بیوی کا بدلہ

بنسی لال شہر کی گلیوں میں رکشہ چلایا کرتاتھا۔ بنسی لال لمبا تڑنگا، کسرتی بدن اور نوکیلے نقوش کا مالک نوجوان تھا۔ رنگ تو اس کا سانولا تھا مگردیکھنے والے کی نظر شاید بنسی لال کے رنگ پہ کم اور مضبوط بدن پہ زیادہ پڑتی ہوگی یہی وجہ تھی کہ بنسی لال ہندوؤں کی بستی کا ہر دلعزیز سپوت بنا ہوا تھا۔ بنسی لال کا چھریرا بدن سانولے رنگ پہ غالب تھا۔ بنسی لال کی بیوی مُکھی شریف ہونے کے ساتھ ساتھ سگھڑ اور گھریلولڑکی تھی۔

Read more

بدتہذیب کی مہمان داری

وہ میرے ایک قریبی دوست عباس کے جاننے والوں کی حویلی تھی۔ چوڑ چپٹ، کسی گاؤں میں بڑے زمیندار کے ڈیرے جیسی۔ کھلا صحن، صحن میں مرغیوں، کبوتروں، کے کچے ڈربے، ایک طرف بڑے خطرناک منہ والا دم کٹا ہیبت ناک راہل ٹپکاتا گلٹری کتا بندھا تھا۔ جو ہر آنے والے کو بھونک کر خوش آمدید کہتا۔ ایک میری پسند کی اور بڑے مزے کی بات یہ تھی کہ صحن میں نیم کا ایک پرانا پیڑ تھا جسے یہ حویلی بناتے وقت بالکل نہیں چھیڑا گیا تھا۔ اس نیم کے پیڑ کے نیچے مٹی کے کیڑی مار پانی اور باجرے سے بھرے پڑے تھے۔ چڑیاں کوئے لالیاں (گرسل) باجرہ کھا رہے تھے اور پانی کے برتنوں میں پر پھیلائے اٹکھیلیاں کر رہے تھے۔

Read more

ایک لڑکے کی کربناک الجھن

وہ گھر سے بھاگ گیا تھا۔ اس کے والد صاحب نے فیس بک پہ اشتہار لگایا کہ میرا بیٹا شاہزیب گھر سے غائب ہے۔ میرے دوست احباب اسے ڈھونڈنے میں میری مدد کریں۔ شاہزیب کے والد کا شمار میرے بہترین دوستوں میں ہوتا ہے۔ اشتہار دیکھ کر میں بہت حیران ہوا۔ چودہ پندرہ سال کا کھلتے گلابوں جیسا پیارا سا نوعمر شاہزیب جس نے ابھی ابھی میٹرک کا امتحان دیا تھا اور امتحان میں انتہائی قابل ستائش کارکردگی دکھا کر سب کو حیران کر دیا تھا۔گھر سے کیسے بھاگ سکتا ہے۔ وہ تو بہت سلجھا ہوا اور نیک سیرت لڑکا تھا۔ پھر یہ کیا ہوا۔ فیس بک پہ شاہزیب کی گمشدگی کی خبر میرے لیے ایک بہت بری خبر تھی۔ میرے دل میں عجیب عجیب وسوسے سر نکالنے لگے۔ کسی نے شاہزیب کو اغواہ کر لیا۔ مگر کوئی اس کو اغواہ کیسے کرے گا۔ وہ تو ایک متوسط گھرانے کا چشم و چراغ تھا اور ا س کے والد کی کسی سے کوئی دشمنی بھی نہ تھی اس کے والد انتہائی نیک نمازی اور اپنے کام سے کام رکھنے والے انسان تھے۔

Read more

ریاض، یہ لاش ننگی کیوں ہے؟

ریاض اور تابش کی دوستی اپنی مثال آپ تھی۔ بس دونوں ایک ماں کے پیٹ سے پیدا نہ ہو سکے تھے، ورنہ دیکھنے والے کے لیے اندازہ لگانا مشکل تھا، کہ یہ دونوں بھائی ہیں یا دوست۔ کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا گھومنا پھرنا کاروبار سب ایک ساتھ۔ دونوں نے شہر کی ایک بڑی مارکیٹ میں…

Read more

طوائفوں کی بچیاں خوبصورت کیوں ہوتی ہیں؟

انیس سو بانوے کی بات ہے جب بطور ٹی، اے، ایس، آئی میری تعیناتی تھانہ ٹبی سٹی لاہور میں ہوئی۔ وہاں ڈیوٹی کے اوقات کار بڑے عجیب تھے۔ رات دس بجے ڈیوٹی شروع ہوتی اور صبح اذان فجر تک ہم گلیوں میں پیدل گشت کیا کرتے۔ میرے ساتھ جیرا اور فضل دین سپاہی ہوا کرتے تھے۔ ان کے ہاتھ میں لمبی لمبی بانس کی سوٹیاں اور میرے ہاتھ میں سیاہ چھڑی ہوا کرتی تھی۔ وہ بھی کیا وقت تھا نہ بندوق نہ پستول اور نہ ہی بم دھماکے۔

رات بھر ہم گشت کیا کرتے اور پورا دن پھر ہم سو کر گزارتے۔ طبلے، سارنگی، ڈھولکیوں اور گھنگروؤں کی آوازیں کیا سماں باندھ دیا کرتی تھیں۔ ایسا لگتا تھا شہر کا شہر اس محلے کی گلیوں میں امنڈ آیا ہے۔ ہر رات ہم کسی نہ کسی تماش بین کی یا کسی دلال کی ٹھکائی کیا کرتے تھے۔ آمدن بھی خوب ہوتی۔ جیرا اور فضل دین ایک عرصہ سے اس تھانہ میں تعینات تھے۔ وہ اس بازار کی ہر اونچ نیچ اور یہاں نوکری کے طور طریقوں سے بخوبی واقف تھے۔

Read more

غریب محلہ حاصل پور

تحصیل حاصل پور کا ایک وسیع وعریض رقبے پر پھیلا کثیر آبادی اور کچے پکے مکانات پہ مشتمل ایک محلہ غریب محلے کے نام سے جانا جاتاہے۔ محلے کی کچی کوڑے کے ڈھیر لگی گلیوں میں غربت بھوک ننگ اور محرومیوں کے سائے جابجا رقصاں اور ہر تیسرے گھر کو پنی لپیٹ میں لیے ہوئے…

Read more

ایک اجنبی خاتون کے لئے عید راشن کا پہلا میسج

میں موبائل بیلنس حاصل کرنے کے لیے محلے کی دکان پہ پہنچا تو ایک پینتیس چھتیس سالہ خاتون کچھ سودا سلف لے رہی تھی اور چھ سات سال کا بچہ اس کی قمیض کا دامن کھینچ کھینچ کر کہہ رہا تھا ”امی بسکٹ لے کر دیں۔ “ میں بھی انتظار میں کھڑا ہو گیا کہ دکاندار فارغ ہوتا ہے تو موبائل لوڈ کرواتا ہوں۔ یہ کیا دو کلو أٹا، بیس روپے کا گھی، پانچ روپے کا چائے کی پتی کا پیکٹ، دس روپے کی چینی، پانچ روپے کا اچار۔ افف یہ پسینہ مجھے گرمی اور روزے کی وجہ سے أرہا ہے یا کوئی اور وجہ ہے؟

Read more

ہیلو پاپا جی، یہ دھماکہ کیا ہوتا ہے

خاوند۔ السلا م وعلیکم بیوی۔ و علیکم السلام آج صبح صبح فون خیریت ڈیوٹی نہیں جانا؟ خاوند۔ ڈیوٹی جانا ہے۔ جب مس کال کرو گی تو کال کے لیے وقت تو نکالنا پڑے گا۔ مس کال کیوں کی؟ بیوی۔ میں نے مس کال کی؟ نہیں نہیں سر، میں تو کچن میں ہو ں۔ خاوند۔ یار…

Read more

تقریب رونمائی مزاح کبیرہ کا آنکھوں دیکھا حال۔

محکمہ پولیس کے بارے ایک بڑا غلط تاثر قائم ہے کہ اس محکمہ کے ساتھ جڑے ہوئے افسران بیمار اجسام کے ساتھ ساتھ بیمار اذہان کے مالک ہوتے ہیں جن کی ذاتی زندگی پریشانیوں میں گھری ہوئی ہوتی ہے۔ شاید محکمہ پولیس میں ہماری پیدائش سے پہلے ایسے لوگ لازمی پائے جاتے ہوں گے لیکن…

Read more

جبروت کو جبو بننے کے لئے کس راستے پر چلنا پڑا؟

جبروت بالکل ہی بیٹیوں جیسا لڑکا تھا انتہائی شرمیلا گلابی گلابی آنکھیں پتلے پتلے ہونٹ لچھے دار ہچکولے کھاتی گفتگو۔ باتیں کرتا تو ہونٹوں کے ساتھ اس کے کاغذی نتھنے بھی جنبش کرتے۔ جب وہ بے خیالی میں کبھی ہنستا تو اس کے ارد گر د ہواؤں کے دوش پر ایک عجیب سی کھنکھناہٹ پیدا ہوجاتی۔ چلتے ہوئے زمین پہ اس نازک انداز سے قدم رکھتا گویا زمین کے بدن پر چھالے ہوں۔ اگر کبھی بے خیالی میں انگڑائی لیتا تو اس کے ہم جماعت شرارتی لڑکے ششدر ہو کر رہ جاتے۔

اس کے انگ انگ سے نسوانی زہر چھلک جاتا۔ اس کے مشاغل میں اپنی دونوں بڑی بہنوں کے ساتھ رسی پھلانگنا اڈا کھڈا کھیلنا گڑیا پٹولے بنانا اور امی کے ساتھ باتیں کرنے کے علاوہ ایکشن سے بھرپور کہانیاں پڑھنا بھی شامل تھا۔ وہ اکثر ایسی کہانیا ں پڑھتا جن میں کہانی کا ہیرو ناممکن کو ممکن کر دکھاتا ہو۔ جبروت ہمیشہ کچھ نہ کچھ حیران کن کرنے کے بارے میں سوچتا رہتا اور جب اپنی ہیرو بننے کی خواہش کا اظہار اپنے ہم جماتیوں سے کرتا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے مختلف زنانہ نامو ں سے پکارتے شاید یہی وجہ تھی کہ وہ ہر کہانی میں صرف اور صرف ہیرو کے کارناموں تک ہی محدود رہتا۔

Read more