ہماری کالونی میں ایک نعیم بھیڈو صاحب رہا کرتے تھے۔ ذرا قد کاٹھ نکالا تو سوچا کسی پر عاشق ہوا جائے۔ ساتھ والے بنگلے میں ایک دوشیزہ رہتی تھیں جن کا نخرہ آسمان پر تھا اور ہونا بھی چاہیے تھا کیونکہ کسی نے انہیں بہت خوبصورت اور سنگدل ہونے کا احساس دلایا ہوا تھا۔ نعیم بھیڈو صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ انہیں پروپوز کر دیا۔ خاتون سنگدل ہونے کے ساتھ ساتھ سمجھدار بھی تھیں۔ انہوں نے سوچا اگر فتراک میں ایک اور نخچیر کا اضافہ ہو جائے تو کیا برا ہے۔ جو سب سے اچھا ”پیس“ ہو گا ان کے لیے حلف وفاداری اٹھا لیں گی۔ بس جھٹ سے کہہ دیا، ”نعیم تم سی ایس ایس کر لو پھر میں تمہاری ہو سکتی ہوں“۔
بھیڈو صاحب جو کہ انڈر میٹرک تھے اور کتاب پڑھتے ان کی آنکھوں میں پانی آجاتا کہا کرتے، ”اللہ ایک بار جیون ملا اور وہ بھی آنکھیں کالی کرنے میں ضائع ہو جائے گا۔ وہ کیسے خوش قسمت ہیں جو منہ کالا کر لیتے ہیں لیکن وقت ضائع نہیں کرتے“ بھاگم بھاگ ہمارے پاس آئے۔ انہیں بتایا گیا کہ بھائی بہت سی چیزیں ازبر کرنی پڑتی ہیں، وقت دینا پڑتا ہے۔ ڈنگر کر ساتھ ڈنگر ہونا پڑتا ہے۔ ہمارے ایک دوست کا خیال تھا کہ ڈنگروں کا امتحان ہی ایسے ہوسکتا ہے۔ سوچنے سمجھنے والوں کا نہیں۔ خیر نعیم بھیڈو چلا گیا۔
خاتون نے جب اسے چپ دیکھا تو ایک دن بلا کر پوچھا، ”تمہارا جذبہ کیا ہوا؟ “۔ بھیڈو بولا اگر سول سرونٹ بن گیا تو تم ہی رہ گئی ہو شادی کرنے کے لیے۔ بھیڈو صاحب چاہتے تھے کہ ان میں چھپا گوہر شادی سے پہلا تلاش کیا جائے اور ایسے ہی گوہر تلاش کرنے کے مواقع انہیں دیے جائیں تاکہ ایک دوسرے کو سمجھنے میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔ چاہے گوہر مٹی ہو جائے۔
Read more