سردی الوداعی اٹھکیلیاں کر رہی تھی کچھ گھانبڑ اور طبعاً سست ملازمان کے علاوہ باقی وردی پہن کر ڈیوٹی کرنے والے افسران و جوانوں نے دن کے اوقات کار ڈیوٹی میں سرکاری جرسیاں پہننا ترک کردیا تھا۔ بارشیں بھی ایک تسلسل سے جاری تھیں۔ پیڑ پودوں پہ نکلتی نئی نوخیز کونپلوں نے لال سوہانرہ نیشل پارک کی خوبصوررتی کو چار چاند لگا دیے تھے۔ پارک میں اگے انواع واقسام کے پھولدار پودوں نے نئی بیاہی دوشیزہ کے بھڑکیلے شوخ اور فینسی جوڑوں کے جیسی مختلف رنگوں کے پھولوں اور تازہ مہکتی چٹکتی کلیوں کی شالا اوڑھ لی تھی۔
سورج کی تپش میں سرد ہواؤں کی آمیزش نے صرف پرندوں تتلیوں بھنوروں کو ہی نہیں بلکہ انسانی جسموں کو بھی پوست کے نشے کی طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ لال سہانرا پارک میں بنائی گئی مصنوعی جھیل کے پانی پہ گھنے درختوں کی ٹہنیوں اور شاخوں سے چھن چھن کر پڑتی سورج کی کرنیں یوں محسوس ہورہی تھیں جیسے پانی کی سطح پہ کسی نے سلمے ستارے کے کام والی چادر بچھا دی ہو۔ انور جام شیریں کی بوتل جیسا سرخ کبڈی کے کھلاڑی جیسا توانا نوعمر اور مضبوط اعصاب کا مالک جوان تھا اس کا گورا چٹا رنگ سیاہ یونیفارم میں دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا جو بھی نظر انور کے درخشندہ چہرے پہ اتفاقاً پڑتی دوبارہ پلٹ کے دیکھنا اس کی مجبوری بن جاتا۔
Read more