسو سے چلاس تک بہت صبر آزما سفر ہوتا ہے گوکہ ہم ( میں اور بیوی بچے ) عموماً بابو سر سے ہی جاتے ہیں لیکن اس بار لگتا ہے بابو سر پاس کھلا نہیں ہو گا۔ ویسے تو داسو سے چلاس تک ایسے ایسے مناظر ہیں کہ آپ کبھی حسن سے خیرہ ہوتے ہیں اور کبھی مرعوب، کبھی جذب و مستی کی کیفیت ہوتی ہے تو کبھی رشک و فخر کی۔ آپ ہیں، ہمالیہ کے چٹیل پہاڑ اور ان سنگلاخ پہاڑوں سے بہتے ہزاروں جھرنے۔

میرے لئے اس سفر میں دو چیزیں بہت پر کشش ہیں : دریائے سندھ کا کردار اور خاموشی کا اظہار۔ خاموشی ایک کردار ہی بن جاتی ہے جو ہمزاد کی طرح آپ کے ہمرکاب ہے۔ میں نے گلگت بلتستان کے سفر میں خاموشی کو ہر رنگ، ہر مزاج اور ہر کیفیت میں محسوس کیا ہے۔ دریائے سندھ کا شور اور ہمالیہ کے پہاڑوں میں چیختی خاموشی۔ داسو سے سمر نالے تک خاموشی ایسے سناٹے کا سایہ ہے جو سراسیمگی طاری کر دیتا ہے۔

Read more

"جیو” کہتا ہے، جیو یا مرو ہمیں کیا ؟

میں یہ سب اپنی اخلاقی برآت کے لئے لکھنا چاہتا ہوں تاکہ کل اس ادارے پر تنقید کرنی پڑے تو کوئی یہ نہ کہے کہ دیکھا جب تک وہاں تھے، ان کا دم بھرتے تھے اور آج انہی کو کوسنے دے رہے ہیں جنہوں نے پندرہ برس (میں نے جیو نیوز دو ہزار چار میں جوائن کیا تھا) سیکھنے کا موقع دیا۔ جیو نیوز پروگرامنگ کے بارے میں اچھی باتیں تو بہت لکھ چکا ہوں لہذا آج جی بھر کے

Read more

کارل مارکس اور بیماری کی تشخیص

جنوبی پنجاب کے متوسط درجے کا ایک گھر جہاں تازہ قلعی کی خوشبو ایک بوڑھی عورت کے غمزدہ نقوش، دانائی سے بھری آ نکھوں والے ایک دانشور کی تصویر اور لوہے کی تپائی پر پڑا خط کمرے کی بے سکون خاموشی میں مسلسل اضطراب پیدا کر رہے ہیں۔ اس بوڑھی عورت کے بیٹے کے لیے جہاں دیکھو مار دو کا حکم جاری ہوا ہے کیونکہ اس کا بیٹا غدار تھا۔ جب ساری دنیا ہمیں افغان باقی کہسار باقی کے نعرے

Read more

علی ظفر نہیں، دیوی روئی ہے !

کچھ دیر پہلے علی ظفر جیو نیوز کے ایک شو، نیا پاکستان، میں رو پڑے اور گڑگڑا کے میشا شفیع کے حضور یہ استدعا کی اب وہ بس کر دے اور اس جھگڑے کو ختم کر دے اور ظاہر ہے علی ظفر ایک معتبر شخصیت ہے جیسا کہ شیکسپیئر کے ڈرامہ جولیس سیزر میں بروٹس تھا۔ جولیس سیزر میں سیزر کی لاش سامنے رکھ کر انتھونی بظاہر بروٹس کی تعریف کرتا ہے لیکن دراصل اس کو معتبر کہہ کہہ کر

Read more

عمران اور میانداد دونوں درست ہیں

میانداد عمران خان کے خلاف کریز پر آ گئے کیونکہ وہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کے اور عمران شہروں کی کرکٹ کے حامی ہیں۔ جہانگیر خان جو اسکواش کے بے تاج بادشاہ اور اصلاح الدین جو ہاکی کے عظیم ترین کھلاڑی ہیں ڈیپارٹمنٹل سپورٹس کی طرف داری کر رہے ہیں۔ ابھی بہت سے اور بھی سامنے آ ئیں گے جو گھسی پٹی لکیر پیٹیں گے اور جواز ہو گا۔ نوکریاں۔ اصولی طور پر تو یہ بات درست ہے کہ کرکٹ، ہاکی یا کسی بھی سپورٹس کے کھلاڑی کو جب مختلف ڈیپارٹمنٹ، ملٹی نیشنل، بزنس گروپس اپنی ٹیموں میں جگہ دیں گے تو وہ ساری زندگی پیسے پیسے کا محتاج ہو کر کھیل کو نہیں پالے گا بلکہ عام کرئیر بنانے والوں کی طرح اپنا کرئیر بنائے گا۔

Read more

عمران خان ایک خطرناک بیماری کا شکار ہیں !

عمران خان پر طرح طرح کے گھناؤنے الزام لگائے گئے۔ عمران خان ایک خطرناک بیماری کا شکار ہیں، وہ کبھی شادی نہیں کریں گے۔ (سرفراز نواز ) عمران خان میرے بیڈ روم میں لڑکیاں لے کر آتا تھا۔ (انبساط یوسف ) عمران خان نے مجھے بتایا کہ ایک بار اس نے ہیجڑے کے ساتھ ہم بستری کی کیونکہ جب تک پتہ چلا کہ وہ ہیجڑا ہے، بہت دیر ہو چکی تھی۔ (ریحام خان) عمران خان چرس بیچتا ہے۔ (یونس احمد

Read more

بائیں بازو کے خواب

میں اپنی زندگی میں پہلی بار جس بڑے آدمی سے ملا وہ عابد حسن منٹو ہیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں کا خانیوال میں ایک اکٹھ تھا اور سب لوگ ہمارے گھر چائے پینے آئے تھے۔ ، تارا یونین والے مرزا ابراہیم صاحب، حبیب جالب صاحب، جناب نعیم شاکر، سیف الملوک صاحب اور سی آر اسلم صاحب بھی تھے۔ منٹو صاحب کی آنکھوں سے ٹپکتی ذہانت، متانت اور باوقار انداز گفتگو نے مجھے بہت متاثر کیا اور یقین کیجیے مجھے پہلی بار اپنے سوشلسٹ ہونے پر فخر محسوس ہوا ورنہ سوشلسٹ ہونا تو گویا ایک کلنک تھا یعنی سکول ہو یا کرکٹ گراؤنڈ، ٹیوشن سنٹرز ہوں یا نئے دوستوں کی آزمائش ہر طرف ہم سے پہلے ہمارے افسانے گئے اور یہ سارے افسانے رسوائی کے تھے۔”تم لوگ جب مر جاتے ہو تو جنازہ ہوتا ہے؟ “، ”سب روزے رکھتے ہیں تو تم کیا کرتے ہو؟ “، ”جب دل دکھتا ہے تو کسے پکارتے ہو؟ “، ”اسلامیات کیسے پڑھ لیتے ہو“، ”انقلاب نے خود ہی آنا ہے تو تم اپنی عاقبت خراب کیوں کرتے ہو؟ “، ”شادیاں کرتے ہو یا ویسے ہی کام چلا لیتے ہو“، ”مذہب کے خانہ میں کیا لکھتے ہو؟ “، ”اپنے مردوں کو دفناتے ہو یا کچھ اور کرتے ہو“، ”نام مسلمانوں والا کیوں رکھا ہوا ہے؟ “، ”روس سے اتنی محبت ہے تو وہاں دفع کیوں نہیں ہو جاتے؟ “۔

