جون ایلیا کا نظمیہ اور فلسفیانہ ادراک


میں جو اب ایک رسوا کنِ آلِ ققنس ہوں
بائیس خواجہ کی چوکھٹ کا، اپنے پر و بال سے
ایک جاروب کش، اک مجاور رہا ہوں
مگر اب میں روزانہ پیتا ہوں، روزانہ
اپنے تنفس کی بخشش سے زہرِ ہلال
کی نعمت پہ جیتا ہوں
اب مری زندگی کا ہزرارہ تمامی پہ ہے
والسلامُ علی من یحب الصناء
والسلامُ علی من یر ید الو فا ء۔ یعنی۔ سلام ان پر جو وفا پرست ہیں

جون ایلیا جو ”من یرید الوفاء“ کی وفا پرستی سے سرشار ہیں اور اِسی پہ سلام بھیجتے ہیں۔ ان کی اپنی وفا زبان سے ہے، تاریخ سے ہے، تہذیب سے ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان سے ہے۔ اُن کی ذات کی یہ سب جہتیں اِس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ وہ دیوانہ شاعر ہی نہیں بلکہ دانشور بھی تھے۔ یہ سب باتیں تفصیل کی متقاضی ہیں مگر ایک بات جس کی طرف توجہ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ جون ایلیا ایک انٹیلیکچول کی حیثیت میں آج کے معاشرے میں انسان کی شکست و ریخت کے اندو ہ سے پوری طرح واقف تھے۔ شکست و ریخت کے اس عمل کو کلچرل سبوتاز کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

کلچر۔ جو پرانے زمانوں سے تاریخ کے دہارے میں شخصی اور معاشرتی رویوں کی طنابیں سنبھال کر رکھتا تھا۔ کلونیل، نیو کلونیل اور اب کے گلوبل امپیریل ازم کے بگولوں کی نذ ر ہو گیا ہے اور مزید ہو رہا ہے۔ ان سونامیوں میں انسان اپنی جڑوں سے اکھڑ گیا ہے اور اس کی شناخت کے تمام آزمودہ نسخے پامال ہو کر رہ گئے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں ”شناخت“ کے مسئلے پر نفسیات اور سوشیالوجی کے نقطہَ نظر سے کئی دہائیوں سے تحقیق ہو رہی ہے۔

یہ علیحدہ سے ایک توجہ طلب موضوع ہے مگر ہمارے یہاں شناخت کے موضوع پر اور اس سوال کے جواب میں اسلام اور پاکستانی نیشنل ازم کا جھنڈا کھڑا کر دیا جاتا ہے جو کہ معاملے کی نوعیت کے اعتبار سے نہا یت نا کافی ہے۔ جون ایلیا اس امر سے بخوبی واقف تھے کہ تاریخ اور تہذیب کا راندہء د رگاہ کہیں کا نہیں رہتا اور یہی وجہہ ہے کہ جون ایلیا کے یہاں شاعری اور نثر میں تاریخ کے حوالے جا بجا ملتے ہیں۔

میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ ”نارمل“ کی اصطلاح ایک متنازع معاملہ ہے لیکن ”نارمل“ کا حصول ہمیشہ سے انسان کا مطمعِ نظر رہا ہے۔ انسانی نفسیات کی یہ جہت ہمیشہ اس بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ انسان نارمل رہنے کے لئے تاریخ و تہذیب کے اندر رچا بسا ہوا ہو۔ اس موضوع پر بڑی توجہ طلب باتیں ان کی نثر میں ہیں مگر آپ یہی بات اب جون ایلیا سے نظم کی زبان میں ملاحظہ فرمائیے :

ہم کو اپنا نسب نامہ تا آدمِ بوالبشر یاد تھا
قبلِ تاریخ کی ساری تاریخ ذہنوں میں محفوظ تھی
ہم کو صبحِ نخستینِ ایجاد سے
اپنے اجداد تک
اپنے دالان و د ر
اُن کی بنیا د تک

ساری تفصیلِ کون و مکاں یاد تھی
ہم سب اپنے یقین و گماں کے فرحناک
اسرار میں
شاد و خرم تھے
خوش بین و خُرسند تھے
اے خداوند، میں تجھ سے معمور تھا۔

