ریاست ناکام کیوں ہے؟


وزیر اعظم عمران خان نے تھوڑی دیر پہلے دورہ چین کے دوران بیجنگ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک سے غربت اور کرپشن کے خاتمہ کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کوئی ملک ان دو علتوں کو ختم کیے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ‘ ملک میں وسائل کی کمی نہیں ہے لیکن بدعنوان قیادت نے ملک کو تباہی کے کنارے تک پہنچا دیا ہے‘ اس بیان کی سیاسی ضرورت سے قطع نظر حال ہی میں ان کی حکومت نے جس طرح تحریک لبیک کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہیں، اس کی روشنی میں پوچھا جاسکتا ہے کہ جب حکومت ریاست کا اختیار ہارنے پر تیار ہوجاتی ہے تو وہ کس اتھارٹی کے تحت ان بلند بانگ سیاسی وعدوں پر عمل کرے گی جس کا اعلان تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے عام طور سے کیا جاتا رہا ہے۔ اور اب وزیر اعظم نے چین کے دارالحکومت میں اسی منشور کا اعادہ کیا ہے۔

حکومت جب بلوائیوں اور ریاست کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے والے چند ہزار مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کرنے اور ایک ایسا معاہدہ کرنے پر آمادہ ہوجائے جسے ملک کے معتبر انگریزی اخبار ڈان نے بھی ’حکومت کی شکست‘ قرار دیا ہے تو وہ کس طرح اپنے وسائل اور صلاحیتوں کو بہتر مقاصد کے لئے صرف کرنے کا مقصد پورا کرے گی۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے حکومت کی ناکامی اور ریاست کی کمزوری کے آئینہ دار تحریک لبیک کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو واحد پر امن راستہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حکومت کی شکست نہیں ہے۔

فواد چوہدری اس تواتر سے غلط بیانی کرتے ہیں کہ ان کی کسی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاسکتا لیکن اس کے باوجود جب وہ اس معاہدہ کو ’فائر فائیٹنگ ’ قرار دیتے ہوئے یہ اعلان کرتے ہیں کہ ان کی حکومت اس مسئلہ کا حتمی حل تلاش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس برائی اور کمی کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔

آسیہ بی بی کیس میں لبیک تحریک کی قیادت کے ساتھ معاہدہ نما شکست کے بعد حکومتی ترجمان کا یہ بے بنیاد بیان دراصل خفت کو مٹانے کی ایک کوشش ہے۔ حقیقت حال تو یہی ہے کہ حکومت نے نہ صرف قانون کی دھجیاں بکھیرنے والوں کے ساتھ معاہدہ کیا اور منت سماجت کرکے انہیں مظاہرہ اور دھرنا ختم کرنے پر راضی کیا۔ بلکہ اس نام نہاد معاہدہ کے تحت ایسے امور پر وعدہ کرنے کا حوصلہ بھی کیا ہے جو اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔

یعنی آسیہ کیس میں نظر ثانی کی اپیل میں رکاوٹ نہ ڈالنا۔ یہ اپیل پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے اور حکومت تو پہلے بھی اس معاملہ میں استغاثہ کے طور پر موجود رہی ہے۔ اسی طرح آسیہ بی بی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ یعنی ای سی ایل میں ڈالنے کا وعدہ بھی شاید حکومت کا اختیار نہیں ہے کیوں کہ سپریم کورٹ نے ایک سنگین الزام سے آسیہ بی بی کو بری کیا ہے۔ نظر ثانی اپیل کی روشنی میں سپریم کورٹ ہی یہ طے کرسکتی ہے کہ اس دوران آسیہ کا ملک میں رہنا ضروری ہے یا وہ بیرون ملک سفر کرسکتی ہے۔

آسیہ کے شوہر عاشق مسیح پہلے ہی اپنے خاندان کی زندگی کو لاحق خطرہ کی بنیاد پر مغربی ممالک سے پناہ کی اپیل کرچکے ہیں۔ حتیٰ کہ سپریم کورٹ میں آسیہ کا دفاع کرنے والے وکیل سیف الملوک بھی گزشتہ روز اپنے اہل خاندان کے ہمراہ بیرون ملک روانہ ہو گئے۔ روانگی سے پہلے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ نہ ان کے لئے بطور وکیل کام کرنا ممکن رہا ہے اور نہ ہی ان کی اور ان کے اہل خاندان کی زندگیاں محفوظ ہیں۔ اس صورت میں ان کے لئے ملک سے باہر جانا ہی واحد آپشن ہے۔ ایڈووکیٹ سیف الملوک نے یہ بھی کہا کہ وہ نظر ثانی اپیل میں آسیہ بی بی کی پیروی کرنے کے لئے ’زندہ‘ رہنا چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اسی صورت سپریم کورٹ میں پیش ہونے کے لئے پاکستان آئیں گے اگر فوج ان کی سیکورٹی کی ذمہ داری قبول کرے گی۔