Read more

کیا صرف مودی ننگا ہوا ہے ؟

جب سے جنگی جنون کی کالک برسنا شروع ہوئی ہے بہت سے ذی شعور جنگ کہ تباہی کاریوں سے متنبہ بھی کر رہے ہیں۔ ایسے میں خیالات میں ایک محشر برپا ہے اور نبض ہستی کچھ اس انداز سے چل رہی ہے گویا شب کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو۔ ولادی میر لینن بہت بڑا آدمی تھا اور صرف ایک بات پر کرینسکی کی قلابازی لگوا دی کہ وہ جرمنی کے ساتھ جنگ جاری نہیں رکھے گا جبکہ کرینسکی جنگ جاری رکھنا چاہتا تھا اور روسی عوام جنگ سے تنگ آئے ہوئے تھے۔لینن نے کیا اچھی بات کہی تھی کہ جنگیں بہت خوفناک ہوتی ہیں لیکن خوفناک حد تک منافع بخش بھی۔ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ بھارت میں اٹھتر فی صد لوگ جنگ چاہتے ہیں اور بائیس فیصد بالکل جنگ نہیں چاہتے اور وہ بائیس فی صد بھارت کی افواج ہیں گوکہ ان کا نیول چیف کہتا ہے کہ ہر لحاظ سے تیار ہے لیکن مجھے یقین ہے ان کی فضائیہ کے چیف نے بھی نندن کو بھیجنے سے پہلے یہی کہا ہو گا۔ ہم دونوں اتنے سیانے ضرور ہیں کہ جنگ نہیں کریں گے لیکن صرف جنگی جنون پیدا کر کے اور جنگ کی فضا بنا کر بھی بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

Read more

ن م راشد کی کہانیاں اور تمثیلیں

ہمارے ہاں ن م راشد نظم کے سب سے بڑے شاعر ہیں لیکن فخر الحق نوری اور ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے سوا کسی نے راشد صاحب پر خاطر خواہ کام نہیں کیا۔ میں کوئی نقاد تو نہیں لیکن ادب کا ادنیٰ سا طالب علم ہوں اور میں راشد صاحب کے تصور آدم نو وغیرہ پر بھی بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ایسی تنقید خالص ادب کے طلباء کے لئے ہوتی ہے۔ راشد صاحب کی فکری جہات اور کرافٹ کا لطف اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی شاعری کو گایا جائے، سنا جائے، محسوس کیا جائے اور اگر ہمت ہو تو پڑھا بھی جائے۔

اگر انہیں پڑھ کر جمالیاتی حظ اٹھانا آسان ہوتا یا ان کے نظام فکر کو گرفت میں لینا سہل ہوتا یا انہیں فیس بک پر درج کر کے اپنی جمالیاتی و شعوری بالیدگی کا ثبوت پیش کرنا آسان ہوتا تو فیض اور ناصر کی طرح دھڑا دھڑ نظموں کے ٹکڑے چسپاں ہو رہے ہوتے۔ انقلاب کے نعرے، محبت کی بازی، حسن کے قصیدے، ہجر و وصال کے گیت راشد کے ہاں روایتی انداز سے موجود نہیں اور نہ ہی ان کی شاعری کوئی سستا نشہ ہے کہ ہر للو بھٹیار چار مصرعے یاد کر کے اپنے تئیں ابوالکلام بن جائے گا۔

Read more

ویلنٹائنز ڈے پر کھونٹوں کی تلاش !

ویلنٹائنز ڈے آ رہا ہے اور جیسے فیض صاحب کہتے تھے، ” دل عشاق کی خبر لینا / پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں” محبت کے مارے اظہار کے مختلف حربے اپنائیں گے۔ حربے اس لئے کہا کہ فقیہہ شہر مے کی اجازت کیا دے گا کہ چاندنی کو بھی حضرت حرام کہتے ہیں۔ ادھر روایتوں کے ماروں نے ویلنٹائنز ڈے کو ہر شکست خوردہ ذہن کی طرح سسٹر ڈے کا اعلان کر دیا۔ بہن کہنے یا نہ کہنے یا

Read more

گاؤدی اینکروں کے تو وارے نیارے ہیں!

خبرناک اپنی مقبولیت کی بلند ترین سطح پر ہے اور مجھ سمیت اس سے وابستہ ان لوگوں کی تنخواہوں میں کٹوتی ہو گئی ہے جو ایک خاص حد سے زیادہ تنخواہ لے رہے تھے۔ جو لوگ یہاں سے گئے وہ تنخواہوں کے دیر سے آنے کے باوجود جانا نہیں چاہتے تھے اور اس کی وجہ جیو ٹی وی کا ماحول ہے جہاں کام کرنے کی بہت آزادی ہے اور آپ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا جیسا چاہے استعمال کر سکتے ہیں۔

Read more

شمیم بھائی نے عمران خان کو کیا وارننگ دی؟

کوئی بھی بلاگ شروع کرنے سے پہلے سوچتا ہوں کہ اپنی یادوں کو کسی بڑے آدمی سے جوڑ دوں تا کہ چھاپنے والے پر یہ بوجھ نہ بنے کہ مجھ جیسے عام آدمی کی کہانیوں میں کوئی کیوں دلچسپی لے گا لیکن مجھے بڑے لوگ نظر ہی عام اور غیر معروف لوگوں میں آتے ہیں۔ اب تک زندگی کا سب سے بڑا اور سب سے خوبصورت حصہ ریلوے کی برٹ کالونی لاہور میں گزارا۔ یہاں کرکٹر محمد یوسف جو اس وقت یوسف یوحنا تھے بھولے شری کانت کے ہاتھوں پٹے کیونکہ ایک لاگت بازی کے میچ میں رن آؤٹ ہو گئے تھے جسے بھولا جی نے جان بوجھ کر رن آؤٹ ہونے پر محمول کیا لیکن بات صرف رن آؤٹ ہونے کی نہیں تھی۔

