ایک اجنبی خاتون کے لئے عید راشن کا پہلا میسج

میں موبائل بیلنس حاصل کرنے کے لیے محلے کی دکان پہ پہنچا تو ایک پینتیس چھتیس سالہ خاتون کچھ سودا سلف لے رہی تھی اور چھ سات سال کا بچہ اس کی قمیض کا دامن کھینچ کھینچ کر کہہ رہا تھا ”امی بسکٹ لے کر دیں۔ “ میں بھی انتظار میں کھڑا ہو گیا کہ دکاندار فارغ ہوتا ہے تو موبائل لوڈ کرواتا ہوں۔ یہ کیا دو کلو أٹا، بیس روپے کا گھی، پانچ روپے کا چائے کی پتی کا پیکٹ، دس روپے کی چینی، پانچ روپے کا اچار۔ افف یہ پسینہ مجھے گرمی اور روزے کی وجہ سے أرہا ہے یا کوئی اور وجہ ہے؟

Read more

ہیلو پاپا جی، یہ دھماکہ کیا ہوتا ہے

خاوند۔ السلا م وعلیکم بیوی۔ و علیکم السلام آج صبح صبح فون خیریت ڈیوٹی نہیں جانا؟ خاوند۔ ڈیوٹی جانا ہے۔ جب مس کال کرو گی تو کال کے لیے وقت تو نکالنا پڑے گا۔ مس کال کیوں کی؟ بیوی۔ میں نے مس کال کی؟ نہیں نہیں سر، میں تو کچن میں ہو ں۔ خاوند۔ یار…

Read more

تقریب رونمائی مزاح کبیرہ کا آنکھوں دیکھا حال۔

محکمہ پولیس کے بارے ایک بڑا غلط تاثر قائم ہے کہ اس محکمہ کے ساتھ جڑے ہوئے افسران بیمار اجسام کے ساتھ ساتھ بیمار اذہان کے مالک ہوتے ہیں جن کی ذاتی زندگی پریشانیوں میں گھری ہوئی ہوتی ہے۔ شاید محکمہ پولیس میں ہماری پیدائش سے پہلے ایسے لوگ لازمی پائے جاتے ہوں گے لیکن…

Read more

جبروت کو جبو بننے کے لئے کس راستے پر چلنا پڑا؟

جبروت بالکل ہی بیٹیوں جیسا لڑکا تھا انتہائی شرمیلا گلابی گلابی آنکھیں پتلے پتلے ہونٹ لچھے دار ہچکولے کھاتی گفتگو۔ باتیں کرتا تو ہونٹوں کے ساتھ اس کے کاغذی نتھنے بھی جنبش کرتے۔ جب وہ بے خیالی میں کبھی ہنستا تو اس کے ارد گر د ہواؤں کے دوش پر ایک عجیب سی کھنکھناہٹ پیدا ہوجاتی۔ چلتے ہوئے زمین پہ اس نازک انداز سے قدم رکھتا گویا زمین کے بدن پر چھالے ہوں۔ اگر کبھی بے خیالی میں انگڑائی لیتا تو اس کے ہم جماعت شرارتی لڑکے ششدر ہو کر رہ جاتے۔

اس کے انگ انگ سے نسوانی زہر چھلک جاتا۔ اس کے مشاغل میں اپنی دونوں بڑی بہنوں کے ساتھ رسی پھلانگنا اڈا کھڈا کھیلنا گڑیا پٹولے بنانا اور امی کے ساتھ باتیں کرنے کے علاوہ ایکشن سے بھرپور کہانیاں پڑھنا بھی شامل تھا۔ وہ اکثر ایسی کہانیا ں پڑھتا جن میں کہانی کا ہیرو ناممکن کو ممکن کر دکھاتا ہو۔ جبروت ہمیشہ کچھ نہ کچھ حیران کن کرنے کے بارے میں سوچتا رہتا اور جب اپنی ہیرو بننے کی خواہش کا اظہار اپنے ہم جماتیوں سے کرتا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے مختلف زنانہ نامو ں سے پکارتے شاید یہی وجہ تھی کہ وہ ہر کہانی میں صرف اور صرف ہیرو کے کارناموں تک ہی محدود رہتا۔

Read more

سائیکل پر ڈاک پہنچانے والا ڈاکیا اور سرکاری ڈاک خانہ

محکمہ ڈاک سے میرے کچھ پرانے اور سہانے مراسم ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب بھی ڈاکیاڈاک لے کر ہمارے پولیس ٹریننگ کالج آتا تو اسے میلی کچیلی وردی میں ملبوس اورپرانی سی سائیکل پہ سوار دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوتا۔ مجھے اپنے محلے کی دکان پہ روزانہ علی الصبح رس بسکٹ اوربیکری کادیگر سامان سپلائی کرنے والا چاچا منظور یاد آجاتا جو گرمی سردی کے موسم میں ہر صورت ہمارے محلے کی دکان پر مال سپلائی کرنے آیا کرتا تھا۔

Read more

شیدا۔ ہیلو آنٹی ہاؤ آر یو؟

ماسی پھتے۔ پُتر شیدے سلام ناں دعا تجھے لگتا ہے واوا ای تعلیم کی کمی ہے اینے چِر ( عرصے ) بعد تو میری ہٹی پہ آیا ہے میں سوچ رہی تھی تو پہلے سے کافی سمجھدار ہو گیا ہو گا پَر پُتر تیرا تو پہلے سے بھی بیڑہ غرق ہو ا پڑا ہے اور تو، تو بڑوں کا ادب کرنا بھی بھول گیا ہے۔ پُتر پہلے بزرگوں کو ادب کے ساتھ سلام کہتے ہیں حال وال ( احوال ) پوچھتے ہیں پھر کوئی دوسری بات کرتے ہیں۔

شیدا۔ اوہ مائی گاڈ آنٹی میں نے آپ کو سب سے پہلے ہیلو بولا ہے آپ کو سمجھ نہیں آئی تو یہ میری مِس ٹیک نہیں ہے۔

Read more

دفتری شیشہ۔ (صاحب جی، ایہندا کی مطلب اے؟)

چاچا شیرا پچھلے دس سال سے پولیس لائن کے ریسٹ ہاوس میں ملازم تھا۔ پانچ جماعت پڑھا چاچا شیرا ایک سادہ اور نیک آدمی تھا۔ بس اس کا کام تھا ریسٹ ہاؤس کی دیکھ بھال صفائی ستھرائی اور پولیس ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرنے والے افیسرز کی خدمت اور چائے کھانے کا بندوبست کرنا۔ عرصہ دس…

Read more

فیس بک کے جال سے کفن کی اوٹ تک

سردی الوداعی اٹھکیلیاں کر رہی تھی کچھ گھانبڑ اور طبعاً سست ملازمان کے علاوہ باقی وردی پہن کر ڈیوٹی کرنے والے افسران و جوانوں نے دن کے اوقات کار ڈیوٹی میں سرکاری جرسیاں پہننا ترک کردیا تھا۔ بارشیں بھی ایک تسلسل سے جاری تھیں۔ پیڑ پودوں پہ نکلتی نئی نوخیز کونپلوں نے لال سوہانرہ نیشل پارک کی خوبصوررتی کو چار چاند لگا دیے تھے۔ پارک میں اگے انواع واقسام کے پھولدار پودوں نے نئی بیاہی دوشیزہ کے بھڑکیلے شوخ اور فینسی جوڑوں کے جیسی مختلف رنگوں کے پھولوں اور تازہ مہکتی چٹکتی کلیوں کی شالا اوڑھ لی تھی۔

سورج کی تپش میں سرد ہواؤں کی آمیزش نے صرف پرندوں تتلیوں بھنوروں کو ہی نہیں بلکہ انسانی جسموں کو بھی پوست کے نشے کی طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ لال سہانرا پارک میں بنائی گئی مصنوعی جھیل کے پانی پہ گھنے درختوں کی ٹہنیوں اور شاخوں سے چھن چھن کر پڑتی سورج کی کرنیں یوں محسوس ہورہی تھیں جیسے پانی کی سطح پہ کسی نے سلمے ستارے کے کام والی چادر بچھا دی ہو۔ انور جام شیریں کی بوتل جیسا سرخ کبڈی کے کھلاڑی جیسا توانا نوعمر اور مضبوط اعصاب کا مالک جوان تھا اس کا گورا چٹا رنگ سیاہ یونیفارم میں دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا جو بھی نظر انور کے درخشندہ چہرے پہ اتفاقاً پڑتی دوبارہ پلٹ کے دیکھنا اس کی مجبوری بن جاتا۔

Read more

شہید کا بیٹا اور عید ملن پارٹی

پولیس کے آڈیٹوریم میں ملازمان و افسران کی عیدملن پارٹی چل رہی تھی۔ بھانڈ گویے اور سازندے اپنے اپنے فن سے ماحول کو گرما رہے تھے تالیوں قہقہوں کی گونچ نے آڈیٹوریم کے ماحول کو پہاڑوں سے گرتے جھرنوں کی کھن کھن کی آواز کی طرح پر ترنم کر رکھا تھا۔ عید کی خوشی اور پھر اس خوشی کے موقع پر ڈی آئی جی صاحب کی طرف سے دیے گئے اعشایے سے تمام پولیس افسران بہت خوش تھے کہ اچانک ایک بیس بائیس سال کا لڑکا شلوار قمیض پہ پولیس کی جرسی پہنے اور ہاتھ میں پولیس کیپ پکڑے جناح آڈیٹوریم میں داخل ہوا۔سٹیج پہ کھڑے میزبان نے بڑے غصے سے کہا اوہ لڑکے تم کدھر آگئے ہو تمھیں نہیں پتہ یہاں پولیس والوں کی عید ملن پاڑٹی چل رہی ہے۔ سیکیورٹی والے جوان نکالو اسے باہر۔ سیکیورٹی ڈیوٹی پہ مامور دو جوانوں نے آگے بڑھ کر اس نیم پاگل لڑکے کو بازؤں سے پکڑ کر خارجی دروازے کی طرف کھینچنا شروع کردیا لیکن وہ لڑکا بار بار ایک ہی بات کہہ رہا تھا یہ سب لوگ میرے چاچو ہیں مجھے چاچوؤ ں سے بات کرنی ہے۔ یہ سب لوگ میرے چاچو ہیں مجھے چاچوؤ ں سے بات کرنی ہے۔ جب ڈی آئی جی صاحب نے دیکھا کہ وہ لڑکا بضد ہے کوئی بات کرنا چاہ رہا ہے تو ڈی آئی جی صاحب نے اپنے پی ایس او سے کہا لڑکے کو بات کرنے دی جائے۔

Read more

کمانڈو کی ڈائری سے انتخاب

ہماری آرمی کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ ہمارا دشمن پاکستان آرمی کا نام سن کر لرز اٹھتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں افواج کی جنگی مشقوں کے مقابلے ہوں، ہماری فوج اپنی بہترین جنگی مہارتوں اور جرات کا مظاہرہ کرتی ہے اور ملک و قوم کا نام روشن کرتی…

Read more