ماضی میں بھی توہین رسالت کے مقدمات میں بری ہونے والے اکثر لوگوں کو اپنی سلامتی کے لئے ملک سے باہر جانا پڑا تھا۔ بلکہ بعض صورتوں میں فیصلہ کرنے والے زیریں عدالتوں کے ججوں کو یا تو قتل کیا گیا یا انہیں ملک سے باہر پناہ لینا پڑی۔ ممتاز قادری کو پھانسی کی سزا دینے والے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج بھی فیصلہ کا اعلان کرنے کے فوری بعد سعودی عرب روانہ ہو گئے تھے۔ کوئی حکومت اس صورت حال کو تبدیل کرنے کا اقدام نہیں کرسکی۔

اس طویل مقدمہ میں بری ہونے والی آسیہ بی بی کے بارے میں بھی کوئی واضح اطلاعات موجود نہیں ہیں۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے تو دعویٰ کیا ہے کہ ’آسیہ بی بی کو ہرممکن سیکورٹی فراہم کی جائے گی‘ لیکن کوئی حکومتی عہدیدار یا اہلکار یہ بتانے کے لئے تیار نہیں ہے کہ گزشتہ ہفتہ کے دوران سپریم کورٹ کے واضح حکم کے بعد کیا انہیں رہا کیا گیا ہے یا کسی نہ کسی عذر پر وہ ابھی تک جیل میں ہی بند ہیں۔ سوشل میڈیا پر آسیہ کے بیرون ملک روانہ ہونے کے بارے میں افواہیں گردش کررہی ہیں تاہم اس بارے میں کوئی مصدقہ اطلاعات موجود نہیں۔ وزیر اطلاعات کو اس بارے میں حکومت کی پوزیشن واضح کرنے کے علاوہ بتانا چاہیے تھا کہ آسیہ بی بی کہاں اور کس حال میں ہیں۔ اگر حکومت انہیں سیکورٹی کے نام ہر کسی خفیہ مقام پر ’محبوس‘ رکھنے پر مجبور ہے تو یہ بھی ریاستی اختیار اور اتھارٹی کی ناکامی ہے۔

گزشتہ بدھ کو آسیہ بی بی کو بری کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد فوری طور سے توڑ پھوڑ اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اسی شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے انتہا پسند گروہوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا تھا اور کہا تھا کہ مظاہرین ریاست کے اختیار کو چیلنج کرنے کی کوشش نہ کریں ورنہ ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ عمران خان کے اس بیان کی ہر طرف سے تحسین کی گئی تھی کہ بالآخر ایک وزیر اعظم نے انتہا پسندوں کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کرکے مذہب کے نام پر معاشرہ کو جزو معطل بنانے والے عناصر سے نمٹنے کا اعلان کیا ہے۔

لیکن اس اعلان کے تیسرے روز تحریک انصاف کے ایک وفاقی اور ایک صوبائی وزیر کے دستخطوں کے ساتھ ہونے والے نام نہاد معاہدہ کے پانچ نکات میں وزیر اعظم کے اس حوصلہ و عزم کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ اب ملک میں بڑے بڑے اقدامات کرنے کا اعلان کرنے والے عمران خان کو پہلے یہ جواب دینا ہے کہ جو حکومت چند ہزار مظاہرین اور بدزبانی کرنے والے مٹھی بھر ملاؤں سے نمٹنے کا حوصلہ نہیں رکھتی، وہ کوئی بڑا اقدام کرنے کا اختیار کیسے استعمال کرسکے گی۔ کوئی نہ کوئی مجبوری اسے اپنا ارادہ بدلنے پر مجبور کردے گی۔ تحریک لبیک کے معاملہ پر حکومت کی پسپائی پر شرمندگی اور لاتعلقی کا اعلانکیے بغیر عمران خان کی کسی بات کا یقین کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali