ریاست ناکام کیوں ہے؟
آسیہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ، تحریک لبیک کے احتجاج، عمران خان کے خطاب اور حکومت کے معاہدہ سے وجود میں آنے والے مربع میں دراصل مملکت پاکستان کے ریاستی اختیار کی حقیقت واضح ہو چکی ہے۔ سوچنا چاہیے کہ پاکستان کو اس حالت تک پہنچانے والے کون سے عوامل ہیں۔ جمعہ کے روز وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نورالحق قادری اور تحریک لبیک کے سرپرست پیر افضل قادری کے درمیان ہونے والا معاہدہ دراصل یہ اعلان کررہا ہے کہ ریاست کا کوئی بھی ادارہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے اور ان مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہے جو آئین پاکستان کے تحت مقررکیے گئے ہیں اور جن کے لئے مختلف اداروں کو اختیارات اور حقوق تفویضکیے گئے ہیں۔
دیکھنا چاہیے کہ اس ناکامی کی کیا وجوہات ہیں۔ اس معاملہ کو تحریک انصاف یا عمران خان کی ناکامی قرار دے کر آگے بڑھنے سے مسئلہ حل نہیں کیا جاسکے گا۔ اس کے تمام اسٹیک ہولڈرز یعنی ریاست کے چار ستونوں پارلیمنٹ، حکومت، عدالت اور میڈیا کے کردار کا جائزہ لینا اور ان کی ناکامی کا احاطہ کرنا اہم ہے۔ ملک میں جمہوریت کا چرچا ہونے کے باوجود عملی طور سے پارلیمنٹ جزو معطل بن چکی ہے۔ کوئی اہم فیصلہ نہ پارلیمنٹ کی مرضی سے ہوتا ہے اور نہ ہی اس فورم کو قومی پالیسی تشکیل کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی بجائے فوج ملکی نظام میں چوتھے اور سب سے اہم ستون کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ اس لئے موجودہ صورت حال میں بات کرتے ہوئے حکومت، عدالت اور میڈیا کے ساتھ چوتھے ستون کے طور پر فوج کا ذکر ہی فطری اور ضروری ہوگا۔
تحریک لبیک کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی احتجاج کے حوالے سے حکومت کا کردار تو سب پر واضح ہے۔ ملک کی سپریم کورٹ نے آسیہ کیس میں ضرور حوصلہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم جاری کیا ہے لیکن اس کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے جس طرح اپنے فیصلہ پر معذرت خواہانہ انداز میں وضاحتی ’بیان‘ دینا ضروری سمجھا ہے، وہ اس ادارے کی کم ہمتی اور غیر فعال ہونے کی دلالت کرتا ہے۔ موجودہ چیف جسٹس کسی ہائی پروفائل کیس میں فیصلہ کی وضاحت کرنے والے شاید دنیا کے پہلے اور واحد چیف جسٹس ہوں گے جنہیں کسی دوسرے مقدمہ کی سماعت کے دوران یہ کہنا پڑا کہ وہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کے پابند تھے۔
کیا یہ بات اظہر من الشمس نہیں ہونی چاہیے کہ عدالتیں شہادتوں و شواہد کی روشنی میں قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ بعد از فیصلہ ایک دوسرے مقدمہ کی سماعت کے دوران یہ وضاحت دینے پر چیف جسٹس ثاقب نثار کا نام گنیز بک آف ریکارڈز میں تو شامل ہو سکتا ہے لیکن اس سے سپریم کورٹ کے اختیار، احترام اور وقار میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح چیف جسٹس نے لبیک تحریک کے افضل قادری اور خادم رضوی کی بدکلامی، دھمکیوں اور باغیانہ بیانات کو تواتر سے نظر انداز کرکے دراصل یہی واضح کیا ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت بھی ان فسادی اور شر پسند عناصر سے خوف زدہ ہے۔
گزشتہ نومبر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے کے دوران فوج کے کردار سے شبہات پیدا ہوئے تھے۔ موجودہ دھرنا ختم ہونے سے پہلے بھی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے مظاہرین کے بارے میں مفاہمانہ اور دھیما لب و لہجہ اختیار کیا تھا۔ یہ کہنا گمراہ کن ہوگا کہ فوج دو تین ہزار مظاہرین سے خوف زدہ ہوگئی لیکن احتیاط کا دامن تھامتے ہوئے بھی یہ کہنا ضروری ہے کہ فوج نے اس سلسلہ میں مناسب کردار ادا کرنے سے گریز کیا ہے۔
ملک کے مذہبی گروہوں سے عسکری اداروں کی راہ و رسم کی تاریخ کی روشنی میں ایک نئے مذہبی گروہ کی حوصلہ افزائی سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا اب نئے حالات میں کسی خاص مقصد سے تحریک لبیک کو بھی ایک نئے ’اثاثہ‘ کے طور پر بچا کر رکھا جارہا ہے تاکہ بروقت ضرورت کام آسکے۔ اثاثوں کے بارے میں ماضی کے تجربات کی روشنی میں اس قسم کا کوئی فیصلہ مہلک اور قومی سلامتی کے بنیادی مقاصد سے متصادم ہوگا۔
ریاست کے غیرسرکاری چوتھے ستون میڈیا کو خود ریاستی اداروں نے گزشتہ ایک سال کے دوران محدود اور مجبور کرنے کے لئے ہر ممکن اقدام کیا ہے۔ اس وقت دیانت دارانہ رائے اور غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کا تصور بھی ممکن نہیں ہے۔ میڈیا میں ایسے عناصر نے قوت پکڑی ہے جو مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے کا سبب بن رہے ہیں۔ اس رویہ کو ریاست کے موجودہ قومی مفاد کے تصور سے متصادم نہیں سمجھا جاتا۔ اسی لئے اس طرز عمل کی روک ٹوک نہیں کی جاتی۔
اس طرح میڈیا متوازن رائے بنانے کے کردار سے محروم ہوتا جارہا ہے بلکہ معاشرہ میں شدت پسندانہ مزاج کے فروغ کا سبب بنا ہؤا ہے۔ میڈیا کا کوئی ایسا خود مختار ادارہ موجود نہیں ہے جو اس صورت حال کا جائزہ لے کر اسے تبدیل کرنے کے لئے کردار ادا کرسکے۔ میڈیا مالکان سیلف سنسر شپ اور سرکار کو راضی کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہیں۔ عامل صحافی بے بس مالکان اور خود سر انتہا پسندوں کے نرغے میں اپنی جان اور روزگار بچانے کی جد و جہد کر رہا ہے۔
ریاست کی ناکامی کے مظاہر بالکل واضح ہیں۔ انہیں سمجھنے اور ان سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت یا عدالت افضل قادری اور خادم رضوی کے آئین شکنی اور بغاوت کا پرچار کرنے والے بیانات پر کارروائی کرتے ہوئے، انہیں کٹہرے تک لانے کا حوصلہ نہیں کرتی تو یہ نظام چند ہزار لوگوں کو سڑکوں پر لانے کی صلاحیت رکھنے والوں کے رحم و کرم پر ہی رہے گا۔ لبیک تحریک کو جولائی میں ہونے والے انتخاب میں 22 لاکھ ووٹ ملے تھے لیکن وہ 22 کروڑ لوگوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرکے ریاستی اختیار اور حکومتی استحقاق کے لئے خطرہ بنے ہوئی ہے۔ عوام کی حمایت سے اقتدار سنبھالنے والی پارٹی کو اس صورت حال کو تبدیل کرنا ہے۔


