جون ایلیا کا جہان احمد جاوید کی دنیا سے الگ ہے


کئی برس ہوئے، دبئی میں ایک مشاعرہ ہوتا ہے، ناظمِ مشاعرہ ایک خستہ تن و شکستہ دل شاعر کو یہ کہہ کر دعوتِ سخن دیتے ہیں کہ ”اب تشریف لاتے ہیں جون اولیا، جونِ عظیم ایلیا“

جَون صاحب نڈھال قدموں سے آتے ہیں، اور یوں کلام کرتے ہیں ”جانی! میں نہ تو جون اولیاء ہوں اور نہ ہی جونِ عظیم ایلیا! میں ایک بونا شاعر ہوں، یہ بونوں کا معاشرہ ہے اور میں ایک بونا شاعر ہوں“

اور جب اپنی اوّلین کتاب ”شاید“ کا حشر انگیز دیباچہ آغاز کرتے ہیں، تو پہلی بات ہی یہ لکھتے ہیں کہ ”یہ ایک ناکام آدمی کی شاعری ہے، بھلا یہ کہنے میں کیا شرمانا کہ میں رائیگاں گیا“

جو انسان، برسرِ عام، سینکڑوں لوگوں کے سامنے خود کو بونا شاعر کہہ رہا ہو، جو انسان اپنی کتاب کے دیباچے میں اپنی رائیگانی کا مکمل اعتراف کر رہا ہو، اور پہلی سطر ہی میں کر رہا ہو تو کیا اس شخص سے وقت کے کسی ایک ثانئیے میں بھی یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ اس نے خود کو ”بڑا شاعر“ کہلوانے کی ضد کی ہو؟

تم نہیں چاہتے مِرا ہونا؟
چلو اچھا ہے، میں نہیں ہوتا!

گزشتہ کچھ دنوں سے میں فیس بک پر مختلف النوع اقسام اور بھانت بھانت کے بھاشن، لیکچرز، بارہ تیرہ سطری ”تنقیدی محاکمے“ جون صاحب کے حوالے سے دیکھ رہا ہوں اور حیران ہو رہا ہوں کہ آخر ایسا کیا ہو گیا؟ کس بڑے شاعر کی گُدّی اور گَدّی پر ہاتھ پڑ گیا کہ ایک بخیالِ خود بی یقینِ وجود رائیگاں انسان کی شاعری، شخصیت پر ایسے تبرّے بھیجے جا رہے ہیں جیسے وہ کوئی انسان ہی نہ ہو، اس کی کوئی کیفیت ہی نہ ہو، یا سب سے بڑا ظلم یہ کہہ کر بات کرنا کہ اس کے پاس کوئی ایک ”قابلِ ذکر شعر“ تک نہیں؟

جَون صاحب بھی اگر گہرے شاعر نہیں ہیں، تو حضور آپ کا معاشرہ گہرا نہیں ہے، اگر جون صاحب بڑے شاعر نہیں ہیں تو آپ کے یہاں تخلیقی و فکری بڑائی و بزرگی کے معیارات بڑے نہیں ہیں، ورنہ اس شخص کے برسوں پہلے لکھے ہوئے انشائیے (اگر کسی نے واقعی پڑھے ہوں ) آج کی سیاسی و سماجی صورتِ حال کو بھی ایسے ہی واضح کر رہے ہیں جیسا کہ تین چار دہائیاں قبل کر رہے تھے۔

مجھے یہاں جون کی شاعری پر بات نہیں کرنی، اور نہ ہی ان کا کسی کے ساتھ دفاع و موازنہ مقصود ہے، میں تو محض اپنی نہایت طالبِ علمانہ رائے پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، چند ایک گزارشات کرنا چاہ رہا ہوں جو میری دانست میں نہایت ضروری ہیں۔