Read more

جب بابا حیدر زمان کا اکسایا ہوا ہجوم ہمیں مارنے پر تل گیا

بظاہر ٹی وی پروڈکشن ایک بے ضرر، دلچسپ اور آسان سا کام ہے لیکن بعض اوقات اس میں موت کو قریب سے دیکھنا پڑتا ہے۔ آپ پرسکون اور معمول کے مطابق گزرتی زندگی کو چھوڑ کر ایک دم آگ میں چھلانگ لگاتے ہیں اور جسمانی طور پر بچ بھی جائیں تو نفسیاتی طور پر ایک شدید اضطراب سے گزرتے ہیں۔ پچھلے دنوں جب میں اوورکوٹ پہن کر ریکارڈنگ میں بیٹھا ہوا تھا تو میرے ڈی او پی نوید حیات نے کہا کہ آپ وہ نہیں رہے جو آج سے پانچ سات سال پہلے تھے۔ اس ایک فقرے نے گویا یادوں کے دریچے کھول دیے۔

صوبہ ہزارہ کی تحریک زوروں پر تھی اور لوگ سڑکوں پر اپنا صوبہ مانگ رہے تھے جبکہ زرداری اور نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کرنے کے بدلے سرحد کو خیبر پختونخوا نام دے رہے تھے یعنی کھلم کھلا دھاندلی ہو رہی تھی ہزارہ والوں خلاف۔ بابا حیدر زمان جو ہمیشہ نواز شریف کے خلاف الیکشن ہارتا تھا ہزارہ والوں کا ہیرو بنا ہوا تھا۔ عبدالرؤف صاحب ( ہمارے استاد، باس اور پچاس منٹ کے اینکر) نے کہا کہ ہزارہ جا کر پروگرام کرتے ہیں۔

Read more

عورت، آئیڈیل اور بھیڈو

ہماری کالونی میں ایک نعیم بھیڈو صاحب رہا کرتے تھے۔ ذرا قد کاٹھ نکالا تو سوچا کسی پر عاشق ہوا جائے۔ ساتھ والے بنگلے میں ایک دوشیزہ رہتی تھیں جن کا نخرہ آسمان پر تھا اور ہونا بھی چاہیے تھا کیونکہ کسی نے انہیں بہت خوبصورت اور سنگدل ہونے کا احساس دلایا ہوا تھا۔ نعیم بھیڈو صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ انہیں پروپوز کر دیا۔ خاتون سنگدل ہونے کے ساتھ ساتھ سمجھدار بھی تھیں۔ انہوں نے سوچا اگر فتراک میں ایک اور نخچیر کا اضافہ ہو جائے تو کیا برا ہے۔ جو سب سے اچھا ”پیس“ ہو گا ان کے لیے حلف وفاداری اٹھا لیں گی۔ بس جھٹ سے کہہ دیا، ”نعیم تم سی ایس ایس کر لو پھر میں تمہاری ہو سکتی ہوں“۔

بھیڈو صاحب جو کہ انڈر میٹرک تھے اور کتاب پڑھتے ان کی آنکھوں میں پانی آجاتا کہا کرتے، ”اللہ ایک بار جیون ملا اور وہ بھی آنکھیں کالی کرنے میں ضائع ہو جائے گا۔ وہ کیسے خوش قسمت ہیں جو منہ کالا کر لیتے ہیں لیکن وقت ضائع نہیں کرتے“ بھاگم بھاگ ہمارے پاس آئے۔ انہیں بتایا گیا کہ بھائی بہت سی چیزیں ازبر کرنی پڑتی ہیں، وقت دینا پڑتا ہے۔ ڈنگر کر ساتھ ڈنگر ہونا پڑتا ہے۔ ہمارے ایک دوست کا خیال تھا کہ ڈنگروں کا امتحان ہی ایسے ہوسکتا ہے۔ سوچنے سمجھنے والوں کا نہیں۔ خیر نعیم بھیڈو چلا گیا۔
خاتون نے جب اسے چپ دیکھا تو ایک دن بلا کر پوچھا، ”تمہارا جذبہ کیا ہوا؟ “۔ بھیڈو بولا اگر سول سرونٹ بن گیا تو تم ہی رہ گئی ہو شادی کرنے کے لیے۔ بھیڈو صاحب چاہتے تھے کہ ان میں چھپا گوہر شادی سے پہلا تلاش کیا جائے اور ایسے ہی گوہر تلاش کرنے کے مواقع انہیں دیے جائیں تاکہ ایک دوسرے کو سمجھنے میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔ چاہے گوہر مٹی ہو جائے۔

Read more

میرا ایمان خراب نہ کر یار !

نظریہ کیسا اچھا لفظ ہے لیکن سنتے ہی دماغ میں غلاظت کا ڈھیر امڈ آتا ہے۔ نظریہ کا مطلب تو ظاہر ہے زندگی سے متعلق ایک خاص زاویہ نظر ہوتا ہے لیکن ہمارے سکول میں شکور محمد عاصی صاحب ( اللہ انہیں جنت اور غلمان نصیب کرے ) چھوٹے بچوں کے ساتھ بد فعلی کے لیے مشہور تھے۔ ہو سکتا ہے آج کل کچھ دانشور حضرات اس سرگرمی کو بد فعلی کہنے پر اعتراض کریں اور اپنا بھونڈا سا لبرل ازم گھسیڑیں لیکن بہر حال عاصی صاحب اردو اور مطالعہ پاکستان پڑھاتے تھے لہذا یہ امیج کسی طرح لفظ نظریہ کے ساتھ جڑ گیا۔

اسی طرح لفظ ایمان اپنے معانی کے بر خلاف ہمارے دوست باجوہ صاحب کا تنا ہوا چہرہ، ابلتی آنکھیں اور چوڑے چوڑے دانت سامنے لے آتا ہے۔ میں حسن کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا چاہے وہ کوئی تصویر ہو یا مجسمہ، تحریر ہو یا ”مصورہ“ اور عموماً میں ہی غافل دوستوں کو سڑک پر چلتے، کلاس میں آتے، بس سے اترتے، سیڑھیاں چڑھتے حسن کی طرف توجہ دلاتا۔ سب لوگ بڑے خضوع و خشوع سے متوجہ ہوتے سوائے باجوہ صاحب کے جو مجھے تقریباً پیٹنے والے ہوتے بل کہ ایک دو بار تو مجھے ان سے ٹھڈا پڑا بھی۔ ایسا نہیں تھا کہ باجوہ صاحب حسن پرست نہیں تھے لیکن انہیں اپنا ایمان خراب ہونے کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔ وہ یہی کہتے رہتے کہ، ”اوئے میرا ایمان خراب نہ کرو، ایمان خراب نہ کرو“۔ بس کسی ناہنجار نے کہہ دیا، ”باجوہ صاحب! آپ نے ایمان پتلون میں رکھا ہوا ہے؟ “