میں نے حوالے کے لئے یہ چند لائینیں اُن کی نظم ”رمزِ ہمیشہ“ سے انتخاب کی ہیں جس کا ذکر میں پہلے بھی کر چکا ہوں۔ کون و مکاں کا جو حوالہ اس نظم میں ہے، اُس کی تفصیل جون ایلیا کی کتاب ”فرنود“ اور اُن کی کتاب ”شاید“ کے دیباچے میں ہے مگر یہ کہنا بے محل نہ ہو گا کہ وہ جس آسانی سے اپنی بات کہنے پہ قادر ہیں، انسانی تاریخ میں اُسی بات کی ترسیل کی سعی کرتے ہوئے ہزار ہا آبلہ پا گزرے ہیں لیکن جون ایلیا ہزار ہا سالوں کی تاریخ کا ست نچوڑتے ہیں تو زبان سادہ اور بیان سلیس ہے۔ کبھی کبھی تو بقول یاس یگانہ چنگیزی یوں محسوس ہوتا ہے کہ :

”یہ کنارہ چلا کہ ناؤ چلی
کہیے کیا بات دھیان میں آئی ”

جون ایلیا صاحب کی سادہ بیانی کا تو جواب نہیں۔ غزل کے پیرائے میں کیفیت تو بیان ہو سکتی مگر فلسفہ اور معنی کہ جو ہوا میں رچی بسی زندگی کی خوشبو ہوں، کہ جن کی وجہ سے شاعری کو پیغمبری کا جزو قر ار دیا گیا ہے، جون صاحب جیسے ابلہ پا بھی اس مقام نیاز پر ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔ جون صاحب کا ایک شعر یاد آیا :

ہم نے خدا کا رد لکھا، نفی بہ نفی لا بہ لا
ہم ہی خدا گزیدگاں تم پہ گَراں گزر گئے۔

یہ شعر غزل کی جہت میں کمال ہے۔ مگر اس شعر کو فلسفیانہ امکانات کی نظر سے دیکھیں تو پہلا مصرع بے شمار امکانات کی راہ دکھلاتا ہے۔ مگر دوسرا مصرع ان امکانات کو واضح کرنے سے قاصر ہے۔ دوسرے مصرعے میں جون صاحب نے مکالماتی ٹیکنیک استعمال کر کے بلا شک و شبہ مصرع تو خوبصورت دیا ہے مگر اس مصرع سے کسی فلسفیا نہ نقطہ وری کی توقع کچھ مشکل سی بات ہے جو شاید غزل کی بحثیت پیرایہ اظہار کی بات ہے۔ تاہم مسلسل غزل جسے قطع کہیے، فکر اور سوچ کے اظہار کے لئے گنجائش مہیا کرتی ہے۔

سرے راہے کوئی اقبال سے نظریاتی اتفاق کرے یا اختلاف، اقبال نے اس حیئت کو نہایت خوبی سے استعمال کیا ہے۔ اور اس سے بھی ظاہر ہوا کہ تو یہ ذاتی مزاج اور سوچ کی کی بات ہے کہ کوئی شاعر اپنے فلسفیانہ خیالات کو کس مقام پر مربوط دلیل کی شکل دینا چاہتا ہے جیسے پرانے یونان اور یورپ کے بڑے شاعروں کا وطیرہ تھا، یا کون شاعر اپنے خیالات کو دلیل کی بجائے اظہاریے کا پیرایہ دے کر نئے جذبے کا رخ کرنے لگتا ہے جس میں کوئی قباحت نہیں۔

شاعری جب جذبے کو انگیخت کرے اور ہیجان پیدا کرے تو اس صورت میں شاعری عام فہم، ہر دل عزیز اور زبان زد عام تو ہو سکتی ہے مگر اسے دنیا کی بڑی شاعری کی صف میں رکھنا ذرا مشکل ہوتا ہے۔ اس نقطے کی وضاحت کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ جون صاحب کی نظم اور نثر میں بے پناہ فلسفیانہ خیالات ہیں اور موضوعات بھی ہیں اور ان کے پاس زبان کا جوہر بھی ہے مگر ایک طالب علم کی صحت نظر کے لئے جون صاحب کے یہاں ایک ہی موضوع پر مسلسل فلسفیانہ اظہار کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ فلسفے کا معاملہ ذرا دوسرا ہے۔ فلسفہ شروع سے آخر تک ایک مسلسل دلیل کا طالب ہوتا ہے۔

موجودہ زمانے میں فلسفے کے مباحث خدا، انسان، شعور کی نوعیت اور اخلاقیات کی مبادیات سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ بے شک کہ جون ایلیا کی تحریر میں موجودہ انسان کا فطرت کے ساتھ ظلم اور اس کے نتائج کسی واضح شکل میں موجود نہیں مگر انہوں نے سماجی سطح پر انسان کو دیکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ انسان کا شعوری سفر اب سماجی تاریخ کے جس مقام پر ہے اُس میں ظالم کی دراز دستی اور جبر و استبداد کی داستان کہنے میں جون ایلیا پُر انگیخت ہیں۔ انہیں کی زبانی:

”ابھی کچھ باتیں باقی ہیں جن کا بیان ضروری ہے۔ ہم دانتے کا اعتراف و احترام کرنے میں کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے۔ جبکہ اس نے آنحضرت اور حضرت علی کی شان میں شدید گستاخی کی تھی۔ ہم ڈارون اور لیمارک کے نظر یئہ ارتقا پر گفتگو کرتے اور اس پر لکھتے ہوئے کوئی خوف محسوس نہیں کرتے۔ حالانکہ یہ نظریہ مذہب کے خلاف ہے۔ ہم فرائیڈ کے جنسی نظرئیے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اپنے آپ کو بالکل محفوظ پاتے ہیں جب کہ اس نظرئیے کے مطابق ایک بچے کا منہ میں چسنی لینا اور اسے چوستے رہنا اور ایک بوڑھے کا کسی مقدس شے کو بوسہ دینا، ان دونوں کا محرّک جنس ہے۔

اور منارے اور گنبد جنہیں ہم مقدس حیثیت دیتے آئے ہیں جنس کی علامتیں ہیں۔ یہ نظر یات و خیالات صحیح ہوں یا غلط، یہ اُن لوگوں کے نظر یات ہیں جنہیں امریکہ اور دوسرے سرمایہ دار ملکوں کے سیاسی کلیساؤں نے کبھی اپنی برہمی کا نشانہ نہیں بنایا لیکن جرمنی کے ایک غریب اور فاقہ کش مفکّر نے جو اپنے مرتے ہوئے بچے کا علاج تک نہیں کر سکا، جو اس کے مرنے پر کفن خریدنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتا تھا، اس نے جب انسانوں کے بنیادی مسئلے کی سائینسی نشان دہی کی تو وہ سرمایہ داروں کی تمام اقلیموں میں مذہب روحانیت اور اخلاق کا باغی اور غدّار ٹھہرا۔

یہ شخص مارکس تھا۔ یہ شخص جو نیم فاقہ کشی کی حالت میں ساری دنیا کے انسانوں کے دکھ کا مداوا سوچا کرتا تھا اور ایک دن اپنے عظیم اور قابلِ تمجید استغراق کی حالت میں بیٹھے بیٹھے مر گیا۔ ہم جب تاریخِ فکر کے اس محبوب اور برگز یدہ بوڑھے اور اس کے حکیمانہ نظریے کا۔ کمیونزم کا ذکر کرتے ہیں اور اس کے ذریعے َ اپنے عوام کی نیم جاں زندگی کا مداوا چاہتے ہیں تو ہم نئے مغربی سامراج اور اس کے مقامی دلّالوں لے نزدیک اپنے ملکوں کے باغی اور غدار ٹھہرتے ہیں۔

میں محسوس کر رہا ہوں جیسے میں فریادی ماتم کرنے لگا ہوں اور انفعالیت کا شکار ہو گیا ہوں۔ نہیں جناب ایسا ہر گز نہیں ہے، میں تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سرمایہ داری نظام کے قحبہ خانوں کا گریبان پکڑ کر انہیں سرِ عام کھینچ کے لانا ہمارے فنون اور ہماری دانش کا فرض ہے۔ امریکہ اور مغربی یورپ کی ڈیرے دار سرمایہ داری کا وجود بیسویں صدی کے تہذیبی شعور اور عمرانی احساسِ جمال کی توہین ہے۔ ”

یہ تو بڑھتی ہی چلی جاتی ہے میعادِ ستم
جُز حریفانِ ستم کس کو پکارا جائے
وقت نے ایک ہی نکتہ تو کیا ہے تعلیم
حاکمِ وقت کو مسند سے اتارا جا ئے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ جون ایلیا جیسے مفکر کی عمومی پہچان اپنے فکری حوالوں کی بجائے روزمرہ کی زبان میں لکھی ہوئی غزل سے ہے۔ ایک جہان صرف اور صرف ان کی غزل سے واقف ہے اور مشاعرے میں وہ خود بھی غزل ہی پڑھتے تھے۔ چونکہ غزل کا پیرایہ فکری دلیل کے لئے ناکافی ہوتا ہے، اس لئے ان کے تفکر کی مختلف جہات جن کا ذکر میں نے اس مضمون میں کیا ہے وہ اُن کی نثر اور نظم میں نمایاں ہیں جن کی ترسیل عوام الناس تک نہیں ہو سکی لیکن اِس سے اُن کا تخلیقی مقام متاثر نہیں ہوتا۔ مگر جون کو مقام کی کیا ضرورت ہے، کہ وہ ہم سب بونوں کی بستی کا بونا شاعر تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ نوع انسانی اپنے بونے پن کیسے نجات پائے؟ اس موضوع پر گفتگو ”ہم سب“ پر جاری رہے گی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2