پنج آبی جیالے: بھٹو دے نعرے وجن گے


پنج آب کی دھرتی عرفِ عام میں پنجاب کہلاتی ہے، تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے سے پتا چلتا ہے ہے کہ یہ دھرتی جس کا نام پنجاب ہے دورِ قدیم میں انڈس ویلی سولائزیشن کا حصہ رہا۔ انڈس ویلی جغرافیائی اعتبار سے ہند (موجودہ گجرات، ہریانہ پنجاب، راجھستان، اترپردیش، جموں و کشمیر کی ریاستوں ) اور پاکستان (موجودہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے صوبوں ) پر مشتمل تھی۔

اولین مسلمان فاتحین نے موجودہ پنجاب کا نقشہ کھینچا اور پنج آب یعنی پانچ دریاؤں کی سرزمین ہونے کی نسبت سے ایک نیا نام پنجاب متعارف کروایا۔

1947 میں برطانوی سامراج کے اختتام پر مشرقی اور مغربی پنجاب میں ایک لکیر کھینچ کر اسے تقسیم کر دیا گیا۔ مغربی حصہ پاکستان اور مشرقی ہندوستان کو سونپ دیا گیا۔

پنجاب کی دھرتی پانچ دریاؤں سے سیراب ہو کر ہمیشہ سے سونا اگلتی رہی، اسی سبب یہ ہر آنے والے لشکر اور کاروباری افراد کے لئے اہمیت کا سبب بنی رہی۔ ملکِ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد بھی پنجاب کی اہمیت ہر آنے والے دن کے ساتھ بلندی کو چھوتی گئی۔ لیکن پنجاب (پاکستان) کا مزدور، غریب اورکسان ہمیشہ کی طرح وڈیرے، زمیندار، صنعت کار اور ایک مخصوص طبقے کے ہاتھوں پستا رہا۔

ایسے میں 1967 میں ذوالفقار علی بھٹو نے پی پی پی نامی سیاسی جماعت کی بنیاد پنجاب کے دل لاہور میں رکھی اور اس نئی نویلی جماعت کے نہتے جیالوں نے اپنی جدوجہد سے سٹیٹس کو کی طاقتوں کو للکارنا شروع کیا۔ پنجاب کے پسے ہوئے اور متوسط طبقات میں پی پی پی کو حد درجہ پذیرائی ملی اور کیوں نا ملتی۔ پہلی بار تو کسی نے ان عام مزدوروں اور غریبوں کے حق کے لئے آواز اٹھائی تھی۔ کہتے ہیں تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ اور پھر پنجابی جیالوں اور بھٹو کا رشتہ جسم اور روح کی طرح لازم و ملزوم ہو گیا۔ بھٹو شہید کی پھانسی کے وقت پنجابی جیالوں نے ہر طرح کی صعوبتیں جن میں زندہ جلایا جانا، پھانسیاں، سر عام کوڑے مارے جانا، اور کال کوٹھڑی کی سزائیں بھٹو کے نعرے بلند کرتے ہوئے ہنسی خوشی اور فخریہ انداز میں قبول کیں۔

بھٹو شہید کے اس دارِ فانی سے رخصت ہونے کے بعد جب عملاً قیادت آپ کی بے نظیر بیٹی نے سنبھالی تو عوامی محبت کا ایک نا تھمنے والا ابرِ باران برس پڑا۔ آپ 1986 میں وطن واپسی پر لاہور پہنچیں تو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مجمع آپ کے استقبال کے لئے لاہور میں جمع تھا۔ جس کی مثالیں آج تک دی جاتی ہیں۔ پنجاب میں اسٹیبلشمنٹ نامی بلا کے پروردہ ظالم سماج کے مقابلے میں پنجابی جیالے بی بی کے نام پر حرف اٹھانے والوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانیں تک نچھاور کرتے رہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس دن 1996 میں آپ کو حکومت سے الگ کرنے کی سازش کی گئی اس دن پنجاب کے کئی شہروں اور دیہاتوں میں جیالے اس انوکھی آمریت سے نبرد آزما ہوئے اور ان میں سے کئی اپنی بی بی محترمہ بے نظیر کی خاطر اپنی جان سے ہاتھ تک دھو بیٹھے۔

لیکن 27 دسمبر کی ایک شام میں ساری سیاستیں، مخالفتیں، حمایتیں، نفرتیں اور محبتیں وہ سب کچھ جو بے نظیر کی زندگی کا حصہ تھا، ماضی کے اندھیرے میں گم ہو گیا۔

الیکشن 2008 نے ثابت کیا کہ پنجابی جیالوں کا یہ رشتہ بھٹو صاحب کی ذات تک محدود نا تھا بلکہ ان غریب اور کمزور طبقوں نے تو بھٹو ازم کو اپنا عقیدہ بنا لیا تھا جسے وہ نجات کا واحد راستہ سمجھتے تھے اور یہ عقیدہ آج تک ان کے دلوں میں اسی طرح زندہ ہے۔

یہاں یہ کہنے اور ماننے کو دل چاہتا ہے کہ پنجاب کے جیالے ان درختوں کی مانند ہیں جو کٹ تو سکتے ہیں لیکن اپنی جگہ نہیں بدل سکتے اس کا واضح ثبوت پی پی پی کے نوجوان چئیرمین کا حالیہ انتخابات میں محدود دورۂ پنجاب ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا جہاں جہاں سے گزر ہوا۔ وہاں وہاں پنج آبی جیالوں کی آبیاری ہو گئی۔

پنجاب میں جماعت کی موجودہ حالت سے متعلق اہم کردار پاکستان کے سابق صدر اور شہید بی بی کے شوہرِ نامدار آصف علی زرداری کو ادا کرنا ہے وہ سندھی بلوچ ہیں۔ ان کے پختونوں سے بے مثال تعلقات ہیں اور پنجابی وہ کسی بھی بہترین پنجابی سمجھنے والے کے برابر سمجھتے ہیں۔ انہیں وقت کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے یہ جاننا ہو گا کہ پنجابی جیالوں اور بھٹوز کے درمیان تو کال کوٹھڑی، کوڑے، لاٹھیاں، معاشی تدنگدستی اور یہاں تک کے پھانسیاں بھی حائل نا ہو سکیں۔ شہید بھٹوکے ورثاء کو تو دو چیزیں ہمیشہ ہی وراثت میں ملی ہیں جن میں سے پہلی بے پناہ عوامی محبت اور دوسری اسٹیبلشمنٹ نامی بلا کی شدید نفرت سے لبریز مخالفت۔

پنجاب کا جیالا آج بھی اپنی چھت پے پارٹی کا پرچم لہراتے ہوئے آنکھوں سے رواں اشکوں کو چھپانے سے قاصر ہے۔ اسے پھر سے اپنے خون کو گرمانا ہے۔ وہ بزدل نہیں نا ہی وہ عقوبت خانوں اور موت کے خوف سے گھبراتا ہے۔ آج بھی وہ اپنے بچوں کو بھٹو نام سے محبت کی تربیت دیتا ہے۔ اسے یقین ہے کہ اس کی قیادت اس کو ایک بار پھر سے اس سنہرے دور کاجیالا بننے کا بھرپور موقع فراہم کرے گی کہ جب وہ مخالفین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ”بھٹو دے نعرے وجن گے“ کی صدائیں بلند کر رہا ہو گا۔

Facebook Comments HS