مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے۔ اے اے مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے کل سر پر دوپٹہ اوڑھ کر بجلی والے ہیڑ کے سامنے بیٹھے ہوئے بہت جذب سے گا رہی تھی۔ گھر کے بچوں نے سن کر خوب لطف لیا کہ بیٹھے بٹھائے بظاہر سلجھی ہوئی سنجیدہ سی پھوپھی کو کیا سوجھی کہ باقاعدہ راگ الاپنے لگی۔ ابھی میرا من تو مزید جنگی ترانے گانے کو تھا۔ لیکن یہ نئی پود کیا جانے کہ جب دل

Read more

اور اس فلائٹ دیری کی وجہ کون تھا؟

میں اور کون! پی۔آئی ۔ اے جسے ہم پیار سے "پیا ” بھی کہتے ہیں ناجانے مجھ سے ہمیشہ "شریکوں” جیسا سلوک کیوں کرتا ہے؟ آج اسلام آباد سے کراچی کا قصد کیا تو دل میں کھٹکا تو تھا لیکن سفر میں ساتھیوں کا ساتھ تھا تو کچھ دھاڑس بندھی کہ دیکھ لیں گے بورڈنگ کے مراحل میں مجھے ویل چیر پر دیکھ کر ہی ایک صاحبہ کو میری سلامتی کی فکر ہوئی بولی ساتھ کون ہے؟ میں نے اپنے

Read more

معذور افراد کو ہمدردی نہیں، حقوق اور مواقع کی ضرورت ہے

ہم سب کولہو کے بیل ہیں۔ ہماری آنکھوں پر بھی انسانوں کو جانچنے ، پرکھنے اور کوئی بھی رائے قائم کرنے کے لئیے معاشرے کے خودساختہ رائج کردہ معیار کے کھوپے چڑھے ہوئے ہیں۔ ہم ساری ذندگی ایک دائرے میں گھومتے ہوئے ماہ و سال کی گنتی پوری کرتے ہیں۔ ہمارے ہاتھوں میں سماج اور ہمارے والدین کی دی ہوئی ایک لمبی ” چیک لسٹ” ہوتی ہے۔ جسے ” ٹک مارک” کرتے کرتے جوانی کی شام کر دیتے ہیں۔ پڑھائی

Read more

قصہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے لیے ہمارے ماڈلنگ کرنے کا

ابھی دارلحکومت میں آ ئے کچھ ہی دن گزرے تھے۔ نئی نئی نوکری تھی۔ ایک دن ہمارے باس نے کہا، ایک مشہور ملٹی نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کو ایک وہیل چیئر یوزر ماڈل کی ضرورت ہے۔ وہ کمپنی معذور افراد کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لئے ایک پروجیکٹ شروع کرنے والے ہیں۔ اس پروجیکٹ کی اشتہاری مہم چلانے کے لیے انھیں ایک ماڈل درکار ہے۔ کیا آپ ان کے لئے ماڈلنگ کریں گی؟

ہمارا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ اگرچہ اپنے ”حسن و جمال“ (کہنے میں کیا حرج ہے) کے بارے میں ہمیں قطعی کوئی خوش فہمی نہیں رہی۔ لیکن ماڈلنگ اور وہ بھی ایک جانی مانی کمپنی کے لئے۔ کافی پرکشش سوال تھا۔ بظاہر خور کو لاپرواہ ظاہر کرتے ہوئے غیر سنجیدہ انداز میں بولی۔ اگر وہ پیسے دیں گے تو ضرور کروں گی۔ باس بولے، ہاں کیوں نہیں، پیسے تو ضرور دیں گے۔ آپ اپنی کچھ تصاویر اس ای میل ایڈریس پر ارسال کر دیں۔

Read more

بڑی میڈم اور نالائق ترین خواتین

امتحانی مرکز کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ ہر وضع قطع اور عمر کی خواتین، تعلیم یافتہ کہلانے کی چاہ میں فقط ڈگری حاصل کرنے کی خاطر سر جھکائے پرچہ حل کرنے میں مصروف تھیں۔ امتحانی نگران عملے کی بددلی اور تھکاوٹ ان کی ہر ہر ادا سے ظاہر ہو رہی تھی۔ بڑی میڈم کافی فراغت سے کرسی میز لگائے بیٹھیں سموسے کھا رہی تھیں۔ جبکہ دیگر جونیئر عملہ ایک کے بعد ایک پرچہ ہاتھ میں پکڑے ہمارے سروں پر حاضر ہو

Read more

وہیل چیئر والوں کی نظر سے جڑواں شہروں کا منظر

مسائل کبھی بھی نئے نہیں ہوتے، بلکہ ہمیں ان کا ادراک صرف اسی وقت ہوتا ہے، جب ہمیں ان مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بار بار ان مسائل کا تذکرہ بظاہر تو قارئین کی غیر دل چسپی کا باعث بنتا ہے لیکن بعض اوقات بہت سے لوگوں کے لیے سوچ کے نئے در کھول دیتا ہے۔ شاید اب یہ ان کے اپنے گھر کا مسئلہ ہو۔ پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں ایک ایسا

Read more