آخر ہمارے نزدیک بڑے شاعر کا تصور ہے کیا؟ اور کیا یہ بات سچ نہیں کہ ایک بہترین شاعر ایک بڑے گروہ کا پسندیدہ بھی ہوتا ہے اور اسی دورانیے میں دوسرے گروہ کے نزدیک سخت نا پسندیدہ بھی؟ اقبال بلا شبہ ایک عہد کو متاثر کر دینے والے شاعر ہیں، لیکن کیا اقبال ہر طبقے ہر گروہِ فکری کے نزدیک ایک سا بڑا درجہ رکھتے ہیں؟ اقبال سے زیادہ مستحکم کرافٹ، بعد از غالب کہیں اور نہیں دیکھنے کو ملتی، کم از کم مجھے تو نہیں ملی، تو کیا وجہ ہے کہ اقبال کے مُحبین سے زیادہ ان کے ناقدین موجود ہیں، ایسا کیوں نہ ہوا کہ چلیں مذہب و مسلک نہ سہی، کم از کم کسی ایک شاعر پر تو لوگ ایک ایسا دھیان رکھتے؟

ایسا اس لئے نہیں ہوا اور نہ کبھی ہو گا کیونکہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ شاعری کا تعلق جمالیات کی براہِ راست انفرادیت سے ہے! میں مکرر عرض کروں کہ براہِ راست انفرادیت سے ہے، اس لئے کسی بھی شاعر کے لئے اس بحث میں الجھنا کہ وہ بڑا شاعر ہے یا نہیں، یہ کسی بھی شخص، کسی بھی گروہ کی ”انفرادی“ رائے ہوتی ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ شاعر چھوٹا بڑا نہیں، صرف ”مختلف اور منفرد“ ہوتا ہے۔ بڑا چھوٹا ہونا تو فیصلہ و فتوی صادر کرنے کے مترادف ہے، میں یا آپ کسی کے بارے، کسی کے بھی بارے کیسے کوئی ایسا فیصلہ دینے کی حالت میں ہو سکتے ہیں جو ہمارا کام ہی نہیں ہے۔

اقبال کی مثال بھی اسی لئے پیش کی گئی کیونکہ وہ ایک ”مختلف اور منفرد“ شاعر ہیں۔ بد قسمتی اور نہایت بدقسمتی یہ ہوئی کہ ہمارے یہاں بڑائی و بزرگی کے کچھ مخصوص ”سانچے“ موجود ہیں۔ یہ سانچے در اصل وہ تصوراتِ بزرگی ہیں کہ جن پر ہر شخص ہر گروہ اپنے اپنے فکری و کیفیاتی رجحان مطابق اپنا اپنا بزرگ خود چن لیتا ہے، جو کہ جائز بھی ہے، لیکن ظلم یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان یا گروہ ہر دوسرے تخلیق کار یا روشنی کو اپنے اسی سانچے میں فٹ کر کے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور بس یہیں سے فساد شروع ہو جاتا ہے اور گڑبڑ مچ جاتی ہے۔

جون صاحب کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ جنابِ احمد جاوید صاحب کی گفتگو جو انہوں نے جون کی شاعری کے حوالے سے کی، اس گفتگو میں جو انہوں نے رائے دی، وہ بغیر کسی شک و شبہے کے متعصب ترین رائے ہے۔ اور مجھے وہ باتیں سن کر قطعی کوئی حیرت بھی نہیں ہوئی، کیوں؟

اس کی بہت سادہ سی وجہ ہے۔ اور وہ یہ کہ احمد جاوید صاحب ایسے کسی بھی فکری رجحان رکھنے والے انسان کو جون ایلیا ایسا فکری و کیفیاتی رجحان کبھی پلّے نہیں پڑ سکتا!

دونوں رجحانات ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ احمد صاحب اگر یہ فرماتے ہیں ”جون کے پاس ایک بھی بڑا شعر موجود نہیں“ تو وہ کہہ سکتے ہیں، کیونکہ ان کے تئیں بڑے شعر کی تعریف اور میعار وہ ہو ہی نہیں سکتا جو ان کے فکری رجحانات کے عین مخالف ہو، بھلا احمد جاوید صاحب، جو کچھ لوگوں کے نزدیک شَیخِ تصوف بھی ہیں، کیسے ایسی فکر کی تحسین فرما سکتے ہیں جو علی الاعلان دھاڑتی ہوئی یہ کہتی ہو

جس کو بھی شَیخ و شاہ نے، حکمِ خدا دیا قرار
ہم نے نہیں کیا وہ کام، ہاں! بخدا نہیں کیا!

