سبزی سے جسم بیچنے تک کا سفر
نبیل اکثر اپنے ٹرینی دوستوں کو اپنے روم میٹس اور پلاٹون میٹس کو اس سبزی والی کے بارے بتاتا۔ اس کی آنکھوں کا تذکرہ کرتا۔ نبیل اس گوری چٹی لڑکی کو کسی میلے کچیلے پانی کے جوہڑ میں کھلے کنول سے تشبیح دیتا۔ پتہ نہیں کیوں نبیل اس سبزی والی لڑکی کو بھول ہی نہیں پاتا تھا۔ نہ تو نبیل نے اس لڑکی سے کبھی کوئی بات کی نہ ہی اس سبزی ولی نے کبھی نبیل کی طرف دیکھا۔ وہ ہمیشہ اپنے کام میں مصروف رہتی۔ دوپٹے میں لپٹا ہوا اس کا بھرا بھرا حسن اسے معتبر بناتا تھا۔
اس سبزی والی کی آنکھوں میں حیا تھی۔ جب وہ اپنے دوپٹے سے پیشانی ہونٹوں اور رخسار سے پسینہ صاف کرتی تو صبح صادق کے افق پہ ابھرتے سورج کی کرنوں کی طرح اس کا روپ دھکنے لگتا۔ ایسا لگتا کسی کوئلوں والے ٹرین کے انجن میں راکھ بنتے بجھتے کوئلوں کو اچانک ٹرین کے ڈرائیور نے پریشر سے ہوا دے دی ہو۔ نبیل نے اس سبزی والی کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ بنانے والے نے اسے بہت ناپ تول کے بنایا تھا۔ کوئی بھی حسن پرست شہزادہ اسے اپنی سلطنت کی ملکہ بنا لیتا۔
کاش حسن بانٹتے وقت سب کا پرودگار چند سکے بھی اس کرموں جلی کے مقدر میں لکھ دیتا۔ بے شک مفلسی اور محرومیوں کے سائے اس کے حسن کو ماند کیے ہوئے تھے مگر وہ غریب ہونے کے ساتھ بہت خودار لڑکی تھی۔ اس کی آواز میں مردانہ رعب تھا۔ وہ نبیل سے کہیں زیادہ بہادر تھی۔ اگر اس کا اور اس کے بھائی کا آسرا نہ ملتا تو شاید نبیل کبھی چوزے نہ بیچ پاتا اپنی کرائے کی سائیکل کا کرایہ تک نہ ادا کرپاتا۔
نبیل کے بیج کی ٹریننگ مکمل ہوچکی تھی۔ پورے نو ماہ کی ٹریننگ پوری ہونے کے بعد انھیں کچھ چھٹیاں ملی تھیں۔ چھٹیوں کے دنو ں میں، نبیل ہر روز کرائے کی سائیکل لیتا مگر اس بار اس کی سائیکل پہ چوزوں کے ڈبے نہیں ہوتے تھے بلکہ اس کا مقصد اس سبزی بیچنے والی کو ڈھونڈنا ہوتا۔ نبیل ان گلی محلوں میں جاتا جہاں وہ لڑکی سبزی بیچا کرتی تھی۔ یہ تو اللہ کو ہی پتہ ہے کہ نبیل اسے کیوں ڈھونڈنے جاتا تھا۔ بہر حال وہ اسے ڈھونڈنے بھی جاتا تھا اور اسے دیکھنا بھی چاہتا تھا۔
شاید اسے کچھ کہنا چاہتا تھا۔ نبیل کے دل میں اس سبزی والی کے لیے ہمدردی تھی یا محبت یہ بھید کبھی نبیل پہ بھی نہ کھل سکا۔ شاید نبیل اسے بتانا چاہتا تھا کہ تم بہت خوبصورت ہو۔ تمھارا مقدر گدھا ریہڑی پہ سبزی بیچنا نہیں بلکہ کسی دل پہ حکومت کرنا ہے۔ لیکن وہ لڑکی اسے ان گلیوں بازاروں میں نہ ملی۔ نبیل نے یہ سوچ کر دل کو تسلی دے لی کہ وہ بہت خوبصورت تھی شاید کسی نے اس سے شادی کرلی ہوگی۔ ادھر نبیل کی چھٹیاں ختم ہوگئیں۔ اس نے پولیس لائن جا کر اپنی حاضری کرلی۔ ْ
خوش قسمتی سے نبیل کی پہلی ڈیوٹی اسی کے شہر میں لگ گئی نبیل اپنے ہی علاقے کے تھانے میں تعینات ہوگیا۔ سب انسپکٹر لطیف صاحب نے تمام نفری کو جلدی جلدی تیار ہونے کو کہا۔ کوئی ریڈ تھا۔ کہیں چھاپہ مارنے جانا تھا۔ نبیل بھی ریڈ پارٹی میں شامل تھا۔ پولیس پارٹی نے ایک جسم فروشی کے اڈے پہ چھاپہ مارا چار لڑکے ایک نائکہ اور چار ہی لڑکیاں انسانیت کی تذلیل کرتے قابل اعتراض حالت میں گرفتار ہوئے۔ اسے تو شاید کوئی چوزے بیچنے والا لڑکا یا د بھی نہیں تھا لیکن نبیل کو وہ لڑکی ہو بہو یاد تھی۔ چلملاتی دھوپ جیسا آنکھوں کو خیرہ کرتا اس کا روپ۔ شرمیلی آنکھیں کشادہ پیشانی ہرن جیسا اٹھا ہوا سینہ کانوں کی لو جیسے نرم و ملائم ہونٹ ایک سراپاء حسن وہ سبزی والی جس کے ہاتھ سے نبیل نے مولیاں محض اس لیے خریدی تھیں تاکہ اسے قریب سے دیکھ سکے۔
میلے کپڑوں میں ملبوس وہ جل پری کبھی بھی نبیل کی آنکھوں سے اوجھل نہ ہوئی تھی۔ ایک چوزے فروش لڑکا اسے یاد ہوتا بھی کیسے انھوں نے کبھی آپس میں بات ہی نہیں کی تھی۔ وہ تو نظریں اٹھا کر دیکھتی بھی نہیں تھی۔ اور ایک خودار شرم و حیا ء کی پیکر لڑکی سے نبیل بات کرتا بھی تو کیسے کرتا۔ ویسے بھی نبیل کو عزت نفس اپنی خواہش سے کہیں زیادہ عزیز تھی۔ آج بھی اس نے صرف ایک بار نظریں اٹھا کر نبیل طرف دیکھا جب نبیل نے اسے بازو سے پکڑ کر سرکاری گاڑی میں بٹھایا۔
آلو پیاز شلجم مٹر بیچنے سے جسم بیچنے تک کا سفر کیسے طے ہوا یہ ایک معمہ ہے۔ جس کی یاد میں نبیل کی پوری نو ماہ کی ٹریننگ کا ایک ایک لمحہ حسین تھا۔ جس کے دم سے اچانک نبیل کی دنیا آباد اور خوبصورت ہو گئی تھی۔ پورے نو ماہ جس سے بات کرنے کے نبیل بہانے تراشتا رہا وہ چند روپوں کے عوض ہر روز بکتی رہی۔ نبیل کے سامنے اس کے سپنوں کی راجکماری ایک ایسے روپ میں آئی کہ نبیل چاہ کر بھی کوئی اظہار نہیں کر سکتا تھا۔ وہ آج دو چار سو روپے میں دستیاب تھی۔

