میکاولی کا خط عمران خان کے نام

میرے روحانی عزیز عمران خان ۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ تم آکسفورڈ کے پڑھے ہوئے ہو مگر مجھے یہ معلوم نہیں کہ تم میری کتاب "دی پرنس" سے واقف ہو یا نہیں۔ میں مانتا ہوں کہ اس زمانے میں کرکٹ نے تمہیں ڈھیر سارا مصروف رکھا ہو گا اور پھر نوجوانی میں بہت سے مشاغل…

Read more

مہاتما گاندھی : سماجی لاشعور کی تیرگی میں دیے کی لو

مہاتما گاندھی کی وفات 30 جنوری 1948 کو ناتھو رام گاڈسے کی گولیوں سے ہوئی جب وہ پاکستان آنا چاہتے تھے۔ گاندھی کی پوری زندگی انسان سے محبت اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کے سفر میں آبلہ پائی کی کہانی ہے۔ دنیا کا سفر جس میں کذب و ریا کا دور دورہ ہے، اس میں انہوں نے راستی کی راہ شوق میں پے درپے تجربات کیے ۔ راستی کے اس سفر نے انہیں موہن داس کرمچند گاندھی سے مہاتما گاندھی یعنی عظیم روح بنا دیا۔

بر صغیر میں انگریزوں کی حکومت میں گاندھی کی سیاست سے متعلقہ واقعات آج کے مضمون کا بنیادی موضوع نہیں، تا ہم کچھ واقعات کا ذکر سر راہے آ جائے گا۔ آج کا موضوع مہاتما گاندھی کے راستی کی راہ میں تجربات اور سماجی نفسیات میں سوچ کے ان دہاروں سے واقفیت حاصل کرنا ہے جو سیاسی عمل پر منتج ہوئے۔ ان کی سیاست کے باب میں جو بات فوری طور پر ذہن میں آتی ہے وہ انہوں نے کوئی سو سال پہلے کہی تھی۔ کہتے ہیں اگر آپ ہندوستان کو امریکہ، برطانیہ کا پانچواں یا چھٹا ایڈیشن بنانا چاہتے ہیں تو ان کے راستے پر چلیے ورنہ آپ کو ہندوستان کے مسقبل لئے متبادل ہندوستانی راہیں تلاش کرنا ہوں گی۔

Read more

کیا طوائف کے ذریعے جنسی آسودگی ریپ کے واقعات کم کر سکتی ہے؟

ریپ کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ جنگوں میں ہر زمانے سے جہاں ہتھیار استعمال ہوتے تھے، وہیں عورتوں کا ریپ بھی اتنا ہی عام تھا۔ اس لئے اگر ریپ کو ناآسودگی کا نام دیا جائے تو دلیل کچھ یوں سمجھ میں آتی ہے کہ جنسی آزادی ریپ جیسے جرائم کو کم کر سکتی ہے۔ اور اسی وجہ سے ہمارے ممدوح کے مضمون میں طوائف کے کردار کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ اگر یہ ناچیز دلیل کو صحیح سمجھ پایا ہے تو یہ نہایت افسوس کا مقام ہے۔

Read more

جون ایلیا کا نظمیہ اور فلسفیانہ ادراک

گندم کی خوشہ چینی جس کی بنا پر آدم کو جنت سے نکلنے کا حکم ہوا تھا، اسی نان جویں کی تلاش میں اس درویش پر تقصیر نے عرصہ تیس سال میں پاکستان کی صورت صرف دو ہفتوں کے لئے بس ایک دفعہ ہی دیکھی ہے۔ اس کڑی سزا میں اس خاکسار کا تارک دنیا ہونا بھی شامل ہے۔ بہتری یہ ہوئی کہ خادم پاکستانی اردو کی ادبی گروہ بندیوں سے صاف بچ نکلا اور سوچ سمجھ کے بہت سے زاویے صرف انگریزی میں ہی سیدھے ہوئے۔

چند سال پہلے ٹورونٹو کینڈا میں رائیٹرز فورم کی ایک محفل میں محترم منیر سامی صاحب نے اس خاکسار کو جون ایلیا پر ایک مضمون پڑہنے کی دعوت دی تھی جس میں کئی احباب کے علاوہ عزیز دوست شاہد رسام اور نزہت صدیقی بھی موجود تھے۔ اس محفل میں شاہد رسام نے بھی جون ایلیا پر ایک خوبصورت مضمون پڑھا تھا جو ویڈیو کی شکل میں موجود ہے اور اس خاکسار کا مضمون بھی۔ شاہد رسام چونکہ خود آرٹسٹ ہیں اور نزہت صدیقی بہت اہتمام سے شعر کہتی ہیں، میرے لئے ان دونوں کی برابری کا دعوی تو قرین از قیاس ہے۔

Read more