یروشلم۔ حرف حق اور خون نا حق کا استعارہ
یروشلم کی وادیوں میں غزل الغزلات کا شاعر نغمہ سرا ہے :
اے یروشلم کی بیٹیو۔ میں تم کو قسم دیتی ہوں
کہ اگر میرا محبوب تم کو مل جائے
تو اس سے کہہ دینا کہ میں مریض محبت ہوں۔
میرے محبوب کی زلفیں پیچ در پیچ اور کوے کی طرح کالی ہیں
اس کی آنکھیں ان کبوتروں کی مانند ہیں
جو دودھ میں نہا کر لب دریا تمکنت سے بیٹھے ہوں۔
محبت کے مغنی کی سر زمین یروشلم۔ یعنی خدا کا شہر۔ اس کی زمین نے انسانی تاریخ اور مذہبی روایات کو اپنے دامن میں سمیٹ رکھا ہے۔ یروشلم، جہاں تورات کے انبیاء آسمانوں سے اترے رہے اور یہیں سے ان کے مسیح کا شہید جسم سلامت اٹھایا جاتا ہے۔ اور یہیں سے معراج رسول کی رفعت کا آغاز ہوتا ہے۔
Read more


