جہاں محبت کی سزا موت ہے
غیرت کے نام پر قتل کرنے والے رشتہ داروں کے لیے قانون میں نرمی کی جڑیں برصغیر میں برطانوی نو آبادیاتی راج سے جڑی ہوئی ہیں۔ 1860 ء میں برطانیہ نے پینل کوڈ بنایا تھا، جو ایسے مردوں کے حق میں جاتا تھا، جن کی بیٹیاں، بیویاں یا پھر بہنیں ان کی ”عزت کو نقصان“ پہنچاتی ہیں۔ اس قانون کے تحت اگر کوئی قاتل مرد یہ ثابت کر دے کہ اس نے ”اشتعال انگیزی“ دلانے کے بعد یہ قتل کیا ہے تو اس کے لیے عمداً قتل کی بجائے ”غیر ارادی قتل“ کی سزا رکھی گئی تھی، جو کم تھی۔ 1990 ء میں پاکستان حکومت نے اس پینل کوڈ میں مزید تبدیلی کرتے ہوئے اس میں اسلامی قوانین کے تین عناصر ولی، قصاص اور دیت بھی شامل کر دیے۔ اس قانون کی مطابق ولی کو ایسے کیسوں میں مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور ولی اکثر قاتل رشتہ دار کو معاف کر دیتا تھا۔
سن دو ہزار سولہ میں ایک پاکستانی ماڈل قندیل بلوچ کو اس کے بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کر دیا تھا۔ اس کے بعد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا اور حکومت نے غیرت کے نام پر ہونے والی قتل کی ان وارداتوں کو روکنے کے لیے نیا قانون ”فساد فی الارض“ متعارف کروایا۔ اس قانون کے تحت مقتولہ کے کسی بھی رشتے دار کو غیرت کے نام پر قتل کرنے والے کو معاف کرنے کی اجازت نہیں اور قاتل کے لیے سزائے موت یا پھر عمر قید بھی لازمی ہے۔
تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ دو ہزار سترہ، اٹھارہ کے مطابق پاکستان میں یہ نیا قانون بھی زیادہ سود مند ثابت نہیں ہو رہا اور غیرت کے نام پر ہونے والی قتل کی وارداتوں میں کوئی واضح کمی نہیں آئی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق اس نئے قانون میں بھی کئی سقم ہیں۔ اس قانون کے مطابق جج کو یہ اختیار ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ آیا لڑکی کا قتل غیرت کے نام پر یا کسی دوسری وجہ سے کیا گیا تھا۔ ایمنسٹی کے مطابق سن دو ہزار سترہ میں متعدد ایسے کیس تھے، جن میں ملزمان نے یہ ثابت کیا کہ متاثرہ خاتون کا قتل غیرت کے نام پر نہیں بلکہ کسی دوسری وجہ سے کیا گیا تھا اور پھر مقتولہ کے خاندان والوں نے قصاص اور دیت کے قانون کے تحت قاتل کو معاف کر دیا۔
اس معاملے کو مزید پیچیدہ پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں غیرت کے حوالے سے پائی جانے والی سوچ بنا دیتی ہے۔ سن دو ہزار چودہ میں امریکی ریسرچ سینٹر ”پیو“ کی جانب سے کروائے جانے والے ایک سروے کے مطابق ہر دس میں سے چار پاکستانی سمجھتے ہیں کہ غیرت کے نام پر بعض اوقات لڑکی کا قتل جائز ہے۔
زہرا یوسف کہتی ہیں کی حکومت کو خواتین کے حقوق کے لیے مزید قانون سازی کے ساتھ ساتھ اس پر عمل درآمد کی کوششیں بھی تیز کرنی چاہییں جبکہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے عوامی سطح پر آگاہی مہم کا چلانا انتہائی ضروری ہے۔
پاکستانی صحافی سبوخ سید اس معاملے میں حکومت اور سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ملک کی بڑی اور طاقتور سمجھی جانے والی مذہبی تنظیموں کی خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ مذہبی جماعتیں دن رات احتجاج کرتی ہیں لیکن، ”اس ظلم کے خلاف کوئی بھی سڑکوں پر نکل کے احتجاج کرنے کو تیار نہیں ہے، انہیں یہ مسئلہ ہی نہیں لگتا۔ “
پاکستان میں جو احتجاج کر رہی ہیں، وہ بس مدیحہ جیسی لڑکیوں کی بے نام قبروں میں پڑی وہ لاشیں ہیں، جن کے جنازے رات کی تاریکی میں پڑھا دیے جاتے ہیں اور کوئی ایک بھی رشتہ دار ان میں شریک نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے ان لاشوں کی آہیں، ان کے آنسو، ان کی ہچکیاں، ان کی منتیں، ان کے غم، ان کے دکھ، ان کی تکلیفیں اور ان کی چیخیں کسی کو بھی سنائی نہیں دیتیں۔