Read more

!سرائیکی صوبہ نہیں بن سکتا، مینا کہیں زیادہ مقبول ہے

میں ایک ڈاکیومنٹری بنانے کے سلسلے میں ایک بار ڈی جی خان گیا اور وہاں کے ایک درمیانے درجے کے زمیندار میاں صاحب کا مہان بنا۔ میاں صاحب سرائیکی اور اردو ادب سے بہت شغف رکھتے تھے اور ہر بات کو زبردستی فلسفہ کا رنگ دینے کی کوشش کرتے گو کہ انہیں فلسفہ کی ذرا شد بد نہیں تھے۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ہی ہوتا ہے جو جتنی احمقانہ بات کرے اسے اتنا ہی بڑا فلسفی کہہ کر یہ اقرار کر لیا جاتا ہے ہم اس کی یاوہ گوئی کے سامنے ہتھیار پھینک رہے ہیں۔

دوسری بات بزرگوار میں یہ تھی کہ اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق کے باوجود غریب معتقدوں کو غیر شعوری طور پر یہ احساس دلاتے رہتے تھے کہ وہ سب پنجابی استعمار کے غلام ہیں اور ان کے دکھ اسی استعمار کی وجہ سے ہیں مثلاً کسی نے محفل سے اٹھنے کی کوشش کی تو میاں صاحب بولے، ”کدھاں ویندے ہے جے؟ “ اور وہ صاحب بولے، ”چھوٹی دھی بھکی ہو سی۔ گھر کے شے کو نا۔ ویندا پیاں“ اور میاں صاحب نے ایک دلدوز چیخ نما انداز میں کہا ”ہائے اساں قیدی تخت لہور دے“ اور سب کے دل شدت غم سے ڈوبنے لگے ۔

Read more

ڈاکٹر سلیم اختر اور نشان جگر سوختہ

ڈاکٹر سلیم اختر چل بسے۔ خاموش طبع لیکن ملنسار آدمی تھے۔ برسوں پہلے جب ان کی والدہ کا انتقال ہوا تو میں اور ڈاکٹر عثمانی صاحب ان سے اظہار افسوس کے لیے گئے۔ کہنے لگے چلے تو سب نے جانا ہے لیکن مجھے افسوس بس ایک ہے کہ اب مجھے ”سلیم“ کہہ کر بلانے والا کوئی نہیں رہا۔

میں نے کہا ڈاکٹر صاحب آپ کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ آپ ادیب بڑے ہیں، نقاد یا نفسیات دان۔ کہنے لگے کہ انہیں کرداروں کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے والے محرکات میں شروع ہی سے دلچسپی تھی بس اسی کی کھوج میں شعور اور لاشعور کی گہرائیاں ماپنے لگے۔ ان کی ایک کتاب ہے شعور اور لاشعور کا شاعر۔ غالب۔ ڈاکٹر صاحب نے غالب کا مطالعہ ڈیفنس میکانزم تکنیک پر کیا ہے اور انہوں نے سمجھایا کہ کسی بھی اہم موقع پر انسان لاشعوری طور پر زندگی کے سامنے سات مختلف طریقوں سے رد عمل دکھاتا ہے جن میں نرگسیت بھی ایک ہے اور پھر وہ غالب کے اس شعر کو نرگسیت کی سب سے بڑی مثال کہتے ہیں، ”چپک رہا ہے بدن پہ لہو سے پیراہن / ہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے“۔

Read more

عورت کے خلاف لبرلز کی سازش کا جواب الجواب

ایک موضوع پر بار بار بات کرنا بہت بورنگ ہوتا ہے لیکن ڈاکٹر عاکف خان صاحب نے میرے بلاگ "عورت کے خلاف لبرلز کی سازش ” پر بے رحمانہ تنقید کر دی گو کہ دوسری کئی جگہوں پر تو برا بھلا بھی کہا۔ ایک تو میں ان کا شکر گذار ہوں کہ تحریر کے ہی بخیے ادھیڑے میری تحلیل نفسی شروع نہیں کر دی کیونکہ اج کل یہ مرض بھی بہت عام ہے کہ لکھنے والے کا دروازہ توڑ کر

Read more

عورت کے خلاف لبرلز کی سازش

جب تک عورت کے استحصال، جنسی گھٹن اور جذباتی توڑ پھوڑ کے خلاف آواز نہ اٹھائی جائے آپ لبرل نہیں کہلا سکتے اور ہمارے ہاں اب دو ہی طبقات رہ گئے ہیں جو ہر معاملہ میں واضح طور پر غیر حقیقت پسندانہ اور طے شدہ خیالات رکھتے ہیں اور ہر واقعہ کو اپنے سطحی سے نظریات کی چکی میں پیسنا شروع کر دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک جنگ چھڑ جاتی ہے اور چند دن ایک طوفان بدتمیزی بپا رہتا

Read more

خبرناک کو برا کہتے ہو اچھا نہیں کرتے

کامیڈی شوز میں بازاری مزاح سے متعلق ملک عمید صاحب ( میں انہیں ذاتی حیثیت میں نہیں جانتا ) کا مضمون پڑھا اور یقین کیجیے بہت مایوسی ہوئی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تمام کامیڈی شوز کا اپنا منفرد رنگ ہے اور موٹے، کالے، بھدے پر پھبتیاں کسنے سے بات بہت آگے نکل گئی ہے۔ کم از کم خبرناک کی حد تک تو میں بہت ذمہ داری سے کہہ سکتا ہوں۔ دوسری بات یہ کی اگر رانا ثنا اللہ شیخ رشید کو راولپنڈی کا ناسور اورفواد کو جہلم کو ڈبو کہے یا خواجہ آصف شیریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کہے یا آصف زرداری شیری رحمان کو باندری ( نجی محفلوں میں ) اور شیخ رشید کسی خاتون کو ٹیکسی اور ساتھی سیاستدان کو بلو رانی کہتے گا تو آپ خود فرمائیے سیاسی طنز و مزاح کے شوز میں کامیڈین ان کا کردار ادا کرتے ہوئے شمس الرحمن فاروقی والی زبان استعمال کرے؟ کیسا بھونڈا اور پھکڑ پن ہو گا۔

Read more

گٹھو گنٹھولیا کو غصہ کیوں آ تا ہے !

گٹھو گنٹھولیا کو نہ بیٹنگ کرنی آ تی تھی اور نہ باؤلنگ لیکن ٹیڑھی گردن والے ملک صاحب کی چاپلوسی خوب کرتے تھے اور کارسن کرکٹ گراؤنڈ پر زور چلتا تھا ٹیڑھی گردن ملک صاحب کا، لہذا گٹھو گنٹھولیا بلا شرکت غیرے مطلق العنان، تاحیات کپتان تھا اور ہم سب کو عین الیقین تھا کہ جب تک زندہ رہیں گے گٹھو گنٹھولیا کے عتاب سے دور نہیں جا سکتے۔ گٹھوگنٹھولیا اپنی کپتانی کا رعب اور اتھارٹی قائم رکھنے کے لیے

Read more

احمد جاوید روشنی کا ایک مینار ہیں

احمد جاوید صاحب کی شخصیت اور علمی قامت سے بہت کم لوگ واقف ہیں کیونکہ عام طور پر لوگ سادہ زبان میں اخلاقی درس سننے یا مخصوص نظریاتی تناظر میں دوسروں کا ٹھٹھہ اڑا کر اپنی ذہنی پستی سے نکلنے کی تدبیر کر رہے ہوتے ہیں۔ احمد جاوید شاعر ہیں، فلسفہ کے استاد ہیں ( بہت لوگ ان سے کسب فیض کرتے ہیں ) اور بہت ہی عمدہ اخلاق کے مالک ہیں۔ علم، عمل، فکر، نظریہ اور جمالیات ان کے ہاں گندھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان آج تک اشیا کو نام دیتا آ یا ہے لیکن اس سماج ( سرمایہ دارانہ) نے انسان سے یہ اہلیت بھی چھین لی۔

عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی چالاکی یہ ہے کہ اس نے استحصال پر مبنی معاشی نظام کو پرکشش بنا دیا اور یوں کہ انسان اپنے دکھوں کا مداوا اسی نظام میں ڈھونڈ رہا ہے۔ فرماتے ہیں کارل مارکس نے انسانی معاشرے میں بیماری کی تشخیص کر دی اور تضادات سے ماورا ایسی تہذیب کا خاکہ کھینچا ہے جہاں انسان، خدا اور دوسرے انسانوں سے غرض کے بغیر تعلق استوار کرے گا، جہاں انسان اشیا سے بڑا ہو گا۔ احمد جاوید کے ہاں تہذیب کا جو تصور ہے وہ اعلیٰ انسانی اقدار پر قائم ایسے معاشرہ ہے جہاں انسان جسمانی لذتوں کی رغبت کا پیچھا کرتے ہوئے مر جانے کی بجائے اپنی ذہنی صلاحیتوں اور اعلیٰ انسانی وصف کو بروئے کار لاتے ہوئے کا نات کے اسرار و رموز دریافت کرے۔

Read more

بڑا آدمی کبھی نہیں گرتا، چھوٹے کوشش کرتے رہتے ہیں

میں بنیادی طور پر ایک گوشہ نشین آدمی ہوں اور سماجی اعتبار سے بہت متحرک نہیں ہوں لیکن میڈیا کی ملازمت نے بہت مہم جوئی کا موقع فراہم کیا۔ کبھی ایبٹ آباد میں جان کے لالے پڑے تو کبھی بہاولپور میں کیمرے پر تالے۔ کبھی پراسرار کلینک کے باہر ہم پر اینٹیں چلیں تو کبھی کنڈے ڈالنے والوں کو بے نقاب کرنے پر لاتیں اور گھونسے۔ کبھی سوات میں طالبان نے ڈرایا تو کبھی گجرانوالہ میں پہلوان نے لیکن اس

Read more

ولید اقبال کتنے ووٹوں سے ہارتے؟

ضمنی انتخابات کے غیر سرکاری، غیر حتمی اور غیر ضروری نتائج کے مطابق تحریک انصاف اپنی جیتی ہوئی سیٹیں ہار گئی ہے۔ نتیجہ کو غیر ضروری اس لیے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے پچاسی فیصد ووٹ کاسٹ کیے اور الیکشن کمیشن نے آ خری خبریں آ نے تک یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ ووٹ گنتی میں شامل کرنے ہیں یا نہیں۔ ضرور شامل کیجیے جناب! پاکستانی بھی انٹرنیٹ پر کوئی ڈھنگ کا کام کر لیں ورنہ پورن فلمیں دیکھنے

Read more

خبرناک: وہ ساتھی جو لالہ و گل میں پنہاں ہو گئے

میں ستمبر 2011 سے پروگرام خبرناک پروڈیوس کر رہا ہوں اور ان سات برسوں میں پروگرام نے بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے، پذیرائی دیکھی، تنقید بھی سنی، انوکھے تجربات بھی ہوئے، بہت لوگ آئے گئے، کئی مواقع پر سوچا گیا کہ اب پروگرام بچنے والا نہیں کیونکہ فلاں چلا گیا فلاں چلا گیا وغیرہ وغیرہ۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ٹی وی میں بندے نہیں کرافٹ بڑا ہوتا ہے اور ہر کرافٹ میں وقت کے ساتھ پیشکش، مواد اور

Read more

خان صاحب سب کچھ چھوڑ گئے ہیں !

آج کل میں یاد ماضی کے عارضے میں بری طرح مبتلا ہوں اور سیاست میں چنداں دلچسپی نہیں اور اس کی بڑی وجہ بوریت ہے۔ شہباز شریف پکڑا گیا،  اس سے پہلے نواز شریف پکڑا گیا تھا،  ان سے بھی پہلے فواد حسن فواد اور احد چیمہ بھی۔ امید ہے خواجہ سعد رفیق بھی دھر لیے جائیں گے۔ یہیں سے اٹھے گا شور محشر، یہیں پہ روز حساب ہو گا تاثر یہی دیا جا رہا ہے کہ تبدیلی کے انقلاب

Read more

برٹ کالونی، نذیر جونیئر، ویوین رچرڑز اور عمران خان ۔۔۔

ریلوے انجن کی سیٹی نے خیالات کا سلسلہ منتشر کردیا اور پلک جھپکتے پلیٹ فارم نمبر ون (جہاں سے سمجھوتہ ایکسپریس بھارت جاتی ہے) کے عقب میں بیس برس قبل برٹ کالونی میں پھینک دیا جہاں یادوں کی ایک دلدل ہے، یاروں کی بہاریں ہیں، بڑے بڑے گھروں میں راتیں جاگتی تھیں، موسیقی بجتی تھی، جلترنگ بجتے تھے، رفاقتوں اور رقابتوں کا پہلو در پہلو سلسلہ تھا۔ رومانس تھا، خواب تھے، کیف و مستی تھی، شرارت و شگفتگی تھی۔ میں

Read more

خان صاحب کے رنگ برنگے یاروں کی بہاریں

ہمارا خیال تھا کہ خان صاحب کے دوست بس وہی ہیں جنہیں ان کی سابق بیوی ریحام خان ناپسند کرتی تھیں۔ ویسے جگری دوست ہوتے وہی ہیں جن سے بیویاں چڑتی ہیں باقی تو بس آتے جاتے موسم ہوتے ہیں۔ گو کہ خان صاحب کے دوست ان پر جان چھڑکتے تھے اور ایک نے تو واقعی چھڑک دی تھی لیکن شکر ہے اپنے گھر لاہور واپس جا کر چھڑکی ورنہ ایک نیا عذاب کھڑا ہو جاتا۔ علامہ اقبال کے نواسے

Read more

اگلے جنم موہے بٹیا ہی کیجو !

میری ماں 4 جنوری 2018 کو اس جہاں سے کوچ کر گئیں۔ ان کی عمر پچھتر برس تھی اور شاید میں نے اپنی پوری زندگی میں انہیں ایک دن بھی بیمار نہیں دیکھا۔ وہ ایک خاموش طبع اور درد مند دل رکھنے والی خاتون تھیں ۔ آخری دن تک وہ اپنے باپ کو یاد کرتی رہیں جو اڑتیس برس پہلے انتقال کر گئے تھے۔ بعض اوقات اچھی خاصی محفلوں میں ان کے آ نسو چھلک جاتے اور ہم سمجھ جاتے

Read more

قصہ بشریٰ بی بی کی تضحیک کا !

آج کل سوشل میڈیا پر خبرناک کے ایک پروگرام سے متعلق بحث چھڑی ہوئی ہے جس میں غلاظت کے پیکر فیس بکی فاشسٹ ہمیشہ کی طرح سوچے سمجھے بغیر تنقید بھی کر رہے ہیں اور اپنے ذہنی لنگڑے پن کا کماحقہ اظہار بھی لیکن جہاں یہ سب ہو رہا ہے وہاں انہیں گروپس اور صفحات پر میڈیا کی آ زادی، لباس کے چناؤ، تضحیک اور مزاح میں فرق، کامیڈی شوز کے اثرات اور پیش کیا جانے والا مواد بھی زیر

Read more

ڈیم کو چھوڑو گالی بکنا سیکھو!

گالی بکنا ایک آرٹ ہے اور یقین کیجیے بہت کم لوگ یہ آرٹ جانتے ہیں۔ مرزا اسد اللہ خاں غالب پر الحاد کے فتوے لگتے تھے تو لوگ بے رنگ خط بھیجتے جس میں مغلظات کی بھرمار ہوتی۔ ایک دن الطاف حسین حالی اپنے استاد یعنی مرزا غالب کو ڈھکے چھپے لفظوں میں آخرت سنوارنے کی تلقین کر رہے تھے کہ ایسا ہی ایک خط موصول ہوا۔ مرزا نے حالی سے کہا کہ اونچی آواز میں خط کو پڑھیں۔ حالی

Read more

ڈیم فنڈ: آئیے تھوک سے پکوڑیں تلیں !

دیامر بھاشا ڈیم پر جو ایبسرڈ سا رومانس اور خود فریبی کا کھلم کھلا اظہار ہورہا ہے اس پر غالب یاد آ تا ہے،  کیوں نہ ٹھہریں ہدف ناوک بیداد کہ ہم آ پ اٹھا لاتے ہیں جو تیر خطا ہوتا ہے چیف جسٹس صاحب اور وزیر اعظم عمران خان صاحب کے میدان عمل میں کودنے کے بعد جو کچھ اس خوش فہم قوم کے ساتھ ہو رہا ہے مرزا نوشہ یاد کیوں نہ آئیں،  چلتا ہوں تھوڑی دور ہر

Read more

گلزار صاحب بھی ”ڈنگ ٹپاؤ“ ہیں!

اردو اشعار میں بہت دلچسپ غلطیاں ہیں جو ذرا سے غیر شعوری ردو بدل سے یوں بگڑی ہیں کہ اصل سے بہتر دکھائی دیتی ہیں۔ یاد رکھیئے صرف دکھنے میں بہتر ہیں ویسے ہر چند کہیں کہ بہتر ہیں، نہیں ہیں۔ اشعار سے متعلق پچھلے بلاگ میں ٹائپنگ کی غلطیوں نے مضمون کا مزا کرکرا کر دیا ( یہ بھی عیبِ تنافر ہے) جس کے لیے معافی کا خواستگار ہوں۔ گلزار صاحب کا لکھا ایک گیت ہے جس کی انسپیریشن

Read more

مولانا کے من کی من میں رہ جائے گی

اگر آخری وقت میں اعتزاز احسن یا مولانا صاحب میں سے کوئی ایک بیٹھ نہ گیا تو ڈاکٹر عارف علوی با آسانی صدر بن جائیں گے۔ آخری عمر میں بھاگ جاگنا بھی ہر کسی کا مقدر نہیں ہوتا۔ اللہ ڈاکٹر علوی کو لمبی زندگی دے، بہت نفیس آدمی ہیں لیکن آج کل مارے خوشی کے پھولے نہیں سماتے اور ایسی بے خودی سے ہنستے ہیں گویا خود کو محبوب کے سپرد کرتے ہوئے کہہ رہے ہوں، ” لٹ لے سردارا

Read more

چند تصویر بے حیا چند حسینوں کے ”خطوط“!

پچھلے دنوں کسی ظالم نے ”لوح قلم“ کو ” لوہے قلم“ چھاپا تو عبد الروف صاحب نے اسے اردو کا جنازہ قرار دیا۔ عبدالرؤف صاحب ( ہمارے استاد ہیں اور بہت سیکھا ہے ان کے زیر سایہ) زبان کے معاملہ میں بہت سنجیدہ ہیں اور کبھی درستی سے نہیں چوکتے اور بہت لوگوں کا شین قاف درست کرواتے رہتے ہیں۔ ہمیں یہ عادت انہیں سے ودیعت ہوئی ہے کہ دوسرے کی گفتگو پر کڑی نظر رکھتے ہیں اور اگر گفتگو

Read more

بشریٰ بی بی کیوں ضروری ہیں؟

مرتے دم تک میری دادی یہی کہتی رہیں کہ بابا فرید کے دربار پر حاضری ضرور دینا کیوں کہ میری منت وہاں مانگی گئی تھی۔ میرا گھرانہ نظریاتی اعتبار سے سوشلسٹ تھا تو ظاہر ہے دادی بے چاری نے سخت مخالفت مول لے کر منت مانگی ہوگی۔ بہرحال منت پوری ہوئی لیکن میری ماں اکثر ازراہ مذاق کہا کرتیں تھیں کہ، ”بی بی اتنے جتن کر کے بیٹا مانگا ہی تھا تو فرمانبردار مانگ لیتیں“۔ میں نے کبھی سنجیدگی سے پاکپتن جانے کا سوچا ہی نہیں۔

آپ میری کمینگی دیکھیے کہ جب سے عمران خان وزیر اعظم بنے ہیں میں اپنے سارے مارکسی خیالات بالائے طاق رکھ کر پاکپتن ضرور جانا چاہتا ہوں کہ شاید قسمت کی دیوی مہربان ہو جائے لیکن میری بیوی کہتی ہے کہ، ”پاکپتن شریف تم جیسے جغادریوں کے لیے نہیں۔ اس کے لیے جیت کا یقین ہونا ضروری ہے“۔

Read more

بڑھک باز وزیر اعظم زندہ باد

میرے منہ میں خاک اور میرے ڈرائنگ روم تجزیوں پر لعنت۔ اللہ کرے مجھے یوں ہی شرمندگی اٹھانی پڑے جیسا کہ عمران خان صاحب کے وزیر اعظم نہ بن سکنے کا عندیہ دے کر اٹھانی پڑی۔ عمران کے وزیر اعظم بننے کے لیے مجھے پیپلز پارٹی کا ساتھ دینا ناگزیر نظر آ یا لیکن میں آ ر ٹی ایس سسٹم کے بیٹھنے اور زرداری کی مجبوریوں کے اٹھنے کا اندازہ نہیں کر سکا۔ بہر حال خان صاحب کا وزیر اعظم

Read more

حلف اور ذلتوں کے مارے لوگ

ذلتوں کے مارے لوگ دوستوفسکی کے ناول کا اردو ترجمہ ہے اور مجھے یہ ٹائٹل ہمیشہ اس وقت یاد آ تا ہے جب کوئی نیا وزیر اعظم حلف اٹھا رہا ہوتا ہے اور عوام واری صدقے جا رہے ہوتے ہیں۔ جھولیاں اٹھا اٹھا کر ”ستے خیراں“ بھیج رہے ہوتے ہیں۔ چوروں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کے گرد حلقہ تنگ کرنے کی بڑھکیں لگا رہے ہوتے ہیں۔ کڑا احتساب کرنے کے دعوے کر رہے ہوتے ہیں۔ ذلتوں کے مارے لوگ تالیاں بجا

Read more

چلا آ رہا ہوں تبدیلیوں کے وصال سے۔۔۔

منو بھائی مرحوم بہت بذلہ سنج اور حاضر جواب تھے۔ ایک دفعہ ڈاکٹر لال خان کے پاس جدوجہد کے دفتر جو لکشمی چوک میں واقع ہے بیٹھے تھے کہ ایک صاحب جو کسی انقلابی دوست کے ساتھ تشریف لائے اور آ تے ہی جاء نماز کا پوچھنے لگے۔ گو کہ بڑے بڑے مارکسسٹ مذہبی رحجان بھی رکھتے تھے مثلاً حسرت موہانی اور ڈاکٹر اشرف جیسے لوگ اور آ ج بھی ہمارے محترم استاد احمد جاوید صاحب خیال اور مادے کو

Read more

جگنو محسن کی ذہانت اور صلاحیت صوبائی اسمبلی نہیں، قومی سیاست کا افق مانگتی ہے

جگنو محسن کچھ عرصہ خبرناک کی میزبان بھی رہیں اور میری ان سے شناسائی کا دور وہی یے۔ یہ پچھلے برس مئی کا مہینہ تھا جب ان کے ساتھ باقاعدہ کام کرنے کا موقع ملا۔ اب تو وہ پنجاب اسمبلی کے لیے شیر گڑھ سے الیکشن جیت گئی ہیں۔ اس کالم کا باقاعدہ آغاز کرنے سے پہلے یہ بتاتا چلوں کہ جگنو محسن مجھے بالکل پسند نہیں کرتیں اور مجھ سے شدید ناراض ہیں بلکہ مجھے بہت سی خرافات کا

Read more

عمران خان سر پھرے نہیں سیانے ہیں!

عمران خان بالکل سر پھرا نہیں ہے اور یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے جو ممکنہ وزیر اعظم کے بارے میں پھیلائی گئی ہے۔ ہاں! خان صاحب سر پھرے ہونے کا تاثر بڑی کامیابی سے دیتے ہیں۔ آ پ کو یاد ہو گا کہ خان صاحب الطاف حسین کے خلاف ثبوت لے کر سکالینڈ یارڑ کے پاس بھی پہنچ گئے تھے اور ایم کیو ایم پر پروین رحمان کے قتل کا الزام بھی تھا لیکن جب خان صاحب کو مزار

Read more

اینکروں کی ڈرامے بازیاں اور طے شدہ سرویز

الیکشن سے متعلق ہر ٹی وی سروے پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ٹی وی ناظرین کی رائے پر بہت اثرانداز ہوتا ہے بعض اوقات لوگ کسی چہرے سے شناسا ہو جاتے ہیں یا کسی کی بات کلک کر جاتی ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کی شخصیت کے سحر میں اس کی بات اچھی لگنے لگے چاہے وہ بونگیاں ہی مارے۔ بعض اوقات جعلی سے اخلاقی درس دے دے کر اینکر حضرات خود

Read more

…اور بروٹس بہت قابل عزت ہے

میاں نواز شریف کے قریبی ساتھی بیرسٹر ظفر اللّٰہ صاحب سے زیادہ جدید فلسفہ شاید ہی کسی نے پڑھا ہو ۔ خورشید ندیم کے ساتھ پروگرام الف میں ان سے ملاقات رہتی تھی۔ ایرک فرام کی آ رٹ آ ف لوونگArt of Loving )  اور مشل  فوکو کی (Madness and civilization) کے ساتھ ہمارا تعارف انہوں نے ہی کروایا تھا جسے بعد میں محترم احمد جاوید صاحب نے شرح و بسط سے بیان کیا۔ بیرسٹر صاحب کو چاہیئے تھا کہ میاں

Read more

پارٹی از نیور اوور !

کارل مارکس نے کہا تھا کہ تاریخ خود کو پہلے ٹریجیڈی اور پھر مضحکہ خیز کامیڈی کے طور پر دہراتی ہے۔ نواز شریف کا سارا ٹرائیل ایسی ہی مضحکہ خیز کامیڈی ہے۔ یعنی اگر آ پ کسی کو قتل کرنے کی سزا نہ دے سکیں تو اشارہ کاٹنے پر پھانسی دے کر انصاف کا بول بالا کریں۔ اقامہ اور دس سال کی قید بامشقت ایسی ہی سزائیں ہیں۔ دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے آغاز بھی رسوائی انجام

Read more

ایجنسیوں نے ہمیں تو نہیں مارا !

ایجنسیاں، نامعلوم افراد، خفیہ ہاتھ، حساس ادارے، ماسٹر مائنڈ غرض کیا کیا نام دیے ہوئے ہیں ہم نے اپنی کوتاہیوں، چالاکیوں اور چالبازیوں کو۔ سنہ دو ہزار دس کا ذکر ہے جب میں اپنی پچاس منٹ ( جیو کا ایک ٹاک شو جس کے میزبان عبدالرءوف صاحب تھے۔ ہمارے استاد اور باس ہیں) کی ٹیم کے ساتھ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے گھر خانقاہ شریف گیا اور مقصد جنوبی پنجاب میں ممکنہ طالبانائزیشن پر ایک ڈاکیومنٹری بنانا تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے

Read more

خان صاحب وزیر اعظم نہیں بن سکتے !

عمران خان وزیر اعظم نہیں بنے گا کیونکہ یہ میں نہیں کہتا خود خان صاحب کہ رہے ہیں کہ اگر اکثریت نہ ملی تو وہ اپوزیشن میں بیٹھیں گے اور صرف خان صاحب ہی نہیں قرائن بھی یہی کہتے ہیں۔ کسی نے لکھا اتنا شفاف الیکشن ہے کہ سب کچھ پہلے ہی واضح ہے لیکن کہنے والے صرف الٹا دیکھ رہے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ خان صاحب اپنے ووٹر کو برگشتہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے

Read more

استور ایک گمشدہ جنت ہے

آج میں استور سےپاسو جا رہا ہوں لیکن استور والوں کی مہمان نوازی اور منی مرگ کا حسن شاید ہی کبھی بھلا سکوں۔ کسی نے لکھا کہ سیاح سفر کی صعوبت برداشت کرتا ہے تو قدرت اسے انعام کے طور پر حسین منظر سے نوازتی ہے۔ سیاحت اور تفریح میں فرق ہی یہ ہے کہ سیاح ایک منظر دیکھنے کیلئے بہت جوکھم کرتا ہے۔ برزل ٹاپ ، جو تیرہ ہزار فٹ سے زیادہ بلند ہے، سے اترتے ہوئے جادوئی سی

Read more

خبرناک میں سب برابر ہیں

پرانا لطیفہ ہے کہ ایک شخص نے عینک لگائی ہوئی تھی اور بہت برا لگ رہا تھا ۔ دوسرے نے کہا کہ عینک لگا کر آ پ چغد لگتے ہیں ۔ "اگر عینک اتار دوں تو آ پ مجھے چغد لگیں گے” ، پہلے والے شخص نے جواب دیا۔ خبرناک بہت سے مرحلوں اور مشکلوں سے گزرتا ہوا بہرحال کامیابی سے اپنے راستے پر چل رہا یے۔ اس پروگرام کا کمال یہ ہے کہ اس نے اینکرز کی اجارہ داری

Read more

علی میر کی تکنیک کیا ہے؟

علی میر کی کامیڈی آرٹ نہیں، سائنس ہے۔ آرٹ انسانی جذبات، خیالات اور احساسات کا آئینہ دار ہے ۔ مشق سخن سے کسی غیر معمولی ٹیلنٹ کی آ بیاری کی جاتی ہے اور شعر و ادب، رقص، مجسمہ سازی، مصوری جیسے میدانوں میں کمال دکھائے جاتے ہیں لیکن علی میر کو جو ٹیلنٹ قدرت نے ودیعت کیا ہے اس نے کبھی اس ٹیلنٹ کی آ بیاری نہیں کی۔ ٹیلنٹ کی معراج کیا ہے، اس کے لیے ایک واقعہ سنیے ۔

Read more

ریحام نے کچھ نیا نہیں لکھا

منو بھائی کہا کرتے تھے کہ اگر ان کی اور محمد علی (باکسر) کی لڑائی ہو جائے اور کچھ دیر بعد لوگ چھڑوا کر مقابلہ برابر قرار دے دیں تو جیتا کون؟ ظاہر ہے منو بھائی۔ آ ج کل ریحام خان کی کتاب پر، جو ابھی منظرعام پر نہیں آئی، بڑی لے دے ہو رہی ہے۔ تحریک انصاف والے اور مخالفین کتاب کا سرورق تک دیکھے بغیر یوں باہم دست و گریباں ہیں جیسےرستم اور سہراب کے مابین مقابلہ ہو

Read more

خبرناک کا علی میر کون ہے؟

وجاہت مسعود صاحب کی محبت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آج ایک ایسے شخص کے بارے میں لکھنا چاہتا ہوں جس کا ایک زمانہ دیوانہ ہے۔ اسے سات خون معاف ہیں۔ میں نے اپنی آ نکھوں سے دیکھا ہے کہ لوگ اسے ملتے وقت سمجھ نہیں پاتے کہ اپنی عقیدت کا اظہار کیسے کریں۔ ویسے تو یہ بہت سے مشہور لوگوں کے ساتھ ہوتا ہو گا لیکن میر محمد علی جس کی نقل اتارتا ہے اور بسا اوقات اچھا خاصا تماشا

Read more

ڈاکٹر حسن عسکری کو دھکا کس نے دیا؟

مجھے امید ہے ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کبھی اس شخص کو معاف نہیں کریں گے جس نے ان کا نام نگران وزارت اعلی کے لیے تجویز کیا ۔ نگرانی کام ہی ایسا ہے۔ ہاتھ پاؤں بندھے ہوتے ہیں  اور کہا جاتا ہے "اج لٹ لے جناں لٹنا جے”. ڈاکٹر صاحب کی نامزدگی سے پرانا لطیفہ یاد آ گیا۔ سردار جی نے اپنے دوست کو بتایا کہ سائیکل پر سوار ایک خاتون جب ساحل پر نہانے پہنچیں تو سردار جی کی

Read more

مرزا غالب، اماں کریماں اور وزیر اعظم عمران خان

ادھر رمضان المبارک شروع ہوتا ہے، ادھر میرے دماغ میں الٹے سیدھے خیال آنے لگتے ہیں۔ بیوی نے کہا کہ ماہر نفسیات سے ملو لیکن ساتھ ہی اس کے مرد ہونے کی شرط بھی عائد کر دی۔ کسی مرد کو دل کا حال سنانا تو ایسے ہی ہے کہ زندگی کا خالی پن دور کرنے بندہ صحرا میں چلا جائے۔ ویسے تو کسی عورت کو سنانے کا مطلب بھی ہر چند اچھا نہیں۔ ” صنم دکھلائیں گے راہ وفا ایسے

Read more

میاں صاحب نے کیا غلط کہا جناب؟

پچھلے دنوں ڈاکٹر فرحان عبادت یار سے فیس بک پر ایک بحث ہو گئی جب انہوں نے فرمایا کہ اجمل قصاب کے بارے میں بتانے کی وجہ سے انہوں نے جیو نیوز دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ آج تک معاف نہیں کیا۔ بہت حیرت ہوئی کہ اتنا پڑھا لکھا آدمی ایک نان سٹیٹ ایکٹر کا ایسا دیوانہ کیوں ! نان سٹیٹ ایکٹرز نے نان سٹاپ ستر ہزار بندے مار دیے لیکن ڈاکٹر صاحب کی محبت کمال ہے۔ زمین کی محبت چیز

Read more

جلسہ لا ہور دا۔۔۔ ایجنڈا کسے ہور دا

کل جلسوں والی رات تھی پڑنا تھا خرچہ ترا کچھ نے کہا یہ چال ھے کچھ نے کہا چسکا ترا تحریک انصاف کا جلسہ دیکھ کر جو پہلا خیال کوندا وہ یہ تھا کہ عمران خان اگر سیاستدان یا کرکٹر نہ ہوتے تو اچھے ٹی وی پروڈیوسر ضرور ہوتےکیونکہ تقریر میں بریخت کےفلسفہء تھیٹر کے مطابق کمال مشاقی سے وڈیوز، گیت، نعرے اور جذباتی رنگا رنگی موجود تھی اور سب سے بڑھ کر مجموعی تاثر یہی ملا کہ نرگس مستانہ

Read more