میں چاہوں تو یہاں جون کے بیسیوں ایسے اشعار ”مع تشریح“ درج کر سکتا ہوں جن میں بڑائی بھلے ہو نہ ہو لیکن جون کا وہ انفراد بہرطور و بہر حال موجود ہو گا جس کی دھاڑ یا للکار آج بھی ایسی ہی ہے کہ جون کے دنیا چلے جانے کے بعد بھی کم نہیں ہوئی، کیوں نہ ہوئی، میں اس پر بھی کبھی پھر بات کروں گا، اور آخر میں مجھے اپنے نہایت محترم اوربلا شبہ واجب التعظیم بزرگ جنابِ احمد جاوید صاحب سے ہی یہ استفسار کرنا ہے کہ حضور چھوٹا منہ بڑی بات، لیکن آپ کے پاس جو نوادراتِ شعر کے خزانے ہیں، ان میں سے بس ایک ہی جوہر ایسا ہے جس کی بازگشت ہم نے سنی ہے، اور وہ اشعار یہ ہیں

اچھی گزر رہی ہے دلِ خود کفیل سے
لنگر سے روٹی لیتا ہوں پانی سبیل سے!

آپ کے گھٹنوں کو چھو کر سوال کرنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ آخر یہ کیسا ہی خود کفیل دل ہے جو دعوی خود کفالت رکھ کر بھی لنگر سے روٹی اور پانی سبیل سے لے رہا ہے؟

حضور آپ تو تصوف سے منسلک ہیں، کیا شانِ استغنائے فقراء آپ کی نظروں سے نہیں گزری؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ تصوف میں ”خود کفالت“ کتنا بڑا معنی اور مقام ہے؟ جہاں ہمسائے کی دیوار کا سایہ بھی ”غیر“ کہلایا جاتا ہے! یہ کیسا دلِ خود کفیل ہے میرے بزرگ؟

آپ اپنی اسی ”مشہور“ غزل کے دوسرے شعر میں فرماتے ہیں

دنیا مِرے پڑوس میں آباد ہے مگر
میری دعا سلام نہیں اس ذلیل سے!

سر؟ ذلیل سے؟ افففف! اے میرے روشن فکر بزرگ! یہ بات مجھ ایسا جاہلِ مطلق اگر کہتا تو تنبیہ کا سزاوار ہوتا، کہ معلوم کچھ نہیں ہے، لیکن آپ؟ آپ تو ماشاءاللہ صاحبِ حال ہیں! کیا خالق و مالک کی بنائی ہوئی دنیا کو کوئی ”عارف“ اس انداز، اس رعونت اس درجہ تکبر و کراہت سے مخاطب کر سکتا ہے؟ اور ابھی دوسرا سوال تو کیا ہی نہیں سر! اور وہ کم بخت یہ کہ کیا ایسا واقعی ہے بھی جیسا آپ نے ارشاد فرمایا؟

نہیں ہو گا سر! اور بس یہیں سے آپ کا اور جون کا فرق آغاز ہو جاتا ہے! وہ اپنے شعر میں بھی بالکل وہی تھا جو وہ تھا! رائیگاں! شکستہ دل، عام آدمی کا شاعر سر! ایک ایسا فکری رجحان جس نے جب انکار کیا ہے تو سب سے پہلے اپنا انکار کیا! اور اس انکار کی قیمت بھی چکائی!

جون بڑا شاعر واقعی نہیں ہے، کم از کم اس وقت تک نہیں ہے جب تک یہ معاشرہ اپنے بیرون اور درون میں اتنا بڑا نہیں ہو جاتا کہ اس بات کو سمجھ کو سکے

کربِ تنہائی ہے وہ شے! کہ خدا
آدمی کو پکار اٹھتا ہے!
کاش کوئی اس ”پکار اٹھنے“ میں موجود درد، نہایت نہایت محبت کو محسوس کر سکتا! لیکن آپ کیسے کریں گے؟ آپ کے نزدیک خدا کا تصور جون کے خدا ایسا نہیں۔ جون کا خدا، دوست خدا ہے!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

علی زریون کی دیگر تحریریں
علی زریون کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں