معذور افراد کو ہمدردی نہیں، حقوق اور مواقع کی ضرورت ہے
آج کل پوری دنیا میں معذور افراد کو معاشرے کا فعال رکن بنانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
کچھ بین الاقوامی معاہدوں جن میں
” United nations conversation on the Rights of person with disabilities ” اور ” sustainable development goals ” شامل ہیں۔ ان معاہدوں پر ہماری ملک کے حکمرانوں نے دستخط کر کے اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ ان معاہدوں میں درج سفارشات پر اپنے ملک میں عمل درامد کروائیں گے۔ البتہ یہ عملدرآمد کب ہو گا؟ اور ہو گا بھی کے نہیں۔ یہ ایک الگ بحث ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم افراد باہم معذوری کو ایک مختلف اور خور سے الگ ایک مخلوق سمجھ کر بات کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سوچ اس وقت تک ہے جب تک ہمارے گھر میں کوئی معذور بچہ پیدا نہیں ہو جاتا۔ آ ئے روز ہونے والے روڈ سائیڈ ایکسیڈنٹ ، دہشتگردی کے واقعات، قدرتی آفات، زلزلے، سیلاب، کزن میرجیز اور وائرل انفکیشنز، یہ سب عوامل زندگی کی کسی بھی عمر میں معذوری کا سبب بن سکتے ہیں۔
یہ بات میں اپنے ذاتی تجربہ اور وسیع مشاہدے کی بنیاد پر وسوق سے کہہ سکتی ہوں کہ” ایک سیکنڈ” لگتا ہے کہ آپ کے صحت مند اور خوبصورت اجسام ساری زندگی کے لئے معذور ہو جاتے ہیں۔
کسی بھی گھر میں کبھی بھی معذور بچہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اور اگر آپ ساری عمر ایک بھرپور ” نارمل ” گزارنے کے بعد بڑھاپے کی عمر میں آتے ہیں تو قدرتی ” بایولاجیکل ” تبدیلی کی وجہ سے آپ کی آنکھیں چشمہ کے بغیر دیکھنے سے قاصر ہو جاتی ہیں۔ آپکو سننے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گھٹنوں کے امراض کی وجہ سے چلنے پھرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔ یہ سب بھی معذوری کی اقسام ہیں۔
آپ کا خلوص، پیار ، ہمدردی سرآنکھوں پر لیکن مندرجہ ذیل جملوں سے مجھے شدید کوفت ہوتی ہے
"مجھے تو لگتا ہے کہ آپ نہیں ہم معذور ہیں”۔
"آپ خود کو” ڈس ایبل ” مت کہیں، آپ ” ڈفرنٹلی ایبل ” ہیں”۔
میرے پر خلوص دوستو، ہمیں ” معذور ” کہلوانے میں کوئی عار نہیں۔ معذور لوگ برے نہیں ہو تے۔ معذوری صرف ایک مختلف جسمانی یا ذہنی حالت کا نام ہے۔ ایک ” معذور فرد ” کی حیثیت سے ہماری زندگی گزارنے کا طریقہ کار آپ سے الگ ہے۔ آپ مانتے ہیں نا کہ جب تک کسی "مرض” کی صحیح تشخیص نہ ہو اس مرض کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔
ٹھیک اسی طرح ، جب تک ہم اپنی یا کسی کی معذوری کو دل سے قبول نہیں کرتے، اس کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے انفرادی طریقے کی عزت نہیں کرتے۔ اس کی زندگی کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئیے عملی اقدامات نہیں اٹھاتے۔ تب تک آپ کا خلوص، پیار اور ” شوگر کوٹڈ” القابات ” لفاظی” سے زیادہ ہمارے لئیے کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔
اگر آپ واقعی معذور افراد کی فلاح و بہبود کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کے لئیے سنجیدہ ہیں تو مندرجہ ذیل سفارشات آپ کی نظر کرم کی منتظر ہیں۔
1۔ افراد باہم معذوری کے لئے بنائے گئے اسپشل ایجوکیشن کے اداروں کے معیار کو بہتر بنائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جس خد تک ممکن ہو معذور بچوں کو غیر معذور بچوں کے ساتھ جنرل ایجوکیشن کے اداروں میں پڑھنے کا موقع دیا جائے اور اس ضمن میں مطلوبہ عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ جن میں سکول ، کالجز کی عمارتوں کو قابل رسائی بنانا، ٹیچرز ٹریننگ وغیرہ شامل ہیں
2۔ پبلک مقامات، بازار، پارکس، بینک، لائبریری ، ٹرانسپورٹ کے ذرائع، فٹ پاتھ ، وغیرہ کو ہر طرح کی معذوری کو ذہن میں رکھتے ہوئے قابل رسائی بنائیں۔
3۔ کوٹہ پر نہ صرف پبلک بلکہ پرائیویٹ اداروں میں بھی عملدرآمد کروایا جائے۔ اس کے علاوہ اوپن میرٹ پر بھی لوگوں کو نوکریاں دی جائیں۔
4۔ ہر گورنمنٹ اور پرائیویٹ ادارے میں ” اشاروں کی زبان سمجھنے والے” افراد کو تعینات کیا جائے تاکہ سماعتی معذوری کے حامل افراد کی بھی شنوائی ہو سکے۔
6۔ کم پڑھے لکھے افراد کے لئے روزگار کے دیگر مواقع فراہم کئے جا ئیں۔
7۔ خواتین باہم معذوری کی فلاح و بہبود ، تعلیم اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کے کام جگہوں کو "محفوظ” بنایا جائے۔
سب سے اہم بات یہ کہ افراد باہم معذوری کے لئے کئے جانے والے تمام اقدامات کی پلاننگ سے لے کر عملدرآمد کروانے کے تمام مراخل میں ان کی موجودگی اور مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔ وغیرہ وغیرہ
کیا کچھ ہونا چاہئے اور کیا کچھ ہوتا ہے اس تحریر سے آپ کو کسی حد تک اندازہ ہو گیا ہوگا۔ میں نے کوئی نئی بات نہیں لکھی اور نہ ہی دنیا بدل دینے کے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھانے کا کوئی ارادہ رکھتی ہوں۔ یہ سب ہم سب کی پڑھی لکھی سمجھی پرکھی ہوئی باتیں ہیں۔
میں مانتی ہوں کہ معذوری کی باوجود اپنی دیگر صلاحیتوں اور ذہانت کے بل بوتے پر کچھ لوگ بہت ترقی کر لیتے ہیں۔ دنیا میں ان کا بہت نام ہوتا ہے۔ ان کی ہمت شجاعت کی مثالیں دی جاتی ہیں۔
میں جانتی ہوں بہت سے ایسے لوگوں کو، ان کی قابلیت، اور دیگر فنون سے نہ صرف متاثر ہوں بلکہ ان جیسی شہرت اور نام حاصل کرنا نہ صرف میرا بلکہ بہت سے لوگوں کا خواب ہے۔
کیا آپ بتائیں گے کہ آپ پاکستان کے کتنے ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جنہوں نے اپنی معذوری کے باوجود بہت سے کارنامے انجام دئیے۔ اور ملک کا نام روشن کیا؟
شاید دس ، بیس یا سو لوگ۔
دس ، بیس یا سو ایسے لوگ جو ہمارے یعنی معاشرے کے خودساختہ رائج کردہ معیار پر پورے اترتے ہیں۔
کیونکہ ہم کولہو کے بیل ہیں!
آئیں زرا کچھ دیر کے لئے اپنی آنکھوں سے ” دنیا کے معیار ” کی پٹی اتار کر ” unsung heroes ” کو تلاش کریں۔ جنہیں کوئی نہیں جانتا۔ ان کی تصویریں بھی اخبار میں نہیں چھپتیں۔ ان کی کبھی کوئی مثال نہیں دیتا کیونکہ اس نے کبھی کوئی قابل ذکر کام ہی نہیں کیا۔
یہ وہ معذور لوگ ہیں جو اپنی تمام تکالیف، دل کی خواہشات اور آرزوئوں کو ایک خوبصورت مسکراہٹ کے پیچھے چھپا لیتے ہیں۔ تاکہ ان کے غیر یقینی مستقبل کے اندیشوں سے پریشان والدین سکون کی نیند سو سکیں۔
یہ وہ معذور بیٹیاں ہیں جو ساری عمر اپنے والدین یا بہن بھائیوں کے گھر میں بن بیاہی گزار دیتی ہیں لیکن اپنی جائز بشری خواہشات کی تکمیل کے لیے کوئی چور راستے تلاش نہیں کرتیں۔
یہ وہ معذور افراد ہیں جن کے پاس دوسروں کو دینے کے لئیے بظاہر کچھ نہیں ہوتا لیکن ان کے پاس وہ خلوص اور وقت ضرور ہوتا ہے جو وہ پریشان خال لوگوں کی دل کی باتیں سننے میں صرف کرتے ہیں۔
یہ وہ معذور افراد ہیں جو اللہ کی رضا میں راضی قناعت کی زندگی گزارتے ہیں۔ شکوہ نہیں کرتے۔
ان افراد کی ذات سے لوگ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر گزار ہونا سیکھتے ہیں۔
بظاہر ان میں کچھ خاص نہیں ہے۔ مانتی ہوں۔
کیونکہ ہم کولہو کے بیل ہیں !
ایک منٹ کے لیئے ان کے معذور ، ٹیڑھے میڑھے اور اپنے تندرست، خوبصورت جسموں کو بھول کر ایک لائن میں کھڑے ہو جائیں۔ اور اس دنیا اور تخلیق کی وجوہات پر غور کریں۔ ہمیں دنیا میں کیوں بھیجا گیا؟
کچھ کچھ وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ اس مضمون کی ابتداء میں ایک ” چیک لسٹ ” کا ذکر ہوا تھا شاید اس کو ” ٹک مارک ” کر کے اس دنیا سے رخصت ہو جانا زندگی کا مقصد ہے۔ جس کے 100/ 100 نمبر وہ پاس۔
ایسا ہی ہے نا؟
یا وہ 10-15 لوگ جو دنیا کے لیئے مثال بن گئے۔
اور وہ جو اس امتحان میں بیٹھے ہی نہیں؟ لیکن اس دنیا میں بھیجے جانے کا مقصد اپنے صبر، اپنی ہمت، جذبہ قربانی اور شکر گزاری سے خوب نبھایا۔ کاش ہم کبھی ان لوگوں کی مثال بھی دے سکیں۔ ان کے لیئے بھی کوئی ایوارڈ ہو۔ ان کی تصویریں بھی اخبار میں چھپیں۔
لیکن نہیں صاحب! کیونکہ ہم کولہو کے بیل ہیں